جوڈیشل ایکٹو ازم کو صوبائی خودمختاری سے دور رکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چیف جسٹس ثاقب نثار اور ان کے ساتھی ججوں نے کراچی کے جناح ہسپتال پر صوبائی کنٹرول کے معاملہ پر غور کرتے ہوئے اٹھارویں ترمیم اور صوبوں و مرکز کے اختیارات کے سوال پر ریمارکس کی صورت میں ایک خطرناک اور نازک بحث چھیڑنے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ دو روز کے دوران اس معاملہ پر معزز ججوں کے یکے بعد دیگرے تبصروں سے یہ تاثر ابھرا ہے گویا عدالت عظمیٰ کے جج صوبوں کو اختیارات دینے سے متعلق پارلیمنٹ کی طرف سے کی گئی ترمیم سے مطمئن نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ کے سہ رکنی بنچ کے ارکان نے اٹھارویں ترمیم کی افادیت اور صوبائی حکومتوں کے اختیار کے حوالے سے شکوک کا اظہار بھی کیا۔ اس موقع پر سینیٹر رضاربانی نے اٹھارویں ترمیم کی اہمیت اور صوبوں کے اختیارات کی حساسیت کے پیش نظر درخواست کی کہ اگر عدالت اٹھارویں ترمیم اور اس کے تحت صوبوں کو ملنے والے اختیارات سے بحث کرنا چاہتی ہے تو اس پر فل کورٹ میں سماعت کی جائے۔ معزز عدالت کے بنچ نے یہ کہتے ہوئے یہ استدعا مسترد کردی کہ عدالت اٹھارویں ترمیم کی از سر نو تشریح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

جناح ہسپتال کے انتظام و انصرام کے حوالے سے زیر سماعت معاملہ میں البتہ چیف جسٹس ثاقب نثار سمیت سپریم کورٹ کے دیگر ججوں کے سوالات نے صوبوں کے اختیار ات کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ استفسارکہ کوئی عمارت صرف ایک صوبے میں ہونے کی وجہ سے کیسے ایک ترمیم کے بعد صوبائی حکومت کی ملکیت قرار پائے گی۔ یا یہ کہ جب کوئی صوبہ عوام کی صحت سے متعلق ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو تو کیا وفاقی حکومت بھی اس معاملہ میں آگے بڑھ کر لوگوں کی تکلیفیں دور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ بظاہر یہ سوال سادہ اور عوام دوستی کے جذبہ سے معمور ہیں لیکن اس سوالات کو مناسب حوالے اور پس منظر کو جانے بغیر اٹھانے سے، صوبوں میں بے چینی پیدا ہو گی۔ اور وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور وسائل کی تقسیم سے متعلق ایک نئی بحث کا آغاز ہو سکتا ہے۔

 سپریم کورٹ کے معزز ججوں سے اس لئے دست بستہ یہی گزارش کی جاسکتی ہے کہ وہ اٹھارویں ترمیم اور صوبوں اور مرکز کے تعلقات میں توازن و تقسیم کے معاملہ پر جوڈیشل ایکٹو ازم استعمال کرنے سے گریز کریں۔ یہ معاملات ایک سنجیدہ سیاسی موضوع ہے جس پر قانون و آئین کی وضاحت کرنے کے نام پر ہاتھ صاف نہیں کیاجاسکتا۔ اسے صوبوں اور پارلیمنٹ کے درمیان پیدا شدہ افہام و تفہیم کے تناظر میں سیاسی طور سے ہی طے کیا گیا ہے یامستقبل میں اس میں ضروری ترامیم اور تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔ سپریم کورٹ کا بنیادی حقوق یا صحت کے مسائل کو بنیاد بنا کر اس معاملہ پر اظہار خیال مناسب نہیں ہو گا۔

پاکستان صوبوں کے اختیارات سے درگزر کرنے کی بھاری قیمت ادا کرچکا ہے۔ ہم نے اسی سوال پر غیر سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے اور وقتی سیاسی یا ادارہ جاتی مفاد پرستی کے سبب ملک کا ایک بازو کھویا ہے۔ یہ بدنصیبی کی بات ہے کہ 1971 میں مشرقی پاکستان کو کھونے کے باوجود باقی ماندہ پاکستان کی حکمران قوتوں نے اس المیہ سے مناسب سبق سیکھنے اور باقی چار صوبوں کے درمیان توازن پیدا کرنے اور ایک بڑے صوبے کے بارے میں غلط فہمیوں کا تدارک کرنے کے لئے مناسب اقدام نہیں کئے۔ پنجاب کے بارے میں ملک کے باقی تینوں صوبوں میں غلط فہمیاں موجود ہیں۔ یہ شکایات پنجاب کے عوام نے پیدا نہیں کی ہیں بلکہ ان کی طرف سے اختیارات پر تصرف حاصل کرنے والی قوتوں نے اس صورت حال کو جنم دینے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ پنجاب کا کسان ہو یا مزدور، وہ بھی اپنے بلوچ، سندھی یا پشتون بھائیوں کی طرح اپنے گھر کا بجٹ بنانے اور لواحقین کا پیٹ پالنے کے لئے پریشانی اور مشکل کا سامنا کرتا ہے۔ لیکن محرومیوں سے پیدا ہونے والی صورت حال میں الزام تراشی میں پناہ لینا آسان ہوتا ہے۔ اس وقت بھی پنجاب اور دوسرے تینوں صوبوں کے درمیان اختیار اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے یہ مباحث پیچیدہ اور سنگین ہیں۔

سیاسی پارٹیوں نے اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے وسائل کی تقسیم کے معاملات طے کر کے اس خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے باوجود بلوچستان میں قوم پرست عناصر کی شکایات کی وجہ سے تصادم کی صورت حال موجود ہے جسے تمام تر دعوؤں کے باوجود ختم نہیں کیا جاسکا۔ بعض انتہا پسند عناصر ان شکایات پر شنوائی نہ ہونے کی وجہ سے ریاست سے مسلح تصادم پر آمادہ ہو چکے ہیں اور بعض صورتوں میں دشمن ممالک ان عناصر کو پاکستان کی سالمیت اور امن و امان کے خلاف استعمال کرکے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا ممکن نہیں کہ مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے اور ریاست کو للکارنے والے لوگ تھوڑے ہیں اور ان کے دماغ دشمن کے پروپیگنڈے کی وجہ سے وفاق کے خلاف نفرت سے بھرے ہیں۔

سچ تو یہ بھی ہے کہ بلوچستان کا کوئی باشندہ بھی وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات و وسائل کی موجودہ تقسیم سے مطمئن اور شاداں نہیں ہے۔ اسی لئے وفاق میں برسر اقتدار آنے والی ہر پارٹی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ بلوچستان کو زیادہ سیاسی اختیارات اور وسائل دے کر مسائل حل کرے گی لیکن حکومتیں بدلتی رہتی ہیں۔ نہ عوام کے مسئلے حل ہوتے ہیں اور نہ ہی صوبے میں بے چینی کم ہوئی ہے۔ اس محرومی کا سبب وفاق اور اس کے زیر انتظام ادارے اور طاقتیں ہیں لیکن اس کا الزام بڑا صوبہ ہونے اور زیادہ وسائل پر تصرف کے سبب پنجاب پر عائد ہوتا ہے۔

سندھ اور خیبر پختون خوا کی صورت حال بھی مختلف نہیں۔ گو اس میں اتنی شدت اور ہیجان موجود نہیں جو بلوچستان کے عوام میں پایا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے بلوچستان کے وسائل سے مسلسل استفادہ کیا ہے۔ سی پیک منصوبہ میں بھی اس صوبہ کے وسائل اور وہاں پر موجود بندرگاہ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سی پیک پر عمل درآمد کے دوران صوبے میں جس ترقی اور خوشحالی کے اعلانات کئے جاتے ہیں، وہ بلوچستان کے عام باشندوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ یوں لگتا ہے کہ سی پیک کی تکمیل کے لئے بلوچستان میں ’خوشحال بستیاں‘ تو آباد کر لی گئی ہیں لیکن عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار فراہم کرنے کے منصوبے مسلسل نظر انداز کئے جارہے ہیں۔ بلکہ صوبہ کے لوگوں کو تو جان و مال کا تحفظ بھی حاصل نہیں۔ دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر سے نمٹنے کے نام پر شہریوں کو کسی الزام کے بغیر غائب کردیا جاتا ہے۔ تشدد زدہ لاشیں سڑکوں پر ملنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ سپریم کورٹ کی دلچسپی اور مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لئے بنائے گئے کمیشن کے باوجود یہ مسئلہ حل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کی مسلسل مقبولیت اس بات کی گواہی ہے کہ اس صوبے کو بھی مرکز سے شکایات ہیں اور وسائل کی تقسیم کے اصولوں پر اختلافات موجود ہیں۔ سندھی عوام کو یہ یقین نہیں دلوایا جا سکا کہ جب پیپلز پارٹی یا دیگر سندھی لیڈر مرکز میں برسر اقتدار ہوتے ہیں تو وہ واقعی بااختیار بھی ہوتے ہیں۔ وہاں مسلسل یہ یقین پایا جاتا ہے کہ ان کے نمائیندے وفاق میں جا کر بھی بے بس ہوتے ہیں اور اپنے عوام کی خواہشات اور ضرورتوں کے علاوہ ان کے بنیادی حقوق کے مطابق وسائل حاصل کرنے اور مساوات قائم کروانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔

خیبر پختون خوا میں حال ہی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے نام سے سامنے آنے والی نوجوانوں کی تحریک اور اس کی اچانک مقبولیت کی وجہ بھی وہی بے چینی اور محرومی ہے جو صوبوں اور مرکز کے درمیان اختیارات کے عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہورہی ہے۔ وفاق کے ادارے اگر صوبوں میں لوگوں کے لئے مشکلات پیدا کریں گے اور ان پر شکایت کرنے والوں کو ملک دشمن یا نادان کہا جائے گا۔ اور متنبہ کیا جائے گا کہ وہ اپنا طرزعمل تبدیل کرلیں ورنہ ریاست ان سے نمٹنا جانتی ہے تو نہ اعتماد پیدا ہو سکتا اور نہ ہی بے چینی ختم ہو سکتی ہے۔ عمران خان یا تحریک انصاف جتنا چاہے دعویٰ کرتے رہیں کہ گزشتہ پانچ برس میں اعلیٰ اور عوام دوست کارکردگی کی وجہ سے صوبے کے لوگوں نے اس پارٹی کو دوبارہ حکومت کرنے کا موقع دیا ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ خیبر پختون خوا کے لوگ مرکز کی پالیسی اور وسائل کی تقسیم سے مطمئن ہو چکے ہیں۔

یہ مسائل سیاسی طور سے پارلیمنٹ میں طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اٹھارویں ترمیم اسی طرف ایک اہم قدم تھی۔ لیکن ابھی ان معاملات پر غور کرنے اور ایسا انتظام کرنے کی ضرورت ہے کہ سب صوبوں کے سب لوگوں کو ان کا حق مل سکے۔ ایک ہی ملک کے باشندوں کے درمیان بداعتمادی اور تصادم کی صورت پیدا نہ ہو۔ لیکن ان کوششوں کو ان تمام مباحث اور افواہوں سے زک پہنچتی ہے جن میں مضبوط وفاق کی بات کرتے ہوئے مرکز کو زیادہ وسائل دینا، قومی ضرورت اور مفاد کے لئے اہم قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایسے ماحول میں جب سپریم کورٹ کے جج ایک ہسپتال کے انتظام کے سوال پر آئینی ترمیم اور صوبوں کے اختیار کے معاملہ پر رائے دینے کو کوشش کریں گے تو غلط فہمیاں دوچند ہوں گی۔ بلکہ ان افواہوں کی تصدیق ہونے لگے گی کہ کچھ درپردہ ہاتھ اٹھارویں ترمیم ختم کر کے ملک پر ایک ایسا انتظام مسلط کرنے کی خواہش کرتے ہیں جس میں ایک پارٹی اور مرکز کو اختیار حاصل ہو گا تاکہ وہ سب کو انصاف فراہم کرسکے۔ پاکستان کے ستر برس کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس قسم کا کوئی انتظام ملک کو متحد رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس معاملہ کی سماعت کے دوران ایک طرف پارلیمنٹ کو سپریم قرار دیا ہے اور دوسری طرف اٹھارویں ترمیم کے طریقہ کار پر سوال بھی اٹھائے ہیں۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جب چیف جسٹس یہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ نے اٹھارویں ترمیم کرتے ہوئے اس پر مناسب بحث نہیں کی تھی تو وہ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کیا وہ ایک منتخب اور بالادست ایوان کی رہنمائی کرنا اپنے فرائض منصبی کا حصہ سمجھتے ہیں؟ یا جب وہ یہ فرماتے ہیں کہ اگر صوبہ عوام کو صحت کی مناسب سہولتیں فراہم نہیں کرتا تو کیا وفاق بھی ایسا نہ کرے؟ اس سوال کے جواب میں صوبہ تو یہ کہے گا کہ وفاق اسے اس کے حصے کے وسائل فراہم نہیں کرتا۔ بلکہ وہ صوبائی حکومت کے جائز وسائل پر ناجائز تصرف اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس صورت میں چیف جسٹس کیا اقدام کریں گے؟ یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سندھ میں اگر پیپلز پارٹی کی حکومت ہو تو وہ عوام کے مفاد سے بے بہرہ ہے اور وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت لوگوں کو سہولتیں بہم پہنچانے کی زیادہ اہل ہے؟

چیف جسٹس صاحب اگر جان لیں تو بہتر ہے کہ یہ سوال سادہ نہیں ہیں۔ ان کی پیچدگیوں میں الجھنے سے وفاق کا رہا سہا وقار بھی خاک میں مل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وفاق کے تمام ادارے بھی متاثر ہوں گے جن میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1099 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali