“دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو”


میری پیدائش اسی کے وسط میں ہوئی۔ اس عرصے کا المیہ میرے لیے یہ ہے کہ کراچی کے بڑے نام دیکھ اور پڑھ تو سکتا تھا، ان کے مرتبوں کا ادراک نہیں کرسکتا تھا۔ شعور کی آنکھ کھلی تو عظیم لوگ یا تو دنیا چھوڑ چکے تھے، یا دلی کا فاصلہ بہت بڑھ گیا تھا۔

معین اختر ناظم آباد الحسن پہ بیٹھے سگرٹ پھونکتے تھے، مگر اتنا ہی پتہ تھا کہ کوئی مانے جانے ہیں۔ کچھ شد بد ہوئی بھی تو ایک وقت تک عمر شریف کو ان پر فضیلت دیے رکھی۔ جب جان گئے تو وہ ناظم آباد کی محفلیں ترک چکے تھے۔ ملیر کینٹ تک محدود ہوگئے تھے۔

چار پتھر دور قاضی واجد مرحوم رہائش پذیر تھے۔ شعور کے عرصے میں ان کی گھر کی راہ لی تو خبر ہوئی اب یہاں نہیں ہوتے۔

حضرت جون ایلیا کو بہت دھندلے منظر میں آتے جاتے دیکھا، مگر وہی بات کہ آنکھ کے عدسے نابالغ تھے۔ اب جس گلی میں بھی گئے جس گھر بھی گئے ان کی خوشبو ملی، وہ نہیں ملے۔ اسی بات سے ان کے کچھ ہونے کا اندازہ ہوتا تھا کہ پورے ناظم آباد کے بڑے انہیں عزت دیتے ہیں۔ ضمیر بھائی عزت دینے والوں میں سرفہرست تھے۔ زمانے بعد علم ہوا کہ ضمیر بھائی بھی محض ضمیر بھائی نہیں ہیں بلکہ علامہ ضمیر اختر نقوی ہیں۔

ایک دن گھر کے دروازے سے اخبار اٹھانے گیا۔ ساتھ ایک رسالہ آیا ہوا تھا۔ سر ورق پہ ایک تصویر دیکھ کر بھونچکا رہ گیا کہ یہ تو بالکل اس چڑ چڑے بڈھے جییسا کوئی ہے جو مجھے اور فہد کو چبوترے پہ بیٹھنے نہیں دیتا۔ اپنی گلی میں کرکٹ کھیلنے نہیں دیتا۔ ان کے گھر گیند چلی جائے تو واپس نہیں کرتا۔

شام کو فہد سے ان کا نام پوچھا تو وہی نام تھا جو رسالے میں پڑھا۔ ارتضی بریلوی! اتنا ہی سمجھ پایا کہ یہ “قائد اعظم” کوئی توپ چیز ہی ہے جو اخبار میں چھپاہے۔ مگر ہمیں کیا، جو ہماری گیند واپس نہ کرے اورگلی میں کھیلنے نہ دے وہ بہت گندا ہے اور بدتمیز ہے، جب بھی موقع لگے گا ہم اس کے گھر کی بیل بجا کے بھاگیں گے اس کی گاڑی کی ہوا نکالیں گے۔

قائد اعظم میں نے اپنے حساب سے ان کی چڑ رکھی تھی۔ یہ نام میں نے ان کو جناح کیپ، دھان پان جسامت، سنجیدہ طبعیت اور باوقار سی چال کی وجہ سے دیا تھا۔ مگر وہ کبھی چڑے نہیں، چڑتے بھی کیوں۔ ایک دن ہمیں جھاڑنے کے لیے انہوں نے دروازہ کھولا تو ایک پھسلتی نظر میں میں نے دیکھا کہ ان کے کمرے میں قائد اعظم کی بے شمار تصویریں لگی ہیں۔

ایک دن پتہ چلا کہ وہ ماہر تعلیم ہیں اور گھر سے دو قدم پیچھے جو قائد اعظم لائبریری ہے وہ انہی کی عنایت ہے۔ اب جب وہ سمجھ آنا شروع ہوئےاور ان کی جوتیاں سیدھی کرنے کا وقت ہوا تو وہ امر ہوگئے۔ حسرت مٹانے کو ایک دن ان کے فرزند ممتاز صحافی مجاہد بریلوی کے پاس ضرور چلاگیا۔ان سے بہت ساری باتیں کیں،ہاتھ پہ بوسہ دیا، خیر ہوگئی!

قائد اعظم لائبریری سے غالب لائبریری یاد آئی۔ چھت سے نظر آجاتی تھی مگر ہمیں کیا۔ کون غالب کیسی لائبریری۔ زندگی کا اہم مصرف تو پتنگ اڑانا اور پتنگیں لوٹنا ہے۔ مدت تک غالب لائبریری کی حیثیت لینڈ مارک سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ لیاقت آباد کی طرف سے آنے والوں کو رستہ سمجھاتے کہ بابو لیفٹ پہ غالب لائبریری پڑے گی، وہاں سے بائیں لے لینا۔

اب پتہ چلتا ہے کہ ہم جب شہاب بھائی کے کبوتر اڑارہے تھے تو مرزا ظفرالحسن جیسے عبقری فیض احمد فیض کی رہنمائی میں اس لائبریری کی بنیاد ڈال رہے تھے۔ ایک ہائے سی دل سے نکلتی ہے جب فیض کے کسی مقالے کے اختتامیے پہ لکھا ملتا ہے کہ یہ انہوں نے یہیں ہمارے آجو باجو پیش کیا تھا۔

بس حارث خلیق اور عقیل عباس جعفری جیسے علما کی صحبت اسی لیے غنیمت ہے کہ آنکھ کے پردے پر جو فلم دھندلے پرنٹ میں ہوتی ہے، وہ اس میں رنگ بھرکر ہرمنظر کو نمایاں کردیتے ہیں۔

وحید آباد کے ایک گھر سے ہم کرائے کی سائیکل لیتے تھے۔ اس کے ساتھ والے گھر میں خاتون رہتی تھیں۔ ہمیں کیا علم تھا اس کو پروین شاکر کہتے ہیں۔ ہوگی کوئی، ہمیں تو اس بات کی فکر ہے کہ سائیکل کا یہ ایک گھنٹہ جلدی ختم نہ ہوجائے۔ پروین شاکر کی نسبت ایک چچا سے ہے۔ ان کا ذکر میں نے اپنی ایک تحریر میں کبھی کیا تھا، مگر نام بھول گیا تھا۔ کل ان کا نام پتہ چلا۔ ماجد چچا!

چچا ماجد کا گھر رضویہ سوسائٹی کے آغاز پر تھا۔ اس گھر کا دروازہ صرف رات کو بند ہوتا تھا۔ ہرآتا جاتا دیکھ سکتا تھا کہ دروازہ کھلا ہے۔ اندر چبوترے پر رکھے صوفے پر ایک بزرگ بیٹھے کتاب پڑھ رہے ہیں۔ کوئی بھی آسکتا ہے، سلام کرکے بیٹھ سکتا ہے۔ چائے ملے گی، پانی ملے گا، علم تو بے تحاشا ملے گا اور اگر پڑھنا چاہیں تو کتابیں بہت ملیں گیں۔

مگر ہمیں کتاب سے کیا نسبت بھئی۔ ہم تو گلی میں بھاگتے دوڑتے تھک جاتے ہیں تو ان کے ہاں سے پانی مل جاتا تھا، ان کی فضیلت کو یہی بس تھا۔ ورنہ چچا ہمارے لیے راہ میں بیٹھے کسی اللہ بابا سے زیادہ کچھ نہ تھے۔ ایک دنیا نے اس جگہ سے فیض پایا۔ کل ہی علم ہوا کہ پروین شاکر کے لیے تو یہ جگہ کُل کائنات تھی۔

ساتھ ہی غدیر چوک ہے۔ یہاں پانی کی سبیل لگی تھی۔ اتنی خوبصورت اور اتنی مصروف سبیل میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ سبیل کے ساتھ ہی پارک ہے۔

اس پارک میں جھولتے کھیلتے بچپن بیت گیا۔ جس عمارت کے پہلو میں یہ پارک اور سبیل ہے، اب جاکر فیس بک نے بتایا کہ علمی خانوادے کی نامور مصنفہ، شاعرہ اور اردو کی استاد تسنیم عابدی صاحبہ اسی عمارت میں مقیم تھیں۔ سبحان تیری قدرت! چچا ماجد کے پاس سب جاتے تھے، تسنیم عابدی خوش نصیب ہیں کہ چچا چل کے ان کے پاس چلے جاتے تھے۔ مجھے کراچی جانا چاہیے تھا، ہمارے نصیب کہ تسنیم صاحبہ اسلام آباد آگئیں۔

اب تک ان سے ایک شاعر و سامع اور استاد و شاگرد کی نسبت سے تعلق رہا۔ غمِ روزگار ہمیں اسلام آباد لے آیا ہے اور گردشِ ایام نے انہیں امریکہ پہنچادیا۔ سمٹتے ہوئے زمانے کا شکریہ کہ کل اسلام آباد رائٹرز ہاوس میں ان سے ملاقات ہوئی تو کوئی استاد شاگرد اور شاعر سامع بیچ میں حائل نہیں ہوا۔ بس یہ دوایسے لوگوں کی ملاقات تھی جو پچھلے جنم میں پڑوسی تھے۔ ملاقات کیا تھی، گئے وقتوں کا نوحہ تھا اور آہ و زاریاں تھیں۔

میں پکارتا تھا ہائے گُل، وہ چلاتی تھیں ہائے دل۔ گئے وقت کو یاد کرکے جیے بھی بہت اسی دور کو پکار کے روئے بھی بہت۔ جیے تو اس لیے کہ کیا ہی وقت تھا صاحب۔ روئے اس لیے کہ قائد اعظم لائبریری میں اب سناٹا بولتا ہے، غالب لائبریری میں دھول اڑتی ہے، علم کی پیاس جس دروازے پر بجھتی تھی چچا ماجد کا وہ دروازہ حالات نے بند کردیا ہے، دیواروں پر خاردار تاریں چڑھ گئی ہیں۔ اورغدیر چوک کے نلکوں میں اب پانی بھی نہیں آتا!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں