دھرنے کا مرض، مولانا اور چند حقائق

سرد ہواکے جھونکوں نے موسم کی خنکی کے ساتھ سیاسی درجہ حرارت میں بھی کافی کمی کردی ہے۔ مارگلہ کے دامن میں ہفتوں سے جاری شورش وہیجان ختم ہوگیا اور روای اب چین ہی چین لکھتا ہے۔ اسلام آباد قدرتی خوبصورت کی وجہ سے یوں تو اپنی اندر ایک جاذبیت اور کشش رکھتا ہی ہے…

Read more

پاکستان میں مصری ماڈل؟

مصر کے سابق صدر محمد مرسی کی وفات پر ایک تجزیہ نگار نے لکھا: ”مصر اور پاکستان میں یہ مماثلت کیسی ہے؟ ہم ایک جیسے کیوں ہیں؟ حسن البنا اور قائد اعظم۔ سید مودودی اور سید قطب۔ جمال عبدالناصر اور ذوالفقار علی بھٹو۔ حسنی مبارک اور ضیاءالحق۔ جنرل سیسی اور۔۔۔ خیر چھوڑیے کہاں تک تقابل…

Read more

پر تشدد سفارتکاری کی ضرورت

تھامس شیلنگ امریکی ماہر اقتصادیات اور سیاسی مفکر ہیں، 2005 میں ان کو مشترکہ نوبل انعام برائے معاشیات دیا گیا۔ تھامس سیاسی مفکر کی حیثیت سے امریکا کی مختلف جامعات سے منسلک رہیں، مشہور زمانہامریکی تحقیقاتی ادارہ رانڈ میں بھی اعلی عہدہ پر فائز رہیں۔ 1965 میں امریکا نے ویتنام جنگ کے آغازمیں تھامس شیلنگ کی جنگ اور سفارت کاری کے متعلق نظریات کو بطور پالیسی اپنایا۔

تھامس شیلنگ کے نظریہ Compellence (یعنی مجبور کرنا) کے مطابق ریاست کو اپنی طاقت اس طرح استعمال کرنی چاہیے کہ ریاست کا عسکری حریف ریاست کے مفادات کے مطابق عمل کرنے پر مجبور ہوجائے، تھامس کے مطابق خارجہ پالیسی میں عسکری طاقت اور قابلیت

Read more

اسلام اور آزادی

’آزادی‘ کا شمار آج کل کی بے شمار مصطلحات میں سے ہے جن کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے لیکن اس کے حقیقی معنی و مفہوم، حدود اور ابعاد سے عمومی طورپر واقفیت نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے اس مصطلح (term) کا استعمال بھی صحیح نہیں ہوتا۔ آزادی خدائی نعمت ہے جو خالق کی…

Read more

عرب بہار کی نئی لہر؟

نوجوان محمد البوعزیز ی کا تعلق تیونس سے تھا، یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے باوجود بیروزگاری کا شکار محمد ٹھیلہ لگا کر اپنی معاشی ضروریات پوری کرتا تھا۔ مقامی بلدیہ کے اہلکاروں نے سبزی فروش محمد البوعزیزی کوایک دن کسی بات پر تھپڑ رسید دیا، جس پر پہلے سے دلبرداشتہ نوجوان زندگی سے مایوس ہوگیا، اور 17 دسمبر 2010 کو شہر کے وسط میں عوام کے سامنے خود کو آگ لگادی۔ محمد البوعزیزی کے اس عمل تیونس میں غم و غصے کے لہر دوڑ گئی اور عوام حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر آگئے۔تیونس کے صدر اس وقت زین العابدین بن علی تھے، جو 23 سال سے برسراقتدار تھے، اور اپنے اسلام مخالف اور ظالمانہ طرز حکمرانی کے حوالے سے بدنام تھے۔ محمد البوعزیزی کی خودکشی کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کچھ دنوں میں ملک بھر میں پھیل گئے اور قریبا ایک ماہ بعد زین العابدین کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔

Read more

تاریک راہیں اور جدت پسندی کا مسافر

میں جدت پسندی کا مسافر ہوں۔ دو ماہ پہلے تک میں ایک روایتی معاشرے کا حصہ تھاجہاں خواتین کا گھروں سے نکلنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، جو خواتین سڑکوں پر نظر آتی وہ سیاہ برقوں میں ملبوس ہوتی۔ وہاں خواتین اور مردوں کا اختلاط ممنوع ہے، کالج اور یونیورسٹی میں بھی لڑکوں اور لڑکیوں کی مکمل طور پر علیحدہ عمارتیں ہیں۔ اذان کے بعد کاروبار جاری رکھنا اس معاشرے میں جرم تصور کیا جاتا ہے، نماز کے اوقات میں تمام دکانیں بند ہوجاتی ہیں۔

Read more

سیاحت کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی اہمیت

سیاحت کا نام سن کر ذہن میں قدرتی پر فضا مقامات کا تصور ابھرتا ہے، لیکن کیا صرف خوبصورت سیاحتی مقامات کی موجودگی سیاحوں کو جذب کرنے کے لیے کافی ہے؟ درحقیقت جدید دور میں سیاحت کے فروغ کے لیے سیاحتی مقامات کی موجودگی کے علاوہ دیگر عوامل بھی اہمیت اختیار کرچکے ہیں، ان عوامل کی موجودگی یا عدم موجودگی براہ راست سیاحت کے فروغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بنیادی ڈھانچہ (Infrastructure) کا شمار انہی اہم عوامل میں ہوتا ہے۔

Read more

​مرحوم و مغفور جماعت اسلامی

اسلامی سیاست کا شمار ان اصطلاحات میں ہوتا ہے جو مغرب اور اس کے پیروکاروں کو ناپسند ہیں۔ اسلامی سیاست سے مغربی اور امریکی ارباب اقتدار کو اس قدر نفرت ہے کہ اس کے خاتمہ کے لیے وہ راستے بھی اختیار کیے جاتے ہیں جو جمہوری روایات سے میل نہیں کھاتے، بدقسمتی سے ان اقدامات…

Read more

​ کراچی، کراچی ہے

پاکستان کا صنعتی دار الحکومت کراچی دو کروڑ سے زائد افراد کا مسکن ہے، یعنی پاکستان کی قریبا دس فی صد آبادی شہر قائد کی باسی ہے۔ آبادی کی یہ کثیر تعداد اچھی اور پر وقار زندگی کی حق دار ہے۔ کراچی میں گزشتہ چند سالوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں سے…

Read more

منافقانہ عالمی نظام

عالمی سیاسی منظر نامہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ’آزاد خیال‘ ممالک اور ان کی زیراثر عالمی تنظیموں کا چہرہ بے نقاب کررہا ہے جن کی بنیاد انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے، مذہبی ہم آہنگی اور برداشت جیسے مسحور کن نعروں سے معنون ہے۔ گوسرمایہ دارانہ نظام کے غلبہ کے بعد عالمی برادری سے انسانیت پرستی کی توقع دل بہلانے کے مترادف ہے، لیکن جس طرح جدید دنیا کے نعروں کی حقیقت حالیہ عرصے میں منکشف ہوئی ہے وہ حیران اور پریشان کن ہے۔

2011 میں عرب دنیا میں ”عرب بہار“ کے نام سے، عرصہ دراز سے اقتدار پر براجمان غاصبوں کے خلاف احتجاجی تحاریک شروع ہوئی۔ تیونس، مصر، لیبیا، یمن اور شام میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ شام احتجاجی مظاہروں میں طوالت اور اس کی نوعیت میں تبدیلی کے حوالے سے منفرد رہا۔ شام کے حالیہ صدر بشار الاسد سن 2000 سے اقتدار پر قابض ہے، اس سے قبل ان کے والد حافظ الاسد 30 سال تک اقتدار پر قابض رہے،

Read more