قصہ 30 سال پہلے چوری ہونے والی میری پنجیری کا


کوئی رات دس بجے کے قریب محفل برخاست ہوئی اور سب نے اپنے اپنے کمروں کی راہ لی۔ میں بھی ہوسٹل کے برآمدے میں خراماں خراماں خراماں چلتا ہوا جب اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا تو عین لان کے درمیان پڑے اپنے پنجیری کے ڈبے کو پڑا دیکھ کر ٹھٹھک کر کھڑا ہو گیا۔ لیکن پھر فوراً ہی خیال آیا کہ میرا ڈبہ تو پلنگ کے نیچے پڑا ہوا ہے اور وہ یہاں کیسے آ سکتا ہے۔ اور دوسرا کمرے کی چابیاں بھی میرے پاس ہی ہیں۔

اسی طرح کے خیالات کو ذہن میں لیے ہوئے کمرے کا تالا کھول کر پہلا کام ہی یہ کیا کہ اپنی مزید تسلی کے لیے پلنگ کے نیچے جھک کر جب نظر دوڑائی، تو یقین مانیں، دل دھک سے رہ گیا۔ ۔ پلنگ نیچے سے ”خالم خالی“ اور بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ یہ کیا اور کیسی واردات ہو گئی ہے میرے ساتھ، کمرے کی چابیاں سارا وقت میرے پاس تھیں۔ پھر کیا جن بھوت ڈبہ اٹھا باہر لے گیا ہے۔ کمرہ بند کیے بنا ہی باہر دوڑ لگائی اور جاکر دیکھا تو وہ میرا ہی ڈبہ تھا، تاہم پھر بھی امید یہی تھی کہ چونکہ کنڈی اور تالا صحیح طریقے سے لگا ہوا ہے، پنجیری اندر ہی ہے، ڈبے کے کور کے اوپر بنی ہک سے جب اسے اٹھایا تو وہ بے وزن ہرجائی اوپر ہی اوپر اٹھتا چلا گیا۔

اب کیا تھا، نا امید اور ہارے ہوئے لشکر کی طرح وہیں بیٹھ گیا، رگ و پے میں اک عجیب سی نقاہت محسوس ہوئی۔ سردی کے باوجود ٹھنڈے پیسنے آ رہے تھے۔ کافی وقت ایسے ہی گزر گیا تو دیکھا ارد گرد کے برآمدوں میں گزرنے والے اکثر طلباء معنی خیز نظروں سے رک رک دیکھ رہے تھے۔ کپڑے جھاڑ کر اٹھا اور خالے ڈبے کو اٹھا کر واپس کمرے میں آگیا۔

کمرے کو بند کیا اور سوچتا ہوا سیدھا سیکنڈ فلور پر معین نقوی کے کمرے کو جا کر کھتکٹایا۔ میرا پہلا شک اس پر اس لیے گیا تھا کہ ہم دونوں نے اپنے اپنے کمروں کی ایک ایک اضافی چابی ایک دوسرے کے پاس ایمرجنسی کے لیے رکھی ہوئی تھی۔ اور وہ میرا سب سے زیادہ راز داں اور قابلِ اعتبار بھی تھا (نقوی صاحب آج کل لاہور ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ ہیں )

معین نقوی چونکہ اہلِ زبان تھا اور ایک اردو سپکینگ فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔ میں نے آؤ دیکھا نا تاؤ، جاتے ہی پہلے تواُسے اردو میں سخت سست سنانے کے باقاعدہ گالیوں کی برسات کر دی، لیکن مجھے جلد ہی اردو زبان میں گالیوں کی اپنی کم ماہیئگی اور ناپختہ گرائمر احساس ہو گیا، دوسرا میں اپنے جبڑے تھکتے دیکھ کر اردو سے پنجابی پر اتر آیا۔ اور کہنے دیں کہ عام فہم گالیوں کے حوالے سے جو زرخیزی، روانی و سیلانی اور فصاحت یہاں دستیاب ہے اس کا جواب نہیں ہے۔

نقوی میرے غصے کی شدت اور گالیوں کے جواب میں روہانسا ہو کر بار بار ایک ہی بات کی قسمیں کھائے جا رہا تھا کہ یہ واردات اس چابی سے نہیں ہوئی جو آپ نے امانت کے طور پر میرے پاس رکھوائی ہوئی ہے۔ جب اس نے اتنی قسمیں کھا لیں اور میرا غصہ بھی کچھ کم ہو گیا تو پھر میں نے دوسرے آپشنز پر غور شروع کردیا کہ یہ سب کیسے ہوا ہے۔

اب چونکہ رات خاصی گزر چکی تھی اور صبح کلاس بھی تھی۔ واپس کمرے میں آ کر بستر پر لیٹے لیٹے اور اپنی پنجیری کے ساتھ ہونے والی واردات کی کڑیاں ملاتے ملاتے رات گزر گئی۔ اور اس طرف دھیان ہی نہیں گیا کہ یہ واردات تو میری اپنی ہی چابیوں سے بھی ہو چکی ہے۔

اگلے دن جب کیمپس میں کلاس روم داخل ہوا تو دیکھا کہ باقی سب ساتھی کلاس فیلوز بشمول لڑکیاں مجھے دیکھ بے ساختہ قہقہے لگانے لگے، اپنی مخصوص سیٹ پر بیٹھتے ہی جو نقوی کے ساتھ ہی ہوتی تھی میری نظر سامنے بلیک بورڈ پر پڑی جہاں بڑے بڑے حروف میں ”اہم اطلاع“ کے نام سے یہ عبارت درج تھی۔

”نہایت افسوس کے ساؤتھ خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گزشتہ رات کسی نے عمر ہاسٹل کے کمرہ نمبر 17 سے طاہر بھائی کی“ پنجیری ”چرا لی ہے۔ چوری کی اس واردات کے ملزمان کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ اپنے طاہر بھائی کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کی درخواست ہے“۔

یہ دوسرا بم شیل نما حملہ تھا۔ اب مجھے کچھ سمجھ میں آنے لگا لکھائی میں پہچان چکا تھا۔ میں نے نظریں گھما کر پچھلی رو میں بیٹھے طلعت ہنجرا کی طرف دیکھا تو اس نے مکاری سے ہنستے ہوئے اور معنی خیز انداز سے اشارہ ظہیر الدین بابر کی طرف کر دیا۔ اب دو ملزمان تو مجھے معلوم ہو ہی چکے تھے۔

اب سب آٹھ آٹھ کر اور باری باری میری سیٹ پر آ کر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کرنے لگے۔ اکثر کے ”چیزے بازی“ کے موڈ میں ڈائیلاگ ایسے ہی تھے کہ ”اب صبر کریں، اللہ کو یہی منظور تھا“ فی میل کلاس فیلوز میں صائمہ، رخسانہ اور شگفتہ نے پھبتی کسی کہ طاہر بھائی آپ نے پنجیری ہمیں نہیں چکھائی اسی لیے وہ آپ کے ہاتھوں سے بھی نکل گئی۔

سب سے زیادہ ہمدردی مس خالدہ نے دکھائی، جس کے والد پولیس میں انسپکٹر تھے اور اتفاق سے انہی دنوں جس تھانے کی حدود میں یونیورسٹی آتی تھی اس کے انچارج ایس۔ ایچ۔ او تھے۔ مس خالدہ نے پیچھے کی رو میں بیٹھے طلعت ہنجرا، ظہیر الدین بابر، ندیم نونی کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے آفر کی تھی کہ ”اگر آپ کہیں تو میں ابو سے بات کرتی ہوں وہ ان“ بدمعاشوں ”سے نہ صرف آپ کی پنجیری برآمد کروائیں گے بلکہ ان کو جیل میں ڈالیں گے“۔

اس پر پیچھے سے ہمیشہ سے شرارتی ظہیر نے آواز لگائی تھی کہ ”مس ملزمان انتہائی باآثر ہیں، وہ ایس۔ ایچ۔ او صاحب کو رشوت لگا کر بہت جلد باہر آ جائیں گے“۔ جس پر کمرہ زور دار قہقہوں سے گونج اٹھا تھا۔

اس دور کی کتنی ہی حسین اور شیریں یادیں ہیں جو اس وقت عود عود کر چلی آ رہی ہیں۔

سارے کلاس فیلوز کے ہمارے پروفیسرز ڈاکٹر خالد جاوید مخدوم، حمید صاحب، طارق صاحب، اور میڈم رضیہ مسرت ( ڈاکٹر رضیہ مسرت آج شعبہ سیاسیات کی چیئر پرسن ہیں ) بھی میری پنجیری کی گمشدگی کے اس واقعہ کے اعلان کو پڑھ کر اور بعدازاں رپیٹ کر کے کئی روز تک خوب لطف اندوز ہوتے رہے تھے۔

پنجیری چوری کی اس واردات میں ملوث چاروں ملزمان ظہیر الدین بابر، طلعت ہنجرا، ندیم نونی اور معین نقوی نے اسی دن اعترافِ جرم کر لیا تھا۔ اور واردات کی پرائم وجہ یہ بتائی تھی کہ پنجیری تھی ہی اتنی مزے کی کہ اسے چوری ہو جانا چاہیے تھا**

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2