سیاحوں کی آمد اور حکومت گلگت بلتستان کی تیاریاں

بلند بانگ پہاڑوں، خوبصورت وادیوں، دریاؤں جھیلوں، آبشاروں پر مشتمل، قدرتی حسن سے مالا مال گلگت بلتستان میں موسم بہار اپنے عروج پر ہے۔ ان دنوں میدانوں علاقوں میں بلوزم اختیار پذیر ہو چکا ہے اور ہیرے پتوں نے رنگ بھر دیا ہے۔ جبکہ بالائی علاقوں میں بادام، خوبانی اور چیری کے پھولوں نے پورے علاقے کو معطر کر دیا ہے۔ پہاڑوں کو بہار کے سروج کی کرنوں نے اپنا اثر شروع کر دیا ہے اور برفانی چادر آہستہ آہستہ

Read more

صحافی نہیں، صحافت بچاؤ

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔ اور اس بات سے بھی انکاری نہیں کہ یہ ریاست کا چوتھا اور اہم ستون ہے۔ صحافت کی اہمیت روز اول سے رہی ہے اور رہے گی۔ اس کی اہمیت میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔ دیگر تمام پیشوں سے زیادہ اہمیت کا حامل اس پیشے سے کبھی انصاف نہیں ہوا۔ ہر دور میں اس مقدس پیشے کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے

Read more

یوٹیلٹی اسٹورز کی ڈوبتی کشتی کا سہارا، عمرلودھی صاحب

یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا مل گیا ہے۔ چودہ ہزار ورکرز بے روزگار ہونے سے بچ گئے ہیں۔ ادارے کو مالی بحران سے نکال کر خوشحالی کی راہ پر گامزن کردیا گیا ہے۔ یوٹیلٹی اسٹورز میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ ایک سال سے خالی پڑے سٹوروں کی رونقیں اب بحال ہوچکی ہیں۔ سستی اور معیاری اشیائے خوردونوش کی اسٹوروں پر دستیابی، مہنگائی سے تنگ عوامی حلقوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا

Read more

ریحان بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا تھا

انسان کی زندگی میں شادی ایک بڑی خوشی تصور کی جاتی ہے لیکن اس سے بھی بڑی خوشی انسان کو تب حاصل ہوتی ہے جب اللہ تعالی اس کو اولاد سے نوازتا ہے۔ اولاد کے پیدا ہوتے ہی انسان اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے۔ بندہ جتنا بھی غریب ہو اس دن دل کھول کر خرچ کرتا ہے۔ ایک مہینے کے بعد وہ نومولود بچہ اپنے والدین کو اپنے محبت میں دیوانہ کردیتا ہے۔ یہ وہ دور ہوتا ہے

Read more

گلگت بلتستان کے بہترین سیاحتی مقامات

گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ہے، جو قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ اس علاقے کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے۔ یہاں کے دلکش و دلفریب منظر عمر بھر کے لئے سیاحوں کے ذہنوں میں انمٹ نقوش کے مانند نقش ہو جاتے ہیں۔گلگت بلتستان کو ماضی میں شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا۔ 2009 مین پاکستان پیلیز پارٹی کی حکومت نے امپاور منٹ اینڈ سلف گورننس آرڈر کے ذریعے یہاں کی قانون ساز اسمبلی کے آختیارات میں اضافہ کرنے کے ساتھ نیا نام گلگت بلتستان رکھ دیا۔ گلگت بلتستان کی آبادی بیس لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہ علاقہ اٹھائیس ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کی تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش بھی یہاں آن ملتے ہیں۔

Read more

یوٹیلٹی سٹورز اور رمضان پیکج

یوٹیلٹی سٹورز کاپوریشن پاکستان کا ایک نیم سرکاری ادارہ ہے۔ یہ ادارہ بٹھو کے دور حکومت میں وجود میں آیا۔ اس وقت سے مشرف دور تک اس غریب پرور ادارے نے کہی نشیب و فراز دیکھا۔ ایک دور ایسا بھی آیا کہ سینکڑوں ملازمین کو ایک مہینے کا مختصر نوٹس دے کر نوکری سے فارغ کردیا۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور حکومت میں یہ ادارہ عروج پر پہنچ گیا۔ اس ادارے نے اتنی ترقی کی کہ اس کی شاخیں

Read more

انسانی خدمت کا جذبہ

منگل 4 مارچ کو گلگت بلتستان کے دور دراز گاؤں یاسین سے گلگت شہر جانے والی ایک کار کو وادی سُمال کے سامنے حادثہ پیش آیا۔ گاڑی موڑ کاٹتے ہوئے دریائے غذر میں جاگری۔ کار میں ایک خاتون اور تین بچوں سمیت آٹھ افراد سوار تھے۔ یہ افسوس ناک واقعہ صبح آٹھ بجے کے قریب پیش آیا۔اس حادثے خوف ناک حادثے کے نتجے میں ایک آٹھ سالہ بچی موقع پر ہی جان بحق ہوگئی جبکہ ایک زخمی شخص کو گلگت سٹی اسپتال پہنچایا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان بحق ہوگیا۔ جب یہ حادثہ پیش آیا عین اُسی وقت گاوُں سُمال کا ایک نوجوان صفت خان نے خوف ناک حادثہ دیکھ کر بھاگتے ہوئے حادثے کی جگہ پہنچا۔ حادثہ ایک خطرناک پہاڑی پہ پیش آیا تھا جو اتنی خطرناک تھی کہ وہاں نیچے دریا تک پہچنا ممکن نہیں تھا۔

Read more

گلگت بلتستان، سیاحت اور جیونیوز

فیس بک پر جیونیوز کے معروف پروگرام خبرناک دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جو کسی دوست نے شیئر کیا تھا۔ یہ پروگرام 27 جنوری کو نشر ہوچکا ہے۔ پروگرام کا سیکرپٹ کچھ اس طرح کا ہے۔ گلگت بلتستان میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے اور خون جما دینے والی سردی ہے۔ راستے تمام بند ہیں اورکچھ غیر مقامی سیاح پھنس کر رہ گئے ہیں۔ پروگرام کے سکرپٹ رایئٹر کے مطابق سردیوں میں گلگت بلتستان کے تمام ہوٹل بند ہوجاتے ہیں

Read more

ایک کروڑ نوکریاں: ایک یتیم بیٹے کا ارمان

پھوپھی زاد بہن کی ناگہانی موت کی خبر شام کو ملی تھی، لیکن ابھی تدفین نہیں ہوئی تھی۔ رات بھر آنکھ نہیں لگی۔ صبح سویرے اٹھا اور روانہ ہوا۔ برف باری کے باعث سڑک بہت خراب تھی اور مجھے جلدی نماز جنازہ اور تدفین کے لئے پہنچنا تھا لیکن ڈرایئور بڑی احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ ہم بہن کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کر پائیں گے۔ جیسے ہی میں گاوں میں داخل ہوا تو

Read more

کراچی سے نرس کے اغوا کا ڈراپ سین

جنوری کی 10 تاریخ رات کے بارہ بجے کے قریب فیس بک کی ایک پوسٹ پر نظر پڑی، جس میں لکھا تھاکراچی میں مقیم گلگت بلتستان کی ایک نرس گھر سے ڈیوٹی کے لئے نکلی اور واپس نہیں آئی۔ اس خبر کو پڑھنے کے بعد سخت صدمہ پہنچا کیونکہ شہروں میں اغوا کے بعد بہت ہی کم خوش نصیب لوگوں کو زندہ بازیاب کروایا جاسکتا ہے۔

اس خبر کی تصدیق کیے بغیر سو جانا ممکن نہیں تھا بڑی کوششوں کے بعد کریم شاہ نامی آدمی کا نمبر ملا جو لڑکی کا چچا تھا اور وہ کراچی میں رہائش پذیر تھا۔ مجھے شک ہوا تھا کہ کوئی کورٹ میرج کا چکر ہوگا۔ لیکن جب میں نے ان کے چچا سے بات کی تو اندازہ ہوا کہ وہ اذیت میں مبتلا تھے۔ وہ ٹھیک طرح بول بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کے باوجود میں نے ہمت کرکے پوچھا کہ خوش بخت کی شادی ہوئی تھی تو انہوں نے نا میں جواب دیا یقین ہوگیا کہ یہ کوئی چکر ہے پھر پوچھا کہ بھائی ایسا تو نہیں کہ خوش بخت نے کسی سے پسند کی شادی کی ہو اس پر انہوں نے کہا کہ اس کو بھاگنے کی کیا ضرورت تھی ان کو اتنی آزادی حاصل تھی کہ وہ اپنی پسند کا اظہار کرسکتی تھی۔ اور وہ بتا کے شادی کرسکتی تھی اس کو کسی نے اغوا کیا گیا ہے۔

Read more

گلگت بلتستان کی لڑکی کراچی سے غائب، پولیس مدد کے لئے تیار نہیں

گلگت بلتستان کے دور دراز علاقہ یاسین سے تعلق رکھنے والی خوش بخت فروری 2016 کو اپنے خوابوں کے تعبیر کے لئے روشنیوں کے شہر کراچی کے لئے نکل پڑی۔ وہ ایک نرس بن کر انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی تھی۔ اس نے کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں نرسنگ کے کورس میں داخلہ لیا۔ وہ اپنے دیگر بہن بھائیوں کے ہمراہ کراچی کے علاقے جیوانی میں رہائش پذیر تھی۔ انہوں نے حال ہی میں اسی ہسپتال میں نوکری حاصل کی تھی 4 جنوری بروز جمعہ گھر سے ڈیوٹی کے لئے نکلی اور واپس نہیں آئی۔

Read more

خلتی کی جمی ہوئی جھیل، خوفناک تباہی جو نعمت بن گئی

کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اگلے ہی لمحے کیا ہونے والا ہے۔ قسی اثنا میں قریبی گاؤں جنڈورٹ کے نالے سے دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ قریب کوئی اونچا پہاڑ ٹوٹ کر گررہا ہے۔ لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا، لمحے بھر میں ان آوازوں میں اتنی شدت آئی کہ لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف بھاگنا شروع کردیا۔ کسی کو کچھ نہیں معلوم تھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے۔ ایک مقامی معلم کے مطابق جو اس وقت طالب علم تھے اس نے دیکھا کہ قریبی نالے میں اونچے درجے کا سیلابی ریلا آرہا تھا۔

اس کو پہلے تو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا، کیونکہ سیلاب کے لئے بارش کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ آج تو آسمان بالکل صاف تھا تو سیلاب کیسے آسکتا ہے۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ بارش ہوئے بغیر بھی آسمانی بجلی گرتی ہے یا پھر اس سیلاب کا سبب گلیشیرز کا پگلنا تھا۔ اس سیلاب بلا کی اصل وجہ آج تک معلوم نہیں ہو سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ جب یہ سیلابی ریلا آبادی کے قریب سے گزر رہا تھا تو بہت ہی خوف ناک منظر تھا مٹی کے تودے بڑے بڑے پتھر اور پانی ایسا گزر رہا تھا جیسے کوئی جن اپنے اہل و عیال کے ساتھ محو رقص ہو۔

Read more

سپاہی عقیل خاں جوانی کے دن سیاچن میں گزارنا چاہتا تھا

گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں دور قدیم سے یہ روایت ہے کہ جس گھر میں کسی کی موت واقع ہو ہمسائے تیسرے دن تک غم زدہ خاندان سے اظہار ہمدردی کے طور پر تیسرے دن تک راتیں اس گھر میں جاگ کے گذارتے ہیں۔ دادا کی وفات پر بھی محلے والے شام سے گھر میں اکٹھا ہونے شروع ہوگئے تھے۔ کمرے میں پندرہ بیس لوگ موجود تھے۔ دروازے پر دستک دی گئی کھولا تو اس نے چہرے پر ہلکی

Read more

کام کوئی بھی چھوٹا نہیں ہوتا

وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر بڑے دلچسپ تبصرے دیکھنے کو ملے۔ مرغی انڈوں والی تقریر پر یہ تبصرے اور تجزیے ہنسی مذاق کی حد تو ٹھیک ہے، لیکن اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم کا یہ پروگرام شہروں میں ذندگی گزارنے والوں کے لئے کتنا فائدہ مند ہوگا اس کا ٹھیک اندازہ نہیں، لیکن یہ پروگرام دیہی علاقوں کے لئے انتہائی سود مند ثابت ہوگا۔ دہہات کے طور پر

Read more

۔گلگت بلتستان میں موسم خزاں کےرنگ۔۔

بہتر ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا گلگت بلتستان کا شمار پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔قدرتی حسن اور وسائل سے مالا مال اس خطے کو سیاحوں کی جنت اور پاکستان کےماتھے کا جھومر بھی کہا جاتا ہے۔دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، ہندو کش اور ہمالیہ بھی یہاں ملتے ہیں۔ یہاں سال میں چار موسم بدلتے ہیں۔ ہر موسم کا اپنا لطف اور خصوصیات ہوتی ہیں، اور یہاں کا ہر رنگ نرالا ہوتا ہے۔موسم بہار

Read more

ڈبل شاہ سے پے ڈائمنڈ تک، چالیس کروڑ کا ایک اور ٹیکہ

آپ نے ڈبل شاہ کا نام تو سنا ہوگا ،اگر نہیں سنا تو گوجرانوالہ کارہائشی سبط الحسن شاہ جس نے پیسے ڈبل کرنے کا جھانسہ دے کر صرف اٹھارہ مہینوں میں ستر ارب روپے کمایا تھا۔ وہ شروع شروع میں پندرہ دن کے اندر چھوٹی موٹی رقم ڈبل کرکےواپس کر دیتا تھا،جس کی وجہ سے لوگوں نے ان پر مکمل اعتماد کیا،اور بڑے پیمانے پر پیسے لگائے۔ جب ڈبل شاہ کا پیسے ڈبل کرنے کا کاروبار اپنے عروج پر تھا،تو

Read more

گلگت بلتستان کی یہ سبسڈی ہی ختم کردینا چاہیے

حکومت پاکستان گذشتہ چار دہائیوں سے گلگت بلتستان کو گندم پر سبسڈی دے رہی ہے۔ یہ سبسڈی وقت کے ساتھ بڑھتے بڑھتے نو ارب تک پہنچ چکی ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان کے دور دراز کے علاقوں میں آٹے کا چالیس کلو والا تھیلہ چھ سو روپے میں دستیاب یے۔ گذشتہ کچھ سالوں سے گلگت بلتستان میں گندم سبسڈی پر خوب سیاست ہورہی ہے، جب بھی وفاق میں حکومت تبدیل ہوجاتی ہے تو سبسڈی ختم ہونے کی افوائیں پھیل جاتی

Read more

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن: قومی ادارہ تباہی کے دہانے پر

یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کا قیام آج سے سینتالیس سال قبل انیس سو اکہتر کو عمل میں آیا، اس فلاحی ادارے کو بنانے کا مقصد ان لوگوں تک معیاری اور سستی اشیائے خوردونوش پہنچانا تھا، جو غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یوٹیلٹی سٹور کا رخ وہ لوگ کرتے ہیں جو عام مارکیٹ سے خریداری کی قوت نہیں رکھتے ہیں۔ یہ لوگ دس، بیس روپے بچانے کی خاطر قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، گھنٹوں لائنوں میں کھڑے

Read more

کیا ہوتا اگر حسن، حسین بھی پاکستان آجاتے

امیر ابو منصور سبکتگین غزنی کے گورنر الپتگین کا داماد تھا۔ وہ انتہائی سادگی، عاخزی اور غربت میں میں زندگی گزارتا تھا۔ وہ اکثر شکار کی غرض سے جنگل کا رخ کرتا تھا، کوئی آسان شکار ہاتھ آجاتا تو شکار کرکے گزر بسر کرتا۔ ایک دن جب وہ شکار کے لئے جنگل کی طرف جارہا تھا تو اس نے دیکھا کہ ایک ہرنی اپنے بچے کے ساتھ جنگل میں چر رہی ہے۔ سبکتگین نے اپنا گھوڑا دوڑایا تو ہرنی اور

Read more

سکردو روڈ پر مقامی ٹرانسپورٹ کے حادثے کیوں ہوتے ہیں؟

گلگت سے سکردو کا روڈ ایک سو اڑسٹھ کلو میٹر پر مشتمل ہے۔ یہ قرام قرم ہائی وے کے بعد گلگت بلتستان کی سب سے خطرناک اور دشوار گزار سڑک سمجھی جاتی ہے۔ گلگت سے سکردو پہنچنے کےکیے کم از کم آٹھ گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اور یہ سفر بہت ہی مشکل اور تکلیف دہ ہے۔ سکردو روڈ پر گاڑیوں کا ایکسیڈنٹ ہونا معمول بن گیا ہے۔ گذشتہ دنوں بھی روندو کے قریب ایک مسافر گاڑی حادثے کا شکار ہوگئی

Read more

عمران خان کا یہ خطاب میرے لئے تھا صاحب

عمران احمد خان نیازی نے وزیر اعظم بننے کے بعد پہلا خطاب کیا یہ خطاب ایک گھنٹہ دس منٹ پر مشتمل تھا۔ اس خطاب کو بہت سارے حلقوں نے سراہا لیکن کچھ تنقید بھی کی گئی۔ اس تنقید ک میرے نذدیک کوئی حیثیت نہیں کیونکہ یہ تنقید ان لوگوں کی طرف سے کی گئی جنہوں نے اپنے دور اقتدار میں اس ملک کو بے دردی سے لوٹا۔ اس ملک کو مقروض بنادیا۔ خون میں نہلا دیا۔ سفارش اور رشوت کے

Read more