درمیانی جنس، عورت اور چترا مدگل کا ناول ‘پوسٹ باکس نمبر 203 نالا سوپارہ’

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو کی ایک خرابی یہ ہے کہ جب تک اعراب نہ لگائیں جائیں، دوسری زبانوں کا صحیح تلفظ ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اعراب ہندی کی ماترائوں کی طرح حرفوں سے گھلی ملی ہوئی بھی نہیں ہیں۔ خیر، اس پرانی بری عادت کا رونا کیا رویا جائے، پہلے چترا مدگل کے نام کا تلفظ سمجھ لیجیے، چ کے نیچے زیر ہے، م کے اوپر پیش اور گ کے اوپر زبر۔ چترا مدگل کے اس ناول کو دوہزار اٹھارہ میں ساہیتہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے، ایوارڈ زکسی ناول کی اہمیت میں اضافہ نہیں کرتے، مگر میں نے یہ بات معلومات میں اضافے کے طور پر ان لوگوں کے لیے بتا دی ہے، جو اس مضمون میں دلچسپی لے کر اسے پڑھنا شروع کر چکے ہیں۔ مضمون شروع ہونے سے پہلے ایک قصہ سنیے۔

میں نے ایک دن اپنے ایک دوست سے سوال پوچھا تھا کہ بھائی! اردو میں کیا ایسی جنس کے لیے جسے عرف عام میں ہیجڑا یا زنخا کہا جاتا ہے، کوئی مناسب یا معقول لفظ نہیں ہے۔ ہم نے لغات کھنگالیں تو معلوم ہوا کہ اردو میں زیادہ تر جو الفاظ اس جنس کے لیے موجود ہیں، وہ انہی افراد کے لیے ہیں جن کے عضو تناسل کو سزا کے طور پر کبھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ زنخا دراصل زنکہ ہے، یعنی عورت جیسا۔ اس پر ایک سوال میرے ذہن میں یہ پیدا ہوا تھا کہ ہم جو ڈھونڈ رہے ہیں، کہیں اس تلاش میں تو کوئی خرابی نہیں؟ ہم سماج کو سمجھاتے رہتے ہیں کہ کسی شخص کو زنخا نہ کہا جائے، ہیجڑا نہ پکارا جائے، مگر ان کے متبادل تلاش کرتے وقت یہ خیال ذہن میں کیوں نہیں آتا کہ عورت جیسا ہونے میں پریشانی کیا ہے۔

قریب چار سال پہلے پریمل موروگن کا ناول ‘ون پارٹ وومن ‘ پڑھا تھا۔ پتہ چلا کہ ہندوستان میں ایسے بھی دیوتا ہیں، جو دو جنسوں یعنی مرد اور عورت سے مل جل کر بنے ہیں اور موروگن کے الفاظ میں ان کی فلسفیانہ توجیح یہ ہے کہ ہر مرد میں ایک عورت اور ہر عورت میں ایک مرد موجود ہوتا ہے۔ بات سولہ آنے سچ ہے، پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ حقارت نے کیسے جنم لیا۔ سید احمد دہلوی نے ہیجڑا لفظ کے ترجمے میں لکھا ہے کہ یہ لفظ ہیز سے بنا ہے، ہیز فارسی کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے خصی، نامرد، یعنی جو مرد نہ ہو۔ ہیز کے آگے ڑا ذلت میں اضافے کے طور پر دھرا گیا ہے، جیسے قصاب کو قصابڑاکہہ کر ذلیل کیا جاتا ہے۔

اب ذرا ان الفاظ کو عقل کے ترازو میں تولیے، بزدل آدمی کے لیے نامرد کا لفظ اور بہادر عورت کے لیے مردانی کا لفظ۔ کیا معلوم ہوا۔ یہی کہ بہادر ہونا ہے تو مرد کے آس پاس ہونا ہوگا، اس کے جیسا ہونا ہوگا، اسی کی طرح سخت آواز نکالنی ہوگی، جری، لڑاکا اور تند ہونا ہوگا اور سب سے اہم بات یہ کہ نسوانی صفات سے جہاں تک ہوسکے دور رہنا ہوگا۔ یہ جو نتیجہ نکل کر سامنے آیا تو میں بھونچکا رہ گیا کہ ہیجڑوں یا زنخوں کی لڑائی ، ان کی لڑائی ہے بھی؟ یا یہ عورتوں کی لڑائی ہے۔

اب اس قصے کے بعد کی روداد سنیے، مجھے جب اپنے دوست وکاس شرما سے معلوم ہوا کہ چترا مدگل کا ناول ٹرانسجنڈرز کو موضوع بنا کر لکھا گیا ہے تو اسی سوال نے ذہن میں جنم لیا۔ میں نے سوچا کہ کتاب پڑھ کر دیکھتا ہوں۔ کتاب پڑھی اور واقعی ناول کو حسب توقع شاندار پایا کیونکہ اس کی تعریف وکاس نے کی تھی، ان کا ہندی فکشن اور شاعری دونوں کا گیان زبردست ہے۔

کہانی ایک لڑکے ونود عرف بنی کی ہے، جسے دسویں جماعت میں پڑھتے وقت اس کے گھرسے ایک محلے کی جاسوس کی مدد سے جانکاری ملتے ہی ہیجڑوں کی جماعت آکر اٹھالے جاتی ہے۔ ایک سردار کی نگرانی میں ذلت کی زندگی سے عزت کی زندگی کی جانب بڑھنے والے ایک ایسے ذہن کی روداد ہے یہ ناول ، جس میں سوچنے سمجھنے کے عناصر کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کا شوق بھی پروان چڑھتا ہے۔ کہانی نہیں سنائوں گا کیونکہ ناول محض دوسو یا سوا دو سو صفحات پر مشتمل ہے، آپ جب چاہیں کسی سے ضد کرکے اس کا ترجمہ کرواسکتے ہیں۔ میں تو ہمیشہ سے چاہتا ہوں کہ کچراکتابوں کو شائع کرنے والے ہندوستانی ادارے ، جن کے سالانہ بجٹ قریب سو کروڑ تک پہنچ چکے ہیں، کتابوں کو شائع کرنے سے زیادہ ترجموں پر زور دیں اور خاص طور پر ہندی ناولوں اور شاعری کے ترجموں کو ضرور شائع کریں۔

ناول خطوط کی شکل میں لکھا گیا ہے جسے انگریزی میں epistolary فارمیٹ کہا جاتا ہے۔ حالانکہ خط دو طرف سے لکھے جانے چاہیے تھے، ونود کے ہی خطوط میں اس کی ماں کے لکھے لمبے لمبے خطوں کی کہانی پڑھتے وقت خیال آتا ہے کہ ناول نگار نے ان خطوں کو کیونکر الگ الگ نہیں لکھا، حالانکہ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، مگر کچھ غیر حقیقی ہونے کی وجہ سے اٹ پٹے پن کا احساس ضرور ہوتا ہے۔ ونود کے زنخے ہونے کی خبر نہ پھیلے، اس ڈر سے اس کے جاتے ہی اس کا خاندان ممبئی کے ایک اچھے علاقے سے مضافات میں آباد نالاسوپارہ نامی جگہ پر منتقل ہوجاتا ہے۔ کسی طرح ماں ایک پوسٹ باکس نمبر لے لیتی ہے، جو کہ ایک مندر کے پاس ہے، جہاں قریب قریب روز ہی اس کا جانا ہوتا ہے، بیٹا اسی پوسٹ باکس کے پتے پر خط لکھا کرتا ہے۔

عضو تناسل سے محروم ہونے کی صورت میں زندگی کس قدر عذاب کا باعث بنتی ہے، ناول میں اسے اچھی طرح لکھا گیا ہے، زبردستی کی اداسیاں نہیں ٹھونسی گئی ہیں اور غیر ضروری قسم کی ہمدردیاں بھی نظر نہیں آتی ہیں۔ ونود کے ذریعے اچھے سوالات قائم کیے گئے ہیں، یعنی کنر(ک پر زیر اور ن پر تشدید) برادری کس طرح کے ظلم کا شکار ہورہی ہے اور اس میں سماج کے ساتھ ساتھ کس طرح ان سرداروں کے ظلم کا بھی ہاتھ ہے، جنہوں نے کنروں کو اپنے روزگار کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ ذلت کو ختم کرنے کی کوشش نہ کرنا اور اس کے بجائے اپنی کسمپرسی کو قبول کرلینا بھی ایک قسم کا جرم ہے۔

اس ناول نے ایک بات کی جانب اور دھیان دلایا، جو کہ ناول میں نظر نہیں آتی، بلکہ میرے خیال سے اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں ایسے افراد کے لیے الفاظ مشکل سے ملیں گے (یا شاید میرے علم میں نہیں) جن کا سینہ بھرا ہوا ہو اور وہ عضو تناسل بھی رکھتے ہوں، اس کے برعکس ایسے افراد کے لیے حقارت سے لبریز الفاظ موجود ہیں، جن کا عضو تناسل ہی نہ ہو۔ کنر لفظ پر اعتراض کرتے ہوئے ناول نگار نے ہندوستانی ذہنیت پر طنز کی گہری ضرب لگاتے ہوئے لکھا ہے کہ ہندوستان میں ہیجڑوں کے لیے کنر لفظ کا استعمال ہماچل پردیش والوں کو پسند نہیں، کیونکہ کنر، کنور سے تعلق رکھنے والے افراد کو کہا جاتا ہے، جو کہ ہماچل پردیش کے باسی ہیں۔

سوالات یہ بھی اہم ہیں کہ جب مردم شماری میں زنخوں کو بھی شامل کیا گیا تب ان کو شونیہ یعنی صفر کی علامت سے پہچانا گیا۔ ناول نگار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ جو لوگ ٹھیک مردوں ، عورتوں کی طرح کھاتے پیتے، زندگی بسر کرتے اور ہنستے بولتے، پڑھتے لکھتے ہیں صرف ایک عضو بدن پر ان کو حاشیے پر لے آنا یا انہیں زندگی سے باہر شونیہ کی معدوم ریکھا پر رکھ دینا کہاں تک مناسب ہے۔

چترا مدگل کے خلاف میں نے ایک دوست سے اعتراض سنا کہ وہ سخت گیر ہندو مذہبی افراد کی حامی ہیں، مگر یہ ناول اس اعتراض کی تردید کرتا ہے۔ ناول میں مذہب کو اول تو سیاست سے دور رکھنے کا صاف مشورہ دیا گیا ہے اور اس کے نقصانات پر بھی جہاں تک ممکن ہے زور ڈالا گیا ہے۔ چترا کے یہ الفاظ پہلے سن لیجیے۔

‘مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کا چارہ بنانا کسی بھی پارٹی کے لیے دنیا کا سب سے بڑا جرم ہے۔ بلکہ سیاسی پارٹیاں اپنے وجود کو بچانے کے لیے جب مذہب کی آڑ لیتی ہیں تو وہ خود حکومت نہیں کرتیں، مذہب حکومت کرتا ہے۔ ‘

ہم ہندو پاک دونوں جگہوں پر بلکہ شاید دنیا کے آج بہت سے ممالک میں اس جملے کی سچائی محسوس کرسکتے ہیں۔ ونود کی زندگی کو اگر اس ‘لنگ چکر’ یعنی جنسی پھیر سے نکال کر دیکھا جائے تو واقعی نہایت سادھارن زندگی ہے۔ وہ زندگی جہاں سب کچھ ممکن ہے۔ چترا نے کہانی کا حق ادا کیا ہے، مگر ان کی کہانی پتہ نہیں کیوں، مجھے جلدی ختم ہوتی ہوئی معلوم ہوئی، میں ابھی نہیں کہہ سکتا مگر محسوس کرسکتا ہوں کہ کچھ ایسے پہلو، جن پر مزید روشنی ڈالنے کی ضرورت تھی، چھوٹ گئے ہیں۔ خاص طور پر ونود کی تقریر والا حصہ، جو وہ زنخہ برادری کے سامنے کرتا ہے، نہایت کمزور ہے۔ انت بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں کرتا، ایسا لگتا ہے جیسے ناول نگار خط لکھتے لکھتے تھک گئی ہو۔ پونم کے ساتھ جنسی زیادتی والا واقعہ بھی کافی طویل ہوسکتا تھا، اس پر رد عمل کے طور پر دکھائے جانے والے تاثرات بھی بے حد ڈھیلے ہیں۔ مگر ناول مجھے ان تمام کمزوریوں کے باوجود پسند آیا ہے کہ یہ ایک اہم موضوع پر ہے، جس پر ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں بے حد کم لکھا گیا ہے، خاص طور پر اتنی سنجیدگی سے۔

سنتے ہیں کہ چترا مدگل کا ناول ‘آواں’ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ جلد ہی اسے پڑھا جائے گا۔ اب اس تبصرے پر اس جملے کے ساتھ تمت کی تمہت باندھتا ہوں کہ ہمارا سماج مل کر بھی جب کسی خاص جنس کے لیے ایک عزت دار لفظ نہ تراش سکے یا سیدھے سادے معنی رکھنے والے الفاظ کو گالی بنادے، تب سوچنا چاہیے کہ لفظ بدل دینے سے کیا مسئلہ حل ہوجائے گا یا صرف کوئی عزت دار لفظ ڈھونڈ لینے سے بات بن جائے گی؟ بدلا ہوا لفظ یا گڑھا ہوا نیا عزت دار لفظ گندی سوچ کے رہتے ، کب گالی میں تبدیل ہوجائے گا، پتہ بھی نہیں چلے گا۔ اس لیے سب سے زیادہ ضروری ہے سوچ کا تبدیل ہونا، سوچ بدل جائے تو لفظ کی کوئی بساط نہیں ہے۔ اور یار یہ مرد کو مرکزی نقطہ بنانے کا چکر بہت برا ہے، اس نظام کو بدلنا چاہیے کیونکہ اس کا شکار کہیں نہ کہیں خود مرد بھی ہے۔

آخر میں بتاتا چلوں کہ ایک دن اسامہ ذاکر سے بات ہورہی تھی، انہوں نے پوچھا اردو میں پروسٹیٹیوٹ کے لیے کون سے الفاظ ہیں۔ میں نے کسی کتاب کی مدد سے گنوانا شروع کیے، الفاظ تو سارے یاد نہیں، مگر انہیں کسبی کا لفظ پسند آیا تھا۔ طوائف میں مرد کے گرد چکر لگانے کا ایک غلامانہ تصور ہے، داشتہ میں بھی غلامی کے عنصر شامل ہیں، مگر کسبی، اپنی روزی کسب کرنے والی ایک عورت کے آزاد تصورسے وابستہ لفظ معلوم ہوتا ہے۔ مگر یہ لفظ دوسرے الفاظ کے مقابلے میں ایسا مشہور نہیں۔ وجہ وہی ہے کہ عورت کو بھولے سے بھی عزت نہ دو اور اگر دھوکہ دھڑی سے لفظوں کی محفل میں ایسا کوئی لفظ چپکے سے آبیٹھے تو اسے یوں نظر انداز کرو گویا وہ وہاں موجود ہی نہیں ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •