بنکاک میں مفرور سعودی لڑکی کو واپس سعودی عرب ہی بھیجا جائے گا: تھائی لینڈ حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعودی عرب سے فرار ہو کر بنکاک ایئر پورٹ پہنچنے والی سعودی لڑکی رہاف تاحال تھائی لینڈ کے حکام کی تحویل میں ہے۔ تاہم تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم نے تھائی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی لڑکی کو ضروری دستاویزات نہ ہونے کی بنا پر تھائی لینڈ میں داخلے سے روکا گیا۔ سعودی لڑکی کو قوانین و ضوابط کے مطابق کسی بھی تیسرے مُلک نہیں بھیجا جا سکتا۔ اسے واپس سعودی عرب ہی بھیجا جائے گا۔

تھائی لینڈ کے محکمہ پاسپورٹ کے ڈائریکٹر کے مطابق سعودی لڑکی کے پاس نہ تو شناختی دستاویزات پائی گئیں اور نہ واپسی کی ریزوریشن اور ٹکٹ تھی۔ اور نہ ہی وہ کسی ٹورازم پروگرام کے تحت یہاں آئی تھی۔ لڑکی نے خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے جو کچھ بتایا، اُس میں انتہا درجے کا مبالغہ معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُسے واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

دُوسری جانب تھائی لینڈ میں سعودی ناظم الامور عبداللہ الشعیبی نے بتایا کہ سعودی سفارت خانہ اپنے کسی بھی شہری کو کسی دُوسرے مُلک کے ایئرپورٹ پر گرفتار کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ چونکہ لڑکی کے پاس نہ تو واپسی کا ٹکٹ ہے اور نہ ہی ہوٹل میں بُکنگ کروائی گئی ہے، اس لیے اُسے واپس سعودی مملکت ہی بھیج دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سعودی لڑکی رہاف القنون کے مطابق اُس نے اسلام سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور اپنے سعودی والدین کے پاس سے بھاگ کر آسٹریلیا جانے کے لیے بنکاک پہنچی تھی مگر اُسے مزید آگے سفر کرنے سے روک دیا گیا ۔

رہاف کے بنکاک ایئرپورٹ پہنچنے پر وہاں موجود ایک سعودی عہدے دار نے اُس کا پاسپورٹ ضبط کر لیا تھا۔ کیونکہ اُس کے والد نے سعودی حکام کو آگاہ کیا تھا کہ وہ اپنے ولی کی مرضی کے بغیر سفر کر رہی ہے جس کی سعودی قانون میں ممانعت ہے۔ جس پر بنکاک میں موجود سعودی حکام حرکت میں آ گئے اور لڑکی کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ سعودی اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ ایک خاندان کا نجی معاملہ ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے رہاف کا معاملہ سوشل میڈیا پر آنے کے بعد اُس کے حق میں زور شور سے آواز اُٹھانی شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں #SaveRahaf کے نام سے ہیش ٹیگ بھی بن چکا ہے۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں