ہم یہاں ان کرداروں کو جنرالائز کر کے، عمومی طور پہ اس بات کو آگے بڑھائیں گے۔ یوں تو یہ ایک روایتی تثلیث ہے۔ دو عورتیں اور ایک مرد۔ مگر اس موضوع کے تحت ہمیں معاشرے کے کئی کرداروں کے تجزیے کا موقع ملے گا۔ مثلاً ایک بیوی، ایک داشتہ، ایک شوہر، ایک ماں، ایک غاصب عورت، ایک زنا کار مرد، ایک بے شرم طوائف، اور ہنگامے سے پرے گلی میں کھڑے بہت سے کردار جو اپنے اپنے تئیں اس پہ تبصرہ کرنے میں لگے ہیں۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔
پہلو نمبر ایک : کیا کسی کے گھر پہ یوں دھاوا بولنا درست ہے؟
کوئی بھی مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دے گا۔ یعنی قانونی طور پہ ایسا کرنا قطعی درست نہیں۔ میں یہاں لارنس کوہلبرگ کے حوالے سے بات کو آگے بڑھانا چاہوں گی جو بیسویں صدی کے ایک ماہر نفسیات گزرے ہیں جنھوں نے بعد میں مورل ایجوکیشن یعنی کردار کی تعلیم کے میدان میں بہت کام کیا۔ ان کا ایک تجربہ جس کا یہاں ذکر بے حد ضروری ہے، انتہائی دلچسپی کا حامل ہے۔ وہ اس کو ہائنز ڈلیما یعنی ’ہائینز کی الجھن‘ کا نام دیتے ہیں۔
یورپ کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ہائینز کی بیوی کو ایک خاص قسم کا جان لیوا کینسر ہو گیا جس کے علاج کے لئے ریڈیم سے بنی دوا درکار تھی۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اس سے اس کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ دوا مہنگی تھی مگر اس دوا کو خرید کر ایک دوا ساز نے اس کے دام دس گنا بڑھا دیے۔ یعنی چار سو ڈالر کی دوا وہ چار ہزار ڈالر میں بیچنے لگا۔ ادھار پکڑ کے، جیسے تیسے کر کے ہائینز نے دو ہزار ڈالر جمع کیے اور اس دوا فروش کے پاس پہنچا کہ یہ پیسے لے کر اسے دوا دے دے۔
اس کی بیوی کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ مگر اس دوا فروش نے سفاکی سے انکار کر دیا۔ لہٰذا ہائینز رات کے
Read more