ادویات کو برانڈ نیم کی بجائے سالٹ نیم سے فروخت کیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 28
  •  

ڈاکٹر صاحبان کو ادویات کو کمپنی نیم کے بجائے سالٹ بیسڈ نسخہ تحریر کرنے کا پابند کیا جائے اور ادویات کی پیکنگ اور ادویات کے نام سالٹ بیسڈ ہو جانے چاہیئں۔ نہ صرف ادویات سستی ہو جائیں گی بلکہ لوگ ادویات کو بغیر نسخہ اور ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر نہیں استعمال کر پائیں گے۔

مثال سے وضاحت کر دیتا ہوں

برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی ایک ریسرچ تحقیق کار ڈاکٹر ملیسا سمار کی اہم تحقیق آن لائن جریدے ”ہیومن ریپروڈکشن“ میں شائع کی گئی جس میں پیراسٹامول، جسے ہمارے ہاں پیناڈول کے نام سے بھی فروخت کیا جاتا ہے، کے بارے میں تفصیلی تحقیق کی گئی اور مردوں کو بانجھ بنانے میں اس کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ چونکہ میرا مطمع نظر بانجھ پن سے متعلق تحقیق کو زیر بحث لانا نہیں لہذا میں مدعے کی بات سمجھا کر اجازت لیتا ہوں۔

اس دوا کو ہمارے ہاں درد یا بخار سے نجات کے لئے ہر کوئی استعمال کرتا نظر آتا ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس دوا کی کیمیائی ترکیب C 8 H 9 NO 2 ہے۔ جبکہ کیمسٹ اسے acetaminophen کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ جبکہ پوری دنیا میں یہ پیراسٹامول، پیناڈول، کالپول، ٹائیلینول، اور دیگر تقریباً تین سو مختلف برانڈز کے نام سے فروخت کی جارہی ہے جبکہ صرف چین ایک واحد ایسا ملک ہے جہاں اسیٹامینوفین کے نام سے ہی فروخت ہو رہی ہے۔ درحقیقت چین ہی وہ ملک ہے جس کا ماڈل جزوی طور پر فولو کرنے کی جانب میں نشاندہی کر رہا ہوں۔ کلی طور پر کیوں نہیں؟ ہر سسٹم کے اپنے کچھ نقائص ہیں اور یہ نقائص چین کے مکمل نظام میں بھی ہیں۔ اس پر گفتگو کسی اور تحریر کی زینت بناؤں گا۔

ویسے بھی ابتدائی طور پر ہم اتنا چھوٹا سا ہی کام کر لیں تو بہت زیادہ ہے۔ پوراسسٹم اڈاپٹ کرنے میں شاید ہمیں ایک صدی لگ جائے۔ بہرحال۔ پاکستان میں پیناڈول کی اجارہ داری ہے اور باقی کسی بھی برانڈ کی رسائی نہیں۔ اور چونکہ دوا کی اصلیت کے بجائے اس کے برانڈ نام پر زور دیا جاتا ہے تو جو کوئی بھی سستی دوا کی فروخت کی کوشش کرتا ہے وہ کاروبار سے باہر ہو جاتا ہے کیونکہ آپ کو اگر پیناڈول سے آرام آتا ہے تو دو سے چار گھنٹے تک آپ کو صرف پیناڈول سے ہی آرام محسوس ہو گا کسی اور نام کی دوا سے نہی کیونکہ آپ اپنے دماغ کو تیار کر چکے ہوتے ہیں کہ صرف اس سے ہی علاج ممکن ہے جبکہ یہ بھی عرض کر دوں کہ جو اجزاء اس دوا میں موجود ہیں

یہ تمام اجزاء ہماری خوراک میں بھی شامل ہیں۔ لیکن ہمیں کبھی ترغیب نہیں دی جاتی کہ ہم سر درد یا بخار کی صورت میں کچھ اچھا کھائیں۔ کیوں؟ کیونکہ اچھا کھانا تین چار سو میں پڑ سکتا ہے جبکہ ایک گولی تو ایک روپے کی ہی ہے شاید۔ لیکن روکیئیے۔ دوائی کے سائڈ ایفیکٹس بھی ہیں۔ ان کو سمجھنے کے لئے یہ جان لیں کہ یہ ہی دوائی معمولی بخار سے کینسر جیسے مرض تک میں دیگر دواؤں کے ساتھ استعمال کروائی جاتی ہے کیونکہ دراصل دوائی کا نام نہیں اس کی کیمیائی ترکیب ہے جو کام کرتی ہے۔ راقم مسعود چوہدری کوئی کیمسٹ یا ڈاکٹر تو نہیں جو حتمی بات تحریر کر سکے لیکن تحقیق سے کچھ معاملات عیاں ہیں جو پیش کیے اور کر رہا ہوں۔ 2011 میں امریکہ میں سرکاری طور پر ایک کیمپین چلائی گئی جس کی تحریر تھی

”Acetaminophen can cause serious liver damage if more than directed is used۔ “

یعنی اسیٹامینوفین (یعنی پیناڈول اور دیگر) کا بتائی گئی مقدار سے زیادہ استعمال جگر کو تباہ کر دیتا ہے۔

اس کیمپین کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ وجہ؟ کیونکہ کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ اسیٹامینوفین کس بلا کا نام ہے کیونکہ وہاں بھی پاکستان کی طرح برانڈز بک رہے ہیں نہ کہ دوائی۔ یہ ضرور ہے کہ امریکہ میں 325 ملی گرام سے زائد کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔

یہ بھی عرض کر دوں کہ اس دوا کا استعمال الکوحول یعنی شراب نوشی کے درمیان استعمال کی صورت میں جگر کو عام حالات سے کئی گنا زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ صرف ایک سال 2011 میں بیلجئم میں 56000 ایسے جگر کے کینسر کے مریض سامنے آئے جنہوں نے اسیٹامینوفین کو الکوحل کے استعمال کے دوران استعمال کیا۔

اس کے سائڈ ایفیکٹس پر ایک الگ سے تحریر لکھی جا سکتی ہے۔ یہ صرف ایک عام سی دوا پرمختصر ترین گفتگو تھی۔ ہر دوا پر اسی طرح کی سینکڑوں تحاریر باآسانی ممکن ہیں۔

جناب ہمارے ہاں تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ جس دوائی کو دنیا میں جگہ نہیں ملتی اور وہ مضر صحت بھی گردان دی جائے اسے بھی چند سیکنڈوں میں عوام میں دے دیا جاتا ہے۔ وجہ؟ صرف کمپنی کا نام دیکھا جاتا ہے اور کچھ نہیں جبکہ لائسنس کا اجراء اور سمپل ٹیسٹ کیمیکل فارمولا کا ہونا چاہیے نہ کہ کمپنی لوگو کا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ادویات کی مقدار کا تعین بھی انتہائی ضروری ہے۔ اکثر اوقات ڈاکٹر صاحبان کو چند ملی گرام کی کسی فارمولہ میں ضرورت ہوتی ہے لیکن دوا کی عدم دستیابی کے باعث وہ زیادہ ماہیت کی مالک دوا کی شمولیت فارمولہ میں کر دیتے ہیں جس سے لاتعداد نقصانات ہوتے ہیں۔ عام سی غیر اینٹی بائیوٹک کے رونے ہی نہیں ختم ہو سکتے، یقین مانیئیے مکمل اینٹی بائیوٹک کے استعمال پر ہونے والے نقصانات کی گفتگو غیر اینٹی بائیوٹک کی گفتگو سے کئی گنا طویل ہے۔ ابتداء کے طور پر یہاں سے شروع کیا جا سکتا ہے کہ

ڈاکٹر صاحبان کو ادویات کو کمپنی نیم کے بجائے سالٹ بیسڈ نسخہ تحریر کرنے کا پابند کیا جائے اور تمام نظام اسی کے مطابق ترتیب دیا جائے۔ دوا کی مالیت کا تعین بھی اسی سالٹ بیس پر کیا جائے۔ یقین مانیے بہت سی ادویات جن کا سالٹ اور کام بالکل ایک ہی ہے ان کی مالیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ چھوٹے بھائی کالم نگار وقار اسلم نے بتایا کہ اسے لیووفلوکسیسین Cravit کے نام سے اسے دی گئی جس کی قیمت leflox سے تین گنا ہے جبکہ صرف کمپنیوں کے نام کا فرق ہے اور یہ بھیڑ چال جاری ہے مریض مہنگے داموں دوا لینے پر مجبور ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 28
  •  
مسعود چوہدری کی دیگر تحریریں
مسعود چوہدری کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں