منافقانہ عالمی نظام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 8
  •  

عالمی سیاسی منظر نامہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ’آزاد خیال‘ ممالک اور ان کی زیراثر عالمی تنظیموں کا چہرہ بے نقاب کررہا ہے جن کی بنیاد انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے، مذہبی ہم آہنگی اور برداشت جیسے مسحور کن نعروں سے معنون ہے۔ گوسرمایہ دارانہ نظام کے غلبہ کے بعد عالمی برادری سے انسانیت پرستی کی توقع دل بہلانے کے مترادف ہے، لیکن جس طرح جدید دنیا کے نعروں کی حقیقت حالیہ عرصے میں منکشف ہوئی ہے وہ حیران اور پریشان کن ہے۔

2011 میں عرب دنیا میں ”عرب بہار“ کے نام سے، عرصہ دراز سے اقتدار پر براجمان غاصبوں کے خلاف احتجاجی تحاریک شروع ہوئی۔ تیونس، مصر، لیبیا، یمن اور شام میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ شام احتجاجی مظاہروں میں طوالت اور اس کی نوعیت میں تبدیلی کے حوالے سے منفرد رہا۔ شام کے حالیہ صدر بشار الاسد سن 2000 سے اقتدار پر قابض ہے، اس سے قبل ان کے والد حافظ الاسد 30 سال تک اقتدار پر قابض رہے، ’اسدین‘ کے غاصبانہ اقتدار سے تنگ عوام نے احتجاج شروع کیے تو بشار الاسد نے طاقت سے مظاہروں کو کچلنے کی کوشش کی، اس مذموم کوشش کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث 4 لاکھ شامی ہلاک اور 56 لاکھ ملک بدر ہوچکے ہیں، داخلی طور پر بے گھر ہونے والوں کی تعداد 60 لاکھ ہے (آج کی صورتحال یہ ہے کہ حالیہ سردی کی لہر اور بارشوں کے بعد پناہ گزینوں کی حالت قابل رحم ہے ) ۔

بشار الاسد نے کرسی اقتدار کی حفاظت کے لیے جو پالیسی اپنائی اس نے شام میں تشدد کی راہ ہموار کی، مختلف مسلح گروہ فعال ہوگئے، ان کی ایک طرف حکومت سے اور دوسری طرف باہمی لڑائیاں شروع ہوگئی، حکومت کی جانب سے عوامی احتجاج کو مذہبی رنگ دیا گیا، اور حکومت نے اپنی صفوں میں حزب اللہ کے شدت پسند اور ایرانی و افغانی اجرتی قاتل بھی شامل کرلیے، روسی

افواج اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے میدان میں اتر گئی، شمال میں ترک افواج نے مداخلت کی، نتیجہ یہ ہوا کہ بڑے شامی شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے، انسانی جان کی بدترین طریقے سے بے حرمتی کی گئی، اور شام کی سابقہ جغرافیائی حدودتبدیل ہوکرملک مختلف ٹکڑوں میں بٹ گیا۔

قید خانوں میں بے رحمی اور حیوانیت کی علیحدہ داستانیں رقم ہوئی، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2011 اور 2015 کے درمیانے عرصہ میں 13000 افراد کو مضحکہ خیز اورمختصر (ایک سے تین منٹ کی سماعت) عدالتی کارروائی کے بعد سزائے موت دی گئی، اس کے علاوہ ہزاروں افراد کو بغیر کسی جرم ومقدمہ کے حبس بے جا میں رکھا گیا۔ قید خانوں میں حکومتی اہلکاروں کے انسانیت سوز رویے اور تشدد کے نتیجے میں کئی اموات واقع ہوئی، طبی سہولیات نا ملنے کے باعث بھی قیدیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہے، واضح رہے کہ گرفتار افراد میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

ان تمام جرائم کے سرخیل و موجد شامی صدر بشار الاسد آج دنیا میں ایک بار پھر صدر کی حیثیت سے اپنا مقام بنا رہے ہیں، عرب دنیا میں ان کو قبول کرنے کے مساعی کی ابتدا ہوچکی ہے، امارات اور بحرین کی امریکی کٹھ پتلی حکومتوں نے دمشق میں اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔ بشار الاسد کی واپسی اس بات کی دلیل ہے کہ آج کی سرمایادارنہ دنیا میں اخلاقی روایات اور انسانیت کا کوئی تصور نہیں، محض طاقت اورمال کے بت ہیں، جن کی تمام ترقی یافتہ وترقی پذیر ممالک پوجا کرتے ہیں۔ عراق میں امریکی تباہ کاریوں کے باوجود آج امریکا کو دنیا میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ان تنظیموں کودہشت گرد قرار دیا جاتا ہے جن کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی تعداد امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کے عشر عشیر بھی نہیں!

امریکی صدر کی جانب سے سعودی ولی عہد کی حمایت نے اس امر کو مزید واضح کردیا، امریکی صدر کے موقف کا خلاصہ یہ تھا کہ قاتل ومقتول کی بحث سے قطع نظر ہمیں امریکی مفادات عزیز ہے، اور کیونکہ وہ مفادات خلیجی مال سے منسلک ہے، لہذا ہمارے لیے مال کے مصدر کی حفاظت زیادہ اہم ہے۔

عالمی نظام کا منافقانہ رویہ کسی سے مخفی نہیں، لیکن مسلمان جو اس نظام کا متبادل رکھنے کا دعوئے برحق کرتے ہیں، وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے غافل ہے، مٹھی بھر اسلامی سیاسی ذہن رکھنے والوں کے شعور کا یہ عالم ہے کہ وہ بیک وقت افغان طالبان اور ان سے نبرد آزما اردگان کے حامی ہے! ایسی سقیم سوچ سے قائم عالمی نظام کا متبادل پیش کرنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 8
  •