آدمی کی ذات، ہجر کا غم اور شاہد بھائی کا چکن سوپ

کوئی کہے کہ زندگی بڑی بے رنگ ہے، اس میں لاکھوں دکھ ہیں، پریشانیاں اور تباہیاں ہیں۔ مگر ان سب کے باوجود کمبخت حسین ہے۔ اس قدر سفاک حسین کہ یہاں تو کبھی کبھی دکھے ہوئے دل سے اٹھنے والے دھویں کا رنگ بھی جمالیاتی سطح پر اتنا منفرد ہوتا ہے کہ دیکھنے والی آنکھ…

Read more

ایک بے حساب عمر کا خاکہ۔۔۔ میرا کفر جس کے ضبط سے جیت نہ سکا

میں ابھی اتنی عمر میں ہی جب کبھی خود کو غور سے دیکھتا ہوں تو مجھ میں ایک بوڑھا، تنک مزاج اور مغرور شخص غوطے لگاتا محسوس ہوتا ہے۔ لوگوں کی بے تکی باتوں پر مجھے جلد غصہ آجاتا ہے، میں انہیں جہالت کے فتوے بانٹتا ہوں اور اپنی تنہائی پسندی پر اتنا مسرور اور…

Read more

عقیدت کی نفسیات

عید کا دوسرا روز تھا، میں اپنے محلے میں ایک دوست کے ساتھ یونہی سیر کو نکلا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ سڑک کنارے، کھمبوں کے آس پاس، کوڑا گھر پر لدے ہوئے یا پھر کونوں میں دبے ہوئے بہت سے سفید و سیاہ بورے رکھے ہوئے ہیں، ان سے تعفن اٹھ رہا ہے، سڑکیں کیچڑ…

Read more

ضمیر کی پاتال اور فلک کی نارسائی

زندگی ان دنوں ٹین کے ایک بوسیدہ صندوق جیسی ہوتی جارہی تھی۔ خوابوں کے کمروں میں جالے لگے تھے اور خواہشیں تو ایسی گل سڑ چکی تھیں، گویا ان سے پھپھوندیں پھوٹ رہی ہوں۔ یہ برسات ہونے سے پہلے کے دن تھے، امس ایسی کہ مساموں سے پسینہ اس طرح نکلتا تھا جس طرح کوڑھیوں…

Read more

ادب، سیکولر ازم اور صبا حسین

گوگول کی مشہور کہانی ’اوورکوٹ‘ کا بھوت جس اجتماعی احساس جرم کا استعارہ ہے، اسی سے میری اور آپ کی کہانی بھی پھوٹتی ہے۔ دیکھا جائے تو ہم سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں، ایک ہی طرح کے لوگ، ایک ہی طرح ردعمل دینے والے اور ایک ہی انداز سے چہروں پر مختلف…

Read more

آشا بھابھی کی کھڑکی

ایک عام سی تنگ گلی میں یہ جو چھجے پر ہرے، نیلے، کالے، پیلے کپڑے سوکھ رہے ہیں، یہ آشا بھابھی کے ہیں۔ آشا بھابھی اس محلے میں پچھلے کئی برسوں سے رہ رہی ہیں۔ سردی، گرمی، برسات ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پڑوسی ان سے بات نہیں کرتے، ہنستے بستے لوگوں سے لے…

Read more

چونی چھاپ مشاعرے کی روداد

اور ایک دوست نے یونہی سا سوال پوچھ لیا کہ آپ مشاعرے میں کیوں نہیں جاتے؟ میں نے کہا کہ ایسا نہیں کہ بالکل نہیں جاتا مگر جن ادبی و شعری محفلوں میں میں جاتا ہوں، انہیں مشاعرہ کہا جاسکتا ہے یا نہیں، اس پر ضرور سوالیہ نشان قائم ہوسکتا ہے۔ یہ سب باتیں تو…

Read more

ایک خود رو پھول کا مشاہدہ، مرد کا دماغ اور کوشل کی بیوی

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہوچکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔ بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔ یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔ بہت زیادہ تھک جانے کے…

Read more

میں غزل کے خلاف نہیں ہوں

غزل کے بارے میں بات کرتے وقت سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ غزل کا مطالعہ بحیثیت مجموعی ہمیں کیا دیتا ہے۔ ہم اس زمانے سے کچھ باہر نکل آئے ہیں، جہاں استاد اپنے شاگردوں کو دو سو، پانچ سو غزلیں یاد کرنے کے لیے دیا کرتے تھے۔ ان غزلوں کو…

Read more

درمیانی جنس، عورت اور چترا مدگل کا ناول ‘پوسٹ باکس نمبر 203 نالا سوپارہ’

اردو کی ایک خرابی یہ ہے کہ جب تک اعراب نہ لگائیں جائیں، دوسری زبانوں کا صحیح تلفظ ادا نہیں کیا جاسکتا۔ اعراب ہندی کی ماترائوں کی طرح حرفوں سے گھلی ملی ہوئی بھی نہیں ہیں۔ خیر، اس پرانی بری عادت کا رونا کیا رویا جائے، پہلے چترا مدگل کے نام کا تلفظ سمجھ لیجیے،…

Read more