خیبر پختونخواہ کی چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کی پکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزارش یہ ہے پاکستان کاصوبہ خیبر پختونخواہ رنگا رنگ ثقافتوں کا ایک گلدستہ ہے۔ جس میں 29 زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں ان 29 زبانوں اور ثقافتوں میں سے چودہ ( 14 ) لسانی برادریوں کا تعلق ضلع چترال سے ہے۔ لسانی تنوع اور ثقافتی گوناگونی کے حساب سے چترال پاکستان کا ایک زرخیز خطہ تصور کیاجاتاہے۔ چترال ایک کثیرالالسانی ضلع ہونے کے باوجود اپنے پرامن ماحول کی وجہ سے پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ زبان و ثقافت کی گونا گونی کسی بھی طرح سے نفرت اور فساد کی بنیاد نہیں بلکہ آمن اور بھائی چارگی کی علامت ہے۔

پاکستان کے آئین کی رو سے پاکستان کی تمام زبانوں ا ور ثقافتوں کی ترقی ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ صوبے میں مقامی زبانوں اور ثقافتوں کی ترقی کے لیے حکومتی سطح پر ادارے بنے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کا فائدہ صوبے میں بولی جانے والی چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کو نہیں مل رہا۔ اس کی واضح مثال چترال میں بولی جانے والی زبانوں اور ثقافتو ں کی موجودہ حالت زار ہے۔ جن میں چودہ زبانوں میں سے نو زبانوں میں ابھی تک لکھائی کا نظام تک موجود نہیں ہے اور نہ ان ثقافتوں کو معدوم ہونے سے بچانے کے لیے کوئی کام ہواہے۔ چترال سے باہر صوبے کے دوسرے حصوں میں بولی جانے والی چھوٹی زبانوں اور ثقافتو ں کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں۔

صوبہ خیبرپختوا میں ان چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کی اپنی تاریخ اور اہمیت ہے لیکن کبھی بھی حکومتی سطح پر اس قومی ورثے کو بچانے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ اس صوبے میں بولی جانے والی ان چھوٹی زبانوں کی بہتری کے لیے کمیونٹی کے لوگ اپنی تنظیمات بناکر اپنی مدد آپ کے تحت اپنی بساط کے مطابق کام کررہے ہیں یہ مقامی تنظیمات بھی حکومتی سرسپرستی سے محروم ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ صوبے کی سطح پر زبانوں اور ثقافتی ترویج کے لیے ادارے ہونے کے باوجود چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک سمجھ سے بالاترہے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقے کی زبانوں اور ثقافتوں کے فروع کے لیے حکومتی سطح پر درج ذیل اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ علاقے کی زبانوں اور ثقافتوں کا فروغ ہوں۔

· خیبرپختونخوا میں حکومت کی سطح پر زبان و ثقافت کی ترویج کے لئے کلچر پالیسی بن گئی ہے یہ ایک احسن اقدام ہے لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پالیسی کو کم اور زیادہ بولنے والی (چھوٹے یا بڑے ) زبان کی تمیز کیے بغیر صوبے کے اندر موجود تمام زبانوں ا و رثقافتوں کی ترویج وترقی کے لئے استعمال میں لایا جائے۔ ابھی تک اس پالیسی سے چھوٹی زبانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہواہے۔

· 2011 میں خیپر پختونخوا اسمبلی میں صوبے کی زبانوں کی ترویج اور ترقی کے لیے ایک قانون پاس کیا گیا تھا۔ اس قانون کی رو سے صوبے میں خیبر پختونخوا لینگویجز پروموشن اتھارٹی تشکیل دیناتھا۔ اس لینگویج کمیٹی میں صوبے کی مختلف زبانوں کے نمائندوں کو شامل کرکے اس علاقے میں بولی جانے والی زبانوں کو ترقی کے مواقع دینے تھے لیکن یہ کمیٹی ابھی تک نہیں بنی۔ ہم حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں یہ کمیٹی تشکیل دے کر علاقے کی چھوٹی چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کو ترقی دینے کے حوالے سے اقدامات کریں۔

· کلچر ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواہ میں مختلف زبانوں میں کتابیں چھاپنے کے لیے فنڈ مختص ہوتے ہیں۔ لیکن اس فنڈ کے استعمال کا طریقہ ٔ کار وضع نہیں اس وجہ سے چھوٹی زبانوں کو بہت کم حصہ مل رہا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس فنڈ میں چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کے لیے رقم مختص ہونی چاہیے اور خیبرپختونخواہ کلچر ڈیپارٹمنٹ کو یہ پابند بنایا جائے تاکہ یہ رقم چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کی ترقی اور پریزرویشن کے لیے ہی استعمال ہو۔ چھوٹی زبانوں میں کتابوں کی چھپائی سے ان زبانوں کے ادب کی ترقی ہوگی۔

· ٹیکسٹ بک اور کریکولم: 2011 میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے علاقے (خیبرپختونخواہ ) کی پانچ بڑی زبانوں کو نصاب میں شامل کرکے ایک اہم کام کا آغاز کیاتھا۔ ا بھی تک چار زبانوں میں نصاب سازی انٹرمیڈیٹ لیول تک مکمل ہوا ہے اوردرسی کتابیں بننی ہیں۔ ان چار زبانوں میں سے انڈس کوہستانی زبان میں خود کریکولیم ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواہ کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے کام رکا ہواہے۔ چارزبانوں پشتو، ہندکو، سرائیکی اور کھوار میں قاعدہ اور پہلی جماعت کی کتابیں چھپ کر سکول ٹیکسٹ میں شامل ہوگئے ہیں۔

اس سال دوسری کتاب چھپ کر سکول ٹیکسٹ کا حصہ بننا تھا۔ لیکن نامعلوم وجہ کی بنا پرکھوار کی کتاب ابھی تک چھپ نہ سکی ہے۔ یہ کتاب نظرثانی کے بعد کمیٹی سے منظور بھی ہوچکی ہے۔ پھر بھی اس کتاب کو نہ چھاپنا ٹیکسٹ بک بورڈ کے عہدادروں کی نا اہلی کو ظاہر کرتاہے ہم حکومت خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں ٹیکسٹ بک بورڈ کی اس عمل پر سرزنش کی جائے۔ اور آئندہ چھوٹی زبانوں کے لیے کتاب بنانے کے اس عمل کو شفاف اور باقاعدہ بنانے کے لیے کوئی لائحہ عمل تشکیل دی جائے۔ موجودہ حکومت سے یہ مطالبہ بھِی کرتے ہیں صوبے کی مزید چھوٹی زبانوں کو کریکولم میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

· ادبا ء کے لیے حکومتی امداد۔ فن کار اور ادیب معاشرے کا حساس طبقہ ہیں جو اپنی زندگی کا زیادہ حصہ معاشرے کی بہتری کے لیے وقف کرتے ہیں۔ زندگی میں جب کوئی فنکاریا ادیب پر برا وقت آتاہے تو معاشرے میں ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ حکومتی سطح پر فنکاروں اور ادباء کو سالانہ اعزازیہ دیا جاتاہے لیکن یہ بھی کسی خاص طریقہ کار کے مطابق نہیں دیاجاتا۔ خاص کر کے چھوٹی زبان و ثقافت سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور فنکاروں کے ساتھ تعداد کے حساب سے بہت زیادتیاں کی جاتی ہے۔

ہر سال اس پروگرام میں صرف چند کو شامل کیاجاتاہے جو کافی نہیں ہے۔ حکومت وقت اور متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ حکومتی سطح پر چھوٹی زبان و ثقافت سے تعلق رکھنے والے ادیب اور فنکاروں کی امدا د کے لیے ترجیحی بنیادوں پر مالی امداد کے لیے پروگرام تشکیل دیا جائے تاکہ مقامی فنکار اور ادباء کو معاشی طور پر مدد مل سکیں۔

اس لیے ہم صوبے کی چھوٹی زبان و ثقافت کے لوگ اپنی ( چھوٹی زبانوں سے تعلق رکھنے والے ) نمائندوں سے جو اسمبلیوں میں موجود ہیں اپیل کرتے ہیں کہ ہماری فریادمحکمہ ثقافت، وزیر ثقافت، وزیر اعلیٰ اور دوسرے اعلیٰ عہداروں تک پہنچاکر چھوٹی زبانوں اور ثقافت کو ان کا جائز مقام دلانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہم یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کی حکومتی سرسپرستی صوبے میں موجود ثقافتی ہم آہنگی کو مزید جلابخشے گی۔ حکومتی سطح پر چھوٹی زبانوں اور ثقافتوں کی حوصلہ افزائی سے معاشرے میں پائی جانے والی احساس کمتری کو بھی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فرید احمد رضا کی دیگر تحریریں