جی مجھے یہ رشتہ منظور ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 23
  •  

لیجیے جناب ہاں تو کہ دی ہم نے رشتے کے لئے اب بتائیے شادی کرنے کے بعد کیا ماں باپ سے تعلق بالکل ختم ہوجائے گا؟
شروع میں تو الگ گھر کی آزادی بہت اچھی لگے گی۔ دل بھر کر سونے کا سسرال سے الگ رہ کر جو مزا ہے واقعی ایسا مزہ سسرال میں کہاں۔ سسرال میں توصبح صبح دروازہ پیٹا جاتا ہے کہ چلو بھئی آکر سب کے ساتھ ناشتہ کرلو۔ ابھی ہٹے نہیں ناشتے سے کہ ساس سسر کے احکامات جاری۔ اور ساس سسر کی خدمت وہ الگ۔

اب اکیلے گھر میں جو دن چڑھے اٹھنا، اٹھنے کے بعد برنچ یعنی نا ناشتہ نا دوپہر کا کھانا کا وقت ہے اس لئے برنچ کیجیے پھر اپنے گھر کی چار دیواری ہو تو کس کو فکر کام کاج کی جب چاہے کیا کیا نہیں کیا تو نہیں کیا۔ شام کو باہر گھومنے کابھی خوب ٹائم ہے جناب جہاں دل چاہے پہنچ جائیے پیچھے کون انتظار کررہا ہے واپس آتے ہوئے کھانا بھی باہر سے کھالیا۔ آزادی ہی آزادی نہ کوئی روک ٹوک نا پابندی۔

اب ایسے میں ضعیف ماں باپ اکیلے رہیں یا دوکیلے کس کو پرواہ ہے۔ ضعیفی تو بستر سے کم ہی ہلنے دیتی ہے۔ کھانا پکانے باورچی آتا ہے صاف صفائی ماسی کرجاتی ہے۔ دن بھرکے کاموں کے لئے چھوٹو رکھ رکھا ہے۔

ماں اور باپ بیٹھے ہیں اپنے اپنے بڑھاپے کے روگ لئے دونوں میں اتنی سکت نہیں کہ دکھتی کمر یا ٹانگوں پہ تیل ہی مل لیں۔ آپس میں جوانی میں اپنے بچوں کو ہنستا بولتا دیکھ کرخوش ہونے والے اب بڑھاپے میں گھر کی خاموشی سے ہیجان کے مریض بنتے جارہے ہیں۔ اولاد اپنی بیوی کو ساتھ رکھنے سے گریزان ہے اس لیے جی کہ ان کی بیوی کو بہت کام کرنے پڑجائیں گے شوہر کے کام کرے گی یا اس کے ماں باپ کے۔ نئی دلہن پہ ستم نہ ہو اور زندگی ہنسی خوشی شروع ہو لہذا الگ گھر بسانے کا سوچا جائے۔

زندگی میں کیا صرف کام ہی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ہم ایک ساتھ رہتے ہیں؟ نہیں ایسا نہیں ہوتا انسان کا انسان کے بغیر رہنا بہت مشکل ہے کجا یہ کہ وہ رشتے جن کی پوری زندگی ہی آل اولاد کے لئے قربان ہوگئی ہو۔ ایک طرف بچہ بیمار ہوجائے تو ماں کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں تو دوسری طرف دن بھرکا تھکا ہارا باپ گھر آتے ہی بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے کر دوڑتا ہے۔

اپنے چین سکون کے لئے کیا اپنے ماں باپ سے دوری اختیار کی جائے۔ نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ماں باپ سے الگ رہنے والے اور اپنی بیگمات کو الگ گھر کے سہانے خواب دیکھنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ وقت ایک سائیکل کے پہیے کی طرح گزر رہا ہے آج اپنے چین وسکون کی خاطر ماں باپ کو الگ کردینے والے کل اسی مقام پہ ہوں گے ۔ ماں باپ کا وجود تو گھنا سایہ دار درخت ہے جوتیز آندھی ہویا تپتی دھوپ دونوں صورت میں بچاتا ہے۔

الگ گھر میں رہنے کاشوق ہمارے معاشرہ کی تخلیق نہیں خدارا سوچ بدلیے، خاندان کے معنی ومفہوم کو ہمارے بیچ سے ختم مت ہونے دیجیے۔ اچھے کے لئے سوچیں گے تو معاملات خود باخود آپ کے حق میں ہوں گے ۔ گھر وہی ہے جہاں بزرگوں کاسایہ ہے۔ اپنے والدین کی قدر کیجئے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 23
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں