منطقی سوچ، مذہب اور الحاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے ہمیشہ سے ایسے لوگ پسند ہیں جو فکر کو زاویے عطا کرتے ہیں۔ پچھلے آرٹیکل میں میں نے کریٹکل تھنکنگ (منطقی سوچ) کے حوالے سے بات کی تو ڈاکٹر سہیل نے ’کریٹکل تھنکنگ اور مذہب‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کی دعوت دے ڈالی۔ میرے لئے ڈاکٹر سہیل جیسے دانشور کا حکم بجا لانا ایک اعزاز کی بات ہے۔ اپنی کم علمی کا ادراک بھی ہے مگر اس سے زیادہ یہ یقین کہ بہر صورت اس عمل میں مجھے ہی کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا۔ مسئلہ جتنا اہم ہے اتنا ہی بیان کرنے میں پیچیدہ بھی۔ اب جیسے جیسے میری سوچ بہتی چلی جائے گی، میں اپنا نقطہء نظر بیان کرتی جاؤں گی۔ آپ بھی میرے ساتھ چلتے چلئے۔

1930 میں جرمنی سے جنم لینے والی ’تنقیدی تھیوری‘ Critical Theory نے جہاں معاشرت اور معیشت پر بہت سے سوال اٹھائے وہیں اس تحریک نے آگے چل کر اس بات کی حقیقت کو بھی بے نقاب کیا کہ با اختیار قوتیں معاشرے کے ہر شعبے پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لئے اور بالخصوص ’عقیدے کے نظام‘ کی تشکیل کے لئے ہمہ وقت سرگرم رہتی ہیں اور اس کا سب سے با اثر ہتھیار اور ذریعہ بنتا ہے ’نظامِ تعلیم‘ ۔ لہٰذا سوال اٹھانے اور تنقیدی فکر کے اظہار پہ پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ یہ پابندیاں عوام کے لیے قابلِ قبول ہوں اس کے لئے ’مذہب‘ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ تعلیی نظام میں خفیہ یا غیر رسمی نصاب Hidden Curriculum کے ذریعے تابع فرمانی اور تقلید جیسی روایات معاشرے کی رگوں میں اتار دی جاتی ہیں۔ سوال اٹھانا گناہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ تنقیدی سوچ کو سولی پہ چڑھا دیا جاتا ہے۔

اس بات میں تو کوئی دوسری رائے نہیں کہ ”کریٹکل تھنکنگ“ بالآخر تقلید سے جا ٹکراتی ہے۔ مگر آئیے ہم اس عمل کو بھی دو زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ ایک طرف عقیدے کے وہ روایتی پیروکار ہیں جو ایسا خیال کرتے ہیں کہ تنیقدی فکر انسان کو اپنے خدا سے دور لے جاتی ہے۔ اسی لئے ہمیشہ ’اہلِ ایمان‘ کے یہاں زیادہ سوال کرنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جو مائیں اپنے مذہب کے بارے میں بنیادی معلومات بھی نہیں رکھتیں وہ بھی انوکھے سوال کرنے پر بچے کو ڈانٹ دیا کرتی ہیں یہ کہہ کر کہ زیادہ سوال نہیں کرتے، یہ گناہ ہے۔

کیونکہ انھوں نے یہ بات اپنے ماحول سے خوب سیکھ لی ہوتی ہے۔ یہ عمومی تربیت ہے جو معاشرے کے افراد کی باہم رہنے سے ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کا مذہب کی تعلیمات سیکھنے سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لہٰذا مذہب کی روح کو جانے بغیر ہی سب پر مذہب کا برینڈ لگ جاتا ہے۔ اور یوں خدا کو ’ماننے والے‘ مذہب کا سہارا لے کر تحقیق و تنقید کے بوجھ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس بات کے بالکل برعکس کہ ’ماننے‘ کے لئے ’جاننا‘ ضروری ہے۔

تقلید حکومت کے جبری نظام کا سب سے مضبوط ستون ہوتی ہے۔ قوموں اور ملکوں کی تقدیر کو اس طرح چند لوگ اپنی مرضی سے تشکیل دیتے رہتے ہیں جب تک کہ اس حقیقت کا ادراک عام نہ ہو جائے۔ مذہب جہاں اجتماعی عقیدے کا نام ہے وہاں مذہب کو سمجھنا اور تحقیق کرنا ہر فرد کے لئے اسی طرح لازم ہے جس طرح کسی کلاس روم میں گروپ ایکٹویٹی کا ایک مقصد جہاں مل جل کر کسی مسئلے کو حل کرنا سکھاتا ہے وہیں گروپ کے ہر ممبر کی انفرادی تعلیم بھی اس کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔ اسلامی ریاستوں کا عروج تب تک ہی تھا جب تک اس سنہری اصول پہ چلے۔ اہلِ مغرب نے بھی مذہب کی اندھی تقلید کے مقابل تنقید و تحقیق کو اپنایا تو بامِ عروج پر پہنچے۔

اس معاملے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کریٹکل تھنکنگ رکھنے والے روشن خیال ذہن سوال کرتے کرتے اور ہر غیبی اسرار کی سائنسی توجیہہ پیش کر تے کرتے یہ یقین کر لیتے ہیں کہ جس ’خدا‘ سے متعلق سوالوں کا جواب انہیں نہیں مل سکا، اس کا کوئی وجود ہے ہی نہیں۔ تنقیدی نقطہء نگاہ رکھنے والا شخص ایسا سوچتا ہے کہ اس کے علم و عقل کی حد کے اندر ہی ’خدا‘ کو بھی موجود ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جو ’منطقی فکر‘ انسانی ذہن کے لاشعور کی اتھاہ گہرایئیوں تک رسائی نہ رکھنے پہ راضی رہتی ہے۔ جو ’منطقی فکر‘ کائنات کی وسعتوں کے لا متناہی ہونے پر یقین کر لیتی ہے اس کے لئے یہ ماننا محال ہو جاتا ہے کہ ہمارے فہم و ادراک سے بالا تر کوئی ’خدا‘ واقعی موجود ہے جو یہ سارا نظام چلا رہا ہے۔ یہ ماننا محال ہو جاتا ہے کہ اس خدا کی ہیئت، وسعت اور وجود کی نوعیت ایسی ہو سکتی ہے کہ جس کو تقریبا دو ٹریلین کہکشاؤں کی اس وسیع کائنات میں سے ایک ستارے کے چھوٹے سے ٹکڑے پہ بسنے والا انسان (جو اس کرہء ارض پہ بسنے والے اپنی نوع کے قریبا دس بلین سے زائد کثیر المزاج انسانوں میں سے ایک ہے۔ جس کی موت و حیات اور ادراک و فہم کی صلاحیات خود اس کے اپنے اختیار میں نہیں) خدا کا احاطہ اپنے محدود شعور سے نہ کر پائے گا۔

سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب تمام انسانوں کی ذہنی استعداد مختلف ہے تو خدا کس استعداد کے مطابق اپنے ہونے کا اثبات پیش کرتا؟ تنقیدی سوچ خدا کے اسرار جاننے کے لیے ’الہام‘ کے ذریعے کو رد کرتے ہوئے ’الحاد‘ کا راستہ اپناتی ہے۔ اور یوں الحاد، خدا اور مذہب کی وہ جنگ چلتی ہے کہ ’اہلِ ایمان‘ اس سے باہر رہنے کی عسرت ہی کو اعلیٰ زندگی تصور کرتے ہیں۔ برٹرنڈ رسل نے کہا ہے نا کہ: ’ایمان لانا غورو فکر کرنے سے کہیں آسان ہے۔ اسی لئے ایمان والے تعداد میں مفکرین سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں‘ ۔

اس میں پر لطف بات یہ ہے کہ نہ تو مذاہب کے مقلد اور نہ ہی ملحد، ’خدا‘ کو پہنچ پاتے ہیں۔ ان دونوں رویوں میں جس شے کی کمی ہے وہ ’تنقیدی فکر‘ ہی ہے جس پر ہم بات کر رہے ہیں۔ یعنی ایک مذہب پرست اس بات سے پریشان ہو کر سوچ پہ پہرے بٹھاتا ہے کہ اگر زیادہ غور و خوض کیا گیا تو کہیں خدا مل ہی نہ جائے۔ ۔ جو خدا ہمیں گفٹ میں ملا ہے اسی کو ماننے میں سہولت ہے اور موت کے بعد جنت کی گارنٹی بھی۔ دوسری طرف منطقی استدلال کرنے والا وہ ملحد ہے جو کھلی آنکھ سے خدا کو دیکھنا چاہتا ہے۔

اگر منطقی سوچ ہی کا سہارا لیا جائے تو یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ جس طرح اس کائنات کے بے شمار مظاہر انسانی اعضاء کے ادراک سے باہر ہیں، خدا کو بھی کم از کم اتنا ہی لطیف (subtle) جان کر اس کے ہونے کے ممکنات ہی کو مان لیا جائے۔ آخر پیرا سائیکا لوجی بھی ایسا ہی ایک علم ہے جس کا اقرار سائنس کرتی ہے۔

ایک طبقہ خدا پر سوال اٹھانے سے خائف کہ خدا مل گیا تو کیا ہو گا؟ دوسر اس بات پہ نالاں کہ جسے سب خدا خدا کہتے ہیں وہ کہیں مل کے ہی نہیں دیتا۔ غور کریں تو ملحد کی جستجو مذہب والوں کے خوف پہ سبقت لے جاتی نظر آتی ہے۔ یقیناً دونوں میں سے وہ بہتر ہے جو کم از کم تلاش میں تو ہے۔ ۔ الحاد ایمان کے لئے ایک کلین سلیٹ جیسی چیز ہے۔ جو کسی خدا کو نہیں مانتا اس کے اصل خدا تک پہنچ جانے کے چانسز زیادہ ہیں۔ کریٹکل تھنکر خدا کو پرکھنے کی کڑی کسوٹی تیار کرتا ہے۔ اور پھر مسلسل آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ سوچ کے جمود اور عمل کی تقلید سے آزاد ہوتا ہے۔ ایک تنقیدی ذہن میں اس کے سوال تحریک پیدا کرتے ہیں اور وہ جواب کی تلاش میں اپنی فکری صلاحیات کی آخری حد تک جاتا ہے۔ بیسویں صدی کے ماہرِ نفسیات Abraham Maslow اگر Self Actualization یعنی خود شناسی کو بھوک، تحفظ، محبت، رتبے، علم، اور پھر حسِ لطافت کے بعد ساتویں مقام پر رکھتا ہے اور سب سے عظیم انسانی محرک قرار دیتا ہے تو know thyself سے کچھ مختلف بات نہیں کرتا۔ ’جس نے خود کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا‘ ۔ یہ قول بھی اسی جستجو کا راستہ متعین کرتا ہے۔

تنقیدی فکر یا منطقی استدلال کرنے والے لوگ یقیناً بہتر ہیں۔ ۔ مگر اس تصور کو زک تب پہنچتی ہے جب ایسا مکالمہ سننے کو ملے کہ جس میں ایک نقاد ذہن روایتی مذہب پرست سے الجھے کہ اپنی دینی کتاب جب خود نہیں پڑھی تو مجھے پڑھنے کا کیوں کہہ رہے ہو؟ یہ یقیناً تنقیدی رویہ نہیں۔ یا یہ کہ دنیا کے مصائبِ گنوا کر کسی ’خدا‘ کے نہ ہونے کی دلیل پیش کی جائے۔ یا یہ کہ نبیوں اور پیغمبروں کے احوال و واقعات سے اختلاف کی صورت میں غیر اخلاقی رویہ اختیار کیا جائے۔

صحیح معنوں میں منطقی سوچ رکھنے والے شخص کا رویہ کبھی ’متعصبانہ‘ نہیں ہوتا۔ ایک کریٹکل تھنکر جہاں اپنے علم کے ذرائع، ان کی reliability اور اپنی ریسرچ کو مدلل انداز میں بیان کرنا جانتا ہے وہیں دلائل سے پیش کی گئی مخالف رائے کو بھی قبول کرنے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ دلائل کی لئے کھوج اور ریسرچ ضروری ہے جو دراصل اہلِ مذاہب کے کرنے کا کام ہے، یہ پرکھنے کے لئے کہ جس مذہب کی گود میں ہم نے آنکھ کھولی، اس کی حقیقت ہے کیا۔

ایک انجانی کیفیت کو ’ایمان‘ کا نام دینا بالکل درست نہیں۔ ایمان سوچ اور یقین کی انتہا کا نام ہے۔ مجھ سے کوئی پوچھے کہ کیا منطقی سوچ خدا سے دور لے جاتی ہے؟ تو میرا جواب ہو گا۔ ۔ ’بالکل نہیں، آپ جس بھی خدا کو مانتے ہیں، اگر استدلال کرتے چلئے تو پہنچیں گے اصل خدا کے پاس ہی‘ ۔ جیسا کہ اپنی ایک نظم میں میں نے کہا۔

خدا او ر خودی کے عرفاں کو
کوئی مسلک، دھرم، ایمان نہیں

اس جستجو میں آگے بڑھتے رہنا ہی علم کا راستہ ہے۔ ’اندھی تقلید‘ یا ’محض انکار‘ ۔ میرے نزدیک دونوں رویے درست نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •