شیخ مجیب الرحمان کے ساتھ قید سی آئی ڈی کے جاسوس راجہ انار خان کی یادداشتیں
راجہ انار خاں ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، سپیشل برانچ پنجاب پولیس پاکستان کی بنتی بگڑتی سیاسی تاریخ کے چشم دید گواہ ہیں۔ انہوں بہت اہم جگہوں پر تعینات رہ کر اپنے فرائض سرانجام دیے۔ جتنا عرصہ شیخ مجیب الرحمٰن مغربی پاکستان کی جیلوں میں قید رہ کر اپنے خلاف غداری کے مقدمے کا سامنا کرتے رہے، اس دوران راجہ انار خاں بطور انٹیلی جنس افسر ایک مشقتی کے روپ تمام عرصہ جیل میں ان کے ساتھ رہے۔
”تھانیداری“ ملنے پر میں رو رہا تھا
پہلی تقرری گجرات میں ہوئی
سہالہ میں ٹریننگ انسٹرکٹر کو پانی کا جگ دے مارا
جب میں چوہدری ظہور الٰہی کے بھتیجے چوہدری تجمل حسین کو پکڑ کر تھانے لے آیا
مونگی دی دال والا تھانیدار
جنرل بختیار کے قہقہے
چوہدری فضل الہی کے بھتیجے کی گرفتاری
1965 ء کی جنگ میں میرا حصہ
آرمی کی دو مربعے زمین پر قبضہ میں نے چھڑوا کر دیا
جب میں نے اپنے ایس پی کو تھپڑ دے مارا
جیل میں شیخ مجیب الرحمٰن کے ساتھ بطور سیکورٹی افسر
شیخ مجیب الرحمن محب وطن یا غدار
ڈھاکہ میں سرنڈر کے روز میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا
شیخ مجیب الرحمٰن کانپ رہے تھے
شیخ مجیب الرحمٰن کی چشمہ بیراج آمد
شیخ مجیب الرحمٰن چشمہ سے سہالہ
ذوالفقار علی بھٹو کی شیخ مجیب الرحمٰن سے ملاقات
شیخ مجیب الرحمٰن نے کہا انار خاں! تم میرے ایس پی ڈھاکہ ہو گے



