بلوچستان میں طویل خشک سالی اور سیب کی پیداوار میں کمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان کے مختلف اضلاع بارشوں کی کمی کے باعث اس وقت بدترین خشک سالی کاشکار ہیں، طویل عرصہ سے معمول سے کم بارشوں اور برف باری نہ ہو نے کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح سینکڑوں فٹ گر گئی ہے، خشک سالی کے باعث صوبے کے کاریزات اور چشموں کے ساتھ ساتھ ہزاروں کی تعداد میں زرعی ٹیوب ویل بھی خشک ہوگئے ہیں، پانی کی کمی نے جہاں لوگوں کو شدید متاثرکیا ہے و ہی صوبے کی زراعت بھی شدید متاثرہوگئی ہے، صوبے کے مختلف اضلاع میں کاشتکاری مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے، پانی کی کمی کی وجہ سے سیب کی پیداوار میں کافی حد تک کمی آئی ہے، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2017 میں 15 لاکھ 95 ہزار ٹن سیب کی پیداوار ہوئی تھی جس میں 65 فیصد پیداوار بلوچستان کی تھی، گزشتہ سال بلوچستان سے 12 لاکھ ٹن سیب کی پیداورا حاصل ہوئی تھی جو اس سال کم ہوکر دس لاکھ ٹن سے بھی نیچے آگئی، پانی کی کمی کے باعث سیب کی پیداوار میں تیزی سے کمی آرہی ہے، جس میں بلوچستان کا ضلع زیارت بھی شامل ہے۔

بلوچستان کے جن اضلاع سے اب بھی سیب کی پیداوار حاصل ہورہی ہے وہاں باغات کو مقررہ وقت پر سیراب نہ کرنے کی وجہ سے سیب کے ذائقے اور سائز میں کافی حد تک فرق آیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع قلات میں خشک سالی سے نو ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے سیب اور دوسرے پھلوں کے باغات مکمل طور پر خشک ہو گئے ہیں، ایک اندازے کے مطابق ضلع قلات کے مختلف علاقوں میں پچاس ہزار سے زائد پھلوں کے درخت کاٹ دیے گئے ہیں، کم وبیش یہی صورتحال ضلع پشین میں بھی ہے، ہزاروں ایکڑ پر پھیلے باغات خشک ہوگئے اور یہاں بھی ہزاروں درختوں کو کاٹ دیا گیا ہے، وہ باغات جو عام طور پر ستر سے اسی لاکھ روپے میں فروخت ہو تے تھے اب پندرہ لاکھ روپے میں بھی فروخت نہیں ہوتے، زرعی شعبے کی تباہی کی وجہ خشک سالی کے ساتھ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ بھی ہے۔

صوبے کے بعض علاقوں میں لوگوں نے سیب کے باغات ختم کرکے سبزیاں اگانا شروع کر دیں ہیں جس کی بڑی وجہ پانی کی کمی، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہے، زمینداروں کا انحصار بجلی سے چلنے والے ٹیوب ویل پر ہے، 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے زرعی شعبے کو تباہی کے دہانے پرلا کھڑا کیا ہے

دوسری جانب غیر قانونی طور پر ایران سے آنے والے سیب نے بھی بلوچستان کے زمینداروں کو پریشان کردیا ہے۔ جس وقت بلوچستان کا سیب تیار ہوکر ملک بھر کی منڈیوں میں جاتا ہے تو ایران سے غیر قانونی طور پر سیب کی درآمد شروع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کے سیب کی قیمتیں گرجاتی ہیں اور زمینداروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، یہ عمل گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے، زمینداروں کے احتجاج کے باوجود حکومتیں ٹس سے مس نہیں ہورہیں، اسی حوالے سے بلوچستان میں کئی بار احتجاج بھی ہوا، قومی شاہراہیں بھی بند ہوئیں لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے۔

زمینداروں کا کہنا ہے کہ اب سیب کی پیداوار میں منافع تو دور کی بات نقصان ہو رہا ہے، زیارت سے تعلق رکھنے ایک زمیندار نے کہا کہ ایک خالی پیٹی کی قیمت ساٹھ سے اسی روپے ہے جبکہ بھرائی کے لیے کاغذ بھوسہ، کیلیں اور دیگر سامان کے ساتھ یہ قیمت ڈیڑھ سو روپے تک پہنچ جاتی ہے، منڈی اور مزدوروں کے اخراجات کے علاوہ باغات سے منڈی تک مال پہنچانے کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، زیارت سے پنجاب کے مختلف شہروں فیصل آباد، لاہور اور ملتان تک ایک ٹرک کا 75 ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے تک کرایہ وصول کیا جاتا ہے جبکہ سیب کی قیمت میں گزشتہ دس سالوں سے کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔

ہمسایہ ممالک سے سیب ودیگرزرعی اجناس کی درآمدگی کے خلاف قلعہ سیف اللہ میں گزشتہ سال ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران کاشتکاروں نے ہزاروں کلو ٹماٹر سڑک پر پھینک کاضائع کردیا تھا۔

بلوچستان زمیندارایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھی یہ مطالبہ پیش کیا تھا کہ کہ بلوچستان میں سیب، انگور، ٹماٹر وغیر ہ کی فصل تیار ہونے پرہمسایہ ممالک سے مذکورہ پھلوں اور سبزیوں کی درآمد پرپابندی عائدکی جائے لیکن ہمارے مطالبے کو کسی خاطر میں نہیں لایا گیا۔

صوبے کے بہت سے علاقوں میں زمینداروں کا دارومدار صرف بارانی پانی پر ہوتا ہے، بارانی زمیندار طویل خشک سالی کے وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں اور اپنی املاک کو چھوڑ کر نقل مکانی کر گئے ہیں۔ ان بارانی اور خشک آبہ زمینداروں کے مال مویشی بڑے پیمانے پر خشک سالی کی وجہ سے بھی مر گئے ہیں، خشک آبہ زمیندار بارش کے سیلابی پانی سے ز مینداری اور مال مویشی پال کر اپنا گزر بسر کرتے تھے جو اب بے روزگاری کی وجہ سے انتہائی کسمپر سی کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔

خشک آبے کے جوزمیندار سالانہ سینکڑوں بوریاں گند م کی فصل حاصل کرتا تھا ان کو اب ایک بوری گندم بھی نہیں مل رہی، مالداروں کے پاس سینکڑوں کی تعداد میں مال مویشی ہوتے تھے جو اب نہ ہونے کے برابر ہیں۔

بلوچستان میں پانی کی قلت کی ایک وجہ زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے گرنا بھی ہے، ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کا بارانی پانی ضائع ہوتا ہے، حکومتوں کے دعوؤں کے باوجود یہاں ڈیمز نہیں بنائے گئے جس کی وجہ سے زمیندار اور مالدار آج نقل مکانی پرمجبور ہوگئے ہیں۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع کے زمینداروں کا کہنا ہے کہ طویل خشک سالی سے زرعی شعبہ پہلے ہی تباہ تھا رہی سہی کسر بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی وولٹیج میں کمی بیشی نے پوری کردی ہے، دوسر جانب ایران، افغانستان اور چین سے سیب ودیگر زرعی اجناس درآمد کرکے زمینداروں کی کمرتوڑ دی گئی ہے۔

بلوچستان کے زمینداروں نے صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ صوبے میں بارانی پانی کو بچانے کے لئے ڈیمز بنائے جائیں تاکہ زیرزمین پانی کی سطح بہتر ہوجائے اور لوڈشیڈنگ کامسئلہ بھی حل کیا جائے، زمینداروں نے کہا کہ یہی صورتحال رہی تو صوبے کا زرعی شعبہ مزید تباہ ہوجائے گا اور لاکھوں لوگ نقل مکانی پرمجبور ہوجائیں گے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں