پولیس کو جدید اور مؤثر بنانے کا منصوبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 124
  •  

نئے چیلنجز ’ٹیکنالوجی‘ معاشی اور سیاسی ترقی کے نئے تناظر ’عوام کی امن وامان سے وابستہ امیدوں کے لیے ایماندار‘ قابل ’پیشہ ور اور عوام دوست پولیس کے لیے محکمہ پولیس میں اصلاحات بہت ضروری ہیں۔ اصلاحات کی ضرورت تو ہمیشہ سے رہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ترمیم بھی ہوتی رہی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب محکمہ پولیس، معاشرے میں جرائم کی روک تھام کرنے والا پہلا مؤثر ادارہ بن کے ابھرے گا۔ 22 کروڑ آبادی پر مشتمل پاکستان آزادی سے لے کر اب تک برطانوی نو آبادیاتی نظام پر چل رہا ہے۔

ملک کی پولیس ابھی تک 1861 کے بنائے ہوئے پولیس ایکٹ کے تحت کام کر رہی ہے جو کہ کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق انڈیا کے اندر بڑھتی ہوئی بغاوت یا 1857 کی جنگ میں سر کشوں کو کچلنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ 1861 سے لے کر 1902 تک پولیس اصلاحات پر صرف ایک جامع رپورٹ مرتب ہوئی جسے فریزر کمیشن رپورٹ کہتے ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک پولیس ریفارمز پر 26 مختلف کمیشن اور کمیٹیز بن چکی ہیں۔ جن میں سے سب سے اہم 1885 کی پولیس کمیشن رپورٹ ہے جو کہ پولیس آرڈیننس 2002 کے قیام کا باعث بنی۔

ان اصلاحات کے حوالے سے کچھ سوالات ہیں

کیا ان اصلاحات کی ضرورت ہے؟ اصلاحات کے لیے کون سے عملی اقدام کیے گئے؟ کیا اصلاحات کے لیے یہ صحیح وقت ہے؟ کیا اس سے لا اینڈ آڈر کی صورتحال بہتر ہوگی یا مذید ابتر ہو جائے گی؟ POG 2002 کے مقاصد حاصل ہوں گے؟ یا پولیس کا محکمہ جرائم کی روک تھام اور عوام کو امن و امان فراہم کرنے میں مزید ناکام ہو جائے گا؟ کیا ان اصلاحات کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا گیا یا مالی امداد اور ٹیکنیکل امداد سے محروم رکھا گیا؟

کیا ہمیں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے یا 1861 کا نوآبادیاتی قانون ہی کافی ہے؟ ہمارے پاس ان سوالوں کا کوئی واضح جواب نہیں۔ ہم سسٹم بہتر نہیں کرتے اور نہ ہی ہم عملے اور عوام کی تربیت کرتے ہیں، جو کہ ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ غیر یقینی کی سی صورتحال ہے، یہ صورتحال تحقیق کنندگان پر کڑی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ اس سے نکلنے کے لیے کوئی حل تلاش کریں۔

مقاصد

1) سیکشن crpc۔ 154 میں ترمیم
2) رول آف پراسیکیوشن سیکش 173، crpc
3) پولیس رولز 1934 کی جدید طرز پر اصلاح

4) سیکشن 174 اور پولیس رولز کے رول 25.36 کے تحت پنجاب فرانزک اور سائنس ایجنسی کو پوسٹ مارٹم کا اختیار دینا۔
5) پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی نادرہ تک رسائی۔
6) پراسیکیوشن کے کوڈ آف کنڈکٹ میں بہتری۔

اصلاحات

1) QR کوڈ کے ساتھ آن لائن ایف آئی آر۔
2) ضلعی پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے ریجنل پولیس افسر کو بھیجی جانے والی ناقص تفتیش کی بہتری۔
3) پراسیکیوٹر کی موزونیت جانچنے کے لئے ایک سال کے لئے آزمائشی تقرری۔
4) پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پراسیکیوٹر کی بھرتی۔

اس کے علاوہ پولیس افسر اور پراسیکیوٹر کی بہتر اور موثر تربیت، تربیت کے لیے الگ بجٹ کی مختصی، نئی بھرتی کے لئے بجٹ میں اضافہ، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے زیرِ اہتمام پراسیکوٹر اور تفتیشی افسران کے لئے لازمی تربیتی کورسز، فرانزک آلات کی ہسپتالوں میں فراہمی اہم ہیں۔ یہ اصلاحات پولیس کی کارگردگی اور مقدمہ چلانے کے طریقہ پربراہِ راست اثر انداز ہوں گی۔

ہم لاہور کو پہلا سمارٹ پولیسنگ شہر بنا سکتے ہے ’حکومت نے لاہور میں سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت ہزار ہا کیمرے لگا دیے ہیں، تمام کیمرے کو پولیس اسٹیشنوں کے ساتھ منسلک کر دیں‘ شہر میں کوئی شخص جرم کے بعد ان کیمروں سے نہیں بچ سکے گا۔

پولیس فنڈز کی فراہمی اور بجٹ میں اضافہ

فنڈز کی بوقت ضرورت فراہمی بہت اہم ہے۔ تفتیش کے دوران آنے والے اخراجات میں اضافہ کرکے بین لاقوامی یو این سٹینڈرڈ 450 : 1 کے مطابق کیا جائے تا کہ تفتیشی عمل کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انوسٹٹیگیشن کے لیے پنجاب پولیس کا موجودہ سالانہ بجٹ 0.79 بلین یو ایس ڈالرہے جو کہ ٹوٹل بجٹ کا 06 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ 80.13 فیصد الاؤنس کے لیے ’7.57 فیصد فیول چاجز اور 10.22 فیصد مختلف اخراجات کے لیے۔

کریمینل پروسیجر 1898 سیکشن 154 میں ترمیم

سیکشن 154 cr pc کے تحت ایف آئی آر کی رجسٹری کے بعد پولیس صرف ٹھوس بنیاد پر ایکشن لے گی۔
سیکشن 154 کی اس طرز پر ترمیم کہ ایف آئی آر کی رجسٹری کے بعد صرف ٹھوس بنیادوں پر ایکشن ہوگا۔

رول آف پراسیکیوشن سیکشن 173 crpc

موجودہ سسٹم کی خرابی کی ذمہ داری رپورٹ کی سیکشن 173 crpc کی بنیاد پر تاخیر۔

سیکشن 173 crpc میں اس حد تک ترمیم کی جائے کہ رپورٹ کے اندراج کے لیے وقت مل سکے۔ کیونکہ تفتیش کا عمل خاصہ پیچیدہ ہوتا ہے اور اکثر کے لئے فرانزک رپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس کا 14 دنوں میں حصول ممکن نہیں ہوتا۔

سیکشن 173 crpc کے تحت رپورٹ کے اندراج کے لیے چار ہفتے کا وقت ضروری ہے۔

پنجاب کریمینل پراسیکیوشن سروس ایکٹ 2006 اور سندھ کریمینل پراسیکیوشن سروس ایکٹ 2009 کی سیکشن 173 crpc کے ساتھ ترمیم۔ اگر پولیس رپورٹ میں موجود خامی تلاش کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر RPO کو شکایت کرنے کا مجاز ہوگا۔ RPO پولیس ترمیمی رول 1934 کے مطابق اس کو تفتیش کرے گا اور تفتیشی افسر کے خلاف ایکشن لے گا۔

اگر سیکشن 173 crpc کے تحت رپورٹ کا بروقت اندراج، یا پولیس کی طرف سے معلومات کی عدم فراہمی یا گواہان کی عدم موجودگی ہو تو RPO یا ضلعی پبلک پراسیکیوٹر شکایت سننے کے پابند ہیں۔

ایف آ ئی آر کا مقصد فوری گرفتاری نہیں ہے کسی ثبوت کے بغیر گرفتاری عمل میں نہیں لائی جائے گی۔

اس کی مثال ہم ڈی پی او حیدر علی کے کیس سے لیتے ہیں جہاں سپریم کورٹ نے کم از کم پندرہ ڈائریکشن شامل کیں مگر ثبوت کے بغیر کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ اگر ثبوت کے بغیر ایسی کوئی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے تو پولیس افسر ہرجانہ ادا کرنے کا پابند ہو گا۔

کسی بھی شخص کو ثبوت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

پولیس رولز 1934

تفتیش کا موجودہ عمل کافی پرانا ہے اور اسے جدید طرز پر اسطوار کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس رول 1934 میں ترمیم کی ضرورت ہے خاص طور پر پولیس رول کے باب xxv کو، جس میں تفتیش کا عمل درج ہے۔ xxv باب میں جو رولز ہیں انہیں اس طرز پر اپ ڈیٹ کیا جائے کہ فرانزک سائنس کی اہمیت اجاگر ہو۔ مثال کے طور پر پولیس تصاویر اور ویڈیوز کو ثبوت کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔

سماعت کے لئے گواہان پر انحصار

قانون شہادت آڈر 1984 کے مطابق کسی کیس کی پیروی کے لیے ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ زمانے میں مقدمہ کی پیروی کے لیے عدالت میں گواہان پر انحصار خاصی اہمیت نہیں رکھتا۔
قانون شہادت آڈر 1984 میں ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ دستاویزات کو مؤثر بنایا جا سکے۔

قانونی مددگار کے عہدے کا قیام

موجودہ نظام اس قابل نہیں کہ وہ آئینی مینڈیٹ کے مطابق کام کر سکے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہمیں لیگل ایڈ اتھارٹی کے قیام کی ضرورت ہے۔

پبلک ڈفینڈر اور لیگل ایڈ آفس آرڈیننس 2007 میں اضافہ

لیگل ایڈ آفس کی غیر فعالی کے پیش نظر وفا قی اور صوبائی سطح پر آرڈیننس میں اضافہ کی ضرورت ہے۔

اب ہم آتے ہیں پو سٹینگز کے حل کی طرف ’پاکستان کی تمام فیلڈ پوسٹنگز تین سال کے لیے کر دی جائیں‘ یہ قانون اگر پہلے سے موجود ہے تو اس پر سختی سے عمل کیا جائے ’ان تین برسوں میں کوئی سینئر یا کوئی سیاستدان کسی افسر کو اس کی جگہ سے نہ ہٹا سکے‘ اگر کوئی افسر مس کنڈکٹ کا مرتکب ہویا قانون کی خلاف ورزی کرے ’یہ کسی کو فیور دے یا کسی کو بلاجواز نقصان پہنچائے تو محکمہ اس کا کیس اسپیشل باڈی کو بھیج دے۔

پولیس معاشرے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے اہم ادارہ ہے پولیس کو با اختیار بنانے کی ضرورت ہے، بھرتیوں کو شفاف اور کسی سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس اہلکار وں کے لئے ڈیوٹی اوقات کی منصوبہ بندی متعارف کرائی جائے۔ جہاں انہیں با آسانی شفٹوں میں بنیادی سہولت فراہم کی جائے اور ان کے خاندان کو سماجی فوائد جیسے صحت اور تعلیم فراہم کی جائے آخر میں، پولیس کو عوام دوست اور نرم مزا ج رویہ اپنا نے کی تربیت دی جانی چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 124
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں