یمنی بچہ اور لاپتہ عمران خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان کے مسائل پر پہلے تو میڈیا کچھ بولتا نہیں اگر کبھی کبھار بولنے کی زحمت بھی کرنا پڑے تو مثبت خبریں ہی دکھاتا ہے۔ یہ بھی سچ ہے بلوچستان میں بیشمار مثبت خبریں ہیں مثال کے طور پر بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مثبت خبر ہے۔ قدرتی معدنیات سے مالا بھی ہے مثبت خبر ہے۔ گیس، ریکوڈک، سونا اور کوئلہ وغیرہ جیسی معدنیات سے بلوچستان کے خشک پہاڑ بھرے پڑے ہیں مثبت خبر ہے۔ ان مثبت خبروں میں سب سے بڑی مثبت خبر گوادر بندرگاہ ہے۔

جسے میڈیا اکثر مثبت ہی دکھاتا ہے بلکہ گوادر پورٹ کے حوالے سے ایسی مثبت خبریں اکثر میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ جب میڈیا پر ایسی مثبت خبریں ہی نشر ہوتی رہتی ہیں تو شہرِ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے ذہنوں میں ایک تصویر بن جاتی ہے۔ وہ بچارے سمجھنے لگتے ہیں کہ بلوچستان اتنا امیر صوبہ ہے تو یقینا بلوچستان کے باسیوں کے پاس بھی بڑی بڑی گاڑیاں اور اونچے اونچے محلات ہوں گے۔ ویسے قصور ان کا بھی نہیں وہ بچارے مثبت خبروں کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ بلوچستان سے اگر کوئی اپنے بنیادی حقوق پر بات بھی کرتا ہے تو انہیں سازش لگنے لگتی ہے۔ کوئی درد میں شکوہ بھی کردے تو انہیں غداری کی بو آنے لگتی ہے۔ کیونکہ ان کے گھروں میں چلنے والے میڈیا چینلز پر بلوچستان کے حوالے سے ایک آدھ خبر ہی چلتی ہے اور وہ بھی اکثر مثبت خبر ہی ہوتی ہیں اس میں ان بچاروں کا کیا قصور؟

کل کی ہی تو بات ہے رکن بلوچستان اسمبلی ثناءاللہ بلوچ ضلع خاران کے یونین کونسل سراوان میں کسی میڈیکل سینٹر کا دورہ کرنے گئے۔ وہاں بچوں کی انتہائی تشویشناک حالت دیکھ کر نجانے ثناء اللہ بلوچ نے کیا سوچ کر ان بچوں کی تصاویر کھینچ لیں۔ جبکہ انہیں معلوم بھی تھا ان تصویروں پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ جیسے ہی ان مریض بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگیں تو اسلام کے محلات میں بیٹھے تکلیفیوں اور محرومیوں میں گِھرے لوگ پوچھنے لگے جناب جھوٹ کیوں بول رہے ہو یہ تو یمنی بچے کی تصویریں ہیں۔

ایسے سوالات پر حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ایسے سوالات اب نئی بات نہیں تھی۔ مگر اب بار کی بار سوال کا جواب قدرِ مشکل ضرور تھا۔ اس سوال کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ جواب تسلی بخش دیا گیا تو اگلی بات سمجھانے میں کافی حد تک آسانی ہوجانی تھی کیونکہ اسلام آباد کے باسی بچے کی حالت دیکھ کر یمنی قرار دے چکے اب یہ ثابت کرنا تھا کہ بچہ یمنی نہیں بلوچ ہے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ اسلام آباد کے محروم لوگوں کو یہ کیسے باور کرایا جاتا کہ یہ بچہ بلوچستان کا باسی ہے یمنی نہیں؟

جن لوگوں کے ذہنوں میں امیر بلوچستان کے امیر باسیوں کی تصویر بن چکی تھی بھلا وہ کیونکر اس بچے کی تصویر دیکھ کر یقین کرتے۔ یہ وہ کیفیت جیسے کسی جنگل میں انسان کی لاش پڑی ہو اور اپنی شناخت کے لئے لاش کو خود بولنا پڑے کہ میں کون ہوں۔ ذرا سوچیں ایسی صورت میں انسان کو کس اذیت اور تکلیف دہ کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس سب کے باوجود اسلام آباد کے دوستوں کو یقین کرانا بہت ضروری تھا کہ جس بچے کو آپ یمنی کہہ رہے ہیں یہ امیر بلوچستان کے غریب ماں باپ کا بچہ ہے۔

ہم بلوچستان والوں کو بھی روز کسی نہ کسی طرح رسوائی کا سامنا کرتا پڑتا ہے۔ روز مشکل سوالات پوچھے جاتے ہیں اور جواب دینے کی صورت میں یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ ذرا سی نوک جھونک بھی ہوگئی تو غداری جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کوئی پوچھے کہ کہاں سے ہو تو تعارف کراتے وقت سینہ چوڑا کرکے بولتے ہیں کہ ہم امیر صوبہ بلوچستان کے مالک ہیں۔ اور اگلے ہی دن بلوچستان کی محرومیوں کو لے کر جب وفاق سے بھکاریوں کی طرح امداد کی اپیل کر رہے ہوتے ہیں تو چوڑا سینہ شرم سے سکڑ جاتا ہے آنکھیں سے جھک جاتی ہیں۔

ایسی صورت میں مزید زخموں پر نمک جھڑکنے کے مترادف تب ہوتا ہے جب اسلام آباد کے باسی بلوچستان کی محرومیوں کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کردیں۔ مزید کہہ دیں کہ یہ تو یمنی بچہ ہے تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔ اس وقت یقین جانیے شدید اذیت کا احساس ہونے لگتاہے۔ اسی لیے بلوچستان کے بہت سے دوست بلوچستان کے مسائل پر کم بولتے ہیں یا پھر بولتے ہی نہیں کہیں شرمندگی اور احساسِ محرومی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اسی کیفیت میں مبتلا ٹویٹر پر یمنی بچے کی تصویر کے ساتھ ٹویٹ کیا شاید کوئی اس بچے کی تصدیق تو کردے۔ ہماری بات تو اسلام آباد والے جھٹلا چکے اب کوئی اور حوالہ دے تو شاید اسلام آباد والوں کو یقین آجائے کہ یہ بچہ یمنی نہیں پاکستانی ہے جس کا تعلق امیر بلوچستان کے غریب ماں باپ کے گھرانے سے ہے۔ اللہ بھلا کرے ثناءاللہ بلوچ کا جنہوں نے رات گئے ٹویٹر پر رپلائی کرکے بتایا کہ یہ بچہ بلوچستان کے ضلع خاران کی یونین کونسل سراوان کا ہے۔

مزید یہ بھی کہا کہ آج میں خود گیا تھا اور تصویریں بھی میں نے خود کھینچی ہیں۔ ثناءاللہ بلوچ کا ٹویٹ پڑھ کر دل کو تسلی ہونے لگی کہ شکر ہے سوال کا جواب تو مل گیا۔ خوشی یہ ہوئی کہ جواب مل گیا اور دکھ یہ تھا کہ بلوچستان والے بھی کتنے بدنصیب ہیں اپنی محرومیوں اور بنیادی مسائل پر جتنا بھی رونا روتے رہیں مگر مثبت خبریں دیکھنے اور سننے والوں کو یقین نہیں آنا۔ پہلے انہیں یقین دلانا پڑتا ہے پھر ان سے اپنی محرومیوں کے لئے امداد کی اپیل کرنا پڑتی ہے۔

آخر میں کسی لاپتہ شخص کے نام یہ پیغام چھوڑ رہا ہوں جس کا نام عمران خان ہے جو تحریک انصاف کا چیئرمین ہوا کرتا تھا 18 اگست 2018 سے لاپتہ ہوچکا ہے۔ عمران خان کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے جلسوں میں بلوچستان کی بدترین صورتحال کی داستانیں سنا کر لوگوں کو رلایا کرتا تھا۔ بلوچستان کے حوالے سے ایک تقریر سن کر ہم پتھر دل لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئی تھیں۔ مگر نجانے پی ٹی آئی کا چیئرمین عمران خان آج کل کہاں ہے یا شاید لاپتہ ہوچکا ہے۔

اگر کسی ہمدرد دوست کو مل جائے تو دست بستہ گزارش ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان صاحب تک یہ پیغام ضرور پہنچا دے۔ اسے کہنا کہ آپ اکثر اپنے جلسوں میں جس بلوچستان کو جینے کی امیدیں دلایا کرتے تھے۔ وہ بلوچستان آج آپ کو گلی، کوچوں میں ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔ جس سے بھی آپ کا پتا پوچھتا ہے وہ ہنسنے لگتا ہے اور طنزیہ انداز میں مخاطب ہوکر کہتا ہے دیکھو بلوچستان کیا مذاق کر رہا ہے کہتا ہے عمران خان کو ڈھونڈ رہا ہوں۔

لوگ اردگرد جمع ہوجاتے ہیں اور وہ کہتا ہے ارے لوگو سنو! بلوچستان کہتا میں عمران خان سے ملنا چاہتا ہوں اسے کوئی بتادے عمران خان وزیاعظم بن چکا ہے۔ اب وہ ہر ایرے غیرے سے نہیں مل سکتا بس پھر یونہی لوگ ہنستے رہتے ہیں مذاق اڑاتے رہتے ہیں۔ عمران خان سے کہنا کہ بلوچستان ایک مرتبہ پھر امید لے کر کسی اور شہر میں آپ کو ڈھونڈنے نکل پڑتا ہے ابھی تک ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں