تعلیمی نصاب میں ڈیتھ ایجوکیشن کو شامل کیا جانا چاہیے

مجھے یاد ہے میں نے جب پہلی بار اپنے والد کو کسی کی موت کی خبر سن کر ’الحمدللہ‘ کہتے سنا تو میں نے ان کی طرف حیران ہو کر دیکھا تھا۔ عربوں کا یہ رواج تو تھا ہی سو ان میں رہتے ایسا کہنے کی عادت اپنا لینا کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ مگر پھر مجھے دھیرے دھیرے اس کے پیچھے چھپے ایمان کی حکایت سمجھ آگئی۔ میں نے اپنے والد کی پیشانی پہ ایسے کئی دکھ متانت میں ڈھلتے دیکھے۔ میں اس لمحے کا انوکھا تجربہ بھی کبھی نہیں بھلا سکتی جب میرے اندر سے آواز آئی تھی کہ یہ میری والدہ کے آخری لمحات ہیں اور میں نے ان کے کان میں کلمہ طیبہ پڑھا۔

Read more

بڑھاپے کی ورچوئل محبت، وبا اور موت کا دکھ

ایک پیلا پھول تھا جس کے گرد کئی سارے کاسنی ننھے ننھے پھول تھے اور ان کے بیچوں بیچ ’صبح بخیر‘ کا پیغام تھا۔ دل میں تازگی کی لہر دوڑ گئی تو ارجمند بیگم بستر پر ہی پڑی مسکرا اٹھیں۔ آج کل ایسی حسین صبحیں ان کا سواگت کیا کرتیں کہ ان کا جی چاہتا…

Read more

اف اللہ ہمیں چلنا پھرنا پڑا

میں نے اپنی سادہ مگر پرکشش بارڈر والی گہرے نیلے رنگ کی ساڑھی باندھی۔ آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے ساڑھی کا پلو سیٹ کیا۔ ہاتھ سے ساڑھی کی پلیٹیں سیٹ کرتے ہوئے، جھک کے ساڑھی کی فال دیکھی۔ میں نے اب تک جوتا نہ پہنا تھا۔ ساڑھی بھی اسی حساب سے باندھی تھی کہ…

Read more

سوشل الرٹ: ہمارے معاشرے میں فیمنزم کا پیغام منفی جا رہا ہے!

پاکستان کی خواتین جب فیمنزم یا حقوق نسواں کی دوڑ میں شامل ہوئیں تو عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی علمبردار خواتین کافی بڑی کامیابیاں حاصل کر چکی تھی مثلاً۔ خواتین کا سیاست میں کردار۔ خواتین کے ووٹ کا حق۔ اسے فیمنزم کا پہلا دور کہا جاتا ہے جو انیسویں صدی کے آخیر میں امریکہ اور یورپ میں شروع ہوا اور اس نے بیسویں صدی کے ابتدائی سالوں تک سفریج یا ووٹ کا حق حاصل کر لیا تھا۔ اس لحاظ سے پاکستانی خواتین کو ووٹ کا حق تو پیدائشی حق کی طرح نصیب ہو ا۔

Read more

اور اگر عورت کو شادی کے بعد کسی سے محبت ہو جائے تو؟

کیا یہ ایسا سوال ہے جس پہ سوچا نہیں جا سکتا؟ یا ایسا معاملہ ہے جو ہمیں اپنے ارد گرد درپیش دکھائی نہیں دیتا؟ کیا ہم میں سے کسی عورت کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہیں آ سکتا؟ یا ایسا ہم میں سے کسی کے ساتھ کبھی ہوا نہیں؟ کیا گارنٹی ہے کہ نکاح یا…

Read more

221 B بیکر سٹریٹ۔ 121 C داستان سرائے اور زنجیر کی نازک کڑی!

1998 کی بات ہے۔ میں ساتویں کلاس کو انگریزی پڑھا رہی تھی۔ شیرلوک ہولمز کی کسی کہانی کا کوئی اقتباس تھا۔ بچے بڑی دلچسپی سے سن رہے تھے۔ اس مختصر تحریر نے بچوں کو بے حد متاثر کر دیا تھا۔ شیرلوک ہولمز کے باریک مشاہدے، تفتیش کے منطقی اور سائنسی طریقوں کی وجہ سے وہ…

Read more

صدائیں مجھے نہ دو!

فضا میں خنکی بڑھتی جا رہی ہے۔ میں کافی کا کپ لے کر ٹیرس پہ آ بیٹھا ہوں۔ نومبر کی شاموں کی اداسی میرے مزاج کے عین مطابق ہے۔ نومبر سے اگلے مہینے بھی میری سرد مہری سے زیادہ سرد نہیں۔ مو بائل کے سپیکر سے اٹھتی مہدی حسن کی آواز مجھے اپنے دل کی…

Read more

کیا ہمیں اپنے بچوں کو گڈ بائے مسٹر چپس نامی ناول پڑھانا چاہیے؟

پاکستانی کالجوں میں ہائیر سکینڈری سطح پر جیمز ہلٹن کا ناول ’ گڈ بائے مسٹر چپس‘ پڑھائے جانے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ا گر ایک طرف اس کے 40 سال سے زائد عرصہ سے پڑھائے جانے پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے تو دوسری طرف اس پہ ایک شدت پسندانہ نظریہ سے تنقید کی جا رہی ہے۔جہان تک پہلے اعتراض کا تعلق ہے ، یہ کتاب خود ثابت کرتی ہے کہ یہ ماڈرن فکشن میں سب سے محبوب تخلیق ہے جس نے کئی نسلوں کو اپنے سحر میں مبتلا رکھا ۔ 1934ء میں اپنی تخلیق سے لے کر آج تک یہ کتاب کبھی طباعت سے باہر نہیں رہی۔ ایک استاد کی زندگی کا سادہ زبان میں بیان طلباء کے دل کو چھو جاتا ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ دوسرے اعتراض کے ضمن میں البتہ بات کو سمجھنے کے لئے ادبی رویّہ چاہئے۔ کتاب پر اعتراض اس بنیاد پر ہے کہ حقیقی زندگی کے ہیروز کو نظر انداز کر کہ ایک فرضی کردار مسٹر چپس کو پڑھنا ایک بے کار عمل ہے اعتراض کرنے والے لوگ ناول گڈ بائے مسٹر چپس کی بجائے مسلم تاریخ کے کسی کردار کی سوانح پڑھانے کی وکالت کرتے ہیں۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایک انتہائی غیر مناسب تقاضا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ گڈ بائے مسٹر چپس ایک فرضی تخلیق ہے اور وہ بھی انگریزی ادب کی۔ یہ انتہائی نا معقول بات ہے کہ انگریزی ادب کی تخلیقات کی جگہ بھی مذہبی شخصیات پڑھائے جانے کی بات کی جائے۔ ہمارے سلیبس میں دیگر بہت سے ایسے مضامین ہیں جہاں مذہبی تعلیمات کو جگہ دی جا سکتی ہے۔ کیا ہم نے یہ ان کو وہاں صحیح مقام دے دیا؟

Read more

منطقی سوچ، مذہب اور الحاد

مجھے ہمیشہ سے ایسے لوگ پسند ہیں جو فکر کو زاویے عطا کرتے ہیں۔ پچھلے آرٹیکل میں میں نے کریٹکل تھنکنگ (منطقی سوچ) کے حوالے سے بات کی تو ڈاکٹر سہیل نے ’کریٹکل تھنکنگ اور مذہب‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کی دعوت دے ڈالی۔ میرے لئے ڈاکٹر سہیل جیسے دانشور کا حکم بجا لانا ایک اعزاز کی بات ہے۔ اپنی کم علمی کا ادراک بھی ہے مگر اس سے زیادہ یہ یقین کہ بہر صورت اس عمل میں مجھے ہی کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا۔ مسئلہ جتنا اہم ہے اتنا ہی بیان کرنے میں پیچیدہ بھی۔ اب جیسے جیسے میری سوچ بہتی چلی جائے گی، میں اپنا نقطہء نظر بیان کرتی جاوئنگی۔ آپ بھی میرے ساتھ چلتے چلئے۔

Read more

کیا کریٹیکل تھنکنگ سکھائی جا سکتی ہے؟

آج کے تعلیمی اور تدریسی میدان میں سب سے بڑی ضرورت ’کریٹیکل تھنکنگ‘ یعنی ’منطقی استدلال‘ کی مہارت پیدا کرنا ہے۔ بلکہ میں اس کو درست کرتے ہوئے یہ کہوں گی کہ یہ پاکستانی تعلیمی اداروں کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ مغرب نے اس ضرورت کا ادراک ہم سے قریب قریب نصف صدی پہلے کر لیا تھا اور اس ضمن میں ہم سے کہیں آگے بھی نکل چکے ہیں۔ اور ساتھ ہی اُن قوموں کا تعلیمی نظام بھی جو وقت کے ساتھ چلنے پر یقین رکھتی ہیں۔ ۔ ہمارے یہاں ابھی یہ سوال ہی بہت بڑا ہے کہ کریٹکل تھنکنگ کیسے سکھائی جا سکتی ہے؟

یہی وجہ ہے کہ آج کے ٹیچرز خود کو زیادہ چیلنجز میں گھرا محسوس کرتے ہیں۔ بہت کثیر تعداد اُن اساتذہ کی ہے جو جدید تعلیمی نظام میں اس تقاضے کو پورا نہ کر پانے کی وجہ سے خیبت کا شکار ہیں اور بہت سے اساتذہ اس ایک وجہ سے اپنی نوکریاں بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ مسئلہ خاص طور پر دبئی میں مقیم پاکستانی اساتذہ کو در پیش ہے چونکہ یہاں روایتی طرزِ تعلیم کی ان تمام روایات کو ختم کرنے پر کام کیا جا رہا ہے جو محض نالج اور یادداشت کے گرد گھومتا ہے۔ جدید طرزِ تعلیم کو اپنانے کے لئے یہاں حکومتی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Read more