جمہوریت کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمہوریت ایک پیچیدہ اصطلاح ہے جس کی کئی تشریحات کی جاتی ہیں۔ یہ ایک سیاسی، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کا نام ہے۔ جمہوریت کے وضع کردہ اصولوں کی بنا پر ہم کسی حکومت، ریاست، معاشرے یا نظریے کو جانچ سکتے ہیں کہ کیا وہ نظام یا نظریہ جمہوری ہے یا نہیں۔

لفظ جمہوریت کا ماخذ ایک یونانی لفظ ’ڈیماس کریٹاس‘ ہے جس کے معنی ہیں عوام کی حکومت۔ جمہوری حکومت سے مراد ایک ایسی حکومت ہے جس میں اختیارات اور فیصلہ سازی کا منبع عوام ہوتے ہیں۔ عوام اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ انہیں کس طرح کا حکومتی، انتظامی، عدالتی، معاشی اور معاشرتی نظام پسند ہے۔ جمہوری نظامِ حکومت کی ایک شکل نمائندہ حکومت ہوتی ہے جس میں عوام اپنے نمائندے منتخب کر کے نظامِ حکومت انہیں سونپ دیتے ہیں۔

جمہوریت کا تصور ہیروڈوٹس کے زمانے سے موجود ہے اور مختلف یونانی فلاسفہ نے اپنی مختلف تشریحات پیش کی ہیں۔ ارسطو جو کہ اس نظام کے حق میں نہیں تھا وہ اسے ایک ایسے نظام کے طور پہ دیکھتا ہے جس میں کارِ حکومت ایک ہجوم کو تفویض کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس ’سیلی‘ کے نزدیک جمہوریت ایک ایسا نظام ہے جس میں ہر کسی کی شراکت ہوتی ہے یعنی یہ سب کی منشأ کا ترجمان ہوتا ہے۔

جدید جمہوریت کے پسِ منظر میں تین بہت بڑے تاریخی عوامل کار فرما ہیں : برطانوی پارلیمانی نظام، انقلابِ فرانس، اور صنعتی انقلاب۔ جدید جمہوری نظام کی بنیاد انیسویں صدی میں رکھی گئی جو کہ بیسویں صدی تک تمام یورپ میں پھیل گیا۔ چرچل کے نزدیک آج تک جتنے بھی نظام آزمائے گئے ہیں جمہوریت ان میں سے بہترین نظام ہے اور کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار برٹرینڈ رسل بھی کرتے ہیں۔ اگر جمہوریت کی موجودہ قسموں پہ غور کیا جائے تو تین طرح کے جمہوری نظام سامنے آتے ہیں : خالص جمہوریت جیسا کہ امریکہ، برطانیہ اور سویڈن میں ہے، نیم جمہوریت جیسا کہ یوگو سلاویہ اور ہمارے مشرقی پڑوسی ملک میں ہے اور جعلی جمہوریت جو کہ مشرقی یورپ اور اکثر اوقات مملکتِ خداداد میں پائی جاتی ہے۔

کسی ملک میں جمہوریت جانچنے کا بڑا سادہ سا پیمانہ یہ ہے کہ کیا اس ملک میں لوگوں کو اپنی بات کے اظہار اور ریاستی پالیسیوں پہ آزادانہ رائے زنی کرنے اور تنقید کرنے کی آزادی ہے یا نہیں۔ کیا اس ملک میں مضبوط اپوزیشن موجود ہے یا نہیں۔ کیا وہاں پہ آئین اور قانون کی حکمرانی ہے یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج ہے۔ کیا اس ملک میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی ہے یا نہیں۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں یا قانون کا اطلاق مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہوتا ہے۔ کیا ہر کسی کی جان اور مال محفوظ ہے یا نہیں۔ معاشی اور معاشرتی انصاف موجود ہے یا معاشرہ طبقاتی نظام میں بٹا ہوا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا اس ملک کا میڈیا آزاد ہے یا اس پہ طرح طرح کی قدغنیں لگائی جاتی ہیں۔

جمہوریت ایک بہترین نظام ہونے کے ناطے عوام پہ کچھ غیر معمولی ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے۔ جمہوریت کے فروغ کے لئے سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ عوام روشن خیال، تعلیم یافتہ اور باشعور ہوں۔ وہ ہمہ وقت باخبر ہوں اور کسی بھی قیمت پر اپنے بنیادی انسانی حقوق پامال نہ ہونے دیں۔ وہ اپنے حقِ حکمرانی کے تحفظ کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں۔ اختلافِ رائے کا احترام کیا جائے اور منطقی استدلال پہ کامل یقین رکھا جائے۔ ریاست کے اعضا اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ریاست کی بہتری کے لئے کوشاں رہیں۔ سیاسی پارٹیوں پہ چند افراد یا خاندانوں کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ جمہوریت ہی میں ترقی و خوشحالی کا راز مضمر ہے لیکن ایسا ہونا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب جمہوریت کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو دیانتداری کے ساتھ پورا کیا جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں