چیف جسٹس ثاقب نثار شراب سے متعلق سوال کا جواب دئیے بغیر ہی چلے گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

آج ایک صحافی نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے شراب کی بوتلوں سے متعلق سوال کیا تاہم عدالتی عملے نے مذکورہ صحافی کو روک دیا۔

صحافی کا کہنا تھا کہ آپ نے بہت اچھا عدالتی نظام بنایا ہے اور لوگ اس کی مثال دے رہے ہیں۔ لیکن جب چیف جسٹس کہیں سے شراب کی بوتلیں پکڑتے ہیں تو انکوائری کے بعد اس میں سے شہد نکلتا ہے۔ اس بارے میں کیا کہیں گے کہ یہ نظام کب ٹھیک ہو گا؟ اس موقع چیف جسٹس کے عملے نے صحافی کو اس متعلق سوال کرنے سے روک دیا اور کہا کہ میڈیکل نہیں بلکہ قانونی سوال کیا جائے۔

یاد رہے چیف جسٹس آف پاکستان نے ضیاءالدین اسپتال میں شرجیل میمن کے کمرے کا اچانک دورہ کیا تھا۔ جہاں شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں۔ چیف جسٹس نے شرجیل میمن کے کمرے سے برآمد ہونے والی بوتلوں کا ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا تھا۔ زیر حراست ملازم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایک بوتل میں شہد اور دوسرے میں زیتون کا تیل تھا۔ تاہم ایک رپورٹ کے مطابق پولیس نے شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی اصل بوتلیں بر آمد کرنے کا دعوی کیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں ملنے کے معاملے پر محکمہ صحت سندھ نے رپورٹ جاری کی تھی۔ محکمہ صحت کے شعبہ کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ کے مطابق شرجیل میمن کے کمرے سے برآمد کی گئی دونوں بوتلوں میں شراب نہیں تھی۔ ایک بوتل میں شہد اور دوسرے بوتل میں زیتون کا تیل تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں