شہر کی بیگانی بارشیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسان صاحب! اب شہر کی بارشیں مزہ نہیں دیتیں۔ گاؤں کی بارش ہی مزہ دیتی ہے۔ جب بھی برستی ہے، اپنی اپنی سی لگتی ہے۔ پتا ہوتا ہے کہ فلاں فلاں قطرہ کہاں کہاں گرے گا، کس کس کی چھت کتنا کتنا ٹپکے گی، کون اپنے صحن سے کتنی بالٹیاں باہر پھینکے گا، بچے کہاں کہاں ٹولیوں کی شکل میں لوٹ پوٹ ہو رہے ہوں گے، سب پتہ ہوتا تھا جی۔ صرف ماسٹر غلام حسین صاحب کے پاس چھتری ہوتی تھی باقی سب دیسی ماحول تھا۔ شاید اسی لیے ماسٹر غلام حسین کا نام ماسٹر چھتری والا پڑگیا تھا۔

میں نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے۔ تمہارا لگاؤ گاؤں دیہات سے ہے اسی لیے تمہیں شہر کی بارش مزہ نہیں دیتی۔ تم کبھی بارش میں ایف ناین پارک جانا، دامنِ کوہ چلے جانا یا پھر زیرو پواینٹ پر کھڑے ہوکر بارش میں فراٹے بھرتی امپورٹڈ گاڑیاں دیکھنا، خوبصورت عمارتوں اور گھروں کی بھیگتی چھتیں دیکھنا، مارگلہ کی نکھرتی چوٹیاں دیکھنا، وہاں سے ہوتے ہوے تم بارش میں شاہرہ دستور پر آ جانا، پھر تم اسلام آباد کے دیوانے نہ ہوے تو پھر کہنا۔

وہ میری بات سن کر ہنس دیا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر از رہِ ہمدردی بولا، سنو حسان! تم یہ مشورہ کسی اورکو مت دینا۔ میں نے حیراں ہوکر پوچھا، وہ کیوں؟ وہ بولا، میں اس شہرمیں پچاس سال سے مقیم ہوں سب جانتا ہوں۔ حسان صاحب! شہر ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ عمارتیں بنتی ہیں اور پھرگرا دی جاتیں ہیں، گھر بنتے ہیں، لوگ آتے ہیں، رہتے ہیں، لوٹ جاتے ہیں، دو لوگوں سے پوری شناسای ہوتی نہیں کہ دس اور مل جاتے ہیں، یہاں اچانک کوئی غایب ہوجاتا ہے، نہیں ملتا، کام نکلنے پر دس سال بعد بھی لوٹ آتا ہے۔

حسان! تم جب گاؤں سے آئے تھے تب دامنِ کوہ نیا نیا بنا تھا، اور یہ ایف ناین پارک ایک گھنا جنگل تھا، زیروپوانٹ، لیک ویو، اور نجانے کیاکیا، یہ سب نہیں تھا۔ وہ زرا بھر رکا اور بولنے لگا، حسان! تم یونیورسٹی میں ہو اوربارش ہو جاے، تم آفس میں ہو اور بارش ہو جاے، تم اپنے بند کوارٹر میں حبس کے مارے اوندھے پڑے ہو تو کیا تم ہر بارش کے لیے زیرو پوانٹ آو گے؟ ایف ناین پارک جاوگے؟ شاہراہ دستورجاؤ گے؟ ایک بارش میں کہاں کہاں جاؤ گے۔ بلکہ اگر ایسا چند ایک بار ہو گیا تو پھر بہت سی بارشیں تمہارے کام کے وقت برسیں گی اورتمہیں ستائیں گی۔

میں نے جھنھجلا کر کہا، توآپ کی کیا فلاسفی ہے؟ وہ بڑی نرمی سے بولا، گاؤں میں صرف دو کام ہوتے ہیں، کھیت یا کھیل۔ آپ کھیت، فارم، یا باغ میں ہوں تب بھی بارش کی برکت کے لیے کہیں بھاگنا نہیں پڑتا، آپ کھیتوں سے واپس گاؤں میں آجایں تو سارا وقت کھیل کی صورت میں گزرتا ہے۔ کیونکہ اپنے چہروں، اپنی گلیوں یا اپنے گھروں سے آپ جو چھیڑخانی چاہیں کر لیں، کوی کچھ نہیں کہتا اوریہی اصل کھیل ہے۔ ہم جہاں چاہیں بارشوں کا پانی موڑ دیں، جب چاہیں کنووں اورگڑھوں میں محفوظ کرلیں، بارشیں ہم سے چھپتی نہیں اور نا ہی ہم بارشوں میں چھتریاں لے کر دبک دبک کر بھاگتے پھرتے ہیں۔

سمجھے اب! میں مسکرا دیا اوربولا جی ہاں، شاید اسی لیے یہ بارشیں رحمت کی بجاے عذاب بنتی جارہیں ہیں۔ بلا شبہ یہ زمیں ہمارے رہنے کے لیے ہے مگر ہمیں گھر بناتے، شہر بساتے وقت بارشوں کا حصہ بھی مختص کرنا ہوگا، انہیں بھی جگہ چاہیے برسنے کے لیے جو صرف ہم جانتے ہیں یہ بارشیں نہیں۔ ان کا کام تو برسنا ہے۔ اگر ہم نے نہیں جانا تو کل ایف ناین پارک اور زیروپوانٹ کے ساتھ ساتھ شاہراہ دستور پر وزیروں مشیروں کے بیڈ بھی ڈوبتے بظر آیں گے۔ اس نے کندھے اچکاے اور بولا ارے یہ سب چھوڑو پواینٹ پر آو! میں کہا جی بالکل، شہرکی بارشیں مزہ نہیں دیتیں۔ یہ سن کر وہ قہقہ لگا کر ہنس دیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں