احتشام نے جلدی جلدی او آر ایس ملا پانی پیا اور ایک تہائی کیلا جو باقی بچ گیا تھا وہ بھی نگل لیا۔ بینچ پر بیٹھے بیٹھے اس کی نظر غیر ارادی طور پر اپنے مخالف کے نئے اور اپنے پھٹے ہوئے جوتوں پر پڑی۔ جی بھر آیا لیکن فوراً اپنے آپ کو سنبھالا ”کھلاڑی جوتوں سے نہیں، جذبے سے جیتتے ہیں۔ اور آج میں ہی جیتوں گا“، یہ سوچ کر اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنی دایئں ران کو ہلہ شیری کے انداز میں ہاتھ سے تھپتھپایا، ”یس کم آن“۔
یہ تھا اسلام آباد ٹینس کمپلیکس میں منعقد ہونے والے پانچویں بے نظیر ٹینس کپ کا مردوں کا فائنل میچ۔ توانائی کو بحال کرنے کے لئے یہ نوے سیکنڈ کا یہ آخری وقفہ تھا کیوں کہ ٹائی بریک کے اس پوائنٹ پر میچ کا فیصلہ ہونے کے قوی امکانات تھے۔ احتشام کے لئے کامیابی کا یہ سنہری ترین موقع تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس ٹورنامنٹ میں عقیل خان بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے حصہ نہیں لے رہا تھا۔ اور آپ تو جانتے ہیں کہ عقیل خان کامیابیوں کے ایک طوفان کا نام ہے۔ وہ پچھلے سترہ سال سے پاکستان نمبر ون ہے اور ہر ٹورنامنٹ پکے ہوئے پھل کی طرح اس کی جھولی میں آ گرتا ہے۔ احتشام، عقیل کی غیر موجودگی میں کامیابی کا یہ نادر موقع کھونا نہیں چاہتا تھا اور اس کے لئے وہ سر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار تھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ بڑی وجہ یہ تھی کہ آج شمائلہ بھی یہ میچ دیکھنے کے لئے کورٹ میں موجود تھی اور اس کے سامنے احتشام میچ ہارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
Read more