نوے کی دہائی میں بیتا بچپن

بچپن کا زمانہ ہر کسی کے لئے بہت خاص ہوتا ہے اور اس کی یادیں ایک سہانے خواب کی مانند ہوتی ہیں۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب زندگی امکانات سے بھرپور ہوتی ہے۔ پریشانی نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ چھوٹی چھوٹی سی باتیں ڈھیروں خوشیوں کا سامان ہوا کرتی ہیں۔ حسد، رقابت، بغض اور کینہ جیسے منفی جذبات کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ اگر کوئی غیر معمولی حادثہ نہ پیش آ جائے تو ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی ہیں۔ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں کہ ذہن میں آ جائیں تو آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک سیلاب امڈ آتا ہے۔ہم نوے کی دہائی میں بچپن گزارنے والے شاید وہ آخری نسل ہیں جس کا بچپن پچھلی نسلوں کی روایتوں سے اک گہرا ربط رکھتا ہے۔ ہمارے کھیل، رسم و رواج، شادی بیاہ، میلے ٹھیلے اور گاؤں کی چوپالیں ہی ہماری کل کائنات ہوا کرتے تھے۔ میرے ابتدائی بچپن میں ہمارے گاؤں میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی۔ گرمیوں کے دن دھریک کی چھاؤں تلے گزارے جاتے۔ ذرائع آمد و رفت انتہائی محدود تھے۔ گھوڑا، گدھا یا پھر سائیکل عام سواری ہوا کرتے۔ دو تین دن بعد ابا جی سے ایک آدھ روپیہ مل جاتا تھا جسے ہم شاہانہ انداز میں خرچ کرتے۔

Read more

ماں جیسی ریاست اور خالی فیڈر

یہ کہنا کہ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی ہے، کم از کم ہمارے ملک میں ایک بے وقعت جملے سے بڑھ کے کچھ بھی نہیں۔ جب بھی ریاست کا ذمہ داری نبھانے کا وقت آیا ریاست کا کردار شاید ہی حوصلہ افزا رہا ہو۔ جس ریاست اور…

Read more

جمہوریت کیا ہے؟

جمہوریت ایک پیچیدہ اصطلاح ہے جس کی کئی تشریحات کی جاتی ہیں۔ یہ ایک سیاسی، اخلاقی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کا نام ہے۔ جمہوریت کے وضع کردہ اصولوں کی بنا پر ہم کسی حکومت، ریاست، معاشرے یا نظریے کو جانچ سکتے ہیں کہ کیا وہ نظام یا نظریہ جمہوری ہے یا نہیں۔ لفظ جمہوریت کا…

Read more

امریکی افسانہ بٹن بٹن اور ہمارے خواب

مقررہ وقت پہ دروازے کی گھنٹی بجتی ہے اور نارما لپک کے جاتی ہے۔ مہمان کو کمرے میں بٹھایا جاتا ہے اور اس کے آنے کا مقصد دریافت کیا جاتا ہے۔ جس پر وہ برجستگی سے جواب دیتا ہے کہ وہ ان کے لئے ایک بڑی زبردست پیشکش لے کے آیا ہے۔ وہ انہیں بتاتا ہے کہ انہیں صرف ایک بٹن دبانا ہو گا اور ایسا کرتے ہی ایک ایسے بندے کی موت واقع ہو جائے گی جسے وہ جانتے تک نہیں ہوں گے اور اس کے عوض انہیں پچاس ہزار ڈالر ملیں گے۔

یہ سنتے ہی نارما کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں اور اس کے اندر مدتوں سے دبی ہوئی خواہشات سر اٹھاتی ہیں۔ آرتھر کا رویہ اپنی بیوی کے بر عکس ہے اور وہ کسی بھی انسان کی جان لینے کو ایک سنگین جرم سمجھتا ہے۔ نارما اسے قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور ایسا کرنے کے لئے وہ سب سے بڑی دلیل یہ دیتی ہے کہ یہ بٹن دبانے سے ان کے مدتوں کے ارمان پورے ہو جائیں گے۔ وہ ایک بڑا گھر بنا پائیں گے، ایک بہترین قسم کی گاڑی خرید لیں گے، سارے یورپ کا تفریحی دورہ کریں گے اور ایک پر تعیش زندگی گزاریں گے۔ آرتھر کے بار بار منع کرنے کے باوجود نارما باز نہیں آتی اور یہ گھناؤنا کام کر ڈالتی ہے۔ اسے اپنے لالچ کی قیمت

Read more

گمنام غلام

ادب سماج کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کے فکری رجحان کا ترجمان ہوتا ہے۔ ادب انسانی زندگی کی امکانی صورتِ حال کے مطالعے کا نام ہے۔ ادب کی مختلف اصناف اپنے اپنے انداز میں فرد کے ذہنی، سماجی، معاشی، جنسی اور نفسیاتی مسائل کی عکاسی کرتی ہیں۔ اعلٰی ادب ایسا ادب ہوتا ہے جو…

Read more

ہمارے تعلیمی نصاب کا المیہ

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم ہی سے معاشرے کی ساخت وضع کی جاتی ہے اور اس میں نئے نئے رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔ تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ یہ انسان کو باشعور بناتی ہے۔…

Read more