عمران خان کے نزدیک پارلیمنٹ کی بالادستی، عزت اور تکریم۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان، صاحب اقتدار ہوئے تو مجھے قدرے اطمینان محسوس ہوا کہ چلو جی اب پارلیمنٹ کو کوئی لعنتی اور جعلی کہے گا، نہ اس میں بیٹھے سارے پارلیامینٹیرینز چور اور ڈاکو جیسے القابات سے پکارے جائیں گے۔ اب ملک کا ہر معاملہ پارلیمان میں باقاعدہ پیش ہوا کرے گا اور اس پر سیر حاصل بحث ہوا کرے گی، عوام کو ہر بات سے باخبر رکھا جائے گا۔ مجھے لگا کہ اب پارلیمنٹ نہ صرف بالادست و مکرم ہوگی بلکہ اس کی عزت و تکریم بھی ہوگی، کیونکہ پارلیمنٹ سب سے زیادہ مقتدر و محترم قانون ساز ادارہ ہے۔

اسی پارلیمان نے 1973 کا تاریخ ساز متفقہ آئین بنایا، پھر جب ایک فوجی قابض کی جانب سے اس کی اصل روح کو مجروح کیا گیا اور دوسرے طالع آزما قابض کی جانب سے اس میں اپنی مرضی و منشاء کے مطابق پھر اس کی شکل مزید بگاڑی گئی، تو اسی مجروح آئین کو اسی پارلیمان نے اس کی اصل روح کے مطابق، اس کی اس شکل میں جو 1973 میں اسے متفقہ طور عطا کی گئی تھی بحال کیا۔ عمران خان صاحب اپوزیشن میں ہوتے تھے تو ہر بات پہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور عزت اور اہمیت کی بات کرتے تھے۔

حکومت وقت کو باور کراتے تھے کہ ہر بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے معاملے کو بھی پارلیمنٹ میں بحث کیا جانا چاہیے تاکہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور اہمیت اجاگر ہو سکے۔ خان صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے کہ وہ برسرِ اقتدار آ کر پاکستان کا ہر مسئلہ پارلیمنٹ کے فلور پر ملک کے بائیس کروڑ عوام کے سامنے رکھیں گے اور پھر ملک کی فلاح وبہبود کے لئے اٹھایا جانے والا ہر قدم پارلیمنٹ کے مشورے سے مشروط ہوگا۔ عمران خان صاحب کے یہ خوش سماعت الفاظ آج جب وہ اقتدار میں ہیں تو صرف لفاظی لگ رہے ہیں کیوں کہ آج موجودہ پارلیمنٹ کو معرضِ وجود میں آئے پانچ ماہ ہونے کو آئے ہیں، کوئی تیس سے زائد اس کی بیٹھکیں مکمل ہوچکی ہیں اور ہر دو ہفتے بعد پارلیمنٹ میں معزز ارکان کے سوالوں کے جوابات دینے کا وعدہ کرنے والے وزیراعظم عمران خان صاحب صرف پانچ بیٹھکوں میں ہی شریک ہو سکے ہیں اور اب تو ان کے اپنے چاہنے والے ہی یہ کہنے پہ مجبور ہوگئے ہیں کہ ”خان صاحب کا وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے“ یہ وعدہ بھی اسی وعدے جیسا ہی ہے کہ میں کبھی اپنی عوام سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔

خیر خان صاحب بحیثیت ممبر قومی اسمبلی جون 2013 سے 31 مئی 2018 تک قومی اسمبلی کے 520 بیٹھکوں میں سے صرف 24 میں ہی شریک ہوئے یعنی ان کی پارلیمنٹ میں حاضری کی شرح محض 5 فیصد ہی بنتی ہے۔ ان غیر حاضریوں کے دوران انہوں نے قومی اسمبلی سے تمام مالی مراعات بھی حاصل کیں۔ ان مراعات میں وہ رقوم بھی شامل ہیں جب خان صاحب کنٹینر پہ کھڑے ہوکے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کو گالیاں دیتے تھے اور اس پارلیمنٹ کو جعلی کہتے تھے۔

اسی پارلیمنٹ سے مستعفی بھی ہوئے اور پھر استعفیٰ واپس لے کر اسی جعلی چوروں ڈاکوؤں سے بھری پری پارلیمنٹ میں تمام مالیاتی فوائد کے ساتھ براجمان بھی ہوئے۔ خان صاحب جس پارلیمنٹ سے ووٹ لے کر آج ملک کے وزیر اعظم ہیں اس پارلیمنٹ میں بھی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو پچھلی جعلی پارلیمنٹ میں بھی موجود تھے اس وقت ان کی اکثریت چوروں اور ڈاکوؤں میں شمار ہوتی تھی لیکن آج ان کی اکثریت جب خان صاحب کے ساتھ ہیں تو وہ بخشے ہوئے فرشتے اور پارلیمنٹ بھی آزادانہ غیرجانبدارانہ عوامی مینڈیٹ کے ذریعے وجود میں آئی ہوئی پارلیمنٹ ہے۔

لیکن خان صاحب کا رویہ آج بھی پارلیمنٹ کے ساتھ ویسا ہی نظر آتا ہے جیسا پچھلی دو نمبری جعلی پارلیمنٹ کے دوران نظر آتا تھا یعنی سب کو برا بھلا بھی کہنا ہے، پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے والی سابقہ حکومتی روش بھی برقرار رکھنی ہے اور پارلیمنٹ سے غیر حاضر بھی رہنا ہے۔ آج خان صاحب خود وزیراعظم ہیں آج پارلیمنٹ کی توقیر اور عزت کی اہمیت اور افادیت کا سب سے زیادہ خیال انہیں رکھنا چاہیے کیونکہ اسی پارلیمنٹ نے انہیں وزیراعظم منتخب کیا ہے اور یہی پارلیمنٹ ہے جس کی عزت اور توقیر نہ ہونے کی وہ دہائیاں دیتے رہے ہیں ہیں۔

خان صاحب کے جس بیانئے کو مقبولیت حاصل ہوئی اور وہ اقتدار میں آئے اس کا ایک نکتا پارلیمنٹ کی بالادستی، اس کی آزادی، اہمیت اور حیثیت کی بحالی بھی تھا لیکن پانچ ماہ میں وزیراعظم صاحب کے ایک بھی قدم سے ایسا نہیں لگا کہ وہ پارلیمنٹ کو کوئی اہمیت دینے میں ذرا سی بھی دلچسپی رکھتے ہیں یا وہ اس کی آزادی اور بالادستی کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ وزیراعظم اور ان کے رفقاء کار پارلیمنٹ کے اب تک ہونے والے پانچ سیشنوں میں سوائے اپنے مخالفین پر لفظی گولا باری کے اور کچھ نہیں کر سکے ہیں۔

خان صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد بہت سے اہم معاملات ایسے تھے جو پارلیمنٹ میں پیش ہونے چاہئیں تھے، جن پر بحث ہونی چاہیے تھی اور متفقہ طور پر پارلیمنٹ ایک پلیٹ فارم پر کھڑی ہونی چاہیے تھی۔ ان اہم معاملات میں ملک کو درپیش معاشی چیلنجز، ایس پی طاہر داوڑ کا اغوا اور پھر افغانستان میں قتل، وزیراعظم کے سعودی عرب، چین پھر سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا یواے ای کے دورے، آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کے معاملات، بھارت کی جانب سے لائین آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں اور کشمیر میں جاری بھارتی دہشتگردی سمیت بہت سے اہم عوامی اور قومی نوعیت کے معاملات ایسے ہیں جن پر پارلیمنٹ کو مکمل اعتماد میں لیا جانا چاہیے تھا مگر وزیراعظم صاحب نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی سیاسی مخالفین کو برداشت نہ کرنے کی اپنی روش کو برقرار رکھتے ہوئے عوام میں اپنی تیزی سے گرتی ہوئی مقبولیت کو بہتر کرنے اور اپنے پرانے مؤقف پر عمل پیرا ہوکے اپنی عوامی ساکھ کو مزید مضبوط و مستحکم کرنے کا نادر موقع ہاتھ سے گنوا دیا ہے۔

اپنے پہلے پانچ ماہ میں ہی وزیراعظم عمران خان صاحب نے اپنی حکومت کے عزائم اور طرزِ حکمرانی کا عندیہ دے دیا ہے کہ ان کے نزدیک ملک کی اپوزیشن کی کیا اہمیت ہے، اختلاف رائے کو وہ کس زاویے سے دیکھتے ہیں اور اس پارلیمنٹ کی بالادستی، آزادی، عزت و تکریم کی ان کی نظروں میں کیا اہمیت ہے جس نے انہیں وزیراعظم کا ووٹ دیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں