ادب، سماج، ثقافت، انقلاب اور دانشور: ”تھنکرز، ڈریمرز، اینڈ ڈوارز“ پہ ایک نظر

ڈاکٹر عارف آزاد کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب اپنے اندر فکر، نظریات، مزاحمت اور معاصر رجحانات کا ایک جہاں سموئے ہوئے ہیں۔ اتنے وسیع اور متنوع موضوعات کو ایک کتاب میں یوں پرونا کہ ہر موتی اپنی انفرادی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اس بڑی تصویر کا حصہ نظر آئے ڈاکٹر صاحب کا ہی خاصہ ہے۔ جیسے فرانسس بیکن کے مضامین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ’ڈسپرسڈ میڈیٹیشنز‘ ہیں ڈاکٹر صاحب نے بھی ’ہائی کلچر‘

Read more

تعلیم، نظریہ اور استاد: بچوں کے بنیادی حقوق اور ہمارا نظام تعلیم

کوئی بھی سیاسی اور تعلیمی نظریہ اور فلسفہ اس وقت تک غیر متعلق رہتا ہے جب تک وہ بچوں کو سٹیک ہولڈر تصور نہ کرے۔ ہمیں ان نظریات کو فروغ دینا چاہیے جو تعلیم کو شعور، آگہی اور تنقیدی سوچ پروان چڑھانے کا ذریعہ سمجھیں نہ کہ ایک سیاسی ہتھیار۔ بچے اس دنیا کا مستقبل ہیں اور وہ کسی بھی پالیسی کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز ہیں۔ لہٰذا یہ بڑا اہم سوال ہے کہ بچوں کے مستقبل کے بارے

Read more

ہر دلعزیز شخصیات کی چند عادات

ہم روزمرہ کے سماجی روابط اور میل جول میں کئی طرح کی شخصیات سے ملتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسی شخصیت کے حامل ہوتے ہیں کہ بندہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے کہ ان سے ملے ہی کیوں۔ اور کچھ لوگوں کی شخصیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہمیں اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں۔ چند بنیادی باتیں اگر کسی کی شخصیت کا حصہ ہوں تو وہ فرد ہر جگہ پسند کیا جاتا ہے اور لوگ اس سے مل کے خوشی محسوس کرتے ہیں اور دوبارہ ملنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ کسی فرد کا جینوئن ہونا اس کی بہت بڑی خوبی ہے۔

Read more

ٹالسٹائی کون تھا؟

لیو ٹالسٹائی کا شمار دنیائے ادب کے افق پر موجود چند ایک عظیم ترین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس عظیم لکھاری کے ناولز کسی ایک خطے یا وقت کی نہیں بلکہ ہر جگہ اور ہر زمانے کی عمومی انسانی صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ ناول کی تاریخ میں ضخیم ترین اور شاید عظیم ترین ناول لکھنے کا سہرا بھی ٹالسٹائی کے سر ہے۔ ٹالسٹائی ایک مذہبی مفکر، اخلاقیات کا پرچار کرنے والا معلم، اور فکر کو نئی جہتیں

Read more

آئیڈیالوجی کا مارکسی مطالعہ

مارکسی زاوئے کے مطابق کسی بھی کلچر میں آرٹ کے نام پہ تخلیق کی گئی چیزیں مثلاً فلم، ڈرامہ، سوپ اوپیرا، یا طنز و مزاح پہ مبنی کتابیں اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائی اور لکھی جاتی ہیں کہ غالب نظریے کی برتری قائم رہے اور اس برتری کو فطری بنا کے پیش کیا جائے۔ ایسا کرنے کے لئے مظلوم طبقات کو اس نظام کے فطری ہونے کا یقین دلایا جاتا ہے تاکہ ان کے ذہن میں کسی

Read more

بے حس معاشرے کے جانور

بعض اوقات کوئی ایسا دلخراش منظر اچانک آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے کہ دل پسیج جاتا ہے اور اپنے انسان ہونے پہ شرم آتی ہے۔ معاشرے احساس سے بنتے ہیں زندگی کی قدر سے بنتے ہیں۔ یہ زمین تمام زمین زادوں کی سانجھی ملکیت ہے لیکن یہ نام نہاد اشرف المخلوقات سمجھتا ہے کہ وہی زمین کا مالک ہے اور اس کے سامنے باقی سب کچھ بے وقعت اور لایعنی ہے۔ قیمتی زندگی صرف اسی کی ہے۔ دکھ درد

Read more

تعلیم کے مقاصد

معلومات کے وسیع ذخیرے کو علم نہیں کہا جا سکتا۔ ایسا فرد جس کے پاس معلومات تو بہت زیادہ ہوں لیکن وہ فکری و ثقافتی بحران کا شکار ہو، معاشرے کے لئے بے کار ثابت ہوتا ہے۔ لوگوں کو تعلیم دینے کا بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ افراد کو کسی خاص شعبے میں مہارت دلانے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی اور فکری نشوونما بھی کی جائے۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اصل ترقی فرد کی فکری

Read more

مارکسزم کا مختصر تعارف

معلوم انسانی تاریخ میں ایسی ایسی قد آور اور عالی فکر شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اس کائنات، مافوق الفطرت ہستیوں اور انسان کے آپسی تعلق کے بارے میں ایسے غیر روایتی نظریات پیش کیے جنہوں نے انسانی زاویۂ نگاہ کو یکسر بدل کے رکھ دیا۔ انسانی سماج نے فکری میدان میں جتنی بھی ترقی کی ہے وہ انہیں سوچنے اور بغاوت کرنے والے دماغوں سے عبارت ہے۔

Read more

مارکسزم کا مختصر تعارف

معلوم انسانی تاریخ میں ایسی ایسی قد آور اور عالی فکر شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اس کائنات، مافوق الفطرت ہستیوں اور انسان کے آپسی تعلق کے بارے میں ایسے غیر روایتی نظریات پیش کیے جنہوں نے انسانی زاویۂ نگاہ کو یکسر بدل کے رکھ دیا۔ انسانی سماج نے فکری میدان میں جتنی بھی ترقی کی ہے وہ انہیں سوچنے اور بغاوت کرنے والے دماغوں سے عبارت ہے۔

جدید دنیا میں کارل مارکس ایک ایسا ہی عظیم دماغ ہے جس نے انقلابِ فرانس، برطانوی معیشت اور جرمن فلاسفی کے مفصل تنقیدی جائزے کے بعد سماجی، معاشی اور سیاسی حرکیات کی از سرِ نو تشریح کی اور اپنے انقلابی نظریات پیش کیے ۔ ہیگل کا فلسفہ ’ایبسولیوٹ آئیڈئیلزم‘ کا فلسفہ ہے۔ ہیگل کے مطابق فکر اور سوچ ہی وہ محرکات ہیں جو مادی دنیا کو تبدیل کرتے ہیں۔ ہر تھیسز کا ایک اینٹی تھیسز ہوتا ہے جو مل کے ایک سینتھسز بن جاتا ہے جو کہ ایک نیا تھیسز ہوتا ہے اور یہ زنجیر یونہی آگے بڑھتی ہے۔

Read more

فلسفے کے بنیادی سوال۔

کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے یا پوچھا ہے کہ حقیقی شے اور بظاہر نظر آنے والی شے میں کیا فرق ہے؟ کیا مادی چیزیں حقیقی ہیں؟ کیا مادی چیزوں کی دنیا، یہ اجسام، یہ جانور، یہ پہاڑ، یہ چاند تارے، یہ سورج غرضیکہ یہ ساری چیزیں واقعی ایسی ہی ہیں؟ کیا وہی چیز حقیقت ہے جس کا مادی وجود ہو؟ جو کنکریٹ ہو؟ کیا مادے کے اجزأ کی بے معنی حرکت جس کا انجام موت اور فنا ہو

Read more

تبدیلی کیسے لائی جا سکتی ہے؟

کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں تعلیم کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم معاشرے کی تہذیب و ثقافت کی بنیاد رکھتی ہے اور اس کے خدوخال وضع کرتی ہے۔ قدیم یونانی فلسفیوں سے لے کر عصرِ حاضر تک کے مفکرین اور ماہرینِ تعلیم نے تعلیم کی مختلف جہتوں پہ قابلِ ستائش کام کیا ہے۔ افلاطون، ارسطو، ڈیکارٹ، سپائنوزا، لیبنیز، لاک، برکلے، ہیوم، کانٹ، ہیگل، مارکس، رسل، جان ڈیوی، برگساں، فرائیڈ، ایڈلر، ژونگ، سکنر، واٹسن، ڈارون اور آئن سٹائن چند ایسی قد آور شخصیات ہیں جن کے نظریات نے فکری دھارے کا رخ متعین کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنے معروضی حالات کے پیشِ نظر ایسے فکری مباحث چلائے اور ایسے نظریات پیش کیے جنہوں نے فکری روایت کو آگے بڑھایا اور انسانی فہم کو مزید وسعت دی۔

Read more

نوے کی دہائی میں بیتا بچپن

بچپن کا زمانہ ہر کسی کے لئے بہت خاص ہوتا ہے اور اس کی یادیں ایک سہانے خواب کی مانند ہوتی ہیں۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب زندگی امکانات سے بھرپور ہوتی ہے۔ پریشانی نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ چھوٹی چھوٹی سی باتیں ڈھیروں خوشیوں کا سامان ہوا کرتی ہیں۔ حسد، رقابت، بغض اور کینہ جیسے منفی جذبات کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ اگر کوئی غیر معمولی حادثہ نہ پیش آ جائے تو ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی ہیں۔ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں کہ ذہن میں آ جائیں تو آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک سیلاب امڈ آتا ہے۔ہم نوے کی دہائی میں بچپن گزارنے والے شاید وہ آخری نسل ہیں جس کا بچپن پچھلی نسلوں کی روایتوں سے اک گہرا ربط رکھتا ہے۔ ہمارے کھیل، رسم و رواج، شادی بیاہ، میلے ٹھیلے اور گاؤں کی چوپالیں ہی ہماری کل کائنات ہوا کرتے تھے۔ میرے ابتدائی بچپن میں ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی۔ گرمیوں کے دن دھریک کی چھاؤں تلے گزارے جاتے۔ ذرائع آمد و رفت انتہائی محدود تھے۔ گھوڑا، گدھا یا پھر سائیکل عام سواری ہوا کرتے۔ دو تین دن بعد ابا جی سے ایک آدھ روپیہ مل جاتا تھا جسے ہم شاہانہ انداز میں خرچ کرتے۔

Read more

ماں جیسی ریاست اور خالی فیڈر

یہ کہنا کہ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی ہے، کم از کم ہمارے ملک میں ایک بے وقعت جملے سے بڑھ کے کچھ بھی نہیں۔ جب بھی ریاست کا ذمہ داری نبھانے کا وقت آیا ریاست کا کردار شاید ہی حوصلہ افزا رہا ہو۔ جس ریاست اور سوشل کنٹریکٹ کی بات ہابز، لاک اور روسو نے کی ہے وہ ہمارے ہاں شاید ہی کبھی سنجیدہ بحث کا موضوع رہا ہے۔ ہم آج

Read more

جمہوریت کیا ہے؟

جمہوریت ایک پیچیدہ اصطلاح ہے جس کی کئی تشریحات کی جاتی ہیں۔ یہ ایک سیاسی، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کا نام ہے۔ جمہوریت کے وضع کردہ اصولوں کی بنا پر ہم کسی حکومت، ریاست، معاشرے یا نظریے کو جانچ سکتے ہیں کہ کیا وہ نظام یا نظریہ جمہوری ہے یا نہیں۔ لفظ جمہوریت کا ماخذ ایک یونانی لفظ ’ڈیماس کریٹاس‘ ہے جس کے معنی ہیں عوام کی حکومت۔ جمہوری حکومت سے مراد ایک ایسی حکومت ہے جس میں اختیارات

Read more

امریکی افسانہ بٹن بٹن اور ہمارے خواب

مقررہ وقت پہ دروازے کی گھنٹی بجتی ہے اور نارما لپک کے جاتی ہے۔ مہمان کو کمرے میں بٹھایا جاتا ہے اور اس کے آنے کا مقصد دریافت کیا جاتا ہے۔ جس پر وہ برجستگی سے جواب دیتا ہے کہ وہ ان کے لئے ایک بڑی زبردست پیشکش لے کے آیا ہے۔ وہ انہیں بتاتا ہے کہ انہیں صرف ایک بٹن دبانا ہو گا اور ایسا کرتے ہی ایک ایسے بندے کی موت واقع ہو جائے گی جسے وہ جانتے تک نہیں ہوں گے اور اس کے عوض انہیں پچاس ہزار ڈالر ملیں گے۔

یہ سنتے ہی نارما کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں اور اس کے اندر مدتوں سے دبی ہوئی خواہشات سر اٹھاتی ہیں۔ آرتھر کا رویہ اپنی بیوی کے بر عکس ہے اور وہ کسی بھی انسان کی جان لینے کو ایک سنگین جرم سمجھتا ہے۔ نارما اسے قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور ایسا کرنے کے لئے وہ سب سے بڑی دلیل یہ دیتی ہے کہ یہ بٹن دبانے سے ان کے مدتوں کے ارمان پورے ہو جائیں گے۔ وہ ایک بڑا گھر بنا پائیں گے، ایک بہترین قسم کی گاڑی خرید لیں گے، سارے یورپ کا تفریحی دورہ کریں گے اور ایک پر تعیش زندگی گزاریں گے۔ آرتھر کے بار بار منع کرنے کے باوجود نارما باز نہیں آتی اور یہ گھناؤنا کام کر ڈالتی ہے۔ اسے اپنے لالچ کی قیمت

Read more

گمنام غلام

ادب سماج کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کے فکری رجحان کا ترجمان ہوتا ہے۔ ادب انسانی زندگی کی امکانی صورتِ حال کے مطالعے کا نام ہے۔ ادب کی مختلف اصناف اپنے اپنے انداز میں فرد کے ذہنی، سماجی، معاشی، جنسی اور نفسیاتی مسائل کی عکاسی کرتی ہیں۔ اعلٰی ادب ایسا ادب ہوتا ہے جو زمان و مکاں کی قید سے ماورا ہوتا ہے۔ اچھا ادب آفاقی ہوتا ہے اور ہر دور اور ہر جگہ کے انسان کے موجود ہونے

Read more

ہمارے تعلیمی نصاب کا المیہ

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم ہی سے معاشرے کی ساخت وضع کی جاتی ہے اور اس میں نئے نئے رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔ تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ یہ انسان کو باشعور بناتی ہے۔ ایک ایسا انسان جو منطقی سوچ کاحامل ہو۔ جو چیزوں کی جانچ پرکھ کے قواعد سے آگاہ ہو۔ جسے معاصر فکری روایت کا ادراک ہو

Read more