تعلیم کے نام پر کاروبار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 2
  •  

تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اوراس حق کو ریاست پاکستان کاآئین باقاعدہ طور پر تسلیم کرتا ہے، مگر بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ یہ حق تسلیم ہونے کے باوجود آج ڈھائی کروڑ پاکستانی بچے اسکول نہیں جاتے اور جو بچے ریاست کے تعلیمی نظام سے استفادہ کر رہے ہیں ان کی حالت کچھ یوں ہے کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق سندھ میں اساتذہ کی 6 ہزار اسامیوں کے لئے 20 ہزار امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے صرف 2 ہزار افراد امتحان میں پاس ہوئے۔

ہر امیدوار کو امتحان پاس کرنے کے لئے صرف 60 نمبر حاصل کرنے تھے۔ مگر پڑھے لکھے 18 ہزار نوجوان 60 نمبر حاصل کرنے کی قابلیت نہیں رکھتے، یہ ایک ایسے پاکستان کی کہانی میں آپ کو سنا رہا ہوں جس کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ یہاں کا نوجوان بے روز گاری کا شکار ہے۔ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ 4 ہزار اسامیاں اس لئے خالی رہ گئیں کہ کوئی نوجوان امتحان پاس نہیں کر سکا۔

ایک طرف ریاست معیاری تعلیم دینے میں ناکام ہے تو دوسری جانب پاکستان میں تعلیم کے نام پر کاروبار کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بات کا اندازہ سپریم کورٹ میں پرائیویٹ اسکولوں میں اضافی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کا جائزہ لینے سے لگایا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ 5 ہزار سے زائد فیس وصول کرنے والے پرائیویٹ اسکولوں کو یہ حکم دے چکی ہے کہ وہ اپنی فیسوں میں 20 فیصد کمی کریں۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد پرائیویٹ اسکولوں کے ردعمل کے بارے میں سیکر یٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ مختلف اسکولوں کی انتظامیہ نے کچھ اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کر نے کے علاوہ سہولیات میں بھی کمی کر نا شروع کر دی ہے، ایک اسکول نے کہا کہ ہم ایک ہزار روپے فیس کم کر دیں گے لیکن اسکول میں قرآن شریف کی تعلیم بند کر دی جائے گی، جبکہ ایک اسکول نے والدین کو نوٹس جاری کیا اور انہیں کہا کہ سپریم کورٹ کے منصفانہ فیصلے کے بعد اسکول انتظامیہ معیار کم کرنے پر مجبور ہے۔

دوران سماعت پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے صدر زعفران الہی نے سپریم کورٹ میں موقف اختیار کیا کہ اگر اسکولوں نے عدالتی حکم پر ایک ماہ کی بھی فیس واپس کی تو وہ اسکول بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ایک طرف جہاں پرائیویٹ اسکول مالکان اپنی معاشی مشکلات کو فیس میں اضافے کے لئے ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں تو دوسری جانب دوران سماعت سپریم کورٹ میں سیکریٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے یہ انکشاف کیا کہ اسکول کے ڈائریکٹر کی سالانہ تنخواہ 12 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے، جبکہ عدالت کواٹارنی جنرل نے ایک ڈائریکٹر کے بارے مین بتایا کہ وہ ساڑھے 10 کروڑ روپے سالانہ تنخواہ لے رہی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آڈٹ ٹیم کے رکن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ پرائیویٹ اسکولوں نے 1 ارب 20 کروڑ روپے کا ٹیکس ادا کر دیا ہے۔

اب ذراسوچئے کہ اس ملک کے غریب والدین کیسے اپنے بچوں کو تعلیم دلوائے گے۔ جو تعلیمی ادارے مجموعی طور پرایک ارب روپے کا ٹیکس ادا کر رہے ہیں وہ کتنے ارب کا منافع کما رہے ہوں گے۔ اسکول مالکان تو اپنے کاروبار کو رائٹ ٹوٹریڈ کرار دے رہے ہیں۔ مگر رائٹ ٹو ریگولیٹ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ دوسری جانب جس حکومت نے اس تعلیمی نظام کو ٹھیک کرنا ہے وہ ابھی بے بس نظر آرہی ہے۔ نئے پاکستان مین تعلیمی انقلاب دور دور تک ہمیں نظر نہیں آرہا۔

صورتحال اتنی خوفناک ہے کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے قومی نصاب کونسل کے پہلے اجلاس میں یہ انکشاف کیا کہ گزشتہ چند سالوں میں ملک میں شرح خواندگی کی شرح گھٹ کر 60 سے 58 فیصد ہو چکی ہے۔ یعنی 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی کے پی کے میں کامیابی کی بڑی وجہ تعلیم صحت اور پولیس کے شعبے میں بہتر کارکردگی کو کرار دیا جا تاہے، وزیر اعظم عمران خان تو پورے ملک میں یکساں نصاب تعلیم چاہتے ہیں مگر سندھ حکومت اور پاکستان کے بڑے پرائیویٹ ادارے یہ نہیں چاہتے۔

یہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت نے پہلی قومی نصاب کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کی جس کی وجہ پیپلزپارٹی کے بعض حلقوں کے مطابق 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت تعلیم صوبائی معاملہ ہے اور وفاق اس شعبہ میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ تاہم بعض حلقوں کے مطابق اگرپرائیویٹ اسکول یکساں نصاب تعلیم کو قبول کر لیں تو ان کا طبقاتی تعلیمی نظام نہیں چلے گا۔ معاشرے میں طبقاتی تقسیم ہی اسکول مالکان کے کاروبار کی اصل جان ہے۔

سپریم کورٹ میں اضافی فیسوں کے معاملے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ حکومت ان پرائیویٹ اسکولوں کے تعلیمی معیار، ماحول اور فیسوں ریگولیٹ نہیں کرنا چاہتی یا حکومت میں تعلیم کے نام پر کھلی دکانوں کو ریگولیٹ کرنے کی اہلیت نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں تعلیمی ادروں میں منشیات کے استعمال کی افسوسناک خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔ دنیا میں تعلیم کے لفظ کو تربیت کے ساتھ جوڑا جا تاہے۔ ہمارے ملک میں طلبا کی تربیت کو چھوڑیے اساتذہ کے تربیتی اداروں کو ختم کیا جا رہاہے۔

جس کی زندہ مثال پنجاب کے 36 اضلاع میں قائم ایلیمنٹری ٹیچرز ٹرینگ کالجز کا خاتمہ ہے۔ جہاں ایم ایڈ اور بی ایڈ کے کورسز کے ذریعے اساتذہ کی تربیت کی جاتی تھی۔ مگر اب یہ ادارے اسکولوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان اداروں کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر شاید اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے تحریک انصاف کی حکومت سنجیدہ نہیں ہے جیسے اسکولوں کی فیسوں کو ریگولیٹ کرنے کے معاملے میں ہمیں سنجیدگی نطر نہیں آرہی لیکن والدین کوئی بھی سیاسی حکومتوں سے اپنے مسائل کے حل کی کوئی خاص توقع نہیں ہے۔ والدین بھی اپنی داد رسی کے لئے سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہے۔ جو شاید انھیں مایوس نہیں کرے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 2
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں