بیچارہ استاد اور سرکاری ملازمت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ ہی عرصہ پہلے مجھے فلسفہ پڑھنے کا شوق ہوا کیوں کہ میرا خیال تھا (جو ابھی تک تو قائم ہی ہے ) کہ فلسفہ حقائق تک پہنچنے کا بہتر وسیلہ ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ فلسفہ کو جانچنے کے لیے آپ کو آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی اور تمام تر فلسفیوں کے فلسفے سے ضرور گزرنا چاہیے وگرنہ آپ کسی ایک سانچے میں ڈھل کر رہ جائیں گے اور حق کی تلاش کا سفر رک سکتا ہے۔

انہیں دنوں میں تعلیمی فلسفہ بڑی دلچسپی سے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یوں تو وہ سب باتیں پہلے بھی بی۔ ایڈ میں پڑھ رکھی تھیں لیکن اب جس انداز میں پڑھنا تھا وہ پہلے نہیں تھا۔

میں نے افلاطون کے نظریات کو دیکھا کہ وہ کیسے استاد کو علم کا منبع سمجھتا ہے اور استاد کو ہی سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ ارسطو کا فلسفہ افلاطون سے مختلف تھا۔ وہ استاد کی قدر بھی کرتا ہے اور نظریہ ضرورت کا بھی ماننے والا نظر آتا ہے۔

اسی طرح اور بہت سے فلسفیوں کا فلسفہ دیکھا لیکن میں نے یہ کہیں نہیں پڑھا کہ کسی فلسفے میں استاد کو بے عزت اور پریشرائز کرنے کی تلقین کی گئی ہو۔ پاکستان کا نظام تعلیم اللہ جانے کس فلسفے کا قائل ہے اور کب تک اس پر عمل در آمد ہوتا رہے گا۔ کیوں کہ جس قدر دباؤ کا شکار اس وقت اساتذہ (جنہیں قوم کا معمار کہا جاتا ہے ) ہیں شاید ہی کوئی اور سرکاری ملازم ہو۔

ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ایک استاد کو اس کا مقام صرف اخباروں کی سرخیوں میں تو ملتا ہے لیکن حقیقت میں اس کی کوئی قدر نہیں۔

پاکستان میں جہاں زیادہ تر پرائیویٹ سکول مالکان استاد کو کم تنخواہ کے ساتھ زیادہ بوجھ ڈالنے کے عادی ہیں وہیں حکومت ایک سرکاری استاد سے توقعات تو ایک امریکن استاد اور تعلیم جیسی رکھتی ہے لیکن ماحول ان جیسا فراہم کرنے میں بالکل ناکام رہی ہے۔

ایک استاد کو ترغیب دی جاتی ہے اس نے بچے کو تعلیم کے لیے اس طرح مائل کرنا ہے کہ اسے ڈنڈا اٹھانے کی نوبت ہی نہ آئے۔ مار نہیں پیار کا ڈنڈا استاد کے سر پر لٹکایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ درست ہے لیکن دیکھئیے وہیں بچے کے والدین سے کوئی پوچھ گچھ نہیں اور وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے بالکل ذمہ دار نہیں۔ بچہ سکول نہ آئے، گھر کا کام نہ کرے یا فیل ہو جائے اس میں بھی قصور وار استاد ہے۔

میرا بھی یہی ماننا ہے کہ قصوروار استاد ہی ہے۔ لیکن اس کا قصور یہ نہیں کہ بچہ سکول نہیں آیا یا عصر حاضر کے حالات میں جہاں والدین خصوصاً دیہاتی والدین کی انتہائی لاپرواہی کی بدولت ان کا بچہ فیل ہو گیا بلکہ ان کا قصور یہ ہے کہ وہ سرکاری ملازم ہیں اور انہوں نے محض تنخواہ پر اکتفا کر رکھا ہے۔ (جبھی میں آنے والی نسلوں کو سرکاری نوکری کے وہم سے نکالنے کے لیے کوشاں ہوں۔ میں انہیں یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ اس وقت ان کی بے روزگاری اور مشکلات کا حل ان کا ہنر مند ہونا ہے۔ اس موضوع پر مضامین میرے بلاگ جنید نامہ پر موجود ہیں کہ کیسے آن لائن ہنر پڑھے لکھے لوگوں کے لیے، ان کی تھوڑی سی کاوش سے، ان کے لیے بہترین ذریعہ معاش بن سکتا ہے۔ )

آج کل کے استاد وہ طبقہ ہیں جنہیں فقط نوکری کی تلاش تھی اور وہ انہیں مل گئی۔ اب وہ اسے کھونا نہیں چاہتے۔ ان میں اس قدر ہمت ہی نہیں کہ وہ اپنے حقوق کو جانیں اور ان کے لیے بھی بات کر سکیں کیوں کہ انہیں اندازہ ہے کہ نوکری کے بغیر ان کا ایک دن بھی نہیں چل سکتا۔ ان کے افسران بالا اگر ایک ماہ بھی تنخواہ روک لیں تو ان کا گزارا کس قدر دشوار ہو گا یہ وہی جانتے ہیں۔

میں نے آج تک کہیں یہ بھی نہیں پڑھا کہ آپ کسی ملازم کو پریشرائز کر کے اس سے کام لیں تو اس کے نتائج اچھے ہو سکتے ہیں۔ بلکہ ہمیشہ یہی دیکھا کہ جس قدر اطمینان میں ملازم ہو گا اسی قدر وہ چاہت سے کام کر پائے گا۔ ادھر المیہ یہ ہے کہ سب سے زیادہ دباؤ کا شکار استاد ہیں۔ میرے سامنے ہی جوان استاد بے جا دباؤ کا شکار ہو کر اپنی جان گنوا بیٹھے لیکن ان لوگوں کے حقوق پر بات کرنے والا کوئی نہیں۔ بلکہ ہمیشہ اساتذہ کو مزید ڈرایا دھمکایا جاتا ہے اور ایک معلم جسے خاص فوقیت حاصل ہونا تھی، بیچارگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

عصر حاضر میں ایک استاد کو یہ توقع ہرگز نہیں کہ اگر کوئی اس کے ساتھ حادثہ ہو جائے تو اسے چھٹی مل سکتی ہے۔ اور اگر خدا نخواستہ بڑی بھاگ دوڑ کے بعد میڈیکل پر چھٹی مل بھی گئی تو پہلے اتنے دنوں کی تنخواہ جمع کروانا ہو گی۔ ایک استاد جس کا پہلے ہی گزارا مشکل ہے وہ بھلا کیوں کر گھر بیٹھ پائے گا؟ وہ ٹوٹے بازو ٹانگ کے ساتھ بھی حاضر ہوتا ہے کیوں کہ اس کا تنخواہ کے بغیر گزارا نہیں۔

اس کے اپنے حقوق میں شامل اتفاقیہ چھٹیاں بھی اسے نہیں کرنے دی جاتیں جب تک کہ ایم۔ ای۔ اے وزٹ نہ کر لے۔ کیا ایم۔ ای۔ اے کے وزٹ سے پہلے کوئی استاد بیمار نہیں ہو سکتا؟ کیا ہمارے افسران بالا کی رینکنگ واقعی اساتذہ کو ان کے حقوق نہ دینے سے مشروط ہیں؟

اب دیکھئیے ہمارے حاکموں کو سکول کی صفائی ستھرائی سے عشق ہوا تو دباؤ اساتذہ پر ڈالا گیا، کہ صفائی ستھرائی کا معاملہ بھی اساتذہ سنبھالیں۔ اب انہیں جھاڑو پونچھا کے معاملات مزید انہماک سے سنبھالنا ہوں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں