گورکھ دھندا

ثانیہ کو اپنی ادھوری کہانی مکمل کرنا تھی۔ وہ بخوبی جانتی تھی کہ وہ جمال احمد کے لیے اتنی اہم تو نہ تھی کہ تعلق ٹوٹنے سے اسے کوئی فرق پڑتا مگر کیا اتنی غیر اہم تھی کہ اسے کوئی فرق ہی نہ پڑتا، یہ سوال اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا۔ ان کی گفتگو انسانی ذہن کی وسعتوں میں سمانے سے قاصر اعداد و شمار اور علامتوں کے انوکھے تال میل کا روپ ڈھالتی، روشنی کے موتیوں

Read more

کتاب پر تبصرہ: فریم سے باہر

میں دعا نگری سے ہو کر آئی ہوں۔ جہاں محبت کے رنگا رنگ پھول کھلتے ہیں، جہاں دل و جاں کو تراوٹ عطا کرنے والی گھنگھور گھٹائیں برستی ہیں، جہاں پریم کی دھارا، نرمل نغمے، کومل کرنیں، چاندنی کا طلسم، جنگلوں کی مہک، دھنک کے ساتوں رنگ اور رنگین موسموں کا دلفریب رقص ہے۔ اک جہان ہوشربا ہے کہ جس کا عکس دل سے ابھر کر آنکھ میں آ سمایا ہے۔ اب یہ سطور دیکھئیے۔ ”بس اتنا یاد ہے کہ

Read more

ایکسپوژر۔ شارجہ متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والا عکس بندی کا بین الاقوامی میلہ 2024

شارجہ میں بسنے والے اور اس شہر کی ادبی اور ثقافتی فضا کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں ہر آن کسی نہ کسی ایسی تقریب کا اہتمام رہتا ہے کہ جس سے ادب و فن سے تعلق رکھنے والے حساس دلوں کی تسکین کا سامان رہتا ہے۔ اس سال فوٹو گرافی اور سینماٹوگرافی کے آٹھویں ایڈیشن کا آغاز بھی شارجہ ایکسپو سینٹر میں 28 فروری 2024کو حسب روایت شاندار انداز میں کیا گیا۔

Read more

تیری آنکھوں سے کو خود کو دیکھتی ہوں!

(ہر اُس لڑکی کی کہانی جس نے پہلی محبت سے زندگی کا پہلا دھوکہ کھایا ہو) جانے کب مجھ میں یہ خواہش جاگی کہ میں خود کو تمہاری نظر سے دیکھوں۔ میں چاہتی تھی کہ میں دیکھوں کہ میں تمہیں کیسی دکھتی ہوں۔ یہ جاننے کی خواہش کہ تم میرے بارے میں کیا سوچتے اور کیا محسوس کرتے ہو، میرے لئے اس قدر اہم ہو گئی کہ مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ کب میں نے اپنا ساتھ چھوڑ دیا

Read more

روبینہ فیصل کے ناول ’نارسائی‘ پہ تبصرہ

روبینہ فیصل کا ناول نارسائی ایک نا آسودہ عورت کے جلتے بجھتے جذبات کی ایسی داستان ہے جو کہیں جذب ہی نہیں ہو پاتی؛ نہ دلوں میں، نہ سماج میں، نہ ہی خدا کی نادیدہ، نا رسیدہ نگری میں۔ یہ کہانی ہمیشہ ہوا میں ہی معلق رہی، کسی بدروح کی طرح۔ قرن ہا قرن سے دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ عورت اپنی نا آسودگی مٹانے کی خواہش میں جو رستہ چنے گی، بھٹک جائے گی؛ اس راہ میں جو

Read more

میری آواز ہی پہچان ہے۔۔۔ گر یاد رہے!

ہماری گاڑی بہاولپور شہر سے دور، اور دور دوڑتی جا رہی تھی جنوب کی طرف۔ اور میرا ذہن اس شہر میں بیتے سالوں سے قریب اور قریب ہوتا جا رہا تھا۔ ماضی کی کتنی صدائیں تھیں جو اڑتی دھول کی طرح دل کا غبار بنتی جا رہی تھیں۔ قریباً ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد منزل پر پہنچنے کی نشانی یہ تھی کہ ہمیں ایک میل دور سے ہی قلعہ دراوڑ کی فصیلیں دکھ جانی تھیں۔ سو سبھی اس انتظار

Read more

تین آدمی تین کہانیاں

گزشتہ کئی روز سے میرا مکالمہ ان تینوں آدمیوں سے چل رہا ہے۔ خان، رونی اور عدنان۔ ان تینوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ البتہ مجھ سے ان کا تعلق ایک اچھے دوست کا ہے۔ کہانی چونکہ تینوں کی ایک سی ہے لہذا مجھے ان میں سے کسی ایک کی کہانی کا اگلا حصہ سننے اور سمجھنے میں قطعی دشواری کا سامنا نہیں۔ جو واقعہ ایک بیان کرتا ہے، عین ویسا ہی دوسرا بیان کرتا ہے۔ اگر کبھی میں

Read more

اور اگر عورت کو شادی کے بعد کسی سے محبت ہو جائے تو؟

کیا یہ ایسا سوال ہے جس پہ سوچا نہیں جا سکتا؟ یا ایسا معاملہ ہے جو ہمیں اپنے ارد گرد درپیش دکھائی نہیں دیتا؟ کیا ہم میں سے کسی عورت کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہیں آ سکتا؟ یا ایسا ہم میں سے کسی کے ساتھ کبھی ہوا نہیں؟ کیا گارنٹی ہے کہ نکاح یا شادی سے عورت کے قلب و نظر پہ ایسے قفل پڑ جاتے ہیں کہ ایسا ہو نا ممکن نہیں رہتا؟ ہم ایسے سوالوں سے نظریں

Read more

غیب سے پانی کی بوچھاڑ

تحریر : جون چو (چینی نژاد امریکی افسانہ نگار) مترجم : نبراس سہیل (اس افسانے نے 2014 کا بہترین افسانہ قرار دیے جانے پر ہیوگو ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کہانی میں تصور یہ ہے کہ مستقبل قریب میں جب بھی کوئی جھوٹ بولے گا، اس پہ پانی کی بوچھاڑ ہو گی۔ پانی کی ہلکی پھوار بھی ہو سکتی ہے اور سیلابی صورت بھی۔ اس کا انحصار جھوٹ کی شدت پہ ہو گا) یہ تصور کہ آدمی جب بھی جھوٹ بولے

Read more

زرد موسم کے گلاب: اردو زبان میں عربی ادب کا مطالعہ کیجئے اور حظ اٹھائیے

قطری ناول نگار نورہ فرج کا عربی ناول ’ماء الورد‘ ایک دلچسپ تاریخی فینٹسی ہے جو آپ کو 319 ہجری کے ایک عرب شہر ’لظی‘ میں لے جاتا ہے جو آج کی دنیا سے قطعی طور پہ مختلف دنیا ہے۔ اس ناول کا ترجمہ اردو زبان میں ’زرد موسم کے گلاب‘ کے عنوان سے عبید طاہر قاضی نے کیا ہے جو ریڈیو قطر کے پروڈیوسر اور ریڈیو قطر کی ایک دلکش آواز ہیں۔ لیلیٰ جو اس ناول کا مرکزی کردار

Read more

ڈاکٹر عارفہ شہزاد کا ناول ’میں تمثال ہوں‘ کئی اعتبار سے ایک منفرد ناول ہے

یہ کہانی ایک مشرقی مسلمان عورت کی کہانی ہے جو ایک شاعرہ ہے۔ تمثال کسی بھی تخلیق کار کی طرح رومان پرور ہے اور ہم مزاج افراد سے گفتگو اور ہلکی پھلکی دل لگی سے توانائی کشید کرتی ہے۔ ایکسٹرا میریٹل افئیرز کے تجربات سے گزرتی ہے۔ شوہر کی بے توجہی کے باعث وہ اپنی ناآسودہ جنسی خواہشات بھی کسی اور مرد کے ساتھ پوری کرتی ہے۔ مگر دلی ناآسودگی ہے کہ تھم کے نہیں دیتی۔ تمثال کی فکری تربیت مذہب کے زیر سایہ پروان چڑھی ہے اس لئے وہ ان تمام معاملات کا مذہبی نظریے سے بھی جائزہ لیتی ہے۔ جذبات اور مذہب کی کشمکش اسے ذہنی تشویش کا شکار کر دیتی ہے۔ وہ دھیرے دھیرے اس بات کو قبول کر لیتی ہے کہ عشق اور جسمانی تعلق دو الگ باتیں نہیں۔ لہٰذا ان تجربات سے گزرتی چلی جاتی ہے مگر قرار نہیں پاتی۔

Read more

ٹیلی ویژن ڈراما اور فلم کیسے لکھتے ہیں

کہانی، اسکرین پلے اور مکالمہ، ان تینوں کو ملا کر ٹی وی ڈراما یا فلم لکھی جاتی ہے۔ ہر رائٹر کی خواہش ہوتی ہے کہ اسٹوری بھی اس کی اپنی ہو، ڈائیلاگ بھی اپنے ہوں اور اسکرین پلے بھی اس کا اپنا ہو، مگر یہ تینوں کام الگ الگ اشخاص بھی کر سکتے ہیں۔ یہ تینوں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن فلم یا ڈراما لکھنے میں تینوں میں سے زیادہ اہم اسکرین پلے ہی ہوتا ہے۔ پہلے وقتوں میں بنی خاموش فلمیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ فلم، ڈائیلاگ کے بغیر بھی بن سکتی ہے۔ مکالمہ سب کچھ نہیں، جذبات (ایموشن) اہم ہیں، اس کے بیان کے لیے چاہے خاموشی زباں ہو جائے۔

کیا اسٹوری یا کہانی کے بغیر ڈراما سیریل یا فلم بن سکتی ہے؟ ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ ایک مکمل کہانی نا بھی ہو تو فلم بنائی جا سکتی ہے۔ یا یہ کہ کئی کہانیوں کے ٹکڑے ملا کر، ہندی فلم ”گج گامنی“ کی مثال سامنے کی ہے۔ دوسری صورت، ایسی فلمیں، جن میں الگ الگ کئی کہانیاں ہوتی ہیں، جیسے ہندی فلم ”دس کہانیاں“ ۔ یہ بھی ہے کہ آپ کہانی کسی اور کی لے لیں اور اس پہ فلم یا ٹی وی ڈراما بنا لیں۔

Read more

اپنی نرگسیت کو محبت کا نام دینے والوں سے دور رہیں

ایک بار نہیں، یہ مکالمہ کئی بار ہوا۔ کب اور کہاں، اس کا ذکر ضروری نہیں۔ کن دو کرداروں کے درمیان اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جنس کا تعین بھی غیر ضروری ہے۔ البتہ قاری اگر ایسے مسئلے سے دوچار ہے تو اپنی اسے الجھن کا حل ضرور مل سکتا ہے۔ اب ہمارا رابطہ نہیں ہوتا۔ میں نے بہت عرصہ خود اس سے تعلق نبھانے کی کوشش کی، مگر اب۔ مجھے بار بار اس کی طرف بڑھنا اچھا

Read more

آئینے پر غبار رہنے دو

یونیورسٹی کے دن زندگی میں ایک الگ ہی مقام رکھتے ہیں۔ دھندلی یادوں کے بیچ واضح تصویریں لیے ، ان مٹ آوازوں اور ناقابل فراموش علمی تصورات عطا کرنے والے۔ یہاں سے زندگی ایک نیا موڑ لیتی ہے۔ ایک بہت بڑے راؤنڈ اباؤٹ کی طرح یہاں سے نکلے والے رستے سب کو ان کی الگ الگ ان دیکھی دنیاؤں میں لے جاتے ہیں۔ پر ایک بات یقینی ہے کہ جو خواب آنکھوں میں لئے نوجوان یہاں قدم رکھتے ہیں وہ

Read more

پلاٹ، کہانی، کردار: باہمی تعلق اور ان کی تشکیل کے مراحل

اکثر افراد اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ پلاٹ اور اسٹوری (کہانی) میں کیا فرق ہے؟ کہانی جہاں کسی کردار کی ایک نقطے سے دوسرے نقطے تک کا سفر بیان کرتی ہے، وہاں پلاٹ اسی کہانی میں موجود ”سیکوینس آف ایونٹس“، یعنی وقت کے اعتبار سے حالات و واقعات کا بیان کرتا ہے۔

ایک کردار جو عام زندگی گزار رہا تھا، کلوکار بن کے شہرت اور دولت حاصل کر لیتا ہے۔ یہ ہوئی کہانی۔ اس سارے عمل میں وہ جن اتار چڑھاو سے گزرتا ہے، یہ اس کہانی کا پلاٹ ہوتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر کہانی میں پلاٹ موجود ہوتا ہے، مگر ہر پلاٹ میں کہانی موجود ہو، ایسا ضروری نہیں۔ آگے چل کر مثالوں کے ساتھ اس پہ مزید بات کریں گے۔

Read more

لکھا کیسے جاتا ہے، لکھاری کا ذہن بانجھ ہو جائے تو کیا کرتے ہیں؟

لینگویج کے چار اسکلز یعنی چار مہارتیں ہوتی ہیں۔ لسننگ، اسپیکنگ، ریڈنگ اینڈ رائٹنگ۔ ان میں لسننگ اور ریڈنگ، ریسپٹو اسکلز ہیں۔ یعنی ہم جو کچھ سنتے ہیں اور جو پڑھتے ہیں وہ ہمارا ان پٹ ہے، جب کہ اسپیکنگ اینڈ رائٹنگ، یہ ہمارے پروڈکٹو اسکلز ہیں، یعنی ان کی مدد سے ہمیں آؤٹ پٹ دینا ہے۔ ہمیں انھیں پر زیادہ کام کرنا ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک حصہ ہے رائٹنگ کا۔ آج ہم اسی پہ بات کریں گے۔ پہلے ذرا ذیل کی سطور کو پڑھیے گا۔

”میں نے ٹرین میں، ہوٹلوں میں اور ویٹنگ روم میں لکھنا سیکھا۔ جہازوں میں کھانے کی ٹرے ٹیبل پہ۔ ۔ ۔ میں کھانے کے دوران میں میز کے نیچے، یا غسل خانے میں نوٹس لکھتی ہوں۔ عجائب گھر کی سیڑھیوں میں، کیفے میں، گاڑی میں، موٹروے کے کنارے کھڑے ہو کر میں لکھا کرتی ہوں۔ میں لکھتی رہتی ہوں۔ کاغذ کے ٹکڑوں پر، نوٹ بکس میں، پوسٹ کارڈز پہ، اپنے دوسرے ہاتھ پہ، رومال پہ، کتابوں کے حاشیوں میں، عموماً یہ چھوٹے چھوٹے جملے ہوتے ہیں۔ چھوٹی تصویریں۔ مگر کبھی کبھی میں اخباروں سے اقوال بھی نوٹ کر لیتی ہوں۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ہجوم میں اچانک کوئی کردار نکل آئے، تو میں اپنے سفر کا راستہ بدل لیتی ہوں۔ اسی کی کہانی لکھنے لگتی ہوں۔ یہ ایک اچھا طریقہ ہے۔ مجھے اس پر کمال حاصل ہے۔ سال گزرنے کے ساتھ ساتھ وقت میرا ساتھی بن گیا۔ جیسا کہ ہر عورت کے ساتھ ہوتا ہے۔ میں شفاف، غیر مرئی ہو گئی۔ میرے آر پار دیکھا جا سکتا ہے۔ میں بھوتوں کی طرح ادھر ادھر گھوم سکتی ہوں۔ لوگوں کے کاندھوں سے پرے دیکھ سکتی ہوں۔ ان کی بحث تکرار سن سکتی ہوں۔ اور ان کو اپنے سفری بیگوں پر سر ٹکائے سوتا بھی دیکھ سکتی ہوں۔ یا ان کو آپس میں بات کرتے جو میری موجودی سے بے خبر ہوتے ہیں، ان کے ہونٹوں کو ہلتا دیکھ کر، میں ان کے لفظ ان کے سامنے بھی بول سکتی ہوں“ ۔

Read more

’ میں مرنے کے سخت خلاف ہوں‘ ۔ ۔ ۔ فلم 102 ناٹ آؤٹ

زندگی اور موت میں فرق تو صرف اس دل کا ہے جو زندہ ہے تو زندگی دھڑکتی محسوس ہوتی ہے اور مر جائے تو چلتے پھرتے انسان کا ناتا ہر شے سے کٹ جاتا ہے۔ آدمی مر جاتا ہے۔ ایسا انسان زندگی کی رسم بھی بے دلی سے نبھایا کرتا ہے۔ اسی موضوع پہ بنی ہندی فلم 102 ناٹ آؤٹ نے ذہن کو سوچ کے کئی نئے رستوں پہ ڈال دیا۔ امیش شکلا کی فلم 2018 میں کب آئی اور نکل گئی، ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔ فلم کا باکس آفس پہ ہٹ جانا اس کے ایک اچھا فلم ہونے کی سند نہیں۔ بلکہ ہم نے تو اپنی فرصت کے لمحات میں تفریح طبع کے لئے یہ کلیہ بنا رکھا ہے کہ جس فلم کو اکثر لوگ بور کہتے ہوں اسی کا انتخاب کیا جائے۔ اور اس میں ہمیں کم ہی کبھی مایوسی ہوئی۔

وکھاریہ خاندان کے دو بوڑھے کرداروں کے گرد گھومتی یہ فلم کئی احساسات کی پرتیں کھولتی ہے۔ ایک کردار بیٹا ہے ’بابو‘ جس کی عمر 75 برس ہے تو دوسرا کردار باپ، دھتاتریہ وکھاریہ عمر 102 سال۔ امیتابھ بچن اور رشی کپور کا سویٹ اینڈ سافٹ کامبینیشن۔ جہاں پردۂ سیمیں کی سیما سے پرے ان اداکاروں سے اہم ان کے کردار ہیں اور کرداروں سے اہم ان سے جھلکنے والے زندگی کے رنگ۔

Read more

ٹڈی دل کا ایک چھوٹا حملہ: نوبل انعام یافتہ ادیبہ کا افسانہ

افسانہ: ڈورس لیسنگ
ترجمہ: نبراس سہیل

اس سال برسات ٹھیک پڑی تھی۔ ۔ ۔ فصل کی ضرورت کے مطابق ٹھیک ٹھاک بارش ہو جاتی تھی۔ ۔ ۔ کچھ ایسی ہی باتیں مارگریٹ کی سمجھ میں آئیں جب مردوں نے اسے بتایا کہ بارشیں کم نہیں تھیں۔ ۔ ۔ موسم جیسے معاملات کے بارے میں اس کی اپنی کوئی رائے نہ تھی کیونکہ موسم جیسے سادہ معاملے کو سمجھنے کے لئے بھی تجربہ درکار تھا جو جوہانس برگ میں پیدائش اور پرورش کی وجہ سے اس کے پاس تھا ہی نہیں۔ ۔ ۔ مرد کون تھے۔ ایک اس کا شوہر رچرڈ اور ایک بوڑھا سٹیفن۔

Read more

آمنہ، عظمیٰ، عثمان کیس کے چند اہم پہلو اور ان کا علمی تجزیہ

ہم یہاں ان کرداروں کو جنرالائز کر کے، عمومی طور پہ اس بات کو آگے بڑھائیں گے۔ یوں تو یہ ایک روایتی تثلیث ہے۔ دو عورتیں اور ایک مرد۔ مگر اس موضوع کے تحت ہمیں معاشرے کے کئی کرداروں کے تجزیے کا موقع ملے گا۔ مثلاً ایک بیوی، ایک داشتہ، ایک شوہر، ایک ماں، ایک غاصب عورت، ایک زنا کار مرد، ایک بے شرم طوائف، اور ہنگامے سے پرے گلی میں کھڑے بہت سے کردار جو اپنے اپنے تئیں اس پہ تبصرہ کرنے میں لگے ہیں۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔

پہلو نمبر ایک : کیا کسی کے گھر پہ یوں دھاوا بولنا درست ہے؟

کوئی بھی مہذب معاشرہ اس کی اجازت نہیں دے گا۔ یعنی قانونی طور پہ ایسا کرنا قطعی درست نہیں۔ میں یہاں لارنس کوہلبرگ کے حوالے سے بات کو آگے بڑھانا چاہوں گی جو بیسویں صدی کے ایک ماہر نفسیات گزرے ہیں جنھوں نے بعد میں مورل ایجوکیشن یعنی کردار کی تعلیم کے میدان میں بہت کام کیا۔ ان کا ایک تجربہ جس کا یہاں ذکر بے حد ضروری ہے، انتہائی دلچسپی کا حامل ہے۔ وہ اس کو ہائنز ڈلیما یعنی ’ہائینز کی الجھن‘ کا نام دیتے ہیں۔

یورپ کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ ہائینز کی بیوی کو ایک خاص قسم کا جان لیوا کینسر ہو گیا جس کے علاج کے لئے ریڈیم سے بنی دوا درکار تھی۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ اس سے اس کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ دوا مہنگی تھی مگر اس دوا کو خرید کر ایک دوا ساز نے اس کے دام دس گنا بڑھا دیے۔ یعنی چار سو ڈالر کی دوا وہ چار ہزار ڈالر میں بیچنے لگا۔ ادھار پکڑ کے، جیسے تیسے کر کے ہائینز نے دو ہزار ڈالر جمع کیے اور اس دوا فروش کے پاس پہنچا کہ یہ پیسے لے کر اسے دوا دے دے۔

اس کی بیوی کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ مگر اس دوا فروش نے سفاکی سے انکار کر دیا۔ لہٰذا ہائینز رات کے

Read more

تعلیمی نصاب میں ڈیتھ ایجوکیشن کو شامل کیا جانا چاہیے

مجھے یاد ہے میں نے جب پہلی بار اپنے والد کو کسی کی موت کی خبر سن کر ’الحمدللہ‘ کہتے سنا تو میں نے ان کی طرف حیران ہو کر دیکھا تھا۔ عربوں کا یہ رواج تو تھا ہی سو ان میں رہتے ایسا کہنے کی عادت اپنا لینا کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ مگر پھر مجھے دھیرے دھیرے اس کے پیچھے چھپے ایمان کی حکایت سمجھ آگئی۔ میں نے اپنے والد کی پیشانی پہ ایسے کئی دکھ متانت میں ڈھلتے دیکھے۔ میں اس لمحے کا انوکھا تجربہ بھی کبھی نہیں بھلا سکتی جب میرے اندر سے آواز آئی تھی کہ یہ میری والدہ کے آخری لمحات ہیں اور میں نے ان کے کان میں کلمہ طیبہ پڑھا۔

Read more

بڑھاپے کی ورچوئل محبت، وبا اور موت کا دکھ

ایک پیلا پھول تھا جس کے گرد کئی سارے کاسنی ننھے ننھے پھول تھے اور ان کے بیچوں بیچ ’صبح بخیر‘ کا پیغام تھا۔ دل میں تازگی کی لہر دوڑ گئی تو ارجمند بیگم بستر پر ہی پڑی مسکرا اٹھیں۔ آج کل ایسی حسین صبحیں ان کا سواگت کیا کرتیں کہ ان کا جی چاہتا وہ ننگے پاؤں پھولوں سے سجی دھرتی پہ دوڑتی چلی جائیں۔ ایک لا ابالی لڑکی کی طرح ناچتی گاتی پھریں۔ ہواؤں کو اپنے من کے

Read more

اف اللہ ہمیں چلنا پھرنا پڑا

میں نے اپنی سادہ مگر پرکشش بارڈر والی گہرے نیلے رنگ کی ساڑھی باندھی۔ آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے ساڑھی کا پلو سیٹ کیا۔ ہاتھ سے ساڑھی کی پلیٹیں سیٹ کرتے ہوئے، جھک کے ساڑھی کی فال دیکھی۔ میں نے اب تک جوتا نہ پہنا تھا۔ ساڑھی بھی اسی حساب سے باندھی تھی کہ لانگ ہیل نہ پہنوں۔ موقع کوئی خاص نہ تھا، بس تین چار گھنٹے کی گیدرنگ تھی۔ اس گیدرنگ میں سب سہیلیوں کا ساڑھی باندھنے کا

Read more

سوشل الرٹ: ہمارے معاشرے میں فیمنزم کا پیغام منفی جا رہا ہے!

پاکستان کی خواتین جب فیمنزم یا حقوق نسواں کی دوڑ میں شامل ہوئیں تو عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کی علمبردار خواتین کافی بڑی کامیابیاں حاصل کر چکی تھی مثلاً۔ خواتین کا سیاست میں کردار۔ خواتین کے ووٹ کا حق۔ اسے فیمنزم کا پہلا دور کہا جاتا ہے جو انیسویں صدی کے آخیر میں امریکہ اور یورپ میں شروع ہوا اور اس نے بیسویں صدی کے ابتدائی سالوں تک سفریج یا ووٹ کا حق حاصل کر لیا تھا۔ اس لحاظ سے پاکستانی خواتین کو ووٹ کا حق تو پیدائشی حق کی طرح نصیب ہو ا۔

Read more

221 B بیکر سٹریٹ۔ 121 C داستان سرائے اور زنجیر کی نازک کڑی!

1998 کی بات ہے۔ میں ساتویں کلاس کو انگریزی پڑھا رہی تھی۔ شیرلوک ہولمز کی کسی کہانی کا کوئی اقتباس تھا۔ بچے بڑی دلچسپی سے سن رہے تھے۔ اس مختصر تحریر نے بچوں کو بے حد متاثر کر دیا تھا۔ شیرلوک ہولمز کے باریک مشاہدے، تفتیش کے منطقی اور سائنسی طریقوں کی وجہ سے وہ اسے ایک اصلی ہیرو کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔ شیرلوک ہولمز کے بارے میں مزید جاننا چاہتے تھے۔ تو میں نے ان کو بتایا

Read more

صدائیں مجھے نہ دو!

فضا میں خنکی بڑھتی جا رہی ہے۔ میں کافی کا کپ لے کر ٹیرس پہ آ بیٹھا ہوں۔ نومبر کی شاموں کی اداسی میرے مزاج کے عین مطابق ہے۔ نومبر سے اگلے مہینے بھی میری سرد مہری سے زیادہ سرد نہیں۔ مو بائل کے سپیکر سے اٹھتی مہدی حسن کی آواز مجھے اپنے دل کی آواز لگ رہی ہے۔ شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو سیگریٹ سلگا

Read more

کیا ہمیں اپنے بچوں کو گڈ بائے مسٹر چپس نامی ناول پڑھانا چاہیے؟

پاکستانی کالجوں میں ہائیر سکینڈری سطح پر جیمز ہلٹن کا ناول ’ گڈ بائے مسٹر چپس‘ پڑھائے جانے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ا گر ایک طرف اس کے 40 سال سے زائد عرصہ سے پڑھائے جانے پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے تو دوسری طرف اس پہ ایک شدت پسندانہ نظریہ سے تنقید کی جا رہی ہے۔جہان تک پہلے اعتراض کا تعلق ہے ، یہ کتاب خود ثابت کرتی ہے کہ یہ ماڈرن فکشن میں سب سے محبوب تخلیق ہے جس نے کئی نسلوں کو اپنے سحر میں مبتلا رکھا ۔ 1934ء میں اپنی تخلیق سے لے کر آج تک یہ کتاب کبھی طباعت سے باہر نہیں رہی۔ ایک استاد کی زندگی کا سادہ زبان میں بیان طلباء کے دل کو چھو جاتا ہے اور وہ ہمیشہ کے لئے اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ دوسرے اعتراض کے ضمن میں البتہ بات کو سمجھنے کے لئے ادبی رویّہ چاہئے۔ کتاب پر اعتراض اس بنیاد پر ہے کہ حقیقی زندگی کے ہیروز کو نظر انداز کر کہ ایک فرضی کردار مسٹر چپس کو پڑھنا ایک بے کار عمل ہے اعتراض کرنے والے لوگ ناول گڈ بائے مسٹر چپس کی بجائے مسلم تاریخ کے کسی کردار کی سوانح پڑھانے کی وکالت کرتے ہیں۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ایک انتہائی غیر مناسب تقاضا ہے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ گڈ بائے مسٹر چپس ایک فرضی تخلیق ہے اور وہ بھی انگریزی ادب کی۔ یہ انتہائی نا معقول بات ہے کہ انگریزی ادب کی تخلیقات کی جگہ بھی مذہبی شخصیات پڑھائے جانے کی بات کی جائے۔ ہمارے سلیبس میں دیگر بہت سے ایسے مضامین ہیں جہاں مذہبی تعلیمات کو جگہ دی جا سکتی ہے۔ کیا ہم نے یہ ان کو وہاں صحیح مقام دے دیا؟

Read more

منطقی سوچ، مذہب اور الحاد

مجھے ہمیشہ سے ایسے لوگ پسند ہیں جو فکر کو زاویے عطا کرتے ہیں۔ پچھلے آرٹیکل میں میں نے کریٹکل تھنکنگ (منطقی سوچ) کے حوالے سے بات کی تو ڈاکٹر سہیل نے ’کریٹکل تھنکنگ اور مذہب‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کی دعوت دے ڈالی۔ میرے لئے ڈاکٹر سہیل جیسے دانشور کا حکم بجا لانا ایک اعزاز کی بات ہے۔ اپنی کم علمی کا ادراک بھی ہے مگر اس سے زیادہ یہ یقین کہ بہر صورت اس عمل میں مجھے ہی کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا۔ مسئلہ جتنا اہم ہے اتنا ہی بیان کرنے میں پیچیدہ بھی۔ اب جیسے جیسے میری سوچ بہتی چلی جائے گی، میں اپنا نقطہء نظر بیان کرتی جاوئنگی۔ آپ بھی میرے ساتھ چلتے چلئے۔

Read more

کیا کریٹیکل تھنکنگ سکھائی جا سکتی ہے؟

آج کے تعلیمی اور تدریسی میدان میں سب سے بڑی ضرورت ’کریٹیکل تھنکنگ‘ یعنی ’منطقی استدلال‘ کی مہارت پیدا کرنا ہے۔ بلکہ میں اس کو درست کرتے ہوئے یہ کہوں گی کہ یہ پاکستانی تعلیمی اداروں کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ مغرب نے اس ضرورت کا ادراک ہم سے قریب قریب نصف صدی پہلے کر لیا تھا اور اس ضمن میں ہم سے کہیں آگے بھی نکل چکے ہیں۔ اور ساتھ ہی اُن قوموں کا تعلیمی نظام بھی جو وقت کے ساتھ چلنے پر یقین رکھتی ہیں۔ ۔ ہمارے یہاں ابھی یہ سوال ہی بہت بڑا ہے کہ کریٹکل تھنکنگ کیسے سکھائی جا سکتی ہے؟

یہی وجہ ہے کہ آج کے ٹیچرز خود کو زیادہ چیلنجز میں گھرا محسوس کرتے ہیں۔ بہت کثیر تعداد اُن اساتذہ کی ہے جو جدید تعلیمی نظام میں اس تقاضے کو پورا نہ کر پانے کی وجہ سے خیبت کا شکار ہیں اور بہت سے اساتذہ اس ایک وجہ سے اپنی نوکریاں بھی کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ مسئلہ خاص طور پر دبئی میں مقیم پاکستانی اساتذہ کو در پیش ہے چونکہ یہاں روایتی طرزِ تعلیم کی ان تمام روایات کو ختم کرنے پر کام کیا جا رہا ہے جو محض نالج اور یادداشت کے گرد گھومتا ہے۔ جدید طرزِ تعلیم کو اپنانے کے لئے یہاں حکومتی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Read more

میں نے آسیہ بی بی کو معاف کیا !

سچ کہوں تو مجھے چار دن پہلے تک یہ بھی یاد نہیں تھا کہ آسیہ نامی کوئی عیسائی خاتون توہینِ رسالت کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے ہے۔ لہذا میری زندگی نارمل انداز میں گزر رہی تھی۔ میں تو چونکہ مذہبی انتہا پسند نہیں ہوں اس لئے شاید ابھی بہت سے لوگ میری تحریر پڑھ کر مجھ پہ برس پڑیں کہ آپ یہ اعلان کرنے والی کون ہوتی ہیں؟ تو مجھے ایسے انتہائی دیندار لوگوں سے پوچھنا ہے کہ کیا

Read more

جنسی ہراسانی، جنسی استحصال۔ سلیبرٹی اور عام عورت!

سب سے پہلے تو ذہن میں کچھ دیر اس لفظ ’جنسی ہراسانی‘ کو رکھیے۔ اس کی شکار عورت، جس کی مرضی کے خلاف اس کو جنسی تعلق کی دعوت دی گئی ہو، یا اس کی مرضی کے بغیر اس سے دست درازی کی گئی ہو، بے حد تکلیف سے گزرتی ہے۔ اس تکلیف کا تعلق جسم سے زیادہ ذہن سے ہوتا ہے۔ عورت جب بھی کسی مرد کے ہاتھوں خود کو جنسی طور پہ غیر محفوظ سمجھنے لگتی ہے تو

Read more