نیب اور چئیرمین نیب: اصل معاملہ کیا ہے

چیئرمین نیب کی کچھ ”قابلِ اعتراض“ آڈیو اور ویڈیو منظرِ عام پر آنے سے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ہل چل ہے گو کہ مین سٹریم میڈیا کے ایک چینل سے یہ خبر کچھ دیر چلنے کے بعد غائب ہو گئی اور اس چینل کے مالک کو مشیرِ وزیرِ اعظم کے عہدے سے ہٹا بھی دیا گیا۔ اور یہ بھی کہ نیب نے اس خبر کو بلیک میلنگ کی کوشش کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر حسبِ روایت زیادہ طنزیہ اور مزاحیہ قسم کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے لیکن کہیں کہیں یہ بحث بھی سر اٹھا رہی ہے کہ کیا یہ واقع چئیرمین نیب کی نجی زندگی سے متعلق ہے یا اس کے کچھ سماجی اور قانونی پہلو بھی ہیں۔

Read more

مائی نیم از ریڈ پر ایک تبصرہ

آیئے آج آپ کو اُرحان پامک کے ناول مائی نیم از ریڈ کے ساتھ ایک مختصر سی ملاقات کر وایئں۔ یہ ناول سلطنتِ عثمانیہ کے عہد کی کہانی ہے اور اس کہانی میں فنِ تصویر کشی (چھوٹی تصاویر، مینیئچر پینٹنگ) بنیادی جھگڑا ہے جس کے ذریعے اورحان پامک ایک دلچسپ داستان بُنتا چلا جاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ پینٹ کرتا چلا جاتا ہے۔ پینٹ کا لفظ اس لئے کہا کیوں کہ اُرحان خود بھی مصور بننا چاہتا تھا لیکن تقریباً بائیس سال کی عمر میں ناول نگاری میں ہی نام پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ کہانی چونکہ عثمانی دور کے مصوروں کے ایک گروہ کے گرد گھومتی ہے اس لئے کہانی پڑھتے وقت اس کے کینوس پر پینٹ ہوتے جانے کا احساس زیادہ ہوتا ہے اور منظر آنکھوں کے سامنے آتا جاتا ہے۔

Read more

بے معنویت

اور اسے اذن دے دیا گیا تھا کہ چاہے تو دن میں رات گزارے یا رات میں دن مگر ہوشیار کہ ہر دو کو اکٹھا نہ بِتائے۔ لیکن چلچلے نے موت اور زندگی دونوں کو یکجا کیا اور ان کی مقدس آنکھوں کے سامنے اپنی زنبیل میں سے رتجگے کا سفوف لے کر سورج کی…

Read more

یہی تو سوال ہے۔ جس کا کوئی جواب نہیں دیتا

احتشام نے جلدی جلدی او آر ایس ملا پانی پیا اور ایک تہائی کیلا جو باقی بچ گیا تھا وہ بھی نگل لیا۔ بینچ پر بیٹھے بیٹھے اس کی نظر غیر ارادی طور پر اپنے مخالف کے نئے اور اپنے پھٹے ہوئے جوتوں پر پڑی۔ جی بھر آیا لیکن فوراً اپنے آپ کو سنبھالا ”کھلاڑی جوتوں سے نہیں، جذبے سے جیتتے ہیں۔ اور آج میں ہی جیتوں گا“، یہ سوچ کر اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنی دایئں ران کو ہلہ شیری کے انداز میں ہاتھ سے تھپتھپایا، ”یس کم آن“۔

یہ تھا اسلام آباد ٹینس کمپلیکس میں منعقد ہونے والے پانچویں بے نظیر ٹینس کپ کا مردوں کا فائنل میچ۔ توانائی کو بحال کرنے کے لئے یہ نوے سیکنڈ کا یہ آخری وقفہ تھا کیوں کہ ٹائی بریک کے اس پوائنٹ پر میچ کا فیصلہ ہونے کے قوی امکانات تھے۔ احتشام کے لئے کامیابی کا یہ سنہری ترین موقع تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس ٹورنامنٹ میں عقیل خان بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے حصہ نہیں لے رہا تھا۔ اور آپ تو جانتے ہیں کہ عقیل خان کامیابیوں کے ایک طوفان کا نام ہے۔ وہ پچھلے سترہ سال سے پاکستان نمبر ون ہے اور ہر ٹورنامنٹ پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں آ گرتا ہے۔ احتشام، عقیل کی غیر موجودگی میں کامیابی کا یہ نادر موقع کھونا نہیں چاہتا تھا اور اس کے لئے وہ سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار تھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ بڑی وجہ یہ تھی کہ آج شمائلہ بھی یہ میچ دیکھنے کے لئے کورٹ میں موجود تھی اور اس کے سامنے احتشام میچ ہارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔

Read more

جب خادم رضوی، چے گویرا کا متبادل بنے

وہ آج جب دوبارہ کام کرنے کے لئے بیٹھا تو اس کے ڈیسک کے سامنے پھر وہی سبز رنگ کی دیوار تھی۔ گہرے سبز رنگ کی۔ دس سال سے وہ اسی فرم میں کام کر رہا تھا لیکن دو ماہ قبل اس کی ترقی ہوئی اور اسے مارکیٹنگ ٹیم کا سپروایزر بنا کر ہیڈ آفس بھیج دیا گیا۔ تنخواہ معقول ہو گئی اور وہ منزہ جو اسے پہنچ سے دور اک خواب لگتی تھی وہ اسے اب کچھ قریب قریب لگنے لگی۔ ویسے تو سب ٹھیک تھا لیکن ایک مسئلہ تھا جو اس کو چین نہیں لینے دیتا تھا۔ اس کے ڈیسک کے سامنے کی دیوار، جس کے ساتھ اس کا ڈیسک جڑا تھا، اس کا گہرا سبز رنگ اسے کسی جنگل کا احساس دلاتا تھا، ایسا جنگل جس کے سامنے وہ خود پنجرے میں بند ہو

Read more

انتقالِ خوف

اس کو ملنے سے اندازہ ہوا کہ اس کے کپڑے ہمیشہ خاکی رنگ کے کیوں ہوتے تھے، اس کے پاس سے کافور کی خوشبو کیوں آتی تھی، اور یہ کہ وہ کالے رنگ کا موٹا سا فاونٹین پین اپنی قمیض کی سامنے والی جیب میں کیوں رکھتا تھا۔ اس شام اسے ملکر یہ بھی اندازہ ہوا کہ اس کی زبان میں لکنت ہے اور وہ قدرے اونچا بھی سنتا ہے۔ پہلی ہی ملاقات کے بعد اس نے بہت بے تکلفی سے اسرار کیا کہ دریا کنارے چلتے ہیں۔ مجھے یوں لگا کہ شاید وہ مجھے ایک غیر محسوس طریقے سے پہلے ہی جانتا ہے۔

Read more