شہر کی بیگانی بارشیں
حسان صاحب! اب شہر کی بارشیں مزہ نہیں دیتیں۔ گاؤں کی بارش ہی مزہ دیتی ہے۔ جب بھی برستی ہے، اپنی اپنی سی لگتی ہے۔ پتا ہوتا ہے کہ فلاں فلاں قطرہ کہاں کہاں گرے گا، کس کس کی چھت کتنا کتنا ٹپکے گی، کون اپنے صحن سے کتنی بالٹیاں باہر پھینکے گا، بچے کہاں کہاں ٹولیوں کی شکل میں لوٹ پوٹ ہو رہے ہوں گے، سب پتہ ہوتا تھا جی۔ صرف ماسٹر غلام حسین صاحب کے پاس چھتری ہوتی
Read more

