اصغر خان کیس کا ڈھونگ کب تک چلے گا!


اس پس منظر میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے اس انقلاب آفرین اعلان کا مطالعہ کرنا چاہیے جو آج انہوں نے اصغر خان کیس کی تحقیقات جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کیا ہے کہ ’فوج ہمارے دائرہ اختیار سے باہر نہیں ہے‘ ۔ نہ جانے اپنے عہدہ سے سبکدوش ہونے سے چند روز قبل چیف جسٹس ثاقب نثار کو یہ مجذوبانہ ریمارکس دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ اور شاید اسی لئے یہ ضرورت محسوس ہوئی ہو کہ چیف صاحب اب چند دن کے مہمان ہیں اور جانے والوں کی بلند آہنگی کو ان کی مجبوری یا تعلی سمجھ کر نظر اندازکرنا سہل ہوتا ہے۔

کیوں کہ اس قسم کے اعلانات اختیار کو چیلنج نہیں کرتے۔ یہ اس سچ سے بھی عیاں ہے کہ اس بے باکانہ اعلان کے بعد نہ تو جنرل (ر) اسلم بیگ یا لیفٹینٹ جنرل (ر) اسد درانی پر مقدمہ قائم کرنے کا حکم دیا گیا اور نہ ہی یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر ملک کے جمہوری عمل میں مداخلت کی سازش اور کوشش کی گئی تھی تو اس قصور کے ذمہ داروں کا فوج کے اندرونی نظام میں احتساب کیوں ہو گا۔

ان دونوں سابقہ جرنیلوں کا یہ جرم قوم کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف تھا۔ اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے نہ صرف 14 کروڑ روپے کے لگ بھگ وسائل جمعکیے بلکہ انہیں ان لوگوں میں تقسیم کیا جو ان کی ہدایات کے مطابق پیپلز پارٹی کی انتخابی کامیابی کے راستے کی رکاوٹ بن سکتے تھے۔ اس لئے انہیں ملک کی عام عدالتوں میں ہی اپنے اس قومی جرم کا جواب دینا چاہیے۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں ایف آئی اے کی طرف سے اصغر خان کیس کی تحقیقات بند کردینے کی درخواست اور اس پر سپریم کورٹ کی طرف سے ائیر مارشل (ر) اصغر خان کے خاندان سے رائے لینے کے حکم کے بعد ملک میں جس قسم کی آرا کا اظہار ہؤا تھا، ان کی روشنی میں سپریم کورٹ کے پاس اس معاملہ کو مزید ’مؤخر‘ کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ اس کے باوجود چیف جسٹس ثاقب نثار نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے فیصلہ کے بارے میں یہ کہنا ضروری سمجھا کہ ’اس فیصلہ کے بعد ملاقات میں، میں نے جسٹس چوہدری سے کہا تھا کہ اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے بعد اب سپریم کورٹ کچھ اور نہ بھی کرے تو بھی کافی ہے‘ ۔ نہ جانے چیف جسٹس کے اس تبصرہ کا کیا مقصد ہے۔ اس فیصلہ کا بڑا پن تو تب ثابت ہوتا اگر سپریم کورٹ یہ قرار دیتی کہ آئی ایس آئی نے یہ کام کرتے ہوئے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا تھا۔ اس لئے اس ادارے کی رہنمائی اور اصلاح کے لئے مناسب اقداماتکیے جائیں اور عدالت کو ان کے بارے میں مطلع کیا جائے۔

اوّل تو اصغر خان کیس میں سولہ برس کی طویل مدت کے بعد 2012 میں فیصلہ کیا گیا، جو بجائے خود سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے والا معاملہ تھا۔ دوسرے اسے یوں بھی کوئی معرکتہ الآرا کارنامہ قرار نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ اس میں ملوث اداروں کی بجائے دو افراد کو قصور وار قرار دے کر معاملہ کو ادارہ جاتی بتانے کی بجائے یہ کہا گیا ہے کہ یہ فعل ان دونوں جرنیلوں کا انفرادی کام تھا۔ اس طرح سپریم کورٹ برائی کی نشاندہی کرنے کے مقصد میں لب بام سے ایک ہاتھ پیچھے رہ گئی تھی۔ کسی بڑے اور کم بڑے فیصلہ کا اگر کوئی معیار مقرر کیا جا سکتا ہے تو وہ یہی ہاتھ بھر کا فاصلہ ہوتا ہے۔

اصغر خان کیس کو جمہوریت سے وابستگی کی مثال بنانے کی کوششیں اب بے مقصد اور ناکام ہیں۔ جب ملک میں اس مزاج کو تبدیل کرنے کے لئے کوئی رکاوٹ کھڑی کرنے کا اہتمام نہیں کیا جا سکا۔ جب قومی معاملات اب تک پارلیمنٹ کی بجائے کہیں اور طے ہوتے ہیں۔ جب سیاست میں اداروں کی مداخلت کا سلسلہ 1990 کے انتخابات میں مداخلت کے مقابلے میں کوسوں آگے بڑھ چکا ہے۔ جب فوج کے سربراہ اور ترجمان سیاسی بیان دیتے ہیں اور چیف جسٹس انتظامی معاملات میں ٹانگ اڑانے کو اپنا آئینی فرض قرار دیتے ہیں، تو اصغر خان کیس میں بال کی کھال اتارنے سے کیا حاصل ہوگا۔

سپریم کورٹ اور اس کے جواں ہمت مگر عنقریب سابق ہونے والے چیف جسٹس خاطرجمع رکھیں۔ اس ملک میں کسی جنرل کو سزا دینے کی روایت قائم کرنا ابھی تک ملک کے کسی ادارے کے اختیار میں نہیں۔ جمہوریت اب تک ان ہی سہاروں کی محتاج ہے جنہیں 1990 میں جنرل بیگ اور جنرل درانی نے یونس حبیب کی صورت میں دریافت کیا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali