خلتی کی جمی ہوئی جھیل، خوفناک تباہی جو نعمت بن گئی


25 جولائی 1979 کا دن بھی معمول کے دنوں جیسا ایک دن تھا۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ وادی خلتی اور گمیس کے زمیندار ہمیشہ کی طرح اپنے کھیتوں میں مصروف کار تھے۔ دھوپ تیز تھی اور گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہوچکا تھا۔ دریائے غذر میں قریبی گلیشئر کے پگھلنے سے پانی کی سطح میں اضافہ ہوچکا تھا اور یہ دریا اپنی خاموشی کو ترک کر کے پر شور انداز سے نشیب کی طرف گامزن تھا۔ دوپہر کے وقت کچھ زمیندار کھیتوں سے آرام کی غرض سے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے تھے اور کچھ کھیتوں میں کام نمٹانے کی کوشش کررہے تھے۔

کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اگلے ہی لمحے کیا ہونے والا ہے۔ قسی اثنا میں قریبی گاؤں جنڈورٹ کے نالے سے دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ قریب کوئی اونچا پہاڑ ٹوٹ کر گررہا ہے۔ لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا، لمحے بھر میں ان آوازوں میں اتنی شدت آئی کہ لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا شروع کردیا۔ کسی کو کچھ نہیں معلوم تھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے۔ ایک مقامی معلم کے مطابق جو اس وقت طالب علم تھے اس نے دیکھا کہ قریبی نالے میں اونچے درجے کا سیلابی ریلا آرہا تھا۔

اس کو پہلے تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا، کیونکہ سیلاب کے لئے بارش کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ آج تو آسمان بالکل صاف تھا تو سیلاب کیسے آسکتا ہے۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ بارش ہوئے بغیر بھی آسمانی بجلی گرتی ہے یا پھر اس سیلاب کا سبب گلیشیرز کا پگلنا تھا۔ اس سیلاب بلا کی اصل وجہ آج تک معلوم نہیں ہو سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ جب یہ سیلابی ریلا آبادی کے قریب سے گزر رہا تھا تو بہت ہی خوف ناک منظر تھا مٹی کے تودے بڑے بڑے پتھر اور پانی ایسا گزر رہا تھا جیسے کوئی جن اپنے اہل و عیال کے ساتھ محو رقص ہو۔

دریائے غذر بھی ان دنوں اپنے پورے جوبن پہ تھا لیکن اس سیلابی ریلے نے اس کا راستہ ایسے کاٹا کہ جیسے وہاں سے کبھی دریا گزرتا ہی نہ ہو۔ سیلاب کے اس ریلے نے دریائے غذر کا راستہ مکمل طور پر روک دیا اور دریا کو مڑنے پر مجبور کردیا۔ جب دریا واپس آنا شروع ہوگیا گاؤں گمیس والوں کو اپنے گھروں کی فکر لاحق ہوگئی۔ وقت کم تھا کام بہت زیادہ تھا یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ پہلے گھر کے کن اشیا کو بچانا ہے بس جس کے جو ہاتھ لگا گھر سے نکال کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل کرنا شروع کردیا۔

اب آپ اندازہ لگائیں کہ انسان اپنے گھر سے چند لمحوں میں کیا کیا نکال کر بچا سکتا ہے۔ بس پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے پانی نے گھروں میں داخل ہونا شروع کر دیا۔ ہر طرف بچوں اور خواتین کی چیخیں تھیں دوسری جانب لوگ ان کو حوصلہ دیتے تھے۔ گاؤں کے لوگوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔ ان کے گھر ڈوب گئے۔ سالوں کی محنت اور مشقت سے بنائے گئے گھر لحموں میں نظروں سے اوجھل ہوگئے اور لوگ ہاتھ ملتے رہ گئے۔ اس گاؤں کے دو درجن کے قریب گھر صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔

یہ سیلابی ریلا 48 گھنٹوں تک جاری رہا۔ دریا کے رکنے سے ایک طرف خلتی جھیل وجود میں آگئی تو دوسری جانب دریا خشک ہو گیا اور دنیا کی نایاب مچھلیاں ٹراوٹ پانی بند ہونے کے باعث تڑپنے لگیں لوگوں نے تھیلوں میں مچھلیاں بھرنا شروع کردیا۔ گاؤں جنڈروٹ میں پانی نایاب ہوگیا تو چھ کلو میٹر دور گوپس سے مقامی راجہ کی گاڑی میں لوگوں کے پینے کے لیے پانی کا بندوبست کیا گیا۔ دریائے غذر 48 گھنٹوں تک رک رہا اور چار کلو میٹر لمبی جھیل بن گئی۔

جب دریا نے اپنے لئے راستہ بنالیا اور پانی کا اخراج شروع ہوگیا تو لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ گاؤں گمیس کا آدھا حصہ ڈوب گیا جو آج تک جھیل کے اندر ہے۔ آج یہ جھیل خلتی جھیل کے نام سے مشہور ہے۔ گرمی ہو یا سردی یہ جھیل سیاحوں کے لئے سیروتفریح کے بہترین مواقع فراہم کرتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں اس کا منظر ایسا ہوتا ہے جیسے پہاڑوں اور حیسن وادیوں کے بیچ فروزہ رنگ کا کوئی نگینہ جڑا ہو۔ اس جھیل میں آج بھی دنیا کی نایاب مچھلی ٹراوٹ پائی جاتی ہے اور سیاح شکار بھی کرسکتے ہیں۔

موسم سرما میں دسمبر کی دس تاریج تک یہ جھیل مکمل طور پر منجمد ہوجاتی ہے۔ برف کی تہہ اتنی موٹی ہوجاتی ہے کہ اس کے اوپر سے گاڑی گزاری جا سکتی ہے۔ ان دنوں اس جھیل پر سیاحوں کا رش رہتا ہے۔ کبھی من چلے گرتے سنبھلتے فٹ بال کھیلتے ہیں تو کبھی دیسی دھنوں پر رقص ہوتا ہے۔ کبھی تقریب تقسیم انعامات تو کبھی نوجوان سیلفیاں بناتے نظر آتے ہیں۔ ہر کوئی اس منجمد جھیل پر جاکر سلفی بنانا چاہتا ہے۔ یہ ایک عجوبے سے کم نہیں یہ گلگت بلتستان کی واحد جھیل ہے جو سردیوں میں جم جاتی ہے اور اس کے اوپر برف کی تہہ اتنی موٹی بن جاتی ہے کہ یہ ٹنوں کے حساب سے وزن برداشت کرتی ہے۔

یہاں تک رسائی بھی بہت آسان ہے یہ گلگت شہر سے صرف دو گھنٹے کی مسافت غذر کے گاؤں خلتی مین واقع ہے یہ سیف الملوک جھیل کی طرح دشوار گذار پہاڑوں میں واقع نہیں انسان بغیر کسی تکلیف کے گاڑی میں بیٹھ کر جھیل کے کنارے پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالی کے ہر کام میں حکمت ہے آج سے 38 سال قبل جس جھیل نے لوگوں سے ان کے گھر چھین کر ان کو بے گھر کردیا تھا آج وہ جھیل ان لوگوں کے لئے ذریعہ روزگار ثابت ہوئی ہے۔ جھیل کے کنارے مقامی لوگوں نے اچھے معیار کے ہوٹل تعمیر کیے ہیں۔ ایک سیزن میں لاکھوں کی مچھلی فروخت ہوتی ہے۔ اس جھیل کی لمبائی 2353 میٹر چوڑائی 400 میٹر جب کہ اس کی گہرائی 80 میٹر ہے اس وقت یہ جھیل مکمل طور پر جم چکی ہے اور یہ فروری کے پہلے ہفتے تک منجمد رہتی ہے۔ اس کے بعد برف کی تہہ کمزور پڑجاتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں