ریلوے اسٹیشن اور بھکارن کا سویا ہُوا بچہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعید ثانی نے جیب سے ایک سو روپے کا نوٹ نکال کر بھکارن کی طرف بڑھا دیا۔ بھکارن کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی؛ اس نے اپنی گود میں سوئے ہوئے بچے کو سنبھالتے ہوئے نوٹ پکڑا اور آگے بڑھ گئی۔ ”یار تم سعید ثانی سے حاتم ثانی کب بنے؟ “ میں نے حیرت کا اظہار کیا۔ ”بے چاری مشکل میں ہے اپنے بیمار بچے کے علاج کے ساتھ ساتھ پیٹ بھرنے کی فکر میں بھی مبتلا ہے کاش میں اس کی اور بھی مدد کر سکتا۔ اس نے ملال سے کہا۔ میں محض سر جھٹک کر رہ گیا۔ کیونکہ گزشتہ ایک گھنٹے میں میرا مشاہدہ تھا کہ بچے کی نیند غیر معمولی تھی اسٹیشن پر کئی بھکاری منڈلا رہے تھے اور اس بھکارن کا بچہ مجھے سویا ہوُا نہیں بلکہ بے ہوش لگ رہا تھا۔

ہم اس وقت خانیوال ریلوے اسٹیشن پر تھے، میں سعید ثانی کو الوداع کہنے آیا تھا۔ وہ ایک زمانے میں میرا کولیگ بھی رہا تھا۔ ہم ایک کالج میں پڑھایا کرتے تھے پھر وہ کراچی نکل گیا۔ پندرہ سال میں چار استعفے دینے کے بعد اسے پتا چلا کہ وہ نوکری نہیں کر سکتا چناں چہ بزنس میں آگیا۔ گذشتہ دو سال سے کراچی میں کامیابی سے گوشت کا کاروبار کر رہا تھا۔ اس کی آؤٹ لیٹ پر بٹیر، مرغ، مچھلی، بکرے، گائے اور کٹے وغیرہ کا گوشت صاف ستھرے اور ائیر کنڈیشنڈ ماحول میں دستیاب ہوتا تھا۔

وہ اپنے آبائی شہر میں اپنے فارم ہاؤس کے لئے زمین خریدنے کے حوالے سے آیا تھا ابھی کچھ معاملات باقی تھے لیکن اب فوری طور پر واپس جانا چاہتا تھا کیوں کہ وہاں کچھ ایسے کام آن پڑے تھے جن کے لئے اس کا جانا ضروری تھا۔ اس کی فیملی بھی کراچی میں تھی۔ اس کے چھوٹے بیٹے نے بھی ویڈیو کال پر روتے ہوئے کہا تھا کہ بابا اب آ جاؤ۔ اسی لئے ہم ریلوے اسٹیشن آ گئے تھے حالاں کہ بزنس ایکسپریس کا ٹکٹ بھی نہیں ملا تھا۔ بلکہ کسی بھی ٹرین کا ٹکٹ دستیاب نہیں تھا۔ سعید ثانی نے کہا کہ بعض اوقات موقعے پر ٹرین کے اندر سے بھی ٹکٹ مل جایا کرتا ہے۔ بہر حال ہم پلیٹ فارم پر تھے۔

جب کوئی ٹرین پلیٹ فارم پر آتی تو یک دم ہلچل سی مچ جاتی۔ ٹرین سے اترتے چڑھتے مسافر، سامان کی طرف لپکتے قلی، کھانے پینے کی دکانوں سے اپنی طرف بلاتے ہوئے دکانداروں کا شور اور بھکاریوں کی آمدورفت شروع ہو جاتی۔ میں نے اس بھکارن کو کئی مرتبہ دیکھا تھا۔ ایک دو بار بچہ اس کی گود میں نہیں تھا۔ شاید بچہ کسی کے حوالے کر کے ادھر ادھر جاتی تھی۔ مجھے وہ کچھ پر اسرار سی لگ رہی تھی۔

” یار ایک بار پھر پتہ کرو، ٹرین کب آئے گی؟ “ میں نے سعید سے کہا۔ پتہ چلا کہ ٹرین کافی لیٹ ہے مزید دو گھنٹے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ ہم وقت گذاری کے لئے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگے۔ بھکاریوں کی کثیر تعداد دیکھ کر سعید ثانی کہنے لگا کہ آج کل یہ گداگر کچھ زیادہ نہیں ہوگئے؟

بہت زیادہ ہو گئے ہیں، پنڈی ہو یا ملتان یا کوئی اور شہر ہو گداگری بھی ایک پیشہ بنتا جا رہا ہے۔ بعض جگہوں پر پورا خاندان بھیک مانگ رہا ہوتا ہے۔ باپ بازار میں سڑک کے ایک طرف بیٹھا ہے اس کی بیوی دوسری طرف مانگ رہی ہے اور ان کے تین چار بچے بھی اسی سڑک پر دائیں بائیں بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ ادھر آپ نے کسی سگنل پر گاڑی روکی وہیں گداگروں کی یورش ہو جاتی ہے۔ کار کے شیشے بند ہوں تو کئی بھکارنیں زور زور سے شیشہ بجانے لگتی ہیں۔ بعض اوقات ان میں ہیجڑے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

ٹہلتے ٹہلتے سعید ثانی نے ایک بھکارن کو کچھ پیسے دیے اس کے بعد ایک تانتا بندھ گیا۔ ہمیں بیسیوں بھکاریوں کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ شاید بھکاریوں کی بھی کوئی تنظیم ہوتی ہے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو بتا دیا ہو گا کہ ایک نرم دل اور حساس آدمی پلیٹ فارم پر موجود ہے۔ بہر حال میرا بھی یہ تجربہ ہے کہ اگر آپ کسی جگہ رکے ہوئے ہوں اور آپ کو کوئی ایک گداگر نظر آئے اور آپ اسے پیسے دے دیں تو پھر تین چار اور آ جائیں گے۔

اچانک تین چار بھکاری عورتوں نے ہمیں گھیر لیا۔ سعید نے ایک کو پیسے دیے تو بقیہ کہنے لگیں کہ اس کو پیسے دیے ہیں تو ہمیں بھی دو۔ سعید نے تقریباً بے بسی سے جیب میں ہاتھ ڈالا اور سب کو برابر پیسے دیے ظاہر ہے ایسا نہ کرتا تو فیورٹ ازم کا الزام بھی سہنا پڑتا۔ سوئے ہوئے بچے والی بھکارن بھی وہیں تھی۔ آگے بڑھی تو سعید نے کہا۔ تمہیں تو میں پیسے دے چکا ہوں۔ تمہارے بچے کو ہُوا کیا ہے؟

” بیمار ہے صاحب جی! اس کا علاج کروانا ہے۔ “ اس نے بڑے دکھی لہجے میں کہا۔ ”کیا بیماری ہے اسے؟ سعید نے ہمدردی سے پوچھا۔ “ بیماری کا تو پتہ نہیں صاحب۔ ”بھکارن نے جیسے سوچتے ہوئے کہا۔ بچہ بالکل بے حس و حرکت نظر آ رہا تھا۔ “ میں اسے دیکھ لوں۔ ”سعید بچے کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھنا چاہتا تھا۔ بھکارن پریشان سی ہوگئی۔ “ رہنے دو صاحب، اللہ خیر کرے گا۔ ”بھکارن جلدی سے آگے بڑھ گئی۔

کچھ تو گڑ بڑ ہے یار! یہ بچے کو دیکھنے کیوں نہیں دے رہی۔ سعید نے پر خیال لہجے میں کہا۔ لیکن یقین سے تو کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔ آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور مطلوبہ ٹرین کی آمد کا اعلان ہوا۔ ”میں پانی کی ایک بوتل لے لوں“ سعید نے ایک سٹال کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔ میں بھی اس کے ساتھ بڑھا۔ سٹال کے ساتھ نیچے فرش پر دو بھکارنیں بیٹھی تھیں ایک سوئے ہوئے بچے والی اور ایک کوئی اور تھی۔ وہ آپس میں الجھ رہی تھیں اس لئے ان کا دھیان ہماری طرف نہیں تھا۔ اس وقت رش بھی تھا لیکن ہماری توجہ ان کی طرف ہی تھی کیوں کہ بات ہی ایسی تھی۔ دوسری بھکارن کہہ رہی تھی۔

”آج تُو اپنا بچہ لے کر نہیں آئی اور بار بار میرا بچہ لے جاتی ہے۔ اور یہ تُو نے اتنا زیادہ نشہ دے دیا اس کو، یہ آنکھیں بھی نہیں کھول رہا۔ “

” کچھ نہیں ہوتا تیرے بچے کو۔ تجھے بتایا تو ہے ایسے زیادہ کوشش نہیں کرنی پڑتی، بھیک بھی زیادہ ملتی ہے۔ لا تھوڑی دیر لے لئے بچہ دے، ٹرین آ رہی ہے کچھ کمائی کر آؤں۔ “ سعید ثانی کے چہرے کا رنگ متغیر ہو چکا تھا۔ ”بھائی ایک پانی کی بوتل دینا۔ “ اس نے ڈھکن کھولا اور پانی پینے لگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں