عمران بھائی (وزیر اعظم عمران خان) کے نام ایک کھلم کھلا خط


سلام عمران بھائی،

آپ قومی ہیرو تھے، ہیں اور ابھی بھی زیروساتھ لگنے سے قیمت میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے۔ عمران بھائی پہلے تو راز کی بتاؤ ں کہ میں بھی پنکی جی سے بہت متاثر ہو ں اور ان سے استخارہ کرواناچاہتی تھی۔ مگر ان کے سابقہ استخاروں کی تعبیر نے مجھے بے حد خوف زدہ کر دیا ہے۔ لہذامیں نے ذاتی حد تک اس سے توبہ کر لی ہے۔ کیونکہ میں قوم جتنی بہادر و طاقت ور نہیں ہو ں۔

خیر عمران بھائی آپ ہماری نسل کے وہ ہیرو تھے کہ کسی ”لنگور عمران“ سے بھی اس دور میں کسی لڑکی کی شادی ہو جاتی تو وہ نکاح نامے پہ آپ کے تصور سے دستخط کر دیا کرتی تھی۔ اور اپنی سہیلیوں میں شرما کر کہا کرتی تھی کہ تمہارے بھائی جان کا نام ”عمران“ ہے۔ تب سے بہت سے مرد آپ سے حسد کرتے رہے ہیں۔ اب یہ وزیر، مشیر، فقیر آپ سے پرانی حسد کابدلہ لے رہے ہیں۔ مگر یہ بات خواب ختم ہونے کے بعد سمجھ آتی ہے۔ کہ انڈوں کی قیمت کیا ہوتی ہے اور مرغا کتنے انڈے دیتا ہے۔

عمران بھائی یقین کریں کہ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ بجلی، گیس، پانی، دوائیاں، ٹیکس، ڈیم، معیشت، ڈالر، پروٹوکال، نیب، عدلیہ، فورن پالیسی، یو ٹرن وغیرہ وغیرہ ان میں آپ کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ شریف حکومت کا خیال تھا کہ ”زر“ ”داری“ دور کا بویا ہوا بیج ہے۔ اور ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ یہ شریفوں کی شرارت ہے۔

اور سچی عمران بھائی یقین کیجئیے کہ یہ جوپرانے رقیب فقیر، مشیر، وزیر قوم کے مفاد میں جو مخلیصانہ مشورے دیتے ہیں، انہیں خود بھی اپنی دانش وری کا اندازہ ہے۔ لہذامشورہ دینے کے بعد یہ باتھ روم میں رقص کرتے، گنگناتے پائے جاتے ہیں۔ نہیں اعتبار تو آپ ان سب کے واش رومز میں نیت واش کیمرا لگوادیجئے۔ اور جب ان واش اور باتھ روم ڈانسز کی ویڈیو اکٹھی ہو جائیں تو کسی ”من چلے“ یا ”من جلے“ کو دے دیجئے گا۔ وہ اس کو معیشت کے اعلی تر مفاد کے لئے خود استعمال کرے گا۔ اور مجھے امید ہے کہ اس فعل عظیم سے معشیت کی ڈوبتی کشی پار لگانے میں کافی مدد ملے گی۔ یو ں بھی عرصہ ہوا یہ قوم خوشی کو ترس گئی ہے۔ اب تو الیکشن بھی ہو گئے ہیں ورنہ بیچاری قوم جلسوں میں جا کر، میلے کی خوشی لوٹ لیتی تھی۔

عمران بھائی بجلی بند ہی رکھئیے۔ یہ مشورہ جس دانش ور کا بھی ہے، درست ہے۔ کہیں یہ جذباتی قوم بجلی کی کی موجودگی میں علامہ صاحب کی بات کو سنجیدہ ہی نا لے لیاور ستاروں سے آگے جہا ں تلاش کرنے نکل کھڑی ہو۔ اگرچہ اس کا مکان تو بالکل بھی نہیں ہے۔ مگر احتیاط ہی بہتر ہے۔ یو ں فضائی آلودگی بھی کنٹرول رہے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ جسمانی وذہنی ”آلودگی“ اور ”آسودگی“ میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ مگر آپ ہیرو ہیں۔ آپ کواس کی پروا بالکل نہیں ہو چاہیے۔

گیس نہیں ہے، بجلی نہیں ہے، ٹیکس میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے، ڈالر ہالی وڈ کی حسینہ بن گیا ہے، پٹرول اس پہ تیلی کا کام کر رہا ہے۔ آپ ٹینشن نا لیں۔ یہ سب آپ کے کا م نہیں ہیں، سابقہ حکومتوں کی ذمہ داری تھی۔ آپ کا کام تو حیاتی کا ستر فی صد حصہ والا ہے۔ یعنی پانی۔ یعنی فکر فردا، فکر رسا۔ ، مجھے بھی یقین ہے کہ جینڈرسٹڈیز میں تعلیم حاصل کرنے والے پانی کے مسائل باخوبی کنٹرول کر اور کروا سکتے ہیں۔ ہم یو نہی ساتھ ساتھ جلتے ڈیم بھی بنا لیں گے۔

اور اسی سے آگ کا بندوبست کریں گے۔ ہم تاریخ پرست لوگ ہیں عمران بھائی، اگر ایک تندور سے پانی کابحران پیدا ہو سکتا ہے تو ایک ڈیم سے آگ کا بھی یقینی بندوبست ہو سکتا ہے۔ آپ کے قفیر، مشیر، وزیر نے یہ بھی اچھا سوچا کہ ایک ماہر طب کو ماہر اقتصادیات لگایا جائے۔ اس محکمے کو علاج کی اشد ضرورت ہے۔ بس حکمت عملی، دانش مندی اور اخلاص کی ضرورت ہے۔ جو ہم میں با درجہ اتم موجود ہے۔

بس عمران بھائی آپ نے صنعتو ں کی روانی کی بھی ٹینشن نہیں لینی، بجلی کی فراوانی کی بھی ٹینشن نہیں لینی، فصلوں کے پانی و کھاد کی ٹینشن بھی نہیں لینی، دفتروں کے کاموں اور فائلو ں کی بھی فکر نہیں کرنی، اچھا ہی کیا ان مفت خوروں کو ایک کپ چائے تک محدور کر دیا، اب یہ کہتے ہیں تو کہتے رہیں کہ ”جتنا کھائیں گے، اتنا ہی کام کریں گے ناں“ ان جذباتی با توں میں بھی نہیں آنا۔ اب آپ ماء شا اللہ وزیر اعظم ہیں۔ ان سب سے ذہنی صحت متاثر ہو نے کا خدشہ ہوتا ہے۔ جو آپ کے لئے بہتر نہیں۔

اللہ، ایک بات تو آپ کو بتانا یا د ہی نہیں رہی، ابھی آپ ترکی کے دورے پہ تھے تو مجھے احساس ہو نے لگا اس میں میں اپنا حصہ کیسے ڈالو ں۔ سو میں نے فوراً ترکش مکس اچار ڈالا۔ ایک فیمنسٹ عورت کی طرح۔ گرچہ میں فیمنسٹ نہیں ہو ں۔ لیکن یہ اچار صرف آپ کے لئے اور قوم کے لئے ڈالا۔ مہنگائی کے اس دور میں باسی روٹی پہ اس اچار میں سے کوئی بھی سبزی نکالیں روٹی پہ رکھیں کھا جائیں۔ ہم اس اقتصادی بحران سے یونہی نکلیں گے۔ ہمیں قدم قدم پہ آپ کا ساتھ دینا ہو گا۔

عمران بھائی آپ کے فقیر، مشیر، وزیراف کتنے حاسد ہیں نا ں، تعلیم سے بھی حسد کرتے ہیں، صنم پرستی سے بھی۔ یقین کیجئے ہم تاریخ پرست قوم ہیں۔ اس تاریخ کا تعویذ ہمارے گلے میں نا ہو تو ہم کمزرور ہو جاتے ہیں۔ سو خدارا ان صنم کدوں کو سلامت رہنے دیجئے۔ ورنہ ہم ترقی یافتہ اقوام کو اپنی ترکی کی تاریخ کیسے بتائیں گے۔ سکول، کالج، یونیورسٹی کی اب مضافات میں ضرورت ہے۔ اب ”سہولت دہلیز پہ“ کا دور ہے۔ صنم کدوں کو تو اقتصادیات کی بہتری کے لئے بہت راز داری سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

عمران بھائی ہم سب آپ کے ساتھ عالم صبر میں ہیں اور صبر عظیم کی طرف گامزن ہیں۔ اور ہا ں وہ۔ پلیز پنکی بھابھی سے میرے ذاتی استخارے کا ذکر بھی نا کیجئے گا۔ پیار میں آکر، محبت سے اگر انہو ں نے استخارہ کر دیا تو مجھ میں تعبیر سہنے کی سکت نہیں بچی کیونکہ میں بھی تو بچت، سادگی کی راہو ں پہ گامزن عالم صبر میں ہو ں۔ اس لئے کمزوری ہو گئی ہے۔

اف عمران بھائی خط اتنا طویل ہو گیا ہے کہ عدنان خان کاکڑ نے اس کو تولنے کے بعد ایک شرمندہ کر دینے والی پوسٹ لگا دینی ہے۔ لہذا اجازت چاہتی ہوں۔ بہت سی راز کی باتیں رہ گئی ہیں۔ پھر کبھی کسی اور خط میں لکھوں گی۔ بھابھی جی اور بچوں کو سلام و پیار
قوم بخیر

Facebook Comments HS