سال 2019 : ریکارڈ 7957 پاکستانی طلباء امریکہ پڑھنے کے لیے گئے

گزشتہ چند سالوں، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے امریکی امیگریشن قوانین میں دن بدن سختی اور تبدیلیاں لائی جا رہی ہے۔ جن کے اثرات امریکہ آنے والے تمام ممالک کے باشندوں پر پڑے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم کمیونٹی کے مختلف حلقوں کی جانب سے نئے قوانین سے متعلق…

Read more

گجرات کی صحافت کا راجہ رخصت ہوا

1985 ء کا سال تھا۔ میں ان دنوں گورنمنٹ سر سید ڈگری کالج گجرات میں سال چہارم کا طالب علم تھا۔ جب میری شناسائی راجہ طارق محمود صاحب سے ہوئی۔ وہ ان دنوں گجرات میں روز نامہ مشرق کے نمائندے تھے۔ واقعہ یوں ہوا کہ ہمارے سیاسیات کے ہردلعزیز پروفیسر سید محفوظ شاہ صاحب کا…

Read more

غلام حسین گوندل اور گجرات کا پہلا سیاسی قتل

ان کا پورا نام تو غلام حسین گوندل تھا مگر وہ اپنے قریبی دوستوں اور حلقہ احباب میں ”گوندل صاب“ کے نام سے مشہور تھے۔ میری ان سے شناسائی کوئی دو سال پہلے نیویارک میں اپنے رہائشی علاقے ”فریش میڈوز“ کی مقامی مسجد میں ایک دن جمعہ کی نماز کے بعد ہوئی تھی۔ نماز کی…

Read more

9/ 11 : ہم بھی وہیں موجود تھے

نیویارک : 18 سال قبل 2001 ء میں پاکستان سے نیویارک آئے ہوئے مجھے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے جب گیارہ ستمبر کا سانحہ رونما ہو گیا۔ یہ دینا بھر میں اب تک رونما ہونے والے بڑے واقعات میں سے ایک ایسا واقعہ تھا جس نے دینا بھر کو نہ صرف ہلا کر بلکہ…

Read more

افتخار الحق تراب: چند یادیں چند باتیں

دانشور شخصیت اور گجرات میں ڈان اخبار کے سابق نمائندہ خصوصی افتخار الحق تراب صاحب گزشتہ جمعہ ( 30 ا گست۔ 2019 ) کو کنسر کے باعث ہیلزبورو، نیو جرسی (امریکہ) میں انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ جمعہ کی نماز کے بعد اسلامک سوسائٹی آف سنٹرل جرسی (ISCK) کی مسجد، منموتھ جنکشن، نیو…

Read more

پاکستان میں سیلاب، بھارت اور رچرڈ ہالبروک

صدر باراک اوبامہ نے 2008 ء میں صدرمنتخب ہونے کے فوراً بعد افغانستان اور پاکستان کے متعلق سی آئی اے کے سابق سنئیر عہدیدار بروس ریڈل کی سربراہی میں ایک ”سٹرٹجیک ریویو پالیسی“ تشکیل دیا تھا۔ اسی سلسلے میں بروس ریڈل کی مرتب کردہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے لئے اکتوبر 2009 ء میں وائٹ…

Read more

میں نے نواز شریف کو موت سے کیسے بچایا؟

پاکستان کے سیاسی اور صحافتی منظر نامے پر گزشتہ کئی ہفتوں سے میاں نواز شریف کی دوبارہ مبینہ ”ڈیل“ یا ”ڈھیل“ کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے۔ اور یارلوگ بڑی دور کی کوڑی ڈھونڈ کر لا رہے ہیں۔ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی لبنانی وزیراعظم…

Read more

پاکستان میں پیدا ہونے والی ہندی ادب کی مہان لکھاری کرشنا صوبتی چل بسیں

بھارت کی معروف ناول نگار کرشنا صوبتی ( 1925۔ 2019 ) 93 سال کی عمر میں گزشتہ روز 25 جنوری 2019 ء کو نیو دہلی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔ وہ 18 فروری 1925 ء میں پاکستان کے ضلع گجرات میں پیدا ہوئیں۔ ان کے آباءواجداد کا تعلق ضلع گجرات کے تھانہ کڑیانوالہ کے موضع جلالپور صوبتیاں سے تھا۔ اسی نسبت سے انہوں اپنے گاؤں کے نام کو اپنے نام کا بھی حصہ بنایا۔ قیام پاکستان سے قبل وہ گجرات شہر کے بازار صرافہ میں بھی قیام پذیر رہیں۔ اور کچھ عرصہ فتح چند کالج برائے خواتین لاہور میں بھی انہوں نے تعلیم حاصل کی۔

ابتداء میں انہوں نے لکھنے کا آغاز شاعری سے کیا۔ تاہم بعد میں وہ فکشن افسانہ، اور ناول نگاری کی طرف مائل ہو گئیں۔ ہندی زبان کو انہوں نے اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ اپنی لاتعداد تحریروں میں کرشنا نے سماج میں ظلم و زیادتی کی شکار خواتین، ان کے ساتھ جنس کی بنیاد پر روا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف آواز اٹھائی۔ تقسیم ِ ہند سی قبل کے حالات اور بعدازاں تقسیم کے بعد کے حالات کو انسانی زندگیوں خصوصاً خواتین پر اثر انداز ہونے والے حالات و واقعات کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا۔

Read more

محفل متراں دی

بروکلین، نیویارک کے 32 بے سیکنڈ باتھ ایونیو پر لالہ چوہدری شہباز کے برس ہا برس سے زیرِ تسلط آپارٹمننٹ کو میں عرف عام میں ”چھڑوں کا ڈیرہ“ کہہ کر پکارتا ہوں۔ کیونکہ چوہدری صاحب کے متعلق مشہور ہے کہ کئی ”ولائتی“ اور ”دیسی“ شادیاں کرنے کے باوجود بھی وہ اپنے اس دولت کدہ پر کئی سالوں سے ”چھڑے“ ہی رہتے چلے آ رہے ہیں۔

انکے اس پُر رونق ڈیرہ پر پاکستان سے اور خصوصاً اندرون امریکہ سے نیویارک آنے والے دوستوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جن کی لالہ جی کے ساتھ وہاں مستقل قیام پزیر کرامت صاحب اور فرمان صاحب مہمان نوازی کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔

Read more

قصہ 30 سال پہلے چوری ہونے والی میری پنجیری کا

کوئی رات دس بجے کے قریب محفل برخاست ہوئی اور سب نے اپنے اپنے کمروں کی راہ لی۔ میں بھی ہوسٹل کے برآمدے میں خراماں خراماں خراماں چلتا ہوا جب اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا تو عین لان کے درمیان پڑے اپنے پنجیری کے ڈبے کو پڑا دیکھ کر ٹھٹھک کر کھڑا ہو گیا۔ لیکن پھر فوراً ہی خیال آیا کہ میرا ڈبہ تو پلنگ کے نیچے پڑا ہوا ہے اور وہ یہاں کیسے آ سکتا ہے۔ اور دوسرا کمرے کی چابیاں بھی میرے پاس ہی ہیں۔

اسی طرح کے خیالات کو ذہن میں لیے ہوئے کمرے کا تالا کھول کر پہلا کام ہی یہ کیا کہ اپنی مزید تسلی کے لیے پلنگ کے نیچے جھک کر جب نظر دوڑائی، تو یقین مانیں، دل دھک سے رہ گیا۔ ۔ پلنگ نیچے سے ”خالم خالی“ اور بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ یہ کیا اور کیسی واردات ہو گئی ہے میرے ساتھ، کمرے کی چابیاں سارا وقت میرے پاس تھیں۔ پھر کیا جن بھوت ڈبہ اٹھا باہر لے گیا ہے۔ کمرہ بند کیے بنا ہی باہر دوڑ لگائی اور جاکر دیکھا تو وہ میرا ہی ڈبہ تھا، تاہم پھر بھی امید یہی تھی کہ چونکہ کنڈی اور تالا صحیح طریقے سے لگا ہوا ہے، پنجیری اندر ہی ہے، ڈبے کے کور کے اوپر بنی ہک سے جب اسے اٹھایا تو وہ بے وزن ہرجائی اوپر ہی اوپر اٹھتا چلا گیا۔

اگلے دن جب کیمپس میں کلاس روم داخل ہوا تو دیکھا کہ باقی سب ساتھی کلاس فیلوز بشمول لڑکیاں مجھے دیکھ بے ساختہ قہقہے لگانے لگے، اپنی مخصوص سیٹ پر بیٹھتے ہی جو نقوی کے ساتھ ہی ہوتی تھی میری نظر سامنے بلیک بورڈ پر پڑی جہاں بڑے بڑے حروف میں ”اہم اطلاع“ کے نام سے یہ عبارت درج تھی۔

”نہایت افسوس کے ساؤتھ خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گزشتہ رات کسی نے عمر ہاسٹل کے کمرہ نمبر 17 سے طاہر بھائی کی“ پنجیری ”چرا لی ہے۔ چوری کی اس واردات کے ملزمان کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ اپنے طاہر بھائی کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کی درخواست ہے“۔

Read more