خاموشی جو میرے اندر ٹھہر گئی
خاموشی ہو فاصلے لامحدود ہوں بے بسی ہو تو پھر۔ تو پھر کیا تنہائی ہے؟ کتنا قبیح سوال ہے ”آپ کو تنہائی محسوس نہیں ہوتی؟“ راقم ناگفتہ حالات سے گزرتے ہوئے زندگی کے ایسے موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے کہ ایک طرف کھائی ہے دوسری طرف آگ۔ نا چاہتے ہوئے راہ سے کتنے سنگ اپنی جھولی میں جمع کرلئے اب جھولی پھٹنے والی ہے اور سنگ ہیں کہ درد بن گئے ہیں انہیں جسم سے دور کریں بھی تو
Read more



