کیا سرفراز احمد کی چھٹی ہونے والی ہے؟


دورہ جنوبی افریقہ کسی بھی ٹیم کے لئے آسان نہیں ہوتا، خاص کر پاکستان کے لئے تو یہ دورہ کبھی بھی آسان نہیں رہا۔ بڑے بڑے تیس مار خان جنوبی افریقہ گئے اور خالی ہاتھ واپس آئے۔ ایسے میں سرفراز کی ٹیم سے امیدیں رکھنا ٹھیک بھی نہیں تھا، دیار غیر اڑان بھرنے سے پہلے ہی سرفراز کو نتائج کا علم تھا یا یوں کہیں خطرے کی بو آگئی تھی۔ سرفراز جاتے جاتے اشارہ دے گئے تھے کہ ”اگر پرفارمنس نہ دی تو مجھے ہٹا دیا جائے گا“ اضافی وکٹ کیپر، ایک آل راؤنڈر جو کوچ کی نظر میں ”ریلوکٹا“ ہیں اور تین زخمی کھلاڑیوں کا بوجھ لئے پاکستان کی سولہ رکنی ٹیم جنوبی افریقہ پہنچی۔

سنچورین میں ٹیسٹ شروع ہوا تو پہلے ہی سیشن میں بلے بازوں نے رنگ دکھا دیے۔ تیز اور باؤنسی پچز پر رسوائی کی داستان رقم ہوگئی، ہمیشہ کی طرح پاکستان نے ایک غیر معروف فاسٹ بالر اولیوئیر کو اسٹار بنا دیا۔ بیٹنگ لائن بری طرح ناکام ہوئی تو ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے سنیئر کھلاڑیوں پر چڑھائی کردی۔ اظہرعلی، اسد شفیق اور کپتان سرفراز احمد کو غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر انگریزی میں سنہرے لفظ بھی سنائے۔ ویسے مکی آرتھر کا غصہ جائز تھا لیکن شاید ٹائمنگ ٹھیک نہیں تھی، میچ کے بیچ میں کھلاڑیوں کو برا بھلا کہنے پر ہیڈ کوچ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

پی سی بی نے اگلے روز سب ٹھیک ہے کا بیان جاری کیا۔ لیکن بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے کوچ اور سنیئر کھلاڑیوں میں اختلافات کی تصدیق کردی۔ مکی آرتھر دوسرے ٹیسٹ سے اسد شفیق کو ڈراپ کرنا چاہتے تھے لیکن سرفراز نے کوچ کا فیصلہ ماننے سے انکار کردیا۔ کیپ ٹاؤن میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں بھی بیٹنگ لائن نے وہی کہانی دہرائی۔ سرفراز احمد نے نصف سنچری بناکر خود کو بچالیا لیکن ٹیم کو ہزیمت سے نہیں بچا پائے۔ جس وکٹ پر جنوبی افریقی کا کھیلنا ناممکن تھا وہاں پاکستانی بالرز بے بس نظرآئے۔

ناقص بالنگ کی وجہ سے پاکستان میچ ہار گیا۔ سرفراز احمد نے اس بار شکست کی ذمہ داری بالرز پر ڈالی۔ کہا ہمارے اور جنوبی افریقہ کے بالرز کا کوئی مقابلہ نہیں، پیس میں بھی زمین آسمان کا فرق تھا۔ جس وکٹ پر حریف بالرز کی اسپیڈ ایک سو پینتالیس تھی وہاں ہمارے بالرز ایک سو تیس کی رفتار سے بالنگ کررہے تھے۔ اس رفتار پر بیس وکٹیں نہیں مل سکتیں۔ سرفراز نے ملبہ بالرز پر ڈالا مگر ہیڈ کوچ ہمیشہ کی طرح انوکھی منطق لائے اور ناکامی کا ذمہ دار ناقص وکٹوں کو ٹھہرایا۔

پچز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وکٹیں فاسٹ بالرز کو ضرورت سے زیادہ مدد دے رہی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر وکٹیں فاسٹ بالرز کے لئے جنت تھی تو ہمارے بالرز کے ہاتھوں پر کیا مہندی لگی تھی یا گیند بازی کا فن بھول گئے تھے۔ جنوبی افریقہ میں کھچڑی پک رہی تھی کبھی زخمی کھلاڑیوں کو ساتھ لانے کی خبریں تو کبھی کوچ کی کھلاڑیوں سے لڑائی کی خبریں آرہی تھی۔ ابھی پچھلی خبروں کی دھول بیٹھی نہیں تھی کہ بالرز نے سرفراز احمد کے خلاف بغاوت شروع کردی۔

بالرز نے کپتان کی تنقید پر ناگواری کا اظہارکرتے ہوئے منیجمنٹ کوشکایت لگائی کہ ایسے بیانات دینے سے روکا جائے۔ کپتان کے سامنے بالرز کا محاذ کھڑا ہونے سے ڈریسنگ روم کا ماحول مزید ناخوشگوار ہوگیا۔ سرفراز احمد کے خلاف گیم جنوبی افریقہ روانگی سے قبل ہی تیار کیا چکا تھا اور اب کوچ اور سنیئر بالرز سے اختلافات نے سرفراز کے مخالفوں کا کام مزید آسان کردیا۔ مخصوص لابی ٹیسٹ میں شان مسعود کو کپتان اور بابر اعظم کو نائب کپتان دیکھنا چاہتی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں سرفراز کی جگہ ورلڈ کپ میں شعیب ملک کو کپتان بنانے کی تیاریاں بھی ہورہی ہے۔ سرفراز احمد کے ستارے گردش میں ہیں۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا بہت جلد پتہ چل جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں