تحریک انصاف والے”ڈیٹ “ مارنے چلے اور میدان جنگ میں آ نکلے: حسن نثار حکومتی کارکردگی سے شدید مایوس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مستقل اشتعالی کیفیت میں سیاسی تجزیہ کرنے کی شہرت رکھنے والے صحافی حسن نثار تحریک انصاف کی حکومت سے بھی شدید مایوس نظر آ رہے ہیں۔ حسن نثار نے کہا ہے کہ حکومت کے بارے میں مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ ”ڈیٹ“ مارنے گئے تھے اور میدان جنگ میں آگئے ہیں، میں جتنی ٹاسک فورس کی باتیں سنتا ہوں، اتنی ہی مہذب گالیاں میرے منہ سے نکلتی ہیں، موجودہ آئین اور قانون کے ہوتے ہوئے احتساب نہیں ہوگا ، اس کے لئے سعودی عرب کاماڈل لانا پڑے گا۔

سماء نیوز کے پروگرام ”نیوز بیٹ“ میں گفتگو کرتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ موجودہ آئین اور قانون کے ہوتے ہوئے احتساب نہیں ہو گا، اس کے لئے سعودی عرب کا ماڈل لانا پڑے گا۔ موجودہ سیٹ اپ کے ہوتے ہوئے کوئی مقصد بھی حاصل نہیں ہوگا۔ کچھ سالوں کے لئے بہت کچھ اٹھا کر کوڑے دان میں پھینکنا پڑے گا۔ اربوں کے سکینڈل کا مقدمہ چل رہا ہے اور پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی سربراہی مل گئی ہے۔

حسن نثار نے کہا کہ ان حالات میں کرپشن کی ریکوری بھی نہیں ہوسکتی، حکومت کس لئے ہوتی ہیں؟ ان للوﺅں پنجوﺅں کو ہماری گردنوں پر کیوں سوار کرتے ہیں۔ عام آدمی کیلئے کچھ بہتری کریں تاکہ وہ اپنے بچوں کو پڑھا سکے اورعزت کی روٹی کھا سکے۔ ماضی مین تحریک انساف کی حمایت کرنے والے حسن نثار نے کہا کہ مجھے افسوس سے زیادہ شرمندگی اور ندامت ہے۔ حکومت کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ”ڈیٹ“ مارنے گئے تھے اور میدان جنگ میں آگئے ہیں۔ میراخیال تھا کہ پڑھے لکھے لوگ ہیں اور کچھ جانتے ہوں گے لیکن یہ اب ٹاسک فورسز بنا رہے ہیں ، میں تھوڑا بیوقوف تھا اورعقل بھی ٹھیک طرح استعمال نہیں کی۔ ٹاپ مین کے دیانت دار کے ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ لچ لفنگ پارٹی ہے۔

ایک وزیر میڈیا سے کہہ رہاہے کہ تمہیں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے۔ یہ مینڈک بھی نہیں ہیں، ان کی تو کوئی اوقات ہی نہیں ہے، یہاں پر بڑے بڑے پھنے خان ٹراتے پھر رہے ہیں، جو کہتے تھے حکمران خاندان اور اب صرف خاندان ہی رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے تو پہلے والوں کی شکلیں بہتر تھیں، ان کی تو کوئی اوقات ہی نہیں ہے۔ حکومت جن کے کندھوں پر بیٹھ کر آئی ہے، وہ اب اس کو کوس رہے ہیں اور جوکسر رہ گئی ہے وہ ایک آدھ منی بجٹ میں پوری ہوجائے گی۔

اسحاق ڈار کی لوگ شکل بھی بھولتے جارہے ہیں، اب جو پونے سات فٹ کا نیا ”اقتصادی عالم چنا “ ہے وہ تاجروں کو بونگیاں سنا رہا تھا، یہی بونگیاں وہ عمران خان کو سناتا ہے اور یہی عمران خان ہم کو سناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضدی اور ہٹ دھرم ہونا عمران خان کا المیہ ہے، شہ سوار قطب الدین ایبک جیسا بھی ہو، گردن تواس کی ہی ٹوٹے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں