یہی تو سوال ہے۔ جس کا کوئی جواب نہیں دیتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احتشام نے جلدی جلدی او آر ایس ملا پانی پیا اور ایک تہائی کیلا جو باقی بچ گیا تھا وہ بھی نگل لیا۔ بینچ پر بیٹھے بیٹھے اس کی نظر غیر ارادی طور پر اپنے مخالف کے نئے اور اپنے پھٹے ہوئے جوتوں پر پڑی۔ جی بھر آیا لیکن فوراً اپنے آپ کو سنبھالا ”کھلاڑی جوتوں سے نہیں، جذبے سے جیتتے ہیں۔ اور آج میں ہی جیتوں گا“، یہ سوچ کر اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنی دایئں ران کو ہلہ شیری کے انداز میں ہاتھ سے تھپتھپایا، ”یس کم آن“۔

یہ تھا اسلام آباد ٹینس کمپلیکس میں منعقد ہونے والے پانچویں بے نظیر ٹینس کپ کا مردوں کا فائنل میچ۔ توانائی کو بحال کرنے کے لئے یہ نوے سیکنڈ کا یہ آخری وقفہ تھا کیوں کہ ٹائی بریک کے اس پوائنٹ پر میچ کا فیصلہ ہونے کے قوی امکانات تھے۔ احتشام کے لئے کامیابی کا یہ سنہری ترین موقع تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس ٹورنامنٹ میں عقیل خان بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے حصہ نہیں لے رہا تھا۔ اور آپ تو جانتے ہیں کہ عقیل خان کامیابیوں کے ایک طوفان کا نام ہے۔ وہ پچھلے سترہ سال سے پاکستان نمبر ون ہے اور ہر ٹورنامنٹ پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں آ گرتا ہے۔ احتشام، عقیل کی غیر موجودگی میں کامیابی کا یہ نادر موقع کھونا نہیں چاہتا تھا اور اس کے لئے وہ سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار تھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ بڑی وجہ یہ تھی کہ آج شمائلہ بھی یہ میچ دیکھنے کے لئے کورٹ میں موجود تھی اور اس کے سامنے احتشام میچ ہارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

دوسرے سیٹ کا سکور چھ اور پانچ پوائنٹ تھا۔ سروس احتشام نے کروانی تھی۔ اس نے قدرے آگے کو جھک کر گیند کو بایئں ہاتھ سے زمین پر تین بار اچھالا، چوتھے پر اوپر کو پھینکا اور پھر پوری قوت کے ساتھ کاندھے کے اوپر سے ریکٹ کو لاتے ہوئے گیند سے ٹکرایا۔ گیند گولی کی رفتار سے بھاگی، مخالف کے کورٹ میں گئی اور اس کے ریکٹ سے چھن کی آواز آئی۔ اس کے ریکٹ کی گٹ ٹوٹ گئی اور گیند نیٹ کراس کر کے واپس نہ آ سکی۔ احتشام جیتا اور مخالف ہار گیا۔

تماشایؤں کے چہرے کھل کھلا اٹھے اور کورٹ میں تالیاں بجنے لگیں۔ میچ ریفری نے اسی شور کے دوران میچ کے فائنل سکور چھ چار اور سات چھ کا اعلان کیا۔ احتشام نے اسی ہزار روپے کا پہلا انعام جیت لیا۔ وہ خوش تھا، بہت ہی خوش۔ بیس سال کی عمر میں اتنا بڑا انعام۔ اس کے پاوٴں زمین سے نہیں لگ رہے تھے اور اسے ایسا لگ رہا تھا کہ بس ہوا میں اڑتا جا رہا ہے۔

”میں نے یہ پیسے ادھر ادھر ہرگز خرچ نہیں کرنے اور چھ ریکٹ اور بیگ خریدنا ہے۔ اے ٹی پی کے تمام کھلاڑیوں کے پاس چھ ریکٹ ہوتے ہیں۔ میں بھی چھ ریکٹ، پورا کارٹن ٹینس بالز کا، اور پیچھے لٹکانے والا بیگ لوں گا۔ لاہور والے ٹورنامنٹ کے پیسے تو پچھلے تمام ٹورنامنٹ کی طرح دوستوں کے ساتھ اُڑا دیے تھے۔ بوٹ خریدے اور نہ ہی ریکٹ، اور باپ توبس مانگتا ہی رہ گیا۔ لیکن میرے باپ نے بھی تو کبھی کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا۔ وہ دوسروں سے ادھار پیسے اٹھاتا رہتا ہے اور میں بدنامی۔ لیکن اس دفعہ جیب اور منہ کو تالا لگا کر رکھنا ہے۔ بس ریکٹ، گیندیں، اور بیگ“۔ میچ سے واپسی پر وہ سارا راستہ ویگن میں بیٹھا اسی طرح ماضی کو کریدتا اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔ حقیت یہ تھی کہ احتشام کو اتنے پیسے ایک ساتھ کبھی نہیں ملے تھے۔ وہ حیرانی سے کبھی چیک کو دیکھتا اور کبھی اپنے ہاتھوں کو۔ کبھی کبھی غریب انسان کو اپنی کامیابی پر بھی یقین نہیں آتا اور آئے بھی کیسے ہر قدم پر تو ایک نئی ناکامی اپنی بھدی شکل لے کر سامنے کھڑی ہوتی ہے۔

شام کو احتشام کچھ تھکا تھکا لیکن خوش خوش گھر پہنچا۔ کولر سے جی بھر کر ایک۔ دو۔ تین۔ گلاس پانی پی گیا۔ پھر اپنے کمرے میں گیا۔ اندھیرا سا محسوس ہوا اور ٹیوب لائٹ آن کی۔ دونوں پرانے لال رنگ کے گھسے ہوئے ریکٹ ایک کونے میں اس طرح رکھے کہ گویا اچھال کر پھینک دیے اور خود چارپائی پر بوٹوں کے تسمے ڈھیلے کر کے نیم دراز ہو گیا۔

ساتھ والے کمرے میں غیر معمولی سی خاموشی تھی۔ وہ متجسس ہوا، اٹھا اور آہستہ آہستہ دبے پاوٴں اس کمرے میں داخل ہوا۔ دیکھا کہ پچیس واٹ کے بلب کی دھیمی سی روشنی میں اس کی ماں اور باپ اپنی اپنی چارپائیوں پر سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ اس کو یوں لگا کہ شاید خاندان میں سے فوتگی کی کوئی خبر آئی ہے۔ وہ ماں کو مخاطب کرتے ہوئے بولا، ”بے بے خیر تے ہے۔ میں میچ جت کے آیاں واں“۔ اس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ سمجھ نہ پایا کہ معاملہ کیا ہے۔ اس اثنا میں باپ چارپائی سے اٹھا اور اس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر نیم سرگوشی کے انداز میں بولا، ”تیری بے بے دے ٹیسٹاں دی رپورٹ ٹھیک نیئں آئی پتُر“۔

چھاتی کا سرطان۔ آپریشن۔ اٹھارہ ہزار کی ایک ڈوز۔ پانچ ڈوزیں۔ انعام کی رقم۔ علاج یا ریکٹ۔ علاج۔ لیکن ٹینس ساتھ ساتھ۔

زندگی بھی عجیب سی محبوبہ ہے، جینے بھی نہ دے اور مرنے بھی نہ دے۔ احتشام کے ساتھ بس کچھ ایسی ہی دل لگی شروع ہو چکی تھی۔ دو ماہ کے دوران تیسری ڈوز پر اسے پاکستان ٹینس فیڈریشن میں ایک دوست کے سیاستدان باپ کی سفارش پر کھلاڑیوں کے لئے کلے کورٹ تیار کرنے کی نوکری مل گئی۔ دس ہزار ماہانہ تنخواہ طے کر دی گئی۔ تنخواہ اس کی ضرورت سے بہت کم تھی لیکن تھی بہت ضروری۔ کورٹ تو روزانہ تیار کرنے ہی ہوتے تھے لیکن احتشام نے کھلاڑی ہونے کے باوصف نئے ٹینس سیکھنے والے لوگوں کی کوچنگ بھی شروع کر دی۔ کوچنگ اضافی آمدنی کا باعزت ذریعہ تھا۔ معاوضہ گو کم تھا لیکن اسے ادھار اٹھانے کی ذلت سے محفوظ رکھتا۔ وہ اکثر باپ کو بھی کہتا ”رقم ادھار لے کر ذلت اٹھانے سے بھوکا سونا بہتر ہوتا ہے ابا“۔

وقت گزرتا گیا اور رکتا بھی کیوں! بس ایک دن وہ کورٹ میں کھلاڑیوں کو کھلاتے ہوئے پرانی دبی ہوئی خواہشات اور حالات کا دفتر کھول بیٹھا۔ ”چھ ریکٹ۔ گیندوں کا کارٹن۔ کاندھے والا بڑا بیگ۔ شمائلہ۔ ماں کا علاج۔ غربت“۔ آنکھوں کے سامنے ٹینس کورٹ کی بجائے حالاتِ زندگی کی ایک گڈ مڈ سی فلم چل پڑی۔

”کوچ، کیا سوچنے لگ گئے، بھول گئے کھیلنا؟ جلدی بال پھینکیں میری طرف“، نیٹ کے دوسری طرف سے آواز آئی۔ ”اتنے اچھے کھلاڑی ہوتے تو کیا کوچ بنتے اس عمر میں“، دوسرے کھلاڑی نے قہقہہ لگاتے ہوئے پھبتی کسی۔

”اچھے کھلاڑی کوچ کیوں بن جاتے ہیں؟ کھیل جاری کیوں نہیں رکھ پاتے؟ بڑے کھلاڑی کیوں نہیں بنتے؟ “ اس نے باسکٹ میں سے گیند نکالا اور ریکٹ کے ساتھ بھر پور قوت سے ضرب لگائی اور بولا ”یہی تو سوال ہے، جس کا جواب کوئی نہیں دیتا“۔ چھن سی آواز آئی۔ اس بار احتشام کے ریکٹ کی گٹ ٹوٹ گئی تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں