عمران خان اور قمر باجوہ: بنیادی عقل کی کمی

عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ روزانہ کی بنیاد پر ایک دوسرے پر لفظی حملے اور الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ سیاست میں الزامات، اختلافات وغیرہ تو معمول کی بات ہے مگر جو طریقہ کار ان دونوں شخصیات نے اپنایا ہے اس سے یہ سابق وزیر اعظم اور سابق سپہ سالار کے بجائے سابق عاشق و معشوق لگ رہے ہیں جو علیحدگی کے بعد مجلسوں اور محفلوں میں بے وفائی کا نوحہ کرتے ہیں۔ خان صاحب اکثر پوچھتے

Read more

انقلاب آن ہولڈ

ایک وقت تھا ملک بھر سے لوگ اسلام آباد گھومنے پھرنے کے لیے آتے تھے اور یہاں کے مستقل رہائشیوں پر رشک کرتے تھے کہ ان کا شہر قدرتی خوبصورتی اور بہترین انفراسٹرکچر کا حسین امتزاج ہے۔ مگر اس شہر کو کسی کی ایسی نظر بد لگی ہے کہ اب شاید ہی کوئی ایسا سال گزرتا ہو جس میں اس شہر پر سیاسی یلغار نہیں ہوتی جس کے نتیجے میں یہ شہر بکھرے ہوئے کنٹینروں کی وجہ سے بے ہنگم

Read more

گدھے اور بھارتی ایجنٹ

معاشی زبوں حالی کے اس دور میں معیشت کے متعلق ایک مثبت خبر تواتر کے ساتھ ہم سن رہے ہیں کہ ملک میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے، غالباً گزشتہ برس پاکستان نے گدھوں کو برآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا کیونکہ موجودہ تعداد یقیناً قومی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ گدھوں کے علاوہ اس ملک میں اگر کسی کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے تو وہ ”انڈین ایجنٹ“ ہیں۔ قبائلی علاقوں میں بنیادی حقوق

Read more

مجبور عوام دیرپا ترقی کی بنیاد نہیں بن سکتے

مشاہد اللہ خان کے بعد اب عثمان خان کاکڑ بھی چل بسے۔ بھیڑ چال کے اس دور میں یہ وہ لوگ تھے جو ریوڑ کے ساتھ ہانکے جانے سے انکاری تھی، ان کی صدائیں بے شک ایوان بالا کے بالا خانوں سے ٹکرا کر واپس آجاتی تھی مگر جمہوریت کی ساکت گھنٹیوں میں خفیف ہی سہی ایک حرکت ضرور پیدا کرتی تھی۔ سابق سینیٹر کی وفات پر ایک گروہ متحرک ہے، ان کا مطالبہ ہے کہ موت کے اسباب پر

Read more

مشرق وسطیٰ کی ڈائری: اردن میں ہو رہا ہے؟

مشرق وسطیٰ میں سیاسی بھونچال اب کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ آئے روز ہنگاموں اور تبدیلیوں کی وجہ سے یہ خطہ خبروں کی زینت بنا رہتا ہے۔ مگر مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں کے ایوان رازداری کی دبیز تہوں تلے کام کرتے ہیں، یہاں کی سیاست میں کوئی شعلہ بھڑکتا بھی ہے تو عوام کی نظروں کے سامنے آنے سے قبل ہی درون خانہ اس کو فرو کر دیا جاتا ہے۔ اردن کا شمار بھی ایسے ہی

Read more

ڈینئل پرل اور علی کنعانی: دو قتل دو کہانیاں

بلیک واٹر کے اہلکاروں نے اس گاڑی کو فائرنگ سے چھلنی کر دیا، اس کارروائی میں ہیلی کاپٹر کا بھی استعمال کیا گیا۔ مگر قصہ یہاں ختم نہیں ہوا، اہلکاروں نے اس گاڑی کو تباہ کرنے اور اس میں موجود تمام ”مشتبہ“ افراد کو قتل کرنے کے بعد دیگر گاڑیوں کا رخ کیا اور جو کچھ بھی ان کے سامنے آیا اس کو بھسم کر دیا۔ واقعہ میں 17 عراقی شہید ہوئے، ان میں ایک 9 سالہ علی کنعانی بھی تھا جس کے والد نے امریکی فوج کی عراق آمد پر مٹھائی تقسیم کی تھی کیونکہ وہ ان کو آزادی کا ضامن سمجھتے تھے۔

Read more

سانپ، نیولا اور سپیرا

پاکستان میں حکومت اور حزب اختلاف کی لڑائی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی قدیم نیولے اور سانپ کی لڑائی تاریخ ہے، دونوں میں غیر معمولی مماثلت بھی ہے۔ ہماری روایت رہی کہ جب یہ لڑائی شدید ہوجاتی ہے اور فاتح کا تعین مشکل ہوجاتا ہے تو سپیرا خود اپنی لاٹھی لے کر میدان میں اترتا ہے اور ایسے سلیقے سے فیصلہ کن ضرب لگاتا ہے کہ لاٹھی کو زد نہیں پہنچتی اور سانپ ڈھیر ہوجاتا ہے۔ حالیہ لڑائی بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ اس مرتبہ سانپ سپیرے کی ہی آستین سے نکلا ہے اور نیولے کے بجائے سپیرے کی لاٹھی سے چمٹ گیا ہے، جس کی وجہ سے عارضی طور ہی سہی مگر سپیرا سٹپٹا گیا ہے! اس تمام کشاکش میں سپیرے کی ماتھے کی سلوٹیں اور اس کا زرد چہرہ واحد خوش نما منظر ہے، ورنہ داستاں پرانی ہے اور کہانی مکرر ہے۔

Read more

حیات بلوچ قتل: قصہ ختم نہیں ہوا

نوجوان حیات بلوچ کی افسوسناک شہادت کے بعد ایک بار پھر باوردی اہلکاروں کے اختیارات اور ان کے احتساب کا طریقہ کار زیر بحث ہے۔ یہ واقعہ ہمیں اسی طرح کے ماضی کے واقعات کی یاد دلاتا ہے، ان واقعات پر بھی خوب شور مچاتھا، لیکن شور تھمنے اور توجہ ہٹنے کے بعد پس پردہ ان واقعات میں ملزمان کو تحفظ دینے کے لیے کیا گیا اس سے آج بھی اکثر لوگ بے خبر ہیں۔ حیات بلوچ کے معاملہ میں

Read more

ذمہ دار کون؟

ہم ناکام کیوں ہیں؟ اس سوال کے جواب میں درجنوں نظریات پیش کیے جا چکے ہیں، مختلف وجوہات پر بحث کی جا چکی ہیں اور سینکڑوں صفحات سیاہ کیے جا چکے ہیں۔ تاہم ان نظریات میں ایک نظریہ قدرے دلچسپ اور کافی مقبول ہے، اس نظریہ کے حامل افراد کا کہنا ہے کہ ہم دراصل من حیث القوم محب وطن نہیں ہے، ہمارے سیاستدان، افسران او عوام سب ہی اور جذبہ حب الوطنی سے عاری ہیں اور یہی ہماری ناکامی کی وجہ ہے۔

Read more

ادراک و شعور کی نفسیات اور عوام کا کنٹرول

جون ڈیگلوس امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف بی آئی) کے ریٹائرڈ اسپیشل ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے تحقیقاتی دنیا میں اپنے 26 سالہ تجربے کو مختلف کتابوں کی شکل میں عوام کے سامنے پیش کیا۔ ایف بی آئی کے مخصوص یونٹ میں منجھے ہوئے اور پیشہ ور مجرموں کے ساتھ ہونے والے تجربات کو انہوں نے 1995 کوجرمیات کی دنیا کی مشہور کتاب مائنڈہنٹر میں نقل کیا ہے۔ 2017 میں نیٹ فلیکس نے ”مائنڈہنٹر“ پر اسی نام سے سیریز بھی بنائی۔ جون ڈیگلوس نے اس کتاب میں ایڈ کامپر ایسے خطرناک لیکن ذہین قاتلوں کا انٹرویو شامل کیاہے جس نے 15 سال کی عمر میں اپنے نانا اورنانی کا قتل کیا، تاہم 6 سال بعد وہ انتظامیہ کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگیا کہ اس کا نفسیاتی علاج ہوگیا ہے اور وہ ایک بے ضرر شہری ہے۔

Read more

میں سوچ رہا تھا

ظاہر ہے کہ وبا کے اس دور میں ہماری حالت بھی باقی لوگوں سے مختلف نہیں، تمام مشاغل بجز بنیادی انسانی ضرورتوں کے معطل ہوگئے ہیں، لہذا اس زمانہ فراغت میں ایک کام جو انتہائی سہل مگر پیچیدہ ہے وہ ہم بکثرت کررہے ہیں، میرا اشارہ سوچ و بچار کے عمل کی جانب ہے، خیال گزرا کہ اس مبارک عمل میں کیوں نہ دوستوں کو بھی شریک کیا جائے۔ تو دوستوں میں سوچ رہا تھا اور آپ بھی میرے ساتھ

Read more

معیشت کی ترقی، جمہوری سیاست اور اظہار کی آزادی

یہاں واقعی الٹی گنگا بہتی ہے، حکومت کو اخبار نویسوں سے اب یہ گلہ ہے کہ ٹماٹر کی قیمتیں معمول پر آگئی ہے تو میڈیا حکومت کی مدح سرائی کیوں نہیں کررہا۔ جب قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھی تو حکومت کا دعوی تھا کہ مسئلہ مہنگائی کا نہیں میڈیا کے پروپیگنڈے کا ہے، یہی رویہ حکومت نے آٹا بحران پر بھی اپنایا، منطقی طور پر کتنا ہی عجیب کیوں نہ ہوحکومت کے حامیوں کو یہ طریقہ بہت راس آتا

Read more

سیاسی اداکاری

اداکاری ایک فن ہے، ایسا فن جس میں کمال ہر کسی کے بس کی بات نہیں، اہل سیاست البتہ اس شعبے کے گرو ہیں، ان کی اداکاری فطری بھی ہوتی ہے اور سدا بہار بھی، عوام البتہ تماشائی نہیں، ان کے فن کے متاثرین ہوتے ہیں۔ نہیں، یہ روش ہمارے پارٹی نما سیاسی خاندانوں اور سیاست سے دور رہنے کے باوجود سیاست پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والے خاکی قبیلہ کی درفنطنیوں تک محدود نہیں، سیاسی اداکاری ایک

Read more

آئین اور قانون گئے۔ ۔ ۔

سردیوں کی شامیں تو یونہی مشہور ہیں، اصل مزہ سردیوں کی راتوں میں ہے۔ یخ بستہ ہوائیں، خاموش گلیاں اور چارسو پھیلا اندھیرا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کا رنگ موسم میں ڈھل گیا ہے، وحشتناک تاریکی اور بے آرام کرنے والی ٹھنڈک کے باوجود اس کا لطف بے مثال ہے۔ سرد راتوں کے اس لطف کو دوہرا کرنے کے لیے ہم اکثر چچا غفور کے ڈھابے کا رخ کرتے ہیں، جہاں ہمارے ایسے اکا دکا آوارہ اور فارغ

Read more

دھرنے کا مرض، مولانا اور چند حقائق

سرد ہواکے جھونکوں نے موسم کی خنکی کے ساتھ سیاسی درجہ حرارت میں بھی کافی کمی کردی ہے۔ مارگلہ کے دامن میں ہفتوں سے جاری شورش وہیجان ختم ہوگیا اور روای اب چین ہی چین لکھتا ہے۔ اسلام آباد قدرتی خوبصورت کی وجہ سے یوں تو اپنی اندر ایک جاذبیت اور کشش رکھتا ہی ہے لیکن ماضی قریب پر نظر ڈال کر محسوس ہوتا ہے کہ دارالحکومت میں کچھ ایسی مغناطیسی طاقت ہے کہ ہرسال ایک سیاسی جتھا ملک بھر

Read more

پاکستان میں مصری ماڈل؟

مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی وفات پر ایک تجزیہ نگار نے لکھا: ”مصر اور پاکستان میں یہ مماثلت کیسی ہے؟ ہم ایک جیسے کیوں ہیں؟ حسن البنا اور قائد اعظم۔ سید مودودی اور سید قطب۔ جمال عبدالناصر اور ذوالفقار علی بھٹو۔ حسنی مبارک اور ضیاءالحق۔ جنرل سیسی اور۔۔۔ خیر چھوڑیے کہاں تک تقابل کریں۔ سب کچھ تو تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ سوال وہی ہے کہ یہ مماثلت کیا ہے اور کیوں ہے؟ مصر کی تاریخ

Read more

پر تشدد سفارتکاری کی ضرورت

تھامس شیلنگ امریکی ماہر اقتصادیات اور سیاسی مفکر ہیں، 2005 میں ان کو مشترکہ نوبل انعام برائے معاشیات دیا گیا۔ تھامس سیاسی مفکر کی حیثیت سے امریکا کی مختلف جامعات سے منسلک رہیں، مشہور زمانہامریکی تحقیقاتی ادارہ رانڈ میں بھی اعلی عہدہ پر فائز رہیں۔ 1965 میں امریکا نے ویتنام جنگ کے آغازمیں تھامس شیلنگ کی جنگ اور سفارت کاری کے متعلق نظریات کو بطور پالیسی اپنایا۔

تھامس شیلنگ کے نظریہ Compellence (یعنی مجبور کرنا) کے مطابق ریاست کو اپنی طاقت اس طرح استعمال کرنی چاہیے کہ ریاست کا عسکری حریف ریاست کے مفادات کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوجائے، تھامس کے مطابق خارجہ پالیسی میں عسکری طاقت اور قابلیت

Read more

اسلام اور آزادی

’آزادی‘ کا شمار آج کل کی بے شمار مصطلحات میں سے ہے جن کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے لیکن اس کے حقیقی معنی و مفہوم، حدود اور ابعاد سے عمومی طورپر واقفیت نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے اس مصطلح (term) کا استعمال بھی صحیح نہیں ہوتا۔ آزادی خدائی نعمت ہے جو خالق کی جانب سے ہر انسان کو عطا کی گئی ہے، دنیا میں آنے کے بعد انسان اپنے اختیارات، ترجیحات، سوچ، پسند و ناپسند میں مکمل طور

Read more

عرب بہار کی نئی لہر؟

نوجوان محمد البوعزیز ی کا تعلق تیونس سے تھا، یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے باوجود بیروزگاری کا شکار محمد ٹھیلہ لگا کر اپنی معاشی ضروریات پوری کرتا تھا۔ مقامی بلدیہ کے اہلکاروں نے سبزی فروش محمد البوعزیزی کوایک دن کسی بات پر تھپڑ رسید دیا، جس پر پہلے سے دلبرداشتہ نوجوان زندگی سے مایوس ہوگیا، اور 17 دسمبر 2010 کو شہر کے وسط میں عوام کے سامنے خود کو آگ لگادی۔ محمد البوعزیزی کے اس عمل تیونس میں غم و غصے کے لہر دوڑ گئی اور عوام حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر آگئے۔تیونس کے صدر اس وقت زین العابدین بن علی تھے، جو 23 سال سے برسراقتدار تھے، اور اپنے اسلام مخالف اور ظالمانہ طرز حکمرانی کے حوالے سے بدنام تھے۔ محمد البوعزیزی کی خودکشی کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کچھ دنوں میں ملک بھر میں پھیل گئے اور قریبا ایک ماہ بعد زین العابدین کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔

Read more

تاریک راہیں اور جدت پسندی کا مسافر

میں جدت پسندی کا مسافر ہوں۔ دو ماہ پہلے تک میں ایک روایتی معاشرے کا حصہ تھاجہاں خواتین کا گھروں سے نکلنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، جو خواتین سڑکوں پر نظر آتی وہ سیاہ برقوں میں ملبوس ہوتی۔ وہاں خواتین اور مردوں کا اختلاط ممنوع ہے، کالج اور یونیورسٹی میں بھی لڑکوں اور لڑکیوں کی مکمل طور پر علیحدہ عمارتیں ہیں۔ اذان کے بعد کاروبار جاری رکھنا اس معاشرے میں جرم تصور کیا جاتا ہے، نماز کے اوقات میں تمام دکانیں بند ہوجاتی ہیں۔

Read more

سیاحت کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت

سیاحت کا نام سن کر ذہن میں قدرتی پر فضا مقامات کا تصور ابھرتا ہے، لیکن کیا صرف خوبصورت سیاحتی مقامات کی موجودگی سیاحوں کو جذب کرنے کے لیے کافی ہے؟ درحقیقت جدید دور میں سیاحت کے فروغ کے لیے سیاحتی مقامات کی موجودگی کے علاوہ دیگر عوامل بھی اہمیت اختیار کرچکے ہیں، ان عوامل کی موجودگی یا عدم موجودگی براہ راست سیاحت کے فروغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure) کا شمار انہی اہم عوامل میں ہوتا ہے۔

Read more

​مرحوم و مغفور جماعت اسلامی

اسلامی سیاست کا شمار ان اصطلاحات میں ہوتا ہے جو مغرب اور اس کے پیروکاروں کو ناپسند ہیں۔ اسلامی سیاست سے مغربی اور امریکی ارباب اقتدار کو اس قدر نفرت ہے کہ اس کے خاتمہ کے لیے وہ راستے بھی اختیار کیے جاتے ہیں جو جمہوری روایات سے میل نہیں کھاتے، بدقسمتی سے ان اقدامات کی پشت پناہی اکثر خود جمہوریت کا پرچار کرنے والے ممالک کی جانب سے ہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی سیاست پر یقین

Read more

​ کراچی، کراچی ہے

پاکستان کا صنعتی دار الحکومت کراچی دو کروڑ سے زائد افراد کا مسکن ہے، یعنی پاکستان کی قریبا دس فی صد آبادی شہر قائد کی باسی ہے۔ آبادی کی یہ کثیر تعداد اچھی اور پر وقار زندگی کی حق دار ہے۔ کراچی میں گزشتہ چند سالوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں سے شہر میں امن امان کی صورت احوال میں خاصی بہتری آئی ہے اورعوام کے دلوں سے بہت حد تک خوف نکل گیا ہے، تاہم روز

Read more

منافقانہ عالمی نظام

عالمی سیاسی منظر نامہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ’آزاد خیال‘ ممالک اور ان کی زیراثر عالمی تنظیموں کا چہرہ بے نقاب کررہا ہے جن کی بنیاد انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے، مذہبی ہم آہنگی اور برداشت جیسے مسحور کن نعروں سے معنون ہے۔ گوسرمایہ دارانہ نظام کے غلبہ کے بعد عالمی برادری سے انسانیت پرستی کی توقع دل بہلانے کے مترادف ہے، لیکن جس طرح جدید دنیا کے نعروں کی حقیقت حالیہ عرصے میں منکشف ہوئی ہے وہ حیران اور پریشان کن ہے۔

2011 میں عرب دنیا میں ”عرب بہار“ کے نام سے، عرصہ دراز سے اقتدار پر براجمان غاصبوں کے خلاف احتجاجی تحاریک شروع ہوئی۔ تیونس، مصر، لیبیا، یمن اور شام میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ شام احتجاجی مظاہروں میں طوالت اور اس کی نوعیت میں تبدیلی کے حوالے سے منفرد رہا۔ شام کے حالیہ صدر بشار الاسد سن 2000 سے اقتدار پر قابض ہے، اس سے قبل ان کے والد حافظ الاسد 30 سال تک اقتدار پر قابض رہے،

Read more

انتقالی مرحلہ

جزیرہ عرب کے تپتے صحرا میں بسنے والے خانہ بدوش بدو وں میں تباہی وبربادی کے تمام عناصر بدرجہ اتم موجود تھے، ان کامعاشرہ جہالت اور اندھیروں کی خندقوں میں معاشرہ گرفتار تھا۔ دعوت محمدی ﷺکا پرنور سورج طلوع ہواتو محض 23 سالوں میں یہی قوم دنیا کی بہترین تہذیب کے علمبردار بن کر اقوام عالم کے لیے قابل اقتدا مثال بن گئے۔ یہ 23 سال اس قوم کا انتقالی مرحلہ تھا، پر امن، تیز اور مو¿ثر، جس سے صرف جزیرہ عرب کے باسی ہی نہیں، تمام اقوام عالم مستفید ہوئی۔

Read more

پر تشدد مظاہروں میں عوامی دلچسپی کی وجوہات

ہندوستان پر انگریزی قبضے کے زمانہ میں ایک انگریز فوجی نے ہندوستانی شہری کو دھونس جمانے کے لیے تھپڑ جڑ دیا، شہری کا رد عمل اس قدر شدید تھا کہ فوجی زمین پر گرپڑا۔ فوجی فوراً اپنے افسرکے پاس پہنچا، اور ہندوستانی شہری کو اپنی توہین کی پاداش میں پھانسی دینے کا مطالبہ کیا، افسر نے فوجی جوان کو 50 ہزار روپے دیے اور حکم دیا کہ یہ رقم ہندوستانی کو دیں دو، جوان کے پاس حکم کی تعمیل کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں تھا۔

کچھ عرصے بعد ہندوستانی شہری انگریز کے دیے ہوئے 50 ہزار روپے سے شروع کی جانی والی تجارت کے بدولت صاحب ثروت ہوگیا، اور شہرکا معروف تاجر بن گیا۔ انگریز افسر نے اپنے ماتحت فوجی کو حکم دیا کہ اب اس ہندوستانی کی کوٹھی میں جاو، اور تمام حشم و خدم کے سامنے اپنے تھپڑ کا بدلہ لوں، فوجی نے تعلیمات پر عمل کیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ہندوستانی شہری نے اپنی سرعام بے عزتی کے رد عمل میں چہرے پر منافقانہ مسکراہٹ سجانے پر ہی اکتفا کیا اور فوجی کو کوئی جواب نہ دیا۔

Read more

چین کے صوبہ سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں کے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں

برما میں مسلمان اقلیت روہنگیا کے خلاف ریاستی بربریت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی المناک صورتحال پر مسلم دنیا میں عوامی اور حکومتی سطح پر بھرپور احتجاج ہوا، تاہم برما کے ایک چھوٹے ملک ہونے کے باوجود مسلمان ممالک کا احتجاج موثر اور عملی اقدام کی شکل اختیار نہ کرسکا۔ چین کی شمال مغربی ریاست سنکیانگ میں آباد مسلم قومیت ایغور کا بھی روہنگیا مسلمانوں کی طرح استحصال کیا جارہا ہے، تاہم اس معاملہ پر مسلم دنیا

Read more

اسلام اور جمہوریت

عصر حاضر میں عالمی سیاسی گہما گہمی کے تناظر میں سیاسی نظام حکم کی ماہیت ایک اہم مبحث ہے ، یورپ میں جمہوریت کی کامیابی اور اسلامی نظام حکم کی غلط تشریحات کی باعث جمہوریت اور اسلام کا تعلق مبہم مسئلہ بن گیا ہے ، ایک طرف جمہوریت کو عین اسلامی اصول کے موافق مثالی نظام حکم اور دوسری طرف جمہوریت کو کفریہ نظام قرار دیا جاتا ہے، عوام الناس اس مسئلہ کے متعلق ( مروجہ ) بحث سے مزید

Read more

منتخب وزیر اعظم کی قومی رہنماوں سے ملاقات کی رپورٹ

پر تکلف ہال میں موجود آرامدہ کرسیاں تقریبا بھر چکی تھی، حاضرین تقریب گفت و شنید میں مصرو ف تھے جس سے ہال میں ہلکا سا شور برپا تھا۔ ہال کے مرکزی دروازے کے بالکل سا منے ایک آرامدہ کرسی پر ذوالفقار علی بھٹو اپنے مخصوص انداز میں براجمان تھے، ان کے چہرے کی چمک کچھ مدہم تھی لیکن وہ پر سکون او ر مطمئن تھے، ان کی کرسی کی پشت کے سہارے بے نظیر کھڑی اپنے والد سے محو

Read more

اسلام اور بادشاہت

انسانی معاشرہ میں حکومت کا وجود فطری امر اور معاشرہ کے استقرار اور صلاح کے لیے ناگزیر ہے، حکومت کی تشکیل کا طریقہ کار اور حکمرانی کے اصول کی وضاحت سیاسی نظام حکم کرتا ہے، لہذا سیاسی نظام انسانی تخلیق کے ساتھ ہی وجود میں آگیا تھا۔ انسانی تاریخ میں قدیم ترین نظام حکم بادشاہت ہے، بادشاہت کی ایک سے زائد اقسام ہے، لیکن بادشاہت کا عام تصور (جو آج بھی قائم ہے ) فرد واحد کی حکمرانی ہے، بادشاہ

Read more

اسلامی سیاست ناکام کیوں؟

1453عیسوی میں سلطان محمد الفاتح کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی آزادی کے بعد وہاں کے مفکرین، سائنسدان اور دانشور یورپ روانہ ہوگئے۔ مفکرین کی یورپ آمد کو جدید تاریخ(ماڈرن ہسٹری) کی ابتدا کہا جاتا ہے۔ جدید تاریخ مسلمانوں کے لیے نیک شگون ثابت نہیں ہوئی۔ یورپ میں مضبوط جمہورتیوں کے قیام اور صنعتی انقلابات نے مغرب کو مسلمانوں کے مقابلے میں سیاسی۔ عسکری اور معاشی طور پر کافی مضبوط کردیا۔ مغرب اور مسلمان ممالک کے درمیان طاقت کا توازن بگڑنے کے

Read more