چڑیا اُڑ گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت کا گرنا سنبھلنا، سیاسی جوڑ توڑ، چوری اور سینہ زوری کے واقعات، پولیس کی نامعلوم افراد سے آنکھ مچولی، موبائل فون کی چھینا جھپٹی، دن دہاڑے کی لوٹ مار، کوڑا کچرا، تجاوزات کا انہدام، ملبہ، سڑکوں کی بدحالی، پانی اور بجلی کا فقدان ___ کراچی کے واقعات خبروں کا موضوع بنتے رہے یہاں تک کہ لوگوں نے ان کو زندگی کا معمول سمجھ لیا ہے۔ مگر ان سے بڑا سانحہ ہوا ہے، اس کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ اور سانحہ یہ ہے کہ کراچی سے چڑیا اڑ گئی۔

محاورے اور پہیلی میں بات نہیں کر رہا ہوں۔ سچ مچ کی چڑیا کا ذکر ہے۔ وہ ننھی منّی اڑتی پھرتی چوں چوں کرتی چڑیا جو بچپن کی کہانی میں دال کا دانہ لایا کرتی تھی، پھر کھچڑی پکایا کرتی تھی۔ میں اس لیے یاد دلا رہا ہوں کہ عنقریب کراچی والوں کو بتانا پڑے گا کہ چڑیا کیا ہوتی ہے۔ بلکہ ہوا کرتی تھی۔ اور کیسے پُھر سے اڑ گئی۔

بڑی بڑی خبروں کے اس ریلے میں جس سے کراچی عبارت ہے، یہ خبر بھی چڑیا کی طرح چھوٹی سی رہ گئی۔ کچھ عرصہ پہلے کراچی کے ایک موقر روزنامے میں یہ خبر چھپی تھی کہ شہر میں گورّیا کی آبادی کم ہوتے ہوتے اتنی رہ گئی ہے کہ شاید یہاں صفحۂ ہستی سے مٹ جائے۔ ایک وقت تھا کہ گورّیا اتنی عام تھی کہ اس کا نام لینے کے بجائے چڑیا کہہ دینا کافی تھا کیونکہ اور کوئی چڑیا اتنی تعداد میں ہوتی تھی نہ گھروں کے آس پاس لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہتی تھی۔

اس پوری سنجیدگی کے ساتھ کہ جس طرح ایسی خبر کو لیا جانا چاہیئے، اخبار کے نمائندے نے علم پرندگان کے ماہر ڈاکٹر سید علی غالب سے گفتگو کی، جنہوں نے شہر میں گورّیا کی کم ہونے والی تعداد کو تشویش ناک قرار دیا۔ انہوں نے دو اسباب کی نشان دہی کی۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ شہر میں اب چیل کوّوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوگیا ہے جو ان چھوٹی چھوٹی چڑیوں اور ان کے بچّوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ چیل کوّوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے بھی بڑھتا ہوا کوڑا ہے جو شہر کی سڑکوں پر فراوانی کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے اور اس کی صفائی کا کوئی انتظام نہیں۔ کوڑاکچرا اتنے دن سڑک پر پڑا رہتا ہے تو اس میں سے ہر طرح کے حشرات الارض فروغ پاتے ہیں اور ان میں چیل کوّے بھی شامل ہیں، جس کو اپنی غذا ملے گی تو ان کی افزائش نسل بھی ہوگی۔ دادی نانی کی سنائی ہوئی کہانی یاد آتی ہے۔ جس میں کوّا چڑیا سے اس کے بچّے مانگ لیتا ہے جب چڑیا کا گھونسلا بارش میں بہہ جاتا ہے۔ کوّا کہتا ہے، کھائیں چڑی کے چینچلے اور مٹکائیں کلّا۔ یہ کہتا جاتا ہے اور ایک ایک کرکے بچّوں کو چٹ کرتا جاتا ہے۔

چڑیا کو ہڑپ کرنے والے چیل کوّے بڑھ گئے۔ڈاکٹر سید علی غالب نے یہ بھی کہا ہے کہ شہر میں بہت ذبیحہ خانے کھُلے ہوئے ہیں اور صدقے کا گوشت لوگ چیل کوّوں کے کھانے کے لیے سڑک کے ساتھ کھُلی جگہوں پر ڈال دیتے ہیں۔ وافر غذا ہوگی تو ان کی نسل زیادہ تعداد میں بڑھے گی پھر چھوٹی چھوٹی چڑیاں ان سے اپنی جان نہیں بچا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے ایک اور وجہ شہر میں خاص طرح کے درختوں کا فروغ بھی بتایا ہے۔ جن کی وجہ سے حیاتیاتی تنّوع (bio-diversity) متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوکلیٹس اور کونوکاوپس کے درخت سوچے سمجھے بغیر بڑی تعداد میں لگائے گئے۔ ان درختوں میں چڑیاں گھونسلا بناتی ہیں اور نہ ان کی شاخوں پر بیٹھنا پسند کرتی ہیں۔ ان چڑیوں کو نیم، املتاس، برگد اور دوسرے دیسی وضع کے درخت زیادہ پسند تھے۔ وہ ان پر بیٹھنے کی عادی تھیں اور ان سے غذا بھی حاصل کرتی تھیں۔ شہر میں جیسے درخت بڑی تعداد میں لگا دیے گئے ہیں انہوں نے ماحول کو تبدیل کر دیا ہے۔ اور ماحول کی اس تبدیلی کی وجہ سے گورّیا چڑیا بھی متاثرہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر اس صورت حال کو روکا نہ گیا تو وہ دن دور نہیں جب گورّیا چڑیا پنجروں میں بند، چڑیا گھر میں اس طرح نظر آیا کرے گی جس طرح لوگ شیر اور ہاتھی دیکھنے جایا کرتے ہیں۔ چڑیا بھی اب شہر سے عُنقا ہونے والی ہے۔

زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ اس شہر میں پرندے کی فریاد کون سُنے گا جہاں لوگوں کی صحت اور بھلائی کے خیال سے کوڑے کی صفائی کا بندوبست نہیں کیا جاتا۔ چڑیا تو بہت چھوٹی سی ہے، آدمی کی فکر نہ کرنے والے حکم رانوں کے لیے اس چڑیا کو نظر انداز کرنا بہت آسان ہے۔

مجھے یاد آیا کہ کئی برس پہلے کلکتہ کے ایک سفر کے دوران ہندوستان کی بہت بڑی ادیبہ مہاشویتا دیوی سے ملنے گیا تھا۔ یہ وہی خاتون ہیں جنہوں نے ہزار چوراسی کی ماں جیسا ناول لکھا تھا۔ وہ اپنے گھر میں بنگال کے ادبی رسالوں کے مدیران کو جمع کرکے سیاسی جدوجہد کی بات کر رہی تھیں اور اس دوران مجھ سے باتوں باتوں میں کہنے لگیں کہ کلکتہ کے شہر میں چیونٹیاں اور کوّے بھی نظر نہیں آتے۔ کیوں کہ وہ سب ختم ہو گئے یہ سُن کر میں سناٹے میں آ گیا۔ سیاسی جدوجہد کی باقی ساری گفتگو میں بھول گیا۔ یہ بات یاد رہ گئی اور اس کو سُن کر ایسا لگا جیسے بھاگتا دوڑتا، یہ مصروف شہر ایک لحظے کے لیے تھم کر رہ گیا ہے۔ بدن میں سنسناتا ہوا خون دماغ میں رُک گیا ہے۔ اس وقت خیال بھی نہیں تھا کہ ایسا امکان ایک دن اپنے شہر کے لیے بھی آ سکتا ہے۔

اصل میں، چڑیاں میری زندگی میں شروع سے شامل رہی ہیں۔ گلیوں، محلّوں کا حصّہ رہی ہیں۔ صرف بچپن کے دنوں یا صبحوں تک محدود نہیں۔ چڑیوں کا چہچہانا صبح کی وہ علامت جو موٹر گاڑیوں، بسوں کے شور اور موّذن کی آواز سے بھی پہلے کانوں میں پڑتا تھا اور بہت نرمی سے سمجھاتا تھا، صبح ہوگئی ہے۔ دن بھر یہ چڑیاں دیوار اور صحن میں پھدکتی نظرآتی تھیں۔ قریب آتا دیکھ کر اُڑ جایا کرتی تھیں۔ یہ روز کا اتنا معمولی سا منظر تھا کہ ان چڑیوں کو پکڑنے کی جستجو بھی نہیں ہوتی تھی۔ چوں چوں کرتی آتی جاتی رہتی تھیں۔

کراچی کی بات ہے، کسی اور نگر کا ذکر نہیں۔ آسمان پر طوطوں کی ڈار اڑتی نظر آتی تھی۔ برسات کے دنوں میں کونجیں ترتیب کے ساتھ اڑتی جانے کون سے دیس جاتی تھیں۔ ہمارے پرانے گھر میں شہتوت کا پیڑ تھا۔ اس پر سیاہ کلغی اور سرخ دھبّے والا ایرانی بلبل آن کر بیٹھا کرتا تھا۔ بلبل کے جوڑے نے گھر کے پاس گھونسلا بنایا تھا جس میں سے ایک مرتبہ بلبل کا بچّہ گر پڑا تھا جس کو میرے چھوٹے بھائی نے بڑی احتیاط سے اٹھا لیا تھا۔ کوّے اس وقت بھی بہت تھے اور مجھے برے نہیں لگتے تھے۔ مگر چیلیں کبھی کبھار نظر آتی تھیں۔ آسمان پر چیل نظرآتی تو کوئی بچّہ پکار اٹھتا ’’انڈے بچّے والی چیل چلو ….‘‘۔ پہلے کسی کسی عمارت پر نظر آتی تھی، اب آس پڑوس کے سارے مکانوں میں کسی نہ کسی چھجّے یا منڈیر پر نظر آتی ہے۔ چیل کے لیے اب گھونسلے کے باہر بھی بہت ماس ہے۔ شہر کراچی چیل کا گھونسلا بنتا جا رہا ہے۔ اس لیے اب چڑیا ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گی۔

ہمارے گھر کے سامنے سڑک کے درمیان سبز قطعے میں پڑوس کے گھرکا چوکیدار مٹّی کے ایک کونڈے میں دانہ پانی رکھتا ہے۔ اس پر مینا اور کبوتر آتے ہیں مگر میں نے یاد کیا تو خیال آیا کہ چڑیاں بہت کم آتی ہیں۔ بجلی کے تاروں پر بیٹھی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ بعض سڑکوں کے کنارے بعض لوگ باجرہ لیے بیٹھے نظر آتے ہیں کہ ان سے خرید کر آپ بے زبان پرندوں کے لیے ڈال دیں۔ بہت سے لوگ صدقے خیرات کا یہ عمل پابندی سے کرتے ہیں۔ میں آتے جاتے ان کو دیکھا کرتا ہوں لیکن دھیان میں آتا ہے کہ جب بھی نظر آتے ہیں، دانہ چُگتے ہوئے کبوتر نظر آتے ہیں۔ چڑیاں نہیں ہوتیں۔ ان کو ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے، میں سوچتا ہوں کہ کراچی کے ان بے زبان شہریوں کو کس طرح واپس بلایا جا سکتا ہے؟ یا پھر ہم صبر کر لیں کہ اس شہر سے ہمیشہ کے لیے چڑیا اڑ گئی۔ اب کوڑے کچرے کے لیے میدان پہلے سے بھی زیادہ صاف ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں