کریپٹو کرنسی کے نام پر پاکستانی قوم کو ایک بار پھر اربوں روپے کا چونا لگ گیا


عالمی سطح کی غیر قانونی آن لائن کریپٹو کرنسی فرانچائز کے ڈومین میں تبدیلی کے باعث کوئٹہ سمیت پاکستانی شہریوں کے لگ بھگ اربوں روپے روپے ڈوب گئے ہیں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی جناح روڈ کے عقب میں قائم پے ڈائمنڈ نامی بزنس فرانچائز کو تالے پڑ گئے ہیں جبکہ عملہ فرار ہوگیا ہے جس کے باعث مختلف سرکاری و نجی اداروں سے ریٹائرڈ سینکڑوں ملازمین سمیت بعض متواسط طبقے کے لوگوں کی عمر بھر کی جمع پونجی ڈوبنے سے بعض سفید پوش افراد کوڑی کوڑی کے محتاج ہوگئے ہیں آن لائن کریپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد میں کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایسے شہری بھی شامل ہیں جنہوں نے بیرون ملک محنت مزدوری کرکے اپنے سالوں کی محنت مزدوری سے کمائی ہوئی رقم اس غیر قانونی کاروبار میں لگا دی جبکہ مالی فوائد کے لالچ میں گھربار بیچ کر راتوں رات امیر ہونے کے چکر میں بعض افراد کوڑی کوٹی کا محتاج ہوکر سڑکوں پر آگئے ہیں

دستیاب معلومات کے مطابق 2015 سے انٹر نیٹ پر کریپٹو کرنسی پے ڈائمنڈ کے نام سے کام کرنے والی پاکستان میں غیر رجسٹرڈ و غیر قانونی کمپنی کا انٹر نیٹ ڈومین تبدیل ہوکر ویب سائٹ بند ہونے کے بعد آن لائن رابطہ منقطع ہونے سے کوئٹہ سمیت پاکستان کے لاکھوں افراد کو اربوں روپے کا چونا لگا کر مختلف شہروں میں قائم پے ڈائمنڈ کے دفاتر بند اور عملہ غائب ہو چکا ہے اور لاکھوں افراد اس عالمی فراڈ کا شکار ہو کر اربوں روپے سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اس کمپنی کے تحت پاکستان میں چار قسم کے پیکجز متعارف کرائے گئے تھے جن میں جوئے پیکج کے تحت ابتدائی سرمائے 22400 روپے پر ہفتہ وار 900 روپے ماہوار 3600 روپے جبکہ سالانہ 45000 ہزار روپے۔

لائیٹ پیکج کے ابتدائی سرمائے 44800 روپے پر ہفتہ وار 1800 سو روپے ماہوار 7200 روپے جبکہ سالانہ نو لاکھ روپے پلس پیکج کے ابتدائی سرمائے 134400 روپے پر ہفتہ وار 5400 روپے ماہوار 21600 روپے جبکہ سالانہ 270000 روپے اسی طرح ماسٹر پیکج کے ابتدائی سرمائے 403200 روپے پر ہفتہ وار 16200 روپے ماہوار 64800 روپے جبکہ سالانہ 810000 روپے دیے جانے کا لالچ دے کر کوئٹہ سمیت پاکستان کے ہزاروں شہریوں سے ایک اندازے کے مطابق اربوں روپے لوٹے گئے بلوچستان میں اس مقصد کے تحت ایک عرصہ تک کوئٹہ کے گنجان آباد علاقے جناح روڈ کے عقب میں ایک پرتعش دفتر قائم کرکے کسٹمر فیسلیٹیشن سینٹر قائم کرکے لین دین کا عمل کھلے عام جاری رہا

دستیاب معلومات کے مطابق پیسوں کی وصولی کے بعد کسٹمر کے ای میل کی بنیاد پر آن لائن ای اکاونٹ کھولا جاتا جس میں ہفتہ وار ڈالر سائن کی صورت میں منافع کریڈٹ کیا جاتا جو کہ گاہک اپنے ای اکاونٹ سے مقامی فرنچائز کے ای اکاونٹ میں محض عددی ٹرانسفر کرکے پاکسانی روپے کی صورت میں منافع کی رقم حاصل کرتا یہ تمام تر لین دین کسی قانونی مالیاتی ادارے کے قانونی طریقہ کار کے بجائے کیش میں ہوتی رہی اس کے ساتھ ساتھ کمپنی کی طرف سے یہ پابندی رائج رہی کہ کوئی بھی ممبر مقررہ وقت سے پہلے اپنے سرمائے کی اصل رقم نہیں نکال سکتا ممبران کے ذریعے نئے گاہک پھنسانے کے لئے نہ صرف واٹس ایپ گروپ قائم کرکے تشہیری مہم کو فروغ دیا گیا بلکہ دفتر اور یونیورسٹیز کے طلبہ کے سرکل قائم کرکے نیٹ ورکنگ کے ذریعے ایک بڑی رقم ہتھائی گئی۔

اس مقصد کے لئے خواتین سٹوڈنٹس کو بھی استعمال کیا گیا باعث حیرت امر یہ رہا کہ 2015 سے 2018 کی آخری سہہ ماہی تک کوئٹہ سمیت ملک بھر میں چلنے والا یہ غیر قانونی کاروبار کس طرح پھلا پھولا اور اسٹیٹ بنک سمیت ان مالیاتی معاملات پر متعین اداروں کی آنکھیں کیوں بند رہیں جو ایسے معاملات کی نگرانی پر معمور ہیں اتنے بڑے گھپلے کے باوجود کوئٹہ میں اسی نوعیت کے چند دیگر بڑے دھندے تاحال عروج پر ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو راتوں رات ککھ پتی سے لکھ پتی بنانے کی ترغیب دی جارہی ہے پاکستان میں جہاں ایک طرف مالیاتی نظام کی اصلاح کے لئے اقدامات اور ٹھوس قوانین کی تشکیل کے لئے کام جاری ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان اورچئیرمین نیب نے اس عزم کا بارہا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان سے لوٹا پیسہ واپس لایا جائے گا ایسے میں یہ امید کی جانے چاہیے کہ کریپٹو کرنسی پے ڈائمنڈ کے ذریعے ایک غیر رجسٹرڈ فرم سے پاکستانی قوم کے اربوں روپے کی واپسی کے لئے کوئی نوٹس لیا جائے گا۔

Facebook Comments HS