نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے الیکشن، کون جیتے گا، کون ہارے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 9
  •  

کل 8 جنوری کو پاکستان کے سب سے بڑے پریس کلب، نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے الیکشن ہو رہے ہیں۔ یہ پاکستان کے صحافیوں کا سب سے بڑا جمہوری میلہ ہے جس میں تین ہزار ایک سو بیاسی کاؤنسل میمبر سال 2019 کے لئے پریس کلب کی قیادت منتخب کریں گے۔ ایف سکس ون، جہاں پر پریس کلب واقع ہے کا پورا علاقہ امیدواروں اور ان کی حمایت کرنے والوں کے ہزاروں پینا فلیکس سے رنگا ہوا ہے۔ عجب میلے کا سماں ہے، مخالف، ان کے حامی ایک دوسرے سے مل رہے ہیں، مذاق کر رہے ہیں، ساتھ بیٹھ کر چائے پی رہے ہیں، گپیں لگا رہے ہیں سیلفیاں کھینچ رہے ہیں، کہیں پر بھی نفرت، حقارت یا دشمنی کا کوئی گمان یہ الفاظ لکھنے تک تو بالکل بھی نظر نہیں آیا۔

اسلام آباد میں کام کرنے والے پاکستان کے نامور صحافی پریس کلب کے عہدوں اور گورننگ باڈی کے لئے امیدوار ہیں۔ اس مرتبہ الیکشن میں حصہ لینے والے پینلز کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ انتہائی سینئر، قابل احترام اور صحافت کی دنیا کے بڑے بڑے نام اس الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور بڑے دلچسپ اور کانٹے کے مقابلے متوقع ہیں۔ صدارت کے لئے شکیل انجم، مطیع اللہ جان، شکیل قرار اور دیگر کئی امیدوار میدان میں ہیں۔ شکیل انجم پریس کلب کے صدر رہ چکے ہیں اور اور اس سال سیکریٹری کے عہدے پر بھی رہے ہیں۔

سیکریٹری کے امید واروں میں پریس کلب کے سابق صدر شہریار خان، ناصر ملک، انور رضا، ضیغم نقوی اور دیگر قابل صحافی امیدواروں مں مقابلہ ہے۔ اسی طرح نائب صدر کے عہدے کی چار پوسٹ ہوتی ہیں جن میں سے ایک نائب صدر کی سیٹ عورتوں کے لئے مخصوص ہے لیکن عورت امیدوار اس سیٹ سے ہٹ کر بھی کسی بھی سیٹ پر الیکشن میں حصہ لے سکتی ہیں۔ نائب صدارت پر بھی امیدواروں کی ایک بہت بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے۔ جن میں شاہ محمد، احمد نواز، راجہ خلیل احمد، پروین بوبی، کنور راشد حبیب، محمد اصغر ، طارق عثمانی، عاصمہ شیرازی، ذوالفقار گرامانی، غلام نبی یوسفزئی، اعزاز سید، جمیل ببر، سعدیہ کمال، ایاز خان، ضمیر دیٹھو اور دیگر کئی نام شامل ہیں، اسی طرح فنانس سیکریٹری اور جوائنٹ سیکریٹری کے عہدوں پر بھی امیدواروں کی کافی تعداد الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔

گورننگ باڈی کی سترہ سیٹوں کے لئے سینکڑوں امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ اس الیکشن میں عورت صحافیوں کی ایک بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے، شازیہ نیئر، نوشی رحیم، آمنہ غنی، سعدیہ عرفان، فائزہ یونس، ثوبیہ مشرف، شکیلہ جلیل، عصمت نواز، سیفی یوسفزئی اور کئی دیگر شامل ہیں۔ اس الیکشن میں، جرنلسٹ پینل ( افضل بٹ ) ، جرنلسٹ پینل ( فاروق فیصل ) ، جاگو پینل، آزاد پینل اور پروفیشنل جنرلسٹ پینل کے علاوہ بھی کئی گروپ اور آزاد امیدوار میدان میں۔ ان سب گروپوں کا ایجنڈا، صحافت کی مکمل آزادی، صحافیوں کے روزگار کو محفوظ بنانا، صحافیوں کے لئے رہائشی کالونیاں بنانے کی کوشش، انشورنس وغیرہ دلانا اور ایسے ہی دیگر نکات شامل ہیں۔

( نوٹ) کئی امیدواروں کے نام اس تحریر میں شامل نہیں ہیں جس کا قطعی سبب صرف یہ ہے کہ یہ مضمون لکھاری کی یادداشت کے مطابق ہے۔ جان بوجھ کر کسی گروپ، پینل یا دوست کا نام اس تحریر سے باہر نہیں رکھا گیا۔ سہیل میمن) ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 9
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں