کیا ڈاکٹر شاہد مسعود ڈارک نیٹ کے نشانے پر ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 28
  •  

ڈاکٹر شاہد مسعود پاکستان کے صف اول کے اینکرز میں شمار ہوتے تھے، ان کے نقطہ نظر کی نفی کرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں تھی اور ان کے حامی بھی لاکھوں میں ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے قیامت پر قیاس آرائیوں پر مبنی پروگرام سے شہرت حاصل کی۔ بلاشبہ معلومات سے بھرپور ان کے پروگرام نے وسیع پیمانے پر لوگوں کو متاثر کیا اور عوام الناس میں قیامت کے موضوع پر ایک معلوماتی مباحثے کا آغاز ہوا جو کافی لمبے عرصے تک جاری رہا۔

ڈاکٹر صاحب پھر حالات حاضرہ کے پروگرام پر آ گئے اور انہوں نے بلاشبہ اچھے پروگرام بھی کیے اور انہیں ملک بھر میں خوب پزیرائی بھی ملی۔
ڈاکٹر شاہد مسعود نے قصور کے مشہور زمانہ کیس پر رائے دیتے ہوئے بتایا کہ مجرم عمران ڈارک نیٹ کا کارندہ ہے اور اس کے نام پر ملک بھر میں 37 کے قریب بنک اکاونٹ ہیں۔

یہ الزام چھوٹا نہیں تھا جس پر خوب بحث ہوئی اور اچانک ڈارک نیٹ کا موضوع عام لوگوں کے سامنے آیا اور اس موضوع پر معلوماتی کالم ویڈیوز اور پروگراموں کا سلسلہ شروع ہوا لیکن جلد ہی تمام معاملات ٹھپ ہو گئے اور ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات جھوٹ ثابت ہو گئے۔

ڈاکٹر صاحب نے بلاشبہ شواہد سے ہٹ کر الزام لگایا تھا۔ ہوا یوں تھا کہ مجرم عمران کا جیسے ہی شناختی کارڈ نمبر سامنے آیا ملک بھر میں مختلف بنکوں میں سٹاف نے اپنے طور پر اس کا شناختی کارڈ نمبر سسٹم میں ڈال کر جاننا چاہا کہ اس کے اکاونٹ ان کے متعلقہ بنک میں ہے یا نہیں۔ کل 37 کے قریب برانچوں میں نمبر سرچ ہوا جس سے ایک فہرست بن گئی جس میں میرپور میں مختلف قومی بنکوں کے برانچیں بھی شامل تھیں۔

وہ فہرست کسی نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو تھما دی کہ اس ملزم کے یہ بنک اکاونٹس ہیں اور ڈاکٹر صاحب نے بغیرتحقیق وہ فہرست میڈیا پر دکھاتے ہوئے الزام لگا دیے جو محض چند گھنٹوں میں جھوٹ ثابت ہو گئے اور ڈاکٹر شاہد مسعود انصاف کے ریڈار پر آ گئے اور اس وقت نشان عبرت بنے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگائے سنگین جرائم کے قیدیوں کے ہمراہ قیدیوں کی بکتربند وین میں عدالت لائے جاتے ہیں اور دہشتگردوں کی طرح انہیں پولیس کھینچتے ہوئے عدالت لے جاتی ہے۔ ان پر ان الزامات کے جھوٹ ثابت ہونے کے علاوہ پی ٹی وی کرپشن کیس بھی ہے مگر وہ کیس بھی اس قدر سنگین نوعیت کا نہیں کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو یوں ہتھکڑیوں میں ذلیل کیا جائے۔

دراصل ڈاکٹر شاہد مسعود نے ڈارک نیٹ جیسے مافیا پر آن ائیر بات کر دی تھی جس کے بعد ڈارک نیٹ پر مباحثے ہوئے لوگوں نے اس کی معلومات اکٹھی کرنا شروع کیں کالم لکھے ٹی وی پروگرام کیے اور یوں یہ معاملہ اچانک دنیا کی نظروں میں آ گیا۔

ڈارک نیٹ کیا ہے، اس میں کون کون سے سنگین جرائم ہوتے ہیں، اس کا نیٹ ورک کتنا وسیع ہے اور اسے آپریٹ کرنے والے کتنے با اثر ہیں اس پر میں بہت پہلے کافی کچھ لکھ چکا ہوں۔ اس کالی دنیا میں بچوں سے جنسی زیادتی، تشدد، قتل، خودکشی، ٹارگٹ کلنگ، سیریل کلنگ سمیت سب کچھ ہوتا ہے جس کی جھلک کبھی آپ کو ہالی ووڈ فلموں میں ملتی ہے اور کچھ جھلک کا میں اور آپ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔

شاہد مسعود زیرتفتیش ہیں، ملزم ہیں، ریمانڈ پر ہیں، قیدی ہیں یا کسی اور قانونی پہلو سے زیرعتاب ہیں انہیں پورا حق حاصل ہے کہ قانون کے مطابق خود پر لگے الزامات کا دفاع کریں لیکن جس طرح ڈاکٹر شاہد مسعود کو دہشتگردوں کی طرح پیش کیا جاتا ہے اور جس طرح دیگر سینئر صحافی خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ شاہد مسعود کی جان کو خطرات لاحق ہیں اس سے ہم یہ شک ظاہر کرنے پر حق بجانب ہیں کہ شاہد مسعود دراصل ڈارک نیٹ نامی مافیا کے زیرعتاب ہیں ورنہ ان کے ساتھ دوران حراست بھی وہی سلوک ہوتا جو پاکستان میں اہم افراد یا شخصیات کے ساتھ پاکستان میں ہوتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 28
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں