خان صاحب اور خطرناک راستوں کی ڈرائیونگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک دفعہ ناران سے جھیل سیف الملوک جاتے ہوئے دشوار اور کٹھن راستے میں ایک مسافر نے جیپ چلانے والے خان صاحب سے پوچھا کہ خان صاحب آپ کو اتنے خطرناک راستوں پر جیپ چلاتے ڈر نہیں لگتا۔

تو خان صاحب نے کہا ماڑا اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے۔ یہ بہت آسان اور محفوظ سفر ہے۔ ہم جیپ چلانے سے پہلے اس سے بھی زیادہ خطرناک کام کیا کرتے تھے۔ پوچھنے پر کہنے لگے ماڑا اس سے پہلے ہم پنڈی میں ہائی ایس چلایا کرتے تھے۔ توبہ توبہ سڑک پر گاڑی چلانا بہت خطرناک کام ہے۔ آئے روز گاڑی کہیں نہ کہیں لگ جاتا تھا اور بندے مر جاتے تھے۔

اب اپنے اصل ڈرائیور کی طرف آتے ہیں، خان صاحب بھلے آپ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی چلائیں یا دروازے پر بیٹھ جائیں۔ سفارت کاری میں ٹانگیں جیسی بھی رکھیں۔ جیسے مرضی کپڑے پہنیں۔ جہاں مرضی حاضری دیں۔ جس کو چاہیں ٹیم میں شامل کریں۔

بل، جلا، پھاڑ کر اور غریبوں کے دکھ درد میں رو کر آپ کنٹینر پر کھڑے ہو کر توبہ توبہ بہت خطرناک کام کر آئے ہیں۔

اب گاڑی معیشت، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، لاء، مینیجمنٹ اور جمہوریت کے ٹیڑھے میڑھے رستوں پر آ نکلی ہے۔ یہاں گاڑی چلانا آپ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
بس آپ ان سب مسئلوں سے نکال کر ہمیں بخیر و عافیت جھیل سیف الملوک یعنی اس سبز باغ والی وادی میں پہنچائیں۔ جس کا آپ نے کنٹینر پر چڑھ کر ہم سے وعدہ کیا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •