جلال چانڈیو: سندھیوں کی عالم لوہار اور اللہ رکھی سے جان چھڑوانے والا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

10 جنوری کو جلال چانڈیو کی 18 ویں برسی ہے۔

”سندھی قوم کو میرا شکرگذار رہنا چاہیے کہ میں نے ان کی پنجابی فنکاروں عالم لوہار اور اللہ رکھی (نورجہان) سے جان چھڑائی، بھلے سندھ کے شہری بابو ٹائپ لوگوں کو میرے کلام اچھے نہ لگیں مگر سندھ کے گاؤں پر میرا راج ابھی ایک یا دو سو سال تک چلے گا، شہری بابو میرے مرنے بعد مجھے یاد رکھیں گے کہ جلال چانڈیو بھی کوئی چیز تھا۔ “ چپڑی اور یکتارے کے ساتھ سندھی موسیقی میں خاص انداز سے آنے اور چھانے والے جلال چانڈیو نے اک بند ہو چکی سندھی اخبار ”الکھ“ کو اپنے دیے گئے آخری انٹرویو میں یہ باتیں کیں تھیں۔ یہ 20 سال پہلے کی بات ہے جب منظور سولنگی نے جلال چانڈیو کا یہ انٹرویو شایع کیا تو اخبار کی تمام کاپیاں سندھ کے نیوز اسٹالز سے آدھا دن گزرنے سے پہلے ختم ہوچکی تھیں۔

جلال چانڈیو نے سندھی موسیقی کو اک ایسا انداز دیا کہ اس کے زندگی میں ہی ایک سو سے زیادہ اس کے شاگردوں نے اسی انداز کو کاپی کرنا شروع کیا، یہان تک کہ اپنے اصلے نام۔ تک تبدیل کرکے جلال کے نام پر رکھ دیے جیسا کہ دوسرا جلال، چھوٹا جلال، دلبر جلال، بالکل صفا جلال، آخری جلال اور آج کل ”کو کو کورینہ فیم“ جگر جلال اک سلسلہ تھا جو تھمتا ہی نہ تھا۔

جلال چاندیو نوابشاہ کے قریب اک قصبے پھُل میں پیدا ہوئے، اک دو درجے ہی پڑہا ہوگا کہ والدین نے بھینسیں اور بکریاں چرانے کے کام پر لگا دیا۔ مگر گانے سے دلچسپی اور عشق جلال چانڈیو کو کھینچ کر میدان میں لے آیا۔

جن دنوں میں جلال چانڈیو نے یکتارہ، چپڑی اور ڈھولک پر ابھی گانا شروع کر رہا تھا اس وقت ریڈیو اور کیسیٹ کا دور تھا۔ پاکستان میں ریڈیو کے زیادہ تر پروگرام نیشنل ریلے پر چلتے تھے۔ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد میں دو ریڈیو اسٹیشن تھے جن پر زیادہ تر ملی اور اردو فلمی نغمے چلا کرتے تھے۔ اوپر سے جنرل ضیا کا دور تھا، نغمے بھی سنسر ہو جایا کرتے تھے۔ بعد میں خیرپور میں جب ریڈیو اسٹیشن بنا تو اس پر کچھ سندھی فنکاروں کو موقع ملنے لگا۔

یہ بات بالکل درست ہے کہ ریڈیو اور ٹی وی پر اس وقت بھی قومی پروگرام میں اردو کے ساتھ پنجابی موسیقی کو زیادہ وقت دیا جاتا تھا اور اردو گانے والوں میں زیادہ تعداد بھی پنجابی فنکاروں کا تھا جو اس وقت بھی ہے، سندھی فنکار صرف سندھی گاتے تھے اس وقت بھی گاتے ہیں۔

سندھ کے لوگ ہمیشہ سے اچھی موسیقی اور خاص طور پر صوفیانہ موسیقی کے دلدادہ رہے ہیں اس لئے پنجاب کے عالم لوہار، نورجہان، استاد مہدی حسن، استاد پٹھانے خان، غلام علی اور دیگر فنکاروں کے متوالے تھے اور اس وقت بھی ہیں۔ پنجاب کے لوگ بھلے سندھی شاعری ادب سے بالکل نا آشنا ہوں مگر سندھ کے لوگ پنجاب کے صوفی شعراء بابا فرید، خواجہ فرید، شاہ حسین، بابا بلھے شاہ، وارث شاہ، میان محمد بخش سے لے کر فیض احمد فیض اور علامہ اقبال سمیت فرحت عباس شاہ تک کو بہت پسند کرتے ہیں، ان تمام شعراء کی کتابیں کراچی کی فضلی سنز سے لے کر لاڑکانہ کے رابیل کتاب گھر تک آسانی سے دستیاب ہیں۔

یہ کتابیں صرف دستیابی کے لئے نہیں بلکہ پڑہے جانے کے لئے ہی ہوتی ہیں۔ اک سروے کے مطابق سندھ میں شہری آبادی کے تناسب سے لحاظ سے سب سے زیادہ اخبارات اور کتابیں لاڑکانہ، خیرپور اور نوشہروفیروز اضلاع میں خریدی اور پڑہی جاتی ہیں، جبکہ مجموعی تعداد کے حوالے سے سندھ کے بڑے شہروں کراچی اور حیدرآباد میں کتب خانے بھی زیادہ ہیں تو ان کی خریداری بھی زیادہ۔

لوک فنکار جلال چانڈیو پڑھا لکھا نہیں تھا مگر وہ مختلف کتابیں خرید کرتا اور کسی سے سن کر یاد کرتا۔ اسے شاہ عبداللطیف بھٹائی، بابا فرید، سچل سرمست، شاہ حسین، سامی، بلھے شاہ، بیدل، بیکس، وارث شاہ، خواجہ فرید، استاد بخاری اور انور قمبرانی کی سینکڑوں نہیں ہزاروں شعر، بیت اور دوہڑے یاد تھے۔

محفل میں جب جلال چانڈیو آجاتا تو ہر طرف سے نعرے شروع ہوجاتے، وہ محفل میں دور سے پہچانا جاتا تھا، دراز قد، چوڑی چھاتی، بڑی بڑی مونچھیں، سر پر چمکتے ستاروں والی سندھی ٹوپی، گلے میں اجرک، قمیض کا کھلا گلا، سونے کے دو لاکیٹ، دکھنے میں کوئی ٹپیکل سندھی وڈیرہ مگر ملنے ملانے میں اتنا وضعدار اور فقیر منش کے جو جتنا جھک کر ملتا اس سے اتنا ہی نیازمندی سے ملتا۔ جلال چانڈیو اپنے عروج کے دور میں سندھ میں سب سے زیادہ پیسے لینے والا فنکار تھا، مگر کئی غریب لوگوں کی شادیوں مین نہ صرف بغیر فیس کے جاتا مگر محفل میں سامعیں سے ملنے والی والی رقم بھی دولھے اور دلہن کو تحفے میں دے کر آجاتا۔

سندھی فنکاروں میں جتنی کیسٹ البم جلال چانڈیو کے نکالے گئے اتنے کسی اور فنکار کے نہیں نکلے۔ اک اندازے کے مطابق جلال چانڈیو نے 3000 ہزار سے زائد گانے گائے اور کئی سال تک سندھ کی میوزک انڈسٹری پر اکیلے راج کرتے رہے۔ سندھ کے ہر گاؤں اور ہر شہر میں جلال چانڈیو کا چرچہ تھا۔ تمام بری درگاہوں پر لگنے والے میلے جلال چانڈیو کے بغیر ادھورے مانے جاتے تھے، ورنہ اس سے پلے سندھ کے اکثر میلوں اور درگاہوں سے لے کر نجی محفلوں تک پنجابی اور سرائیکی فنکاروں کا قبضہ تھا۔

جلال چانڈیو نے ایک وقت میں سندھی اور سرائیکی میں گانے کو اک نئیں جہت دی، اور پنجاب کے سرائیکی وسیب میں بھی جلال چانڈیو اتنے ہی مقبول ہوئے جتنے سندھ میں۔ صادق آباد سے ہمارے سرائیکی دوست محمد امین دشتی کا کہنا ہے کہ ”اپنے بچپن میں کئی بار اپنے چاچا کے ڈیرے پر جلال چانڈیو کو دیکھ اور سن چکا ہوں، میں تو کئی سالوں تک جلال چانڈیو کو پنجاب کا سرائیکی گلوکار ہی سمجھتا رہا تھا۔ وہ سرائیکی وسیب میں بہت مقبول تھے، کئی لوگ تو اپنے بچوں کی شادیوں کی تاریخیں بھی جلال چانڈیو سے وقت لے کر متعین کرتے تھے۔ جلال چانڈیو سے پہلے سرائیکی فنکار یکتاری اور چپڑی کا استعمال نہیں کرتے تھے اس کے بعد پنجاب میں بھی کئی فنکاروں نے جلال چانڈیو کے اسٹائل کو کاپی کرنا شروع کیا۔ “

جلال چانڈیو کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ کئی سندھی فلموں میں جلال چانڈیو کے کلام شامل کیے گئے اور ان کی زندگی میں ہی اک سندھی فلم ”جلال چانڈیو“ بنائی گئی تو کسی اور کو جلال بنانے کے بجائے خود جلال چانڈیو کو اس فلم کو مرکزی کردار دیا گیا، یہ فلم بھی ان کی کیسٹوں کی طرح سپرہٹ رہی۔ اس فلم میں جلال چانڈیو کے کئی مشہور گیت شامل کیے گئے۔ جلال چانڈیو کے لئے جنرل ضیاءالحق کا دور تھوڑا مشکل بھی گزرا جب کئی مولوی حضرات نے اپنے خطبوں میں جلال چانڈیو کے آواز کو شیطان کی آواز قرار دیا، اور اس پر پابندی لگانے کی مانگ کی تو دوسری طرف اپنی تقاریر میں عام لوگوں کو جلال چانڈیو کے گانے سننے سے منع بھی کرتے رہے۔

مگر تب تک جلال چانڈیو عوامی پذیرائی حاصل کر کے تھے، اور عاشق حضرات تو جلال چانڈیو کے دیوانے تھے۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں کئی نوجوان تو اظہار محبت کے لئے جلال چانڈیو کی کیسٹیں اپنی محبوباؤں کو تحفے کے طور پر دیا کرتے تھے۔ کچھ لوگ تو پیسے خرچ کر کے خود جلال چانڈیو سے اپنی پسند کے گانے اس جملے کے ساتھ رکارڈ کروالیتے تھے کہ ”اس کلام کی فرمائش فلاں گاؤں کے فلاں نوجوان نے کی ہے جو اپنے محبوب سے کہنا چاہتا ہے کہ۔ “

جلال چانڈیو خود بھی فقیر منش اور صوفی مزاج کے انسان تھے انہوں نے اپنے اپنے بیٹوں کے نام بھی قلندر جلال چانڈیو، دلبر جلال چانڈیو اور معشوق جلال چانڈیو رکھے۔ جن میں دلبر جلال چانڈیو اس وقت اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یکتارہ اور چپڑی پر کلام پیش کرتے رہتے ہیں۔

10 جنوری کو جلال چانڈیو کی 18 ویں برسی منائی جارہی ہے، مرکزی تقریب اس کے آبائی گاؤں پھُل میں جبکہ سندھ سرکار کی جانب سے اس کی یاد میں 31 جنوری کو اک تقریب کراچی میں منعقد کی جارہی ہے۔ دونوں تقاریب میں جلال چانڈیو کے سینکڑوں شاگرد اور چاہنے والے شرکت کر رہے ہیں۔

سندھ میں جلال چانڈیو کا دور اب ختم نہیں ہونے والا، کیونکہ سندھ میں ان لوگوں کی قدر کرنے والے ہزاروں لاکھوں موجود ہیں جو سندھی زبان اور ثقافت کے لئے کوئی اہم کام سرانجام دیتے ہیں، اور جلال چانڈیو نے تو سندھ کے لوگوں پر بہت بڑا احسان کیا کہ ”انہوں نے سندھ کے لوگوں کی عالم لوہار اور اللہ رکھے سے جان چھڑائی۔ “

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں