یوٹیلٹی اسٹورز کی ڈوبتی کشتی کا سہارا، عمرلودھی صاحب

یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا مل گیا ہے۔ چودہ ہزار ورکرز بے روزگار ہونے سے بچ گئے ہیں۔ ادارے کو مالی بحران سے نکال کر خوشحالی کی راہ پر گامزن کردیا گیا ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ ایک سال سے خالی پڑے سٹوروں کی رونقیں…

Read more

ریحان بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا تھا

انسان کی زندگی میں شادی ایک بڑی خوشی تصور کی جاتی ہے لیکن اس سے بھی بڑی خوشی انسان کو تب حاصل ہوتی ہے جب اللہ تعالی اس کو اولاد سے نوازتا ہے۔ اولاد کے پیدا ہوتے ہی انسان اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے۔ بندہ جتنا بھی غریب ہو اس دن دل کھول…

Read more

گلگت بلتستان کے بہترین سیاحتی مقامات

گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ہے، جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس علاقے کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے۔ یہاں کے دلکش و دلفریب منظر عمر بھر کے لئے سیاحوں کے ذہنوں میں انمٹ نقوش کے مانند نقش ہو جاتے ہیں۔گلگت بلتستان کو ماضی میں شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا۔ 2009 مین پاکستان پیلیز پارٹی کی حکومت نے امپاور منٹ اینڈ سلف گورننس آرڈر کے ذریعے یہاں کی قانون ساز اسمبلی کے آختیارات میں اضافہ کرنے کے ساتھ نیا نام گلگت بلتستان رکھ دیا۔ گلگت بلتستان کی آبادی بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہ علاقہ اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کی تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش بھی یہاں آن ملتے ہیں۔

Read more

یوٹیلٹی سٹورز اور رمضان پیکج

یوٹیلٹی سٹورز کاپوریشن پاکستان کا ایک نیم سرکاری ادارہ ہے۔ یہ ادارہ بٹھو کے دور حکومت میں وجود میں آیا۔ اس وقت سے مشرف دور تک اس غریب پرور ادارے نے کہی نشیب و فراز دیکھا۔ ایک دور ایسا بھی آیا کہ سینکڑوں ملازمین کو ایک مہینے کا مختصر نوٹس دے کر نوکری سے فارغ…

Read more

انسانی خدمت کا جذبہ

منگل 4 مارچ کو گلگت بلتستان کے دور دراز گاؤں یاسین سے گلگت شہر جانے والی ایک کار کو وادی سُمال کے سامنے حادثہ پیش آیا۔ گاڑی موڑ کاٹتے ہوئے دریائے غذر میں جاگری۔ کار میں ایک خاتون اور تین بچوں سمیت آٹھ افراد سوار تھے۔ یہ افسوس ناک واقعہ صبح آٹھ بجے کے قریب پیش آیا۔اس حادثے خوف ناک حادثے کے نتجے میں ایک آٹھ سالہ بچی موقع پر ہی جان بحق ہوگئی جبکہ ایک زخمی شخص کو گلگت سٹی اسپتال پہنچایا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہوگیا۔ جب یہ حادثہ پیش آیا عین اُسی وقت گاوُں سُمال کا ایک نوجوان صفت خان نے خوف ناک حادثہ دیکھ کر بھاگتے ہوئے حادثے کی جگہ پہنچا۔ حادثہ ایک خطرناک پہاڑی پہ پیش آیا تھا جو اتنی خطرناک تھی کہ وہاں نیچے دریا تک پہچنا ممکن نہیں تھا۔

Read more

گلگت بلتستان، سیاحت اور جیونیوز

فیس بک پر جیونیوز کے معروف پروگرام خبرناک دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جو کسی دوست نے شیئر کیا تھا۔ یہ پروگرام 27 جنوری کو نشر ہوچکا ہے۔ پروگرام کا سیکرپٹ کچھ اس طرح کا ہے۔ گلگت بلتستان میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور خون جما دینے والی سردی ہے۔ راستے تمام بند ہیں…

Read more

ایک کروڑ نوکریاں: ایک یتیم بیٹے کا ارمان

پھوپھی زاد بہن کی ناگہانی موت کی خبر شام کو ملی تھی، لیکن ابھی تدفین نہیں ہوئی تھی۔ رات بھر آنکھ نہیں لگی۔ صبح سویرے اٹھا اور روانہ ہوا۔ برف باری کے باعث سڑک بہت خراب تھی اور مجھے جلدی نماز جنازہ اور تدفین کے لئے پہنچنا تھا لیکن ڈرایئور بڑی احتیاط سے گاڑی چلا…

Read more

کراچی سے نرس کے اغوا کا ڈراپ سین

جنوری کی 10 تاریخ رات کے بارہ بجے کے قریب فیس بک کی ایک پوسٹ پر نظر پڑی، جس میں لکھا تھاکراچی میں مقیم گلگت بلتستان کی ایک نرس گھر سے ڈیوٹی کے لئے نکلی اور واپس نہیں آئی۔ اس خبر کو پڑھنے کے بعد سخت صدمہ پہنچا کیونکہ شہروں میں اغوا کے بعد بہت ہی کم خوش نصیب لوگوں کو زندہ بازیاب کروایا جاسکتا ہے۔

اس خبر کی تصدیق کیے بغیر سو جانا ممکن نہیں تھا بڑی کوششوں کے بعد کریم شاہ نامی آدمی کا نمبر ملا جو لڑکی کا چچا تھا اور وہ کراچی میں رہائش پذیر تھا۔ مجھے شک ہوا تھا کہ کوئی کورٹ میرج کا چکر ہوگا۔ لیکن جب میں نے ان کے چچا سے بات کی تو اندازہ ہوا کہ وہ اذیت میں مبتلا تھے۔ وہ ٹھیک طرح بول بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کے باوجود میں نے ہمت کرکے پوچھا کہ خوش بخت کی شادی ہوئی تھی تو انہوں نے نا میں جواب دیا یقین ہوگیا کہ یہ کوئی چکر ہے پھر پوچھا کہ بھائی ایسا تو نہیں کہ خوش بخت نے کسی سے پسند کی شادی کی ہو اس پر انہوں نے کہا کہ اس کو بھاگنے کی کیا ضرورت تھی ان کو اتنی آزادی حاصل تھی کہ وہ اپنی پسند کا اظہار کرسکتی تھی۔ اور وہ بتا کے شادی کرسکتی تھی اس کو کسی نے اغوا کیا گیا ہے۔

Read more

گلگت بلتستان کی لڑکی کراچی سے غائب، پولیس مدد کے لئے تیار نہیں

گلگت بلتستان کے دور دراز علاقہ یاسین سے تعلق رکھنے والی خوش بخت فروری 2016 کو اپنے خوابوں کے تعبیر کے لئے روشنیوں کے شہر کراچی کے لئے نکل پڑی۔ وہ ایک نرس بن کر انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ اس نے کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں نرسنگ کے کورس میں داخلہ لیا۔ وہ اپنے دیگر بہن بھائیوں کے ہمراہ کراچی کے علاقے جیوانی میں رہائش پذیر تھی۔ انہوں نے حال ہی میں اسی ہسپتال میں نوکری حاصل کی تھی 4 جنوری بروز جمعہ گھر سے ڈیوٹی کے لئے نکلی اور واپس نہیں آئی۔

Read more

خلتی کی جمی ہوئی جھیل، خوفناک تباہی جو نعمت بن گئی

کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اگلے ہی لمحے کیا ہونے والا ہے۔ قسی اثنا میں قریبی گاؤں جنڈورٹ کے نالے سے دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ قریب کوئی اونچا پہاڑ ٹوٹ کر گررہا ہے۔ لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا، لمحے بھر میں ان آوازوں میں اتنی شدت آئی کہ لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا شروع کردیا۔ کسی کو کچھ نہیں معلوم تھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے۔ ایک مقامی معلم کے مطابق جو اس وقت طالب علم تھے اس نے دیکھا کہ قریبی نالے میں اونچے درجے کا سیلابی ریلا آرہا تھا۔

اس کو پہلے تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا، کیونکہ سیلاب کے لئے بارش کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ آج تو آسمان بالکل صاف تھا تو سیلاب کیسے آسکتا ہے۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ بارش ہوئے بغیر بھی آسمانی بجلی گرتی ہے یا پھر اس سیلاب کا سبب گلیشیرز کا پگلنا تھا۔ اس سیلاب بلا کی اصل وجہ آج تک معلوم نہیں ہو سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ جب یہ سیلابی ریلا آبادی کے قریب سے گزر رہا تھا تو بہت ہی خوف ناک منظر تھا مٹی کے تودے بڑے بڑے پتھر اور پانی ایسا گزر رہا تھا جیسے کوئی جن اپنے اہل و عیال کے ساتھ محو رقص ہو۔

Read more