مذہب اور تاریخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ کے خیالات میرے نظریات سے متصادم ہیں تو برائے مہربانی مجھ سے مدلل اختلاف کریں کہ یہ آپ کا حق ہے۔

دنیا کے مختلف مذاہب اور الہامی کتب تاریخ کے متعلق محدود معلومات فراہم کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرتی و مذہبی گھٹن زدہ ماحول میں مذہب کی روشنی میں تاریخ یا تاریخ کی رہنمائی سے مذہب کے متعلق مباحثہ بہت سے فتوے سمیٹے ہوئے ہے اور ایسا سازگار یا معتدل ماحول کبھی میسرنہی رہا کہ تاریخ کا طالب علم کھل کر اپنے ذہن میں آئے سوال ظاہر کرسکے اوراپنی تشفی کرسکے کیونکہ یہ وہ Taboos یا ”نو گو ایریاز“ ہیں جس سے آگے مذہبی پنڈتوں کی ریت کی فصیلیں کھڑی ہیں۔

تجسس انسانی جبلت کا خاصہ ہے جو آپ کو سوال کرنے پر ابھارتا ہے، چناچہ آپ ان سوالات کا جواب مذہب سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں جو خالص تحقیقی و سائنسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ لیکن مذہب آپ کو عقائد کے تناظر میں مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے جوآپ کو من و عن ماننے پڑتے ہیں، بصورت دیگر آپ سزاوار ٹھہرتے ہیں

میں نے گزشتہ کچھ عرصہ میں انسانی تہذیب، معاشرت، معیشت اور فکری و ذہنی بلوغت کا جو محدود مطالعہ کیا، مجھے اس میں لاکھوں سال کے ارتقا کا اہم رول محسوس ہوتا ہے جس نے انسان سازی میں اہم کردار ادا کیا۔

آپ تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں، مختلف مذاہب شاید ہی گزشتہ پانچ ہزار سال تک آپ کو ”خاطر خواہ“ معلومات دیتے نظر آئیں بلکہ میرا گمان تو یہ ہے کہ 1500 قبل مسیح کی انڈس ویلی سویلائزیشن، مصر اور عراق کی قدیم تہذیبوں کے متعلق بھی دنیا کے مختلف مذاہب خاموش ہیں۔

پاکستان جس خطہ میں واقع ہے اس کے متعلق تاریخ دان اور محکمہ آثارِ قدیمہ کے ماہرین لاکھوں سال پر مشتمل ارتقا کی نشان دہی کرتے ہیں، جیسے کہ سندھ میں ہڑپہ اور موہنجوداڑو، راولپنڈی کے قریب ٹیکسلہ، دریائے سواں سے ملنے والے 90 ہزار سال قبل کے انسانوں، ناپید جانوروں اورانسانوں کے پتھروں سے بنائے ہتھیاروں اور ساہیوال کے قریب ہڑپہ شہر کی کھدائی کے دوران اس وقت کے انسانوں کی تہذیب، رہن سہن اور معاشرت پر دنیا کے مختلف مذاہب خاموش ہیں نیز آثارِ قدیمہ کے دریافت کردہ عجیب الخلقت جانوروں جیساکہ ڈائناسور اور بوزنا کے متعلق بھی خاموشی ہے.

آثار قدیمہ کے ماہرین 90 لاکھ سال قبل زمین پر انسانی زندگی کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ لگ بھگ 5 لاکھ سے 3 لاکھ سال قبل کے عرصہ میں ذمین پر ”Ice Age“ رہی ہے اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے 10 ہزار سال قبل تک چلتا رہا جس کے بعد موسمی تغیر میں اعتدال اور ٹھہراؤ آگیا اور باقاعدہ انسانی سرگرمیوں کا آعاز ہوا، ابتدائی بستیوں اور شہروں کی بنیاد پڑی، یہیں سے ایک سوسائٹی بھی پیدا ہوئی۔

بہرحال اس ضمن میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور اس جستجو میں کسی بھی طرح کی تنگ نظری مناسب نہیں۔ بطور مسلمان ہمیں قرآن میں اللہ تعالی کائنات میں غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں اوریہ عین اسلام ہے بلکہ ہمارا تو ایمان ہے کہ سائنس بھی دین اسلام کی ہی ایک شاخ ہے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں