ہزار داستان: ریاض شاہد کا ایک عمدہ ناول

اجمل کمال کے توسط سے اب تک ہم نے دنیا بھر کی دوسری زبانوں کے نئے پرانے ناول تو پڑھے ہی ہیں، ساتھ ہی اردو کے بھی کچھ ایسے اہم ناول انہوں نے بازیاب کروائے ہیں، جن تک شاید اتنی آسانی سے ہماری نظر نہ پہنچتی۔ آج کے نئے شمارے میں شامل ریاض شاہد کا یہ ناول بھی ایک ایسا ہی فکشن پارہ ہے، جو ان تک محمودالحسن کے ذریعے پہنچا۔ ناول کے تعلق سے کچھ اہم باتیں خود اجمل

Read more

ذوالفقار عادل سے ملاقات

گزشتہ برس میرے دبئی جانے کا جب راستہ بنا تو میں طارق فیضی کا دو سبب سے شکر گزار تھا۔ یہ دو اسباب اصل میں دو افراد تھے، جن سے ملنے کے خیال سے میں خوش تھا۔ ذوالفقار عادل اور انعام ندیم۔ انعام ندیم سے اس سے پہلے میں اس قدر واقف نہیں تھا، یہ جانتا تھا کہ وہ شعر کہتے ہیں، تراجم کرتے ہیں اور ایک دفعہ ادبی دنیا پر صغیر ملال کی ایک کتاب اپلوڈ کرنے کے سلسلے

Read more

دوسرے مذہب میں شادی کے سوال پر

بعض اوقات ایسے واقعات سننے میں آتے ہیں کہ کوئی مسلمان لڑکا یا لڑکی کسی شخص سے محبت کرکے شادی کرنے کے لیے پہلی شرط یہ رکھ دیتے ہیں کہ سامنے موجود شخص کو اپنا مذہب بدل کر مسلمان ہونا ہوگا۔  ایسا نہیں ہے کہ ہمیشہ ہی ایسا ہوتا ہو، مگر ایسا ہوتا ضرور ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس طرح کی  کوششیں ہمارے معاشرے میں عام ہیں اور ‘لو جہاد’ اور ‘جبری مذہب بدلوانے ‘ کے

Read more

ابرار احمد سے دس سوالات

ابرار احمد ایک سنجیدہ شاعر ہیں، وہ نظم بھی بہت اچھی لکھتے ہیں اور غزل بھی۔ان کی ایک نظم پر مجھے یاد ہے کہ حاشیہ پر زور دار مکالمہ قائم ہوا تھا۔میں نے اس سے بھی بہت پہلے ان کی شاعری پڑھی تھی، اور ہمیشہ پسند کی۔ان کے یہاں شاعری ایک بہترین رومانی لہجہ اوڑھے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ان کے دو شعری مجموعے آخری دن سے پہلے اور غفلت کے برابر شائع ہوئے ہیں۔ان سے فون پر بھی گفتگو ہوئی

Read more

عقیدت کی نفسیات

عید کا دوسرا روز تھا، میں اپنے محلے میں ایک دوست کے ساتھ یونہی سیر کو نکلا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ سڑک کنارے، کھمبوں کے آس پاس، کوڑا گھر پر لدے ہوئے یا پھر کونوں میں دبے ہوئے بہت سے سفید و سیاہ بورے رکھے ہوئے ہیں، ان سے تعفن اٹھ رہا ہے، سڑکیں کیچڑ سے بھری ہوئی ہیں۔ پوری سڑک ایک ایسی بو میں لپٹی ہوئی ہے کہ سانس لینا دوبھر ہورہا ہے اور یہ صرف ایک سڑک کا

Read more

میں ایک عورت دشمن شاعر رہا ہوں

حالی نے انیسویں صدی کے آخر یا بیسویں صدی کی ابتدا میں اپنے دیوان میں غزلوں کو جدید اور قدیم جیسے دو حصوں میں بانٹا تھا۔ اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ شاعری میں ہونے والی تبدیلیوں کو وہ نمایاں کرسکیں۔ یہ کون نہیں جانتا کہ حالی نے ایسی شاعری کی مخالفت کی تھی، جس میں شاعری کے نام پر عورت یا محبوب کو لے کر ابتذال کی حد کردی گئی تھی۔ ان کی تنقید میں ایک قسم

Read more

بھارت میں کیا ہو رہا ہے؟

ایک ایسے ملک میں رہنے کا تجربہ کیسا ہے، جہاں ہسپتالوں، سکولوں یا قبرستانوں یا شمشانوں کے مقابلے میں کئی گنا مندر اور مسجد ہیں۔ کم از کم میں جس علاقے میں رہتا ہوں، وہاں سو ڈیڑھ سو مساجد ہیں اور ڈھنگ کے ہسپتال شاید دو یا تین ہیں۔ جن میں سے غریبوں کے لیے شاید ایک میں بھی کچھ دنوں کے لیے بھرتی ہونا مشکل ہوگا۔ ابھی بیس بائیس دن پہلے میری امی کی طبیعت اچانک بگڑ گئی، انہیں

Read more

ماضی سے کٹی ہوئی دنیا کا مستقبل اور یوکو اوگاوا کا ناول

چینی مصنف یان لیانکے کا ایک دلچسپ مضمون کورونا کال کے دوران ہی سامنے آیا۔ وہ دراصل ان کا ایک ای لیکچر تھا، جس میں انہوں نے یادداشتوں کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ اسی مضمون میں کچھ چینی مصنفین کے حوالے بھی تھے۔ لوہ شُن کی دو کہانیوں کا ذکر تھا۔ میں نے وہ دو کہانیاں تو نہیں پڑھیں۔ البتہ مجھے ظ انصاری کی ترجمہ کردہ ان کی ایک کہانی ’ایک پاگل کی ڈائری‘ مل گئی تھی۔ اس میں

Read more

سریندر ورما کا ناول: ’دو مردوں کے لیے گلدستہ‘

’لالچ ایک مقدس جذبہ ہے۔‘ جینت کا یہ جملہ شہر کی زندگی کا معیار ہے۔ اخلاقی طور پر یہ بات تھوڑی عجیب معلوم ہو سکتی ہے مگر سچ یہی ہے کہ کچھ اور پانے کی جستجو کا ہی دوسرا نام شہری زندگی ہے۔ سریندر ورما کا پورا ناول اسی حقیقت کے آس پاس گھومتا ہے۔ سب سے پہلے آپ کو کہانی سے متعارف کروا دیتا ہوں۔ رامجس کالج میں صدر شعبہ ڈاکٹر شرما کا چہیتا طالب علم نیل، ایم اے

Read more

میں نے منٹو سے کیا سیکھا؟

چیخوف کے بارے میں یہ بات اردو کے ایک رائٹر محمد مجیب نے کہی تھی کہ اس کا دل بہت بڑا تھا، وہ انسانیت کے تمام گناہوں کو معاف کرسکتا تھا۔ منٹو کے بارے میں بھی عین یہی بات کہی جا سکتی ہے۔ آپ کہیں گے کہ رائٹر گناہوں کو معاف کرنے کا ٹھیکیدار ہے کیا؟ میرے خیال میں منٹو سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، بلکہ ہر اس بات کا ٹھیکہ لینے کی بھی، جس کے لیے یار

Read more

لڑکیو! دروازہ بند کر دو

چے گویرا کی ماں کے بارے میں لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ خود ایک باغی عورت تھیں۔ انہوں نے اپنی جوانی میں نہ صرف اس وقت ڈرائیونگ کی، جب لڑکیوں، عورتوں کا گاڑی چلانا ممنوع تھا بلکہ اس وی آئی پی روڈ پر بائک لے کر چلی گئیں جہاں سرے سے گاڑی چلانے پر ہی پابندی تھی۔ زندگی میں وہ کام جو منع ہیں، ہمیشہ لطف کی خاطر ہی نہیں کیے جاتے بلکہ کئی دفعہ اپنے وجود کے اثبات

Read more

بے غیرت تصنیف حیدر

ابھی دو دن بھی نہیں گزرے کہ مجھ پر ایک نئی بدنامی کا دور آیا۔ مگر اس بدنامی کے لیے جن صاحب نے بھی چھوٹی موٹی کہانی لکھی، وہ میری بے غیرتی کی توصیف میں بے حد ادھوری ہے۔ مجھے اسے پڑھ کر خود ہی مزا نہیں آیا تو دوسروں کو کیا خاک آیا ہوگا۔ برائی تو ایسی ہونی چاہیے کہ پڑھنے والا تحریر کے ایک ایک رونگٹے سے نفرت کرے۔ پیراگراف کی کلائیاں مروڑے، بیچ بیچ میں ابکائیاں لے

Read more

 ہم جنسیت کا سوال اور عام تعصب کی نفسیات

پچھلے دنوں ہمارے ایک دوست نے سوال کردیا کہ بھائی! یہ ہم جنسیت اگر عام ہو جائے اور اس کا جواز اس بات کو بنا لیا جائے کہ ایک انسان اپنی فطرت سے مجبور ہے اور وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے، اس سے اسے روکنا انسانی اخلاقیات کے خلاف ہے تو کیا غیر قدرتی جنسی رشتوں کی باڑھ نہیں آجائے گی؟ کیا ایسا نہیں ہوگا کہ لوگ پھر اپنے جانوروں کے ساتھ جنسی رشتے بنائیں گےاور اس عمل کا

Read more

آدمی کی ذات، ہجر کا غم اور شاہد بھائی کا چکن سوپ

کوئی کہے کہ زندگی بڑی بے رنگ ہے، اس میں لاکھوں دکھ ہیں، پریشانیاں اور تباہیاں ہیں۔ مگر ان سب کے باوجود کمبخت حسین ہے۔ اس قدر سفاک حسین کہ یہاں تو کبھی کبھی دکھے ہوئے دل سے اٹھنے والے دھویں کا رنگ بھی جمالیاتی سطح پر اتنا منفرد ہوتا ہے کہ دیکھنے والی آنکھ ہو تو اپنے ہی غموں پہ واری جائے۔ میرا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ میں چپ نہیں بیٹھتا، لوگ بیٹھتے ہیں، دلوں میں

Read more

ایک بے حساب عمر کا خاکہ۔۔۔ میرا کفر جس کے ضبط سے جیت نہ سکا

میں ابھی اتنی عمر میں ہی جب کبھی خود کو غور سے دیکھتا ہوں تو مجھ میں ایک بوڑھا، تنک مزاج اور مغرور شخص غوطے لگاتا محسوس ہوتا ہے۔ لوگوں کی بے تکی باتوں پر مجھے جلد غصہ آجاتا ہے، میں انہیں جہالت کے فتوے بانٹتا ہوں اور اپنی تنہائی پسندی پر اتنا مسرور اور مصر رہتا ہوں کہ اس ہالے میں اکثر خود کو خدا سمجھنے سے بھی نہیں چوکتا، وہی خدا جس کا انکار کرتے میری زبان نہیں

Read more

ضمیر کی پاتال اور فلک کی نارسائی

زندگی ان دنوں ٹین کے ایک بوسیدہ صندوق جیسی ہوتی جارہی تھی۔ خوابوں کے کمروں میں جالے لگے تھے اور خواہشیں تو ایسی گل سڑ چکی تھیں، گویا ان سے پھپھوندیں پھوٹ رہی ہوں۔ یہ برسات ہونے سے پہلے کے دن تھے، امس ایسی کہ مساموں سے پسینہ اس طرح نکلتا تھا جس طرح کوڑھیوں کے دانوں سے پیپ بہہ رہا ہو۔ بار بار پانی کی طلب ہوتی کیونکہ گلا سوکھی ٹٹر زمین کی طرح کھردرا معلوم ہوتا۔ میں اپنے

Read more

ادب، سیکولر ازم اور صبا حسین

گوگول کی مشہور کہانی ’اوورکوٹ‘ کا بھوت جس اجتماعی احساس جرم کا استعارہ ہے، اسی سے میری اور آپ کی کہانی بھی پھوٹتی ہے۔ دیکھا جائے تو ہم سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں، ایک ہی طرح کے لوگ، ایک ہی طرح ردعمل دینے والے اور ایک ہی انداز سے چہروں پر مختلف چہرے لگانے والے۔ مگر اندر سے ہم جانتے ہیں کہ ہماری کمینگیاں کتنی گہری اور ہمیں ہی تکلیف پہنچانے والی ہیں۔ مجھے فحش شاعری کا

Read more

آشا بھابھی کی کھڑکی

ایک عام سی تنگ گلی میں یہ جو چھجے پر ہرے، نیلے، کالے، پیلے کپڑے سوکھ رہے ہیں، یہ آشا بھابھی کے ہیں۔ آشا بھابھی اس محلے میں پچھلے کئی برسوں سے رہ رہی ہیں۔ سردی، گرمی، برسات ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پڑوسی ان سے بات نہیں کرتے، ہنستے بستے لوگوں سے لے کر روتے بسورتوں تک وہ سب کے لیے ایک خوفناک شخصیت ہیں۔ نہیں، بدصورت نہیں ہیں۔ یہ دیکھیے، یہ جو لکڑی کے دو پٹ آپس

Read more

چونی چھاپ مشاعرے کی روداد

اور ایک دوست نے یونہی سا سوال پوچھ لیا کہ آپ مشاعرے میں کیوں نہیں جاتے؟ میں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ بالکل نہیں جاتا مگر جن ادبی و شعری محفلوں میں میں جاتا ہوں، انہیں مشاعرہ کہا جاسکتا ہے یا نہیں، اس پر ضرور سوالیہ نشان قائم ہوسکتا ہے۔ یہ سب باتیں تو سبھی کرتے ہیں کہ اب مشاعرہ ایک انڈسٹری ہے یا اس میں خراب شاعر وغیرہ شامل ہوتے ہیں، آج میں ان سے بھی کچھ الگ

Read more

ایک خود رو پھول کا مشاہدہ، مرد کا دماغ اور کوشل کی بیوی

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہوچکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔ بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔ یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔ بہت زیادہ تھک جانے کے باعث نیند بہت دیر تک نہیں آئی، شاید جس وقت میری آنکھ لگی اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے ہوں گے، صبح جب آنکھ

Read more

میں غزل کے خلاف نہیں ہوں

غزل کے بارے میں بات کرتے وقت سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ غزل کا مطالعہ بحیثیت مجموعی ہمیں کیا دیتا ہے۔ ہم اس زمانے سے کچھ باہر نکل آئے ہیں، جہاں استاد اپنے شاگردوں کو دو سو، پانچ سو غزلیں یاد کرنے کے لیے دیا کرتے تھے۔ ان غزلوں کو یادکروانے کا مقصد زبان کے ساتھ ساتھ غزل کے اصولوں کو گھول کر شاگرد کے ذہن و دل میں اتاردینا ہوتا تھا، مگر چند شاعروں

Read more

درمیانی جنس، عورت اور چترا مدگل کا ناول ‘پوسٹ باکس نمبر 203 نالا سوپارہ’

اردو کی ایک خرابی یہ ہے کہ جب تک اعراب نہ لگائیں جائیں، دوسری زبانوں کا صحیح تلفظ ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اعراب ہندی کی ماترائوں کی طرح حرفوں سے گھلی ملی ہوئی بھی نہیں ہیں۔ خیر، اس پرانی بری عادت کا رونا کیا رویا جائے، پہلے چترا مدگل کے نام کا تلفظ سمجھ لیجیے، چ کے نیچے زیر ہے، م کے اوپر پیش اور گ کے اوپر زبر۔ چترا مدگل کے اس ناول کو دوہزار اٹھارہ میں ساہیتہ اکادمی

Read more

میرا آخری اردو مضمون

یہ میرا اردو زبان میں آخری مضمون ہے۔ آخری اس لیے کیونکہ اب میں اس زبان میں کچھ بھی لکھنے پر خود کو آمادہ نہیں پاتا ہوں۔ میری آنکھ جن کتابوں کے درمیان کھلی تھی وہ زیادہ تر اردو کی تھیں۔ میں نے جس سکول میں داخلہ لیا وہ اردو کا تھا اور جن لوگوں سے ابتدا میں ملنا جلنا رہا وہ اردو بولنے والے معاشرے کا حصہ تھے۔ اس لیے یہ زبان میرے لہو میں ایسی رچ بس گئی

Read more

انگریزی علیہ السلام کی امت

کبھی آپ کی ملاقات فر فر انگریزی بولنے والے کسی شخص سے ہوئی ہے۔ ایسا شخص جس کو دیکھ کر یہ تاثر پیدا ہو کہ یہ شخص پڑھا لکھا ہے، اگر آپ پر ایسا کوئی تاثر پیدا ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ احساس کمتری کا شکار ہیں اور اپنے علم اور اپنی انگریزی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ رشتہ لگانے والی ایک ماما گھروں پر گھوم گھوم کر اکثر یہ اعلان کرتی ہیں

Read more

ششانک شکلا: بازدید

عام طور پر جب کوئی موت کا ذکر کرتا ہے تو انسان کا رد عمل بہت حیرت میں ڈوبا ہوا نہیں ہوتا۔ موت سے ہماری شناسائی اتنی پرانی ہے کہ ہم اس کے ذکر پر ذرا بھی نہیں چونکتے، ہم نے اسے زندگی کی ہی طرح کائنات کا ایک ضروری حصہ تسلیم کر لیا ہے۔ یعنی زندگی ہے تو موت ہے، جیسے سکھ ہے تو دکھ ہے، مگر پھر کیوں یہ بات کبھی کبھی اتنی ناقابل قبول ہوجاتی ہے کہ

Read more

کیا ہمارا معاشرہ مذہبی ہے ؟

میں کچھ ایسا مذہبی انسان نہیں ہوں۔ میں ایسا کیوں ہوں، اس پر اکثر بات کرتا رہتا ہوں۔ مگر سوچتا ہوں کہ میری نظروں کے سامنے اس وقت جتنے خطرناک معاشرے اور قاتل اقوام ہیں، کیا یہ سب بھی مذہبی ہیں۔ مذہب سے میری بے گانگی محض ان چھوٹی چھوٹی بنیادوں پر نہیں کہ اس نے عورت کو کتنے حقوق دیے یا نہیں، وہ انسان کو عبادات کے پھیرے میں باندھتا ہے، خدا کا وجود ہے یا نہیں۔ان سوالات سے

Read more

اور جب لکھنوی تہذیب سے پردہ اٹھتا ہے…

یہ بات کس سے چھپی ہے کہ حکومت جس کی رہی, وہ کمینہ رہا ہے۔ نظام حکومت آمرانہ ہو یا جمہوری۔ ایک میں دھاندلی کے ساتھ اور دوسرے میں عوام کو بے وقوف بنا کر، ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر، مختلف رنگ کی پٹیاں پہنا کر محکوم افراد کو لوٹا جاتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کم از کم ایک فریب کی حقیقت دماغوں پر روشن کر دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی بھی زمین، کسی بھی

Read more