خاموشی جو میرے اندر ٹھہر گئی

خاموشی ہو فاصلے لامحدود ہوں بے بسی ہو تو پھر۔ تو پھر کیا تنہائی ہے؟ کتنا قبیح سوال ہے ”آپ کو تنہائی محسوس نہیں ہوتی؟“ راقم ناگفتہ حالات سے گزرتے ہوئے زندگی کے ایسے موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے کہ ایک طرف کھائی ہے دوسری طرف آگ۔ نا چاہتے ہوئے راہ سے کتنے سنگ اپنی جھولی میں جمع کرلئے اب جھولی پھٹنے والی ہے اور سنگ ہیں کہ درد بن گئے ہیں انہیں جسم سے دور کریں بھی تو

Read more

کچھ ذکر پختون کلچر شو کا

پاکستان کو مختلف ثقافتوں کا گل دستہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ ہر رنگ و نسل کے لوگ اور ان کے ثقافتی ڈھنگ اس ملک کی رعنائی کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ میرا تعلق بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ سے ہے یوں کہ لیں میری جڑیں سنگلاخ چٹانوں میں پیوست ہیں۔ شادی بیاہ اور خوشی کے موقع پر بجتا ڈھول اور ڈھول کی تھاپ پر اتن اور چاپ دیکھنا مجھے بے سدھ کر دیتا ہے۔ بچپن سے اتن

Read more

تشدد کا معاوضہ اور جج کی بے حسی

سرگودھا میں جج کی بیوی کے ہاتھوں قریب المرگ پہنچنے والی ملازمہ کو شدید انفیکشن، دونوں ہاتھ کئی مہینے پہلے ٹوٹ چکے ہیں۔ ڈاکٹرز خون میں انفیکشن ملنے کے بعد کینسر کے ٹیسٹ لے رہے ہیں۔ جج کی بیوی گرفتار ہوئی نہ اس نے ضمانت حاصل کی۔ مبینہ طور پر جج صاحب نے ملازمہ کی والدہ سے رابطہ کر کے معاوضہ لینے اور معاملہ ختم کرنے کی پیش کش کی۔ معاشرے میں اس خبر نے بچی کو انصاف کے حصول

Read more

جب قہقہہ گُھٹ جاتا ہے

کیا دن تھے نہ سردی کا پتا چلتا تھا نہ گرمی کا بس ہم تھے اور بچپن۔ کھیل کود ہنسی مذاق عروج پر تھا۔ ہنستے تو کھلکھلا کر ۔ اپنی چار سالہ بیٹی کے قہقہے سن کر اپنے بچپن کا وقت یاد آ گیا۔ ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں روح اور جسم میں فاصلہ بڑھنے لگتا ہے بچپن سے نوجوانی تک زندگی کی تلخیاں جسم کو چھو کر گزرتی تھی۔ پھر نا جانے کب وہ تلخیاں روح کو زخمی

Read more

وہ اس لڑکی کی ہوس تھی یا ضرورت؟

 کافی سال پہلے ایک شادی کے سلسلے میں انڈیا جانا ہوا، دس دن کا ٹھہرنا تھا خاندان کے قریبی رشتہ دار کی شادی تھی۔ ہر ایک بے حد خوش تھا اتنے عرصے بعد دور دور کے رشتہ داروں سے ملاقات ہو رہی تھی۔ شادی کے مہمانوں کو سنبھالنے کا بہت عمدہ انتظام تھا، جہاں رہنے کے لئے ایک گھر لیا گیا تھا وہیں سب مہمانوں کے کھانے پکانے کے لئے ایک باورچی رکھ لیا تھا۔ دن جے پور شہر

Read more

جسے ہم مسیحا سمجھتے ہیں

کچھ دن پہلے ایک خبر سننے کو ملی، روح کانپ کر رہ گئی۔ خبر تھی تھر پارکر کے علاقے چھاچھرو میں مقامی مرکز صحت کے عملے کی غفلت، آپریشن کے دوران حاملہ خاتون کے بچے کا سر دھڑ سے جدا ہو گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کے عملے نے نوزائیدہ کا سر کاٹ کرماں کے پیٹ سے نکالا اور دھڑ پیٹ میں چھوڑ دیا، پھر خاتون کو چھاچھرو سے سول ہسپتال مٹھی بھیجا گیا جہاں کوئی بہتر طبی

Read more

طریقہ تدریس

صبح سویرے نیند سے زبردستی جگا کر اسکول بھیجنے پر سب بچے خوش نہی ہوتے۔ اب یہ کہا جائے کہ رات جلدی سلا دیں تو نیند پوری ہو جائے گی۔ نہیں مجھے تو لگتا ہے بچوں کی نیند پوری ہونے کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہے جو بچہ جتنا تھک کر سوئے گا اسے اتنی لمبی نیند چاہیے۔ چلیے اس پر پھر کبھی بات ہوگی اس وقت موضوع گفتگو طریقہ تدریس ہے خاص کر ابتدائی کیونکہ یہ بچوں کی بنیادی

Read more

عورت کی زندگی: ریت پر نقش پا

ہاتھوں میں ہاتھ لئے نرم گیلی ریت پر اپنے قدموں کے نشان بناتے وہ آگے اور آگے بڑھتے گئے، ہر کچھ قدم چلنے کے بعد ایک لہر آ کے وہ نشان مٹا جاتی تھی۔ جو پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ ابھی شادی کو کچھ ہی عرصہ ہوا تھا، اس کی اٹکھیلیاں، شوخیاں شوہر کو لبھاتی تھیں مگر ساس نندوں کو یہ سب چھچھورا پن لگتا تھا اسی لئے شوہر نام دار سب گھر والوں کے سامنے چہرے پہ مسکراہٹ بھی نہ

Read more

ایک ملاقات ٹک ٹاکر کےساتھ

حسب عادت سہ پہر کو چہل قدمی کرنے کے لئے ایف نائن پارک کا رخ کیا۔ ٹھنڈی ہوائیں بادلوں سے ڈھکا آسمان اور ایف نائن پارک کی خوب صورتی جیسے روح کو پھر سے جواں کردے۔ ہلکے قدموں سے نرم و دبیز گھاس پر چلتے ہوئے نگاہ ایک معصوم سی صورت پر پڑی، جو اپنے گروپ کے ساتھ کچھ ویڈیوز بنا رہی تھی پینٹ شرٹ کوٹ میں ملبوس سلیقے سے اسکارف لئے اپنے کام میں مگن۔ میرا جی چاہا کہ

Read more

بیٹیاں نوکری کریں

آپ بیٹی سے نوکری اس لئے کروا رہے ہیں کہ پیسہ کما کر لائے اور معاشی طور پر ہاتھ بٹائے؟ سوچ میں تبدیلی ہمیشہ موازنہ کرنے سے آتا ہے۔ مرد و عورت دونوں ہی کے پاس دماغ جیسی نعمت ہے۔ جو عورتیں گھروں میں رہتی ہیں ان کی ذہانت ایک خاص مقام تک ہی ہوتی ہے لیکن جو عورت گھرکی چار دیواری سے باہر نکلتی ہے اس کا دماغ گھر اور باہر کے ماحول کا موازنہ بہتر طریقے سے کرتے

Read more

ایسی دنیا جہاں منافقت نہیں

دن چڑھے جب وہ سو کر اٹھی تو پیروں کی سنسناہٹ ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئی تھی۔ من من بھر کے سوجے پیر بستر سے نیچے اتار کر کافی دیر وہ اٹھنے کی ہمت جمع کرنے لگی، بالآخر وہ بستر چھوڑنے میں کامیاب ہو گئی۔ اب وہ تھکنے لگی تھی شاید اس کی ڈھلتی عمر کا تقاضا تھا یا جسمانی کمزوری نہیں تو وہ اپنے کام میں ایسی ماہر تھی کہ اس کی ٹکر کی کوئی اور اس محلے میں

Read more

اسپیشل بچے

کچھ عرصے سے شعبہ تدریس سے تعلق ہے۔ ایسے میں ہر عمر کے بچیاں اور بچوں سے ملاقات ہوتی ہے۔

عمر اور صحت کے حساب سے ہر بچہ کسی نہ کسی سرگرمی میں اپنی مہارت دکھاتا ہے۔ انہیں بچوں میں کچھ بچے ایسے بھی ملے ہیں جو ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند نہیں ہیں۔ جنہیں عرف عام میں اسپیشل بچے کہا جاتا ہے۔

Read more

بے باک

زندگی کی غلیظ ترین حقیقت ہے۔ تمہیں ایک شے ایک میکنزم کے طور پر استعمال کیا جانا کتنی گندی بات ہے۔ عورت خود کو استعمال کیے جانے پر مرد کو معاف نہیں کر سکتی۔ ” (اوشو) عورت مارچ سے لے کر حقوق نسواں تک مرد کے مقابل آتی عورت رشتے میں یا تو اس کی دوست ہے یا پھر بیوی۔ حقوق نسواں میں کبھی مائیوں یا بہنوں کے لئے اجتماعی کوششیں ہوتی نظر نہیں آئی۔ خون کے رشتے جسم کے رشتوں

Read more

میرے بچوں کا مستقبل کیا ہے؟

آج کے اس سائنسی دور میں جہاں نت نئے تجربات ہو رہے ہیں۔ وہیں سائنس نے ایک کلک میں دنیا ایک چھوٹی سی اسکرین پر آپ کے سامنے لا کر رکھ دی ہے۔ لیکن ہم اس ترقی کی دوڑ میں اب بھی بہت پیچھے ہیں، جس کی وجہ تعلیم کا فقدان ہے۔ دینی اور دنیاوی تعلیم ہر فرد کی ضرورت ہے۔ جس سے معاشرے میں نکھار آتا ہے۔ ایک باشعور معاشرہ تعمیر ہی اس وقت ہوتا ہے جب اس معاشرے

Read more

کچرے کے ڈھیر میں دھنستا کراچی

کراچی شہر آبادی کے حساب سے ملک کا سب سے بڑا شہر ہے مگر بدقسمتی سے یہاں ہر اس چیز کافقدان ہے جو ایک عام آدمی کی پرسکون زندگی کے لئے ضروری ہے۔ بجلی کی آنکھ مچولی یہاں عام سی بات ہے شدید گرمی میں بجلی کے بغیر رہنا دیکھنا ہو تو موسی کالونی عیسی کالونی بفرزون شادمان اور بے شمار علاقے ہیں وہاں جاکر دیکھا جاسکتا ہے۔ لوڈ شیڈنگ کی سب سے بڑی وجہ وہاں کا کنڈا سسٹم بھی ہے

Read more

گالی سے ریپ تک

میں نے گالی دی آپ کو برا لگا آپ کو برا لگا اس لیے کہ میں ایک عورت ہوں لیکن آپ نے کبھی یہ سوچا کہ آپ کی ہر گالی عورت سے شروع ہو کر عورت پہ ہی ختم ہوتی ہے۔ حجاب حجاب کی رٹ لگا کر عورت کو ایک انوکھی چیز بنا کر رکھ دیا ہے۔ جہاں ہر گلی محلے کے نکڑ کی لڑائی میں عورت کو گالی دی جاتی ہے وہیں اب اسلام کے ٹھیکیدار برملا اپنے اخبارات

Read more

خاموش بد دعا

آج دفتر پہنچنے میں دیر کیوں ہوئی۔ فراز کو دفتر میں داخل ہوتے ہی میں نے پہلا سوال کیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات ہی کچھ ایسے تھے۔ ہاں یار راستے میں بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ اس نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔ میں نے بھی سوچا ابھی جانے دیتا ہوں دوپہر میں بات کروں گا۔ کھانے کے وقفے پہ اپنا اپنا کھانے کا ڈبہ لئے ہم کیفے پہنچے۔ فراز کو بے دلی سے کھانا کھاتے دیکھ کر مجھے

Read more

یکساں نظام تعلیم لائیں مگر والدین سے بھی پوچھ لیں

ہمارے ملک پاکستان میں ابتدائی تعلیم کے دو طرح کے تعلیمی ادارے ہیں۔ جہاں الگ الگ طبقات کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سرکاری اسکول اور پرائیویٹ اسکولز اور کچھ نیم سرکاری اسکول۔ یہ تو واضح ہے کہ سرکاری اسکول میں بچوں کی زیادہ تعداد خط غربت سے نیچے سے آنے والوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے بعد دوسرا نمبر نیم سرکاری اور پرائیویٹ اسکول کا ہے یہاں بھی مزید درجہ بندی ہے۔ ہر اسکول اپنے معیار کے

Read more

ماں کی یاد میں

اس دن کی قدر ماں کے جانے کے بعد محسوس ہوئی۔ ہچھلے دنوں کوئٹہ اپنے میکے جانا ہوا۔ در و دیوار ساز و سامان سب کچھ وہی تھا پر ماں نہی تھی میری وہاں۔ ایسا لگا جیسے ان تمام چیزوں سے رابطہ منقطع ہو گیا ہو۔ امی کے علاوہ بہن بھائی ابو سبھی تو تھے مگر رشتوں کی حرارت امی اپنے ساتھ ہی لے گئیں۔ دوسرے شہر میں شادی ہونے کی وجہ سے اپنے میکے آنا ہمیشہ مسئلہ بنا رہتا

Read more

محبت کیجئے مگر سرعام نہیں

الحمدللہ جوان بچیوں کی ماں ہوں۔ اسکول کالج اور ہر ممکنہ تعلیمی سرگرمیوں سے بھی گزری ہوں اور اب اس دور میں اپنی بچیوں کو بھی اجازت دے رکھی ہے کہ جہاں جہاں انہیں اپنی صلاحیتیں منوانی ہیں وہاں بلاجھجک آگے بڑھیں۔ بلاشبہ میرے اور آج کی بچیوں کے تعلیمی اداروں میں کافی فرق آ گیا ہے۔ میں ایک اردو گرلز میڈیم سے پڑھی لڑکی تھی لیکن میری بیٹیاں مخلوط تعلیمی اداروں سے تعلیم کے مراحل پورے کرتے ہوئے یونیورسٹیز

Read more

عورت مارچ اور سستی شہرت کےرسیا لوگ

کچھ عجیب سا جملہ ہے۔ اپنے اندر بے شمار ذومعنی مطالب لیے یہ جملہ یوم خواتین کو منعقد کیے جانے والے عورت مارچ کا سلوگن ہے۔ اس کی حمایت میں مارچ میں شامل خواتین کے پاس بہت سارے دلائل ہیں۔ جن میں کچھ تو واقعی کافی حد تک صحیح ہیں لیکن کچھ میں شکوک وشبہات ہیں۔

ایک خاتون نے کہا کہ یہ نعرہ مرد وعورت دونوں کے لئے ہے۔ کافی حد تک صحیح کہا۔

Read more

عورت مارچ سے کیا فرق پڑے گا؟

میں اگر عورت مارچ کی حمایت کرنے کی جسارت کر لوں تو ایک ہجوم میرے پیچھے لٹھ لے کر دوڑنے لگے گا۔ عورت مارچ کئی طرح کے بینر ہاتھوں میں لئے کھڑی خواتین اپنے حقوق مانگ رہی ہیں۔ کیا حقوق ایسے مانگنے پہ ملتے ہیں؟ ہر طبقے کے گلی محلہ میں کئی ایسے گھر ہوں گے جہاں عورت پر تشدد ہوتا ہے۔ گھریلو کاموں اور بچوں میں عورت کو مشغول کر دیا جاتا ہے۔ گھر کی بچیاں باپ کی اونچی

Read more

بلوچستان کے لاپتا افراد اور ان کی مائیں

چھبیس اپریل 2014  کو مستونگ تھانے میں دو افراد سعید احمد اور عبداللہ کی گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ یہ دونوں افراد لیویز میں ملازم تھے اور کوئٹہ سے واپس مستونگ جاتے ہوئے لاپتا ہوئے۔ لاپتہ سعید احمد کے والد صاحب نے کئی جگہ درخواست دی اور اپنی درخواست میں انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ کس طرح کوئٹہ سے واپسی پر راستے میں اسے غائب کر دیا گیا۔ بیٹے کی جدائی میں ماں کو دو مرتبہ دل

Read more

اور اب پھر عربی زبان اسکول کے نصاب کاحصہ

کلاس پنجم تک مجھے بھی عربی پڑھائی گئی۔ عربی پڑھانے کے لئے ایک قاری صاحب مخصوص تھے۔ باریش اور کرخت قسم کے۔ کسی کو سبق یاد نا ہوتا تو الٹے ہاتھ پر ڈنڈے برسانے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ انت، ابی۔ انا ایسے بے شمار الفاظ ہمیں بآسانی یاد ہو جاتے تھے لیکن پورے پورے جملے بولنے میں دقت آتی تھی کیونکہ عام بول چال میں عربی استعمال نہی ہوتی تھی۔ دوسری طرف شام کو باقاعدگی سے سپارہ پڑھانے ایک قاری

Read more

جیل میں ملاقاتیوں کی جنسی ہراسانی

میں کوئٹہ شہر کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئی۔ ابو بینک میں ملازم تھے۔ اسکول کالج کی تعلیم مکمل ہوئی اور ابو نے اپنا فرض ادا کیا۔ میں رخصت ہو کر کراچی آ گئی۔ کوئٹہ جہاں موسم زیادہ تر سرد رہتا ہے وہیں وہاں کے لوگ بھی ٹھنڈے مزاج کے ہیں۔ کراچی جہاں موسم سال کے بارہ مہینے گرم رہتا ہے۔ موسم کے ساتھ ساتھ یہاں کے حالات بھی گرم ہی رہتے ہیں۔ انہیں گرم حالات نے میرا گھر

Read more

کیا روحیں بھٹکتی ہیں؟

مجھے کوئٹہ کی گرم دوپہریں بہت پسند تھیں۔ امی نے بچپن سے ہی دوپہر میں سونے کی ایسی عادت ڈال دی تھی کہ اسکول سے آتے کپڑے بدل کر کھانا کھاتے اور سونے لٹا دیے جاتے۔ کالج میں آنے کے بعد بھی یہی ترتیب تھی۔ یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب میں سیکینڈ ائیر میں پڑھتی تھی اور میری بڑی بہن تھرڈ ائیر کی طالبہ تھی۔ ہم دونوں کالج سے آتے تو پورا گھر سو رہا ہوتا، ہمارے حصے

Read more

دوسری شادی اور ماہر نفسیات

حسب معمول رات نو بجے ٹی وی آن کیا اور خبریں سننے بیٹھی۔ ”ملتان میں ایک ماہر نفسیات نے اپنی بیٹی کو گولی مار کے قتل کر دیا اور خود کشی کر لی۔“ خبر سن کر جہاں بہت افسوس ہوا وہاں کافی حیرت سے دوچار بھی ہوئی۔ کافی دیر تک ذہن میں یہ سوال کلبلاتا رہا کہ ”ایک ماہر نفسیات“ نے ایسا عمل کیوں کیا۔ اب چونکہ خبر اتنی آسانی سے فراموش کرنے والی تھی نہیں، لہٰذا اس واقعے کے

Read more

بٹو میاں رفو گر(کہانی)

دلہن نے انہیں مسہری پہ سے اتر جانے کو کہا اور خود غسل خانے کی جانب بڑھی۔
بہت دیر جب غسل خانے سے باہر نہ آئی تو بٹومیاں کو فکر لاحق ہوئی۔ دروازہ بجایا آوازیں دیں لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ کواڑ کو اندر کی جانب دھکیل کر کنڈی توڑی اور اندر داخل ہوئے۔
اندر دیکھتے ہیں کہ دلہن اوندھے منہ گری پڑی ہے، پاس ہی زہر کی شیشی گری ہوئی ہے۔

Read more

کیا تھپڑ مارنے والی حریم شاہ درست ہیں؟

آج صبح جب سوشل میڈیا پہ نگاہ پڑی تو ہر طرف حریم شاہ کے تھپڑ کی گونج تھی۔ ایک قندیل بلوچ بھی تھیں، اپنی بے باکی اور دبنگ انداز کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں کو پہنچی ہوئی تھیں اور آج یہ حریم شاہ ہیں جو اپنی ٹک ٹاک ویڈیوز سے اتنی مشہور ہو گئیں ہیں کہ کبھی پارلیمنٹ کے دورے پر ہوتی ہیں تو کبھی کسی سیاست دان کی مہمان۔ کل تو حد ہی ہو گئی کہ مفتی صاحب

Read more

معاشرہ میں بڑھتے زیادتی کے واقعات اور ہمارا کردار

زینب قتل کیس نے پہلی مرتبہ اندر تک توڑ کے رکھ دیا۔ ایک خوف کی لہر میرے پورے وجود میں دوڑ گئی اپنی بچیوں کے چہرے میں مجھے زینب نظر آنے لگی۔ وہ درد کچھ کم ہوا تو یکے بعد دیگرے زینب جیسے واقعات نظروں سے گزرتے رہے۔ جن میں کبھی تو لڑکا یا لڑکی کی قید بھی نہیں تھی۔ صرف درندگی تھی۔ اپنے بچپن میں مجھے جب قاری صاحب پڑھانے کے لئے لگوائے گئے تو امی کا ایک ایسا

Read more

ویلنٹائن ڈے کی جگہ سسٹر ڈے

اسی دوران کندھے سے لگا کر بھائی کو ڈکار دلانے کے لیے بھی امی مجھے ہی صدا دیتیں۔ عام دنوں میں شام کی چائے کی پیالیاں دھو کے رکھنا ، پرندوں کو دانہ پانی دینا یہ کام امی نے میرے ذمہ لگا رکھے تھے، گو کہ گھر میں کئی افراد تھے لیکن امی اپنے سے جڑے رکھنے کے لئے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے کہہ دیتی تھیں۔ بچپن لڑکپن کھیل کود کے ساتھ ساتھ امی کے کاموں میں گزرا ہر دن ہی مدر ڈے جیسا تھا ہمارا۔

Read more

اس نے تیزاب کیوں پھینکا؟

ارے موئی جب دیکھو آئینے کے سامنے کھڑی رہتی ہے ، یہاں آ کتھا نکال لا ہنڈیا سے۔ اماں جان سروتے سے چھالیہ کترتے ہوئے عائشہ کو دوچار صلواتوں کے ساتھ پکارتیں۔ یہ روز کا ہی معمول تھا،  عائشہ ناشتے کے برتن دھونے کے بعد کمروں کی جھاڑو اور پھر برآمدے اور آنگن کی دھلائی کرتی۔ آنگن میں لگے آم کے پیڑ کے عین نیچے اماں جان کی چارپائی بچھی رہتی ، سرہانے پاندان رکھا رہتا۔ عائشہ گھر کے کام

Read more

بوبو جان

بنیر کی پہاڑیوں پہ اپنی بکریاں چلاتی اچھلتی کودتی وہ خوب صورت بچی جانے کب جوان ہو گئی۔ گھر میں سب ہی کی چہیتی آج ڈھولک کی تھاپ پر پورے گاؤں کو الوداع کہ کے دوسرے گاؤں بیاہ دی گئی۔ اتنی کم عمری کی شادی کہ وہ اپنے بدن کی اٹھان کو محسوس بھی نا کرسکی اور ایک بچی کی ماں بن گئی۔ مامتا بھی ایک عجیب احساس ہے بلکہ نعمت خداوندی ہے کہ اس احساس کے بعد نا بے

Read more

ازدواجی زندگی

شادی دو لوگوں کا ملن ہے ہمارے معاشرہ میں ان دو لوگوں کے ملن سے زیادہ دو خاندانوں کے ملنے پہ انحصار کرتا ہے۔

ماں اور بہنیں بہت بھاگ دوڑ چھان پٹھک کے بھائی کی دلہن لاتی ہیں۔ کتنے گھروں کا چکر لگتا ہے۔ مختلف قسم کے ناشتے کیے جاتے ہیں۔ امیر غریب متوسط گو کہ ہر گھر میں اپنے معیار کی لڑکی ڈھونڈی جاتی ہے۔

لڑکی والے بھی کسی طور کم نہی ہوتے۔ لڑکا دیکھنے اس کے گھر گئے ہیں اور بیٹھک میں لڑکا جوتے اتار کر اندر آیا تو اسے مسترد کر دیا جاتا ہے۔ اکثر لڑکیاں اسی لئے وقت پر شادی سے محروم رہ جاتی ہیں کہ باپ اور بھائیوں کے دماغ ساتویں آسمان پر ہوتے ہیں۔

Read more

جب میں نے ایک کتے کی عظمت پہچانی

پچھلے سال بچے اپنی چھوٹی بہن کو سالگرہ میں دینے کے لئے ایک چھوٹی سی کتیا لے آئے۔ گھر میں خوب رونق ہو گئی سبھی اس کتیا سے بہت پیار کرتے کھیلتے مل کر نہلاتے۔ سال بھر ہوا تو اس کتیا نے تین بچے دیے سفید جھک کتیا اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے پوررے لان میں اودھم مچا کررکھتے۔ کھیل کا کھیل رہتا اور گھر کی حفاظت بھی ہوجاتی۔ اب اس کے بچے قریب چھ ماہ کے ہو گئے

Read more

عورت اگر چاہے تو۔

وہ بنا دیکھے ہی اس سے محبت کر بیٹھا تھا۔ بس اس کی آواز سن لینا ہی اس کے لئے کافی رہتا تھا وہ آج بھی شرمندہ ہے کہ بس آواز سننے کی خواہش ہی تو کر رہا تھا پھر بات بڑھانے کی کیا ضرورت تھی۔

پاندان سجائے ساسو ماں بڑے سکون سے کم کم ڈرامہ اس وقت انڈین چینلز آتے تھے دیکھ رہی تھیں۔ فون کی مستقل بجتی گھنٹی پہ بڑی ناگواری سے اٹھیں فون پہ کوئی نوجوان تھا جو اس نمبر سے ایک کال آنے کے بعد کال کر رہا تھا۔ باتوں باتوں میں اس نوجوان نے ساسو ماں سے ان خاتون کا نام پوچھ ہی جن سے کال پہ بات ہوئی تھی۔

Read more

معاشرے میں مرد کا کردار

مرد کوئی الگ مخلوق ہے کیا! عمر بھر ہم باپ بھائی ماموں نانا دادا کتنے رشتوں کے روپ میں مردوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن کبھی ہمیں اپنے غیر محفوظ ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ جب یہی مرد گھر سے باہر نکلتا ہے تو معاشرے کے لئے ایک مشکوک چیز بن جاتا ہے۔ پھر کہیں معصوم بچی کلیوں کی طرح روند دی جاتی ہے تو کہیں لڑکی کی عزت کی دھجیاں اڑتی ہے اور تو اور لڑکے بھی اس

Read more

باہمی تعلق

جب یہ دنیا معرض وجود میں آئی تو اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کی تنہائی دور کرنے کے لئے بی بی حوا کو پیدا فرمایا۔ زمین کو آباد کرنے کے لئے ہر چرند و پرند کے جوڑے اتارے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان بدلتا گیا اور جوڑوں کی افادیت صرف شادی بیاہ تک محدود ہو گئی۔ دنیا بننے کے بعد ہی عورت فتنہ بن گئی کیونکہ پہلا قتل اس عورت کی وجہ بنا۔ کیا معلوم اس قتل سے انسانوں کو یہ سبق دیا جانا ہو کہ اپنے مردے تم کیسے دفن کرو، لیکن اس سے زیادہ وجہ قتل اہم ہو گئی۔

Read more

اسلام آباد میں خودکشی اور پولیس کا رویہ

موت برحق ہے لیکن اس کے باوجود ہر شخص موت سے خوف زدہ ہوتا ہے۔ ناجانے کب ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں موت کو گلے لگانے کے بارے میں سوچنے لگتاہے۔ شاید ایسے شخص کا دماغ اسے کسی بند اندھیرے گلی میں پہنچا دیتا ہے جہاں سے نا تو آگے بڑھا جاسکتا ہے نا پیچھے۔ آج فیصل نے خودسوزی کرلی۔ سڑک پہ آگ لگانے کے بعد موت کی دہلیز پار کرنے تک کا دورانیہ کس

Read more

میں اور میری خود سری

اپنی خود سری کے بارے میں سوچتی ہوں تو حیرت بھی ہوتی ہے اور افسوس بھی۔ امی سے اتنی مار کھانے کے بعد بھی سدھری نہیں۔ کبھی جب امی کی برداشت سے باہر ہوجاتا تو پٹائی کاشرف  ابو کو حاصل ہو جاتا تھا۔ کچھ دیر رونے دھونے کے بعد معافی مانگ لی جاتی اور چار دن بعد وہی ڈھاک کے تین پات۔ پہلے ماں باپ کچھ معاملات میں اتنی ہوشیاری کے ساتھ اولاد کی حق تلفی کرجاتے تھے کہ وہ

Read more

” لمس“

بڑے کہتے تھے سر پر ہاتھ پھروالو۔ بچہ پیدائش کے کچھ لمحوں بعد اپنی ماں کی گود میں آتا ہے تو اس کے سینے میں سر چھپا نے لگتا ہے۔ اس معصوم کو قدرتی طور پہ یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ ہی اس کی ماں ہے۔ اس احساس کو پیدا کرنے کا موجد وہ لمس ہے جووہ پیٹ میں قائم ہوتا ہے۔ کتنی ہی گہری چوٹ لگ جائے ماں کی گود میں آتے ہی درد کم ہوجاتا ہے۔ لمس

Read more

ڈاکٹرعمران فاروق کی ڈائری سے ایک ورق

وہ زندہ تھے اور آخری سانسیں لے رہے تھے۔ سیڑھیوں پہ ایک جانب ڈبل روٹی کی تھیلی پڑی تھی جو یقیناً قاتلوں سے گتھم گتھا ہونے پر ہاتھ سے چھوٹ کر گری ہوگی۔ وہ مرتا ہوا انسان ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق تھے۔ انہیں ہسپتال پہنچایا گیا، پھپڑوں میں خون جا چکا تھا۔ چاقو کے وار سے چہرہ زخمی تھا۔ ایک چاقو سینے میں پیوست تھا جس کا دستہ ٹوٹ چکا تھا جو قاتلوں نے پودوں

Read more

رشتے رہ جاتے ہیں محبتیں ختم ہوجاتی ہیں

کہنے کو تو ماں باپ بہن بھائی ایسے رشتے ہیں کہ انہیں الگ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ حقیقت قبول کرنے سے سب ہی آنکھیں کترالیتے ہیں کہ ان پرخلوص رشتوں سے بھی محبت بہت خاموشی سے الگ ہوجاتی ہے۔ ماں نو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے پھر دنیا میں آنے کے بعد بھی ایک متناہی تعلق اولاد سے جڑا رہتاہے۔ یہ تعلق اولاد کے عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کم ہوکے رہ جاتا ہے سات سال کے بعد ہی

Read more

مرد کی محبت یاعورت کو لگتی دیمک

خدا جانے اس کے گھر کا ماحول ایسا تھا یا دہات میں رہنے کی وجہ سے گھر بھر اتنا سیدھا سادہ تھا کہ جو مسجد میں نماز کے خطبے میں اسلام سکھایا جاتا اس سے ایک حرف ناآگے ناایک حرف پیچھے کی تحقیق کرنے کاخیال کسی کوآتا ناضرورت محسوس ہوتی ۔اس کے گھرانے کو تنگ نظر کہنا مناسب نا ہوگا ہاں البتہ تمام اعمال بد کرنے کے باوجود خوف خدا سب کے دلوں میں تھا ۔ وہ بچپن سے ہی

Read more

طلاق کا رجحان بڑھنے میں عورت کا کردار

ایک دور وہ بھی تھا جب لڑکی اپنے باپ کی دہلیز پار کرتی تھی اور اس کے کان میں یہ سرگوشی کر دی جاتی تھی کہ خوشی میں سو دفعہ آنا لیکن کبھی اپنے شوہر سے جھگڑ کر مت آنا۔ لڑکی بھی یہ عہد باندھ کر اپنے باپ کی دہلیز پار کرتی تھی کہ کبھی اپنے ماں باپ کو شرمندہ نہیں ہونے دے گی۔ زچگی کی تکالیف ہوں یا سسرال کے خدمت سب برداشت کر لیتی تھی۔ ایسا بھی نہیں

Read more

سب کچھ ہو لیکن محبت نا ملے تو ادھورے ہیں ہم

درختوں سے چھن کر آتی چاندنی کی کرنیں ٹھنڈی خنک ہوا لان میں بکھرے خزاں رسیدہ پتے اور ان پتوں میں چلنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ آج وہ وہ اپنے آپ کوکتنا مکمل تصور کررہی تھی اس کی روح میں جیسے کوئی جذب ہوگیا تھا۔ کوئی تھا جواس کے درد کو اپنے اندر سمیٹ کے لے گیا تھا۔ یقینا وہ خوش نصیب ہے اسے بنا مانگے سب کچھ مل گیا تھا۔ بچپن میں سکول جاتے ترسی نگاہوں سے ماں

Read more

مہاجر قوم کو ایک اور موقع دیا جائے

اسکول کے امتحانات کازمانہ تھا میں اپنے کمرے میں بڑے زور وشور سے پیپر کی تیاری کررہی تھیں اتنے میں ٹی وی پہ ایک صاحب کی تقریر کرنے کی آواز کانوں میں پڑی۔ ایسی کشش تھی اس آواز میں کہ میں بے اختیار یہ دیکھنے کو اٹھ کھڑی ہوئی کہ یہ مقرر آخر ہیں کون؟ وہ تھے جناب الطاف حسین، مہاجروں کے روحانی باپ۔ بلاشبہ ان کا انداز اور ان کی گفتگو قابل رشک تھی۔ مجھے سن کر بہت اچھا

Read more

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس پہ بی بی سی کی رپورٹ کا ترجمہ

عمران فاروق کے قتل کیس پہ بی بی سی کی ایک رپورٹ کاترجمہ پیش خدمت ہے جس سے تمام ملزمان کاکردار واضح ہوجائے گا۔ اس کیس میں معظم علی خان کاکردار بھی کھل کرسامنے آتاہے جو ان کی بے گناہی کاواضح ثبوت ہے۔ نمائندہ بی بی سی مسٹر اون بینیٹ جونز انتیس جنوری دوہزار چودہ کواپنی رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ برطانیہ حکومتی استغاثہ نے پاکستان سے ایسے دو افراد کو تلاش کرنے کا کہا ہے جن پہ ایم کیو

Read more

خوشی کیا ہے؟

صبح سویرے منڈیر پہ رکھے مٹی کے برتنوں میں دانہ پانی ڈالنا اور پھر چڑیوں کا انتظار۔ کیا خوشی ملتی تھی بچپن میں، ناقابل بیان راہ چلتے سنگل پہ گاڑی رکتے ہی کئی چھوٹے بچے بچیاں دوڑ کر گاڑی کے شیشے کے پاس آجاتے ہیں کسی ایک کے ہاتھ میں ہی پانچ کا سکہ آتاہے اور پھر اس کے چہرے پہ فاتحانہ مسکراہٹ اسے اپنے آس پاس موجود بچوں میں ایک الگ حیثیت کا احساس دلاتی ہے یہی احساس تو

Read more

کیا ریاست میری بھی ماں ہے؟

پانچ سال کاعرصہ مختصر نہیں ہوتا۔ جیل میں معظم پہ جو بیت رہی ہے وہ ایک الگ دردناک سچائی ہے دوسری طرف جوانی میں قدم رکھتے اس کے بچے اپنی زندگی کے خواب دیکھتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ اس عمر میں تو محبتیں کی جاتی ہیں وہ نفرت کے بیج سینے میں دبائے بیٹھے ہیں۔ اس عمر میں مستقبل کے خواب دیکھے جاتے ہیں اور وہ تاریک اندھیری گلی میں دکھیلے جارہے ہیں۔ جوان ہوتی لڑکیوں کودیکھ کرماں باپ کتنے ارمان سجاتے ہیں اور ہم سہمے بیٹھے ہیں کون ہمارا در کھٹکھٹائے گا کیا کہوں گی میں ان سب لوگوں کہ ان کاباپ کہاں اور کیوں جیل میں ہے۔

Read more

عمران فاروق کیس کے بے گناہ ملزم معظم علی کا زندہ درگور گھرانہ کیسے جشن آزادی منائے؟

چودہ اگست کی آمد آمد ہے۔ سڑکوں پہ جگہ جگہ سبزہلالی پرچم بیچنے والوں نے رونق لگارکھی ہے۔ کئی مرتبہ تو میں نے بھی سوچا کہ گھر پہ لگانے کو ایک جھنڈا خرید لوں اور ایک بیچ بھی تاکہ اپنے دل کے عین اوپر لگا سکوں۔ آج دل نے مجبور کیا کہ اپنے ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اسی ارادے سے گاڑی کو بریک لگائے ہی تھے کہ دل ودماغ میں جنگ سی شروع ہو گئی۔ دل تھاکہ

Read more

زنانہ کمزوری: مایوسی گناہ ہے

جب نرس نے باہر آکر بتایا مبارک ہوآپ کے لڑکی پیدا ہوئی ہے تو نرس کو باہر نکلتے دیکھ کر جو گھر والوں کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی بجھ سی گئی۔ کوئی مانے یا نا مانے کہ لڑکی کی پیدائش پہ وہ خوشی نہیں ہوتی جوایک لڑکے کی پیدائش پہ ہوتی ہے۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ لڑکی کی پیدائش صرف ماں کے لئے خوشی کاباعث ہوتی ہے جبکہ لڑکے کی پیدائش پہ پوراخاندان خوشیاں مناتا

Read more

کھڑکی کے شیشے پر بادل اور بارش کی تحریریں

بارش تیز ہوتی جارہی تھی۔ شیشے کی کھڑکیاں بادلوں کی گرج سے کھڑکھڑارہی تھیں۔ بوندیں شیشوں سے ٹکراٹکرا کر بہ رہی تھیں۔ وہ دبے قدموں اپنے بستر سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس آکھڑی ہوئی۔ موسم میں خنکی تھی اپنی شال کندھے پہ لپیٹ کر اسے کچھ گرماہٹ محسوس ہوئی۔ برسات میں بوندیں شیشے سے ٹکرا کروہیں رک جاتی تھیں یہ احساس اسے اندر تک جھنجوڑ گیا۔ وہ خود بھی توایک ایسے ہی حصار میں تھی جہاں سارے درد دکھ

Read more

نصیب کی صلیب بیٹی ہی کے لئے کیوں؟

آنگن میں شام اترتے ہی ماں لالٹین کی بتیاں اوپر کر دیتی۔ ہوا میں ہلکی ہلکی خنکی بڑھ رہی تھی۔ سردیاں دبے پاؤں آرہی تھیں۔ موسم کی تبدیلی گھر میں پہلے ہی پتا چل جاتا تھا ابا کی کھانسی جو شددت اختیار کرلیتی تھی۔ ابا جو عرف عام میں شیرو مشہور تھا اب ایک چارپائی پہ گٹھری کی طرح پڑا رہتا تھا۔ وہ کوئی جوان عورت نہیں تھی اپنے ماں باپ کی خدمت کرتے کرتے اس کے بالوں میں بھی

Read more

یہ شہر ہے یہاں بات محبت سے آگے کی ہے

بات محبت سے بہت آگے کی تھی یہ وہ سمجھاہی نہیں۔ وہ سمجھ بھی نہیں سکتاتھا گاؤں کے ماحول میں بڑاہوا جہاں اس نے عورت زات کو صرف خاموشی سے محنت کرتے دیکھا کبھی مرد کے آگے کوئی فرمائش تودور کی بات اونچی آواز میں بولتے نہیں دیکھاتھا۔ آنگن میں بچیاں کھیلتی ہوں یاگھراور کھیتوں میں کام کرتی عورتیں سب اپنے اپنے دائرے میں بندھی خاموشی سے جتی صرف مرد کی حکمرانی چلتی تھی۔ پھروہ شہرآیا جہاں ہرطرف عورت کا

Read more

میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کے ملزم معظم علی کی بیوی ہوں اور انصاف مانگتی ہوں

اکثر لوگ پوچھتے ہیں آپ حکومت کے خلاف اتنا کیوں لکھتی ہیں۔ آج کوشش کرتی ہوں کہ جواب دے سکوں۔ دو ہزار آٹھ کو اللہ پاک نے مجھ سے پورے نو ماہ کی بچی واپس لے لی۔ آپریشن سے مردہ بچی کی پیدائش بہت بڑی آزمائش تھی اور شکر اس مالک کا کہ مجھے میرے باقی بچوں کے لئے زندگی عطاکی۔ میں جسمانی صحت سے ابھی سنبھلی نہیں تھی کہ دوسرے ہی ماہ میری ساس محترمہ فالج کے اٹیک سے

Read more

فحاشی کالائسنس

گھر میں ہر طرف چہل پہل تھی کوئی ہسپتال جارہاتھا تو کوئی ہسپتال سے آرہا تھا۔ بے چینی وقت کے ساتھ بڑھتی جارہی تھی اور کیوں نہ بڑھتی آخر رئیس کے گھر پانچ سال بعد پہلے ننھے مہمان کی آمد تھی۔ رئیس کی ماں بڑے چاؤ سے اپنے بیٹے کی بے چینی دیکھ رہی تھی دل ہی دل میں خوش تھی اولاد کی اولاد ہونا شاید ہے ہی خوشی کی بات۔
انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور ایک چاند سے بیٹے کی نوید گھر آئی خوشی نے بالآخر رئیس کی کواڑ بھی کھٹکھٹادی۔ پورا گھر رئیس کی خوشی میں خوش تھا۔ وقت کا پہیہ کھومتا رہا اور رئیس کا بیٹا چھ سال کا ہوگیا۔ خوب صورت معصوم بچہ سب کی نظروں کاتارا تھا۔ اب تو وہ گلی میں بڑے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلنے نکل جاتا تھا۔

Read more

آخر اس طرح مارنے کی ضرورت کیوں پیش آئی

ایک حاملہ عورت ہاتھ ہلا ہلا کر زندگی کی بھیک مانگتی رہی لیکن ظالموں نے ترس نہیں کھایا اور دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس بچے کو ماں کے ساتھ اس کی کوکھ میں ہی موت کی نیند سلادیا گیا۔ یہ واقعہ ہے اخروٹ آباد کوئٹہ کا ہے جہاں ایف سی نے ایک خودساختہ پولیس مقابلہ کیا تھا۔ کراچی میں ایک نوجوان غربت کا مارا ایک خاتون سے پرس چھینتا ہے۔ خاتون قریب کھڑے رینجرز کو مدد کے لئے

Read more

جی مجھے یہ رشتہ منظور ہے

لیجیے جناب ہاں تو کہ دی ہم نے رشتے کے لئے اب بتائیے شادی کرنے کے بعد کیا ماں باپ سے تعلق بالکل ختم ہوجائے گا؟
شروع میں تو الگ گھر کی آزادی بہت اچھی لگے گی۔ دل بھر کر سونے کا سسرال سے الگ رہ کر جو مزا ہے واقعی ایسا مزہ سسرال میں کہاں۔ سسرال میں توصبح صبح دروازہ پیٹا جاتا ہے کہ چلو بھئی آکر سب کے ساتھ ناشتہ کرلو۔ ابھی ہٹے نہیں ناشتے سے کہ ساس سسر کے احکامات جاری۔ اور ساس سسر کی خدمت وہ الگ۔

اب اکیلے گھر میں جو دن چڑھے اٹھنا، اٹھنے کے بعد برنچ یعنی نا ناشتہ نا دوپہر کا کھانا کا وقت ہے اس لئے برنچ کیجیے پھر اپنے گھر کی چار دیواری ہو تو کس کو فکر کام کاج کی جب چاہے کیا کیا نہیں کیا تو نہیں کیا۔ شام کو باہر گھومنے کابھی خوب ٹائم ہے جناب جہاں دل چاہے پہنچ جائیے پیچھے کون انتظار کررہا ہے واپس آتے ہوئے کھانا بھی باہر سے کھالیا۔ آزادی ہی آزادی نہ کوئی روک ٹوک نا پابندی۔

Read more

زینب میری بیٹی ہے

میں جانتی ہوں آج جس موضوع کو شامل تحریر کر رہی ہوں اس پہ لکھنا آسان نہیں۔ جس معاشرے کامیں حصہ ہوں وہ اتنا جذباتی ہوچکاہے کہ شائد ہی کچھ لوگ اس تحریر کوسمجھ پائیں۔ کبھی آپ نے جنگل میں جانورں کا اپنے بچوں کی ایسے حفاظت کرتے دیکھا ہے کہ کہیں دوسرا جانور اس کے بچے کا ریپ نہ کر دے ،نہیں دیکھا ہو گا کیونکہ یہ کمال بھی ہم انسانوں کوحاصل ہے۔معصوم زینب اپنی موت سے پورا معاشرہ

Read more

کراچی شہر میں کچھ نہیں بدلا

سن انیس سو چورانوے کی بات ہے، میرے چچا کراچی کے ایک بینک میں کام کیا کرتے تھے بڑے محنتی اور ایمان دار تھے۔ اللہ پاک نے دو بیٹیاں اور ایک بیٹے سے سے نواز تھا۔ بچوں کی پیدائش کے بعد موٹرسائیکل پہ سفر مشکل لگنے لگا تو گاڑی کے لئے پیسے جمع کرنا شروع کردیے۔ بالآخرایک دن گاڑی لینے کے قابل ہوہی گئے۔ گاڑی خرید کرگھر آئے بیوی بچوں کو گاڑی دیکھاکر نارتھ ناظم آباد اپنی بہن کوگاڑی دکھانے

Read more

ایک لڑکی کے ماں بننے کا قصہ

سولہ برس کی عمر ہو، اور ذکاؤ الرب الرباب کا ناول شوگراں کی چاندنی ہاتھ لگ جائے تو بتائیے بھلا دنیا میں کون رہتا۔ ثنا تو جیسے کتاب کا کیڑا ہی بن گئی۔ اس قدر رومینٹک ناول کہ جب تک پورا نہیں پڑھ لیا، کتاب رکھی نہیں، اور رکھنا اتنا آسان بھی نہ تھا۔ بڑی بہن اردو ادب میں ایم اے کر رہی تھیں؛ ان کی کتابوں میں سے چپکے سے نکالا تھا۔ کتاب کیا تھی، یوں سمجھو کسی دوسری

Read more

وجود زن کا چلتا پھرتا فتنہ

اس نے ایک متوسط طبقے میں آنکھ کھولی تھی۔ اپنے بہن بھائیوں میں پہلے نمبر پہ تھی لاڈلی تو پورے گھر کی تھی اور کامی بھی۔ ابا صبح سویرے کام پہ جاتے توشام کی ہی خبر لیتے وقت یونہی گزرتارہا کھیلتے کودتے لڑکپن میں قدم رکھا محلے گلیوں میں گھومنا گلی کے تھڑوں پہ اونچ نیچ کھیلنا اور کھیل کھیل میں دوڑ کے امی کوسودا بھی لادینا اور پھر آکر اپنی ہم جولیوں میں گِھرجانا, شام ہوتے ہی اپنے اپنے

Read more