اردو ادب کا ارتقا، نئے زاویے

اردو ادب کے ارتقا پہ بات کریں اور اس میں اکیسویں صدی تک کے ادب کی بات کریں تو ہمیں اس کو قیام پاکستان کے وقت سے دیکھنا ہو گا کیونکہ تقسیم ہند ہوتے ہی جو سب سے پہلے ہوا، وہ یہ تھا کہ دونوں طرف کہانی و شاعری کے موضوعات بدل گئے۔ کچھ لاشعوری طور پہ ایسا ہوا تو شعوری طور پہ وہی تحریر پڑھی جا رہی تھی جو حالات ہو گئے تھے۔ دونوں طرف تاریخ کی بڑی ہجرت

Read more

کیا آپ کی بیگم کھانا اچھا بناتی ہیں؟

ابھی کچھ عرصہ قبل ہی کی بات ہے ایک تحقیق سامنے آئی کہ حسین بیویوں کے شوہروں کو ہارٹ اٹیک کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں وہ اس دنیا فانی سے جلد کوچ کر جاتے ہیں۔ ابھی عید گزری ہے، قربانی کی عید۔ گوشت سے لت پت ہم پاکستانی مسلسل شدید گرمی میں گوشت ٹھونسے جا رہے ہیں کیوں؟ خوراکی مزاج میں بھی ہوس آ گئی ہے حالانکہ اس گوشت کو بھی ہمارے جسمانی گوشت کے ساتھ قبر کے کیڑے مکوڑوں

Read more

شادی کاروبار سے دھندے تک

ابھی چند دن قبل ہی کی تو بات ہے ایک پوسٹ فیس بک پہ شیئر کی، جس میں ایک خفگی سی تھی کہ بھئی شادی شدہ عورت جب دوبارہ شادی کرتی ہے تو اس کے نخرے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اسے ڈر ہوتا ہے یہ بندا بھی ہاتھ سے نکل نہ جائے حالانکہ پنجابی کہاوت ہے، واقعہ پنجاب کا ہے تو یہاں یہ کہاوت جچتی ہے ”مرد سرانے دا سپ اے“ (مرد سرہانے کا سانپ ہوتا ہے ) گویا مرد

Read more

شادی شدہ عورت کا نشہ

ایک تحقیق کے مطابق اگلے کچھ سالوں میں غیر شادی شدہ خواتین کی تعداد بڑھ جائے گی۔ وہ اپنی تعلیم کیرئیر اور ذاتی زندگی پہ فوکس کریں گی ایسی تحقیق کرنے والے مردوں پہ تحقیق کا حصہ ہی غائب کر دیتے ہیں۔ چلیں، اس تحقیق کو درست مان لیا تو ثابت ہوا کا شادی کا سارا نظام اصل میں معاشی نظام ہی ہے۔ وہ عورت چلا لے یا مرد چلا لے۔ مرد کو نظام چلانے کے لئے ساتھی کا اضافی

Read more

بشریٰ بی بی اپنے اصل ٹارگٹ تک

وہ انقلاب جو چوبیس نومبر کو آنا تھا۔ وہ پچیس کو پھوٹا ہے۔ اصل میں نہ تو یہ انقلاب ہے، نہ ہی شعور، نہ اخلاص وطن! یہ لا شعور کی شرارتیں ہیں۔ لاشعور جس کی خبر انقلاب ایران کی طرح پچاس سال بعد ہونی ہے جب کوئی لڑکی یونیورسٹی میں برہنہ ہو کر بیٹھ جائے گی۔ ایسا کیوں ہوا؟ یہ آپ نے خود سوچنا ہے۔ یہ سب لکھنے کا خیال کیونکر آیا اس لئے کہ جو نعرے ”انقلابی“ لگا رہے

Read more

سموگ، لاہور، شادی اور حکومتی لطائف

کبھی موسم بدلنے کا انتظار شدت سے ہوا کرتا تھا کہ خنک ہواؤں کی چہل قدمی ذہنی سکون کا باعث ہوتی تھی۔ وقت دیکھتے دیکھتے قیامت کی طرح بدل گیا۔ فوگ کا رومان سموگ کی کالک میں بدل گیا لیکن یہ یک دم نہیں ہوا۔ ترقی کے نام پہ آئے زوال کی یہ تیس چالیس سالہ داستان ہے۔ یہ داستان پنجاب میں محو رقص ہے اور پنجاب کا دل اور نظام تنفس لاہور اس وقت دنیا کا سب سے فضائی

Read more

خوشبو میں بسے خط، ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کی مائیں

سب سے پہلے تو پیرس میں پاکستان کو چالیس سال بعد ملنے والے اولمپکس گولڈ میڈل پہ مبارک باد قبول کیجئے۔ ہم سوشل میڈیا پہ ایک جملہ بار بار دیکھ رہے ہیں کہ لڑکے میدان میں کھیل رہے تھے اور دل دونوں کی ماؤں نے جیت لئے۔ بے شک ایسا ہوا۔ جیتنے والے کا ظرف تو ویسے ہی بڑا ہو جاتا ہے، ذرا پیچھے رہ جانے والے کے ظرف کی آزمائش ہوتی ہے جس میں ہمیں بڑا ظرف نظر آیا۔

Read more

کیا ملک میں 35 سال سے بڑی ایک کروڑ خواتین شادی کی منتظر ہیں؟

”ملک میں 35 سال سے بڑی ایک کروڑ خواتین شادی کی منتظر ہیں“ یہ خبر صرف جیو نیوز تک پہنچی ہے کیونکہ رشتے کروانے والی آنٹی کا کاروبار آج کل جیو نیوز اور دو چار دیگر پاکستانی شادی کی ایپس انجام دے رہی ہیں۔ بات یوں ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی ایک مبینہ رپورٹ جس کے مطابق پاکستان میں 22 ملین نوجوان لڑکے اور لڑکیاں رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہو سکے یا شادی کے منتظر ہیں۔ ممکن ہے

Read more

بچے پیدا نہیں کرنے؟

کچھ دن سے ایک ہی غلام گردش میں پوری فیس بک کے بابے لگے ہوئے ہیں کہ ایک ڈاکٹر نے یہ کہہ دیا ہے ”اگر پوری دنیا کی عورتیں فیصلہ کر لیں کہ وہ بچے پیدا نہیں کریں گی تو سوچیے کیا ہو گا؟“ یہ جملہ جیسے مردوں کی دم پہ پیر رکھے کھڑا ہے۔ اب دم کی جو تشریح آپ کریں گے اس کے مطابق تحریر سمجھ آ جائے گی۔ پہلی بات تو یہ کہ جملے میں سب سے

Read more

ساڈے اسلام دا مذاق

”ساڈے اسلام دا مذاق“ (ہمارے اسلام کا مذاق) اس عنوان سے اچھرہ لاہور میں جو شدت پسندی ہوئی وہ ہماری اجتماعی نفسیات بنتی اور بڑھتی جا رہی ہے۔ اسلام کیا ان کا نہیں ہے جن کی یہ زبان ہے؟ جن پہ یہ نازل ہوا ہے؟ جن سے یہ ہم تک آیا ہے۔ ؟ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے اور ہم مسلمان ہو کر بوکھلا گئے ہیں۔ ہر گھر سے بھٹو نکلے نہ نکلے مولوی ضرور نکل رہا ہے جو مذہبی

Read more

کیا یہ وہ بلوچ خواتین ہیں؟

کیا یہ بلوچ خواتین ہیں؟ چند سال قبل جن کی برقع بند کوڑے کھاتی ویڈیوز وائرل ہوتی تھیں؟ چند سال پہلے تک جن کو اپنی ذات کی شناخت بھی نہیں تھی اور ہمیں بتایا جاتا تھا کہ یہ منحوس مرد جرگے لگا لگا کر اپنی عورتوں کو ایسے مارتے ہیں اور پھر پاس کھڑے ہو کر تماشا بھی دیکھتے ہیں۔ جرگے کا اصول ہے کسی نے آگے بڑھ کے روکنا نہیں ہے بلکہ آنکھیں چار کر کے اور کان بند

Read more

ماہرہ خان کی دوسری شادی پہ غم زدہ عوام

ماہرہ خان کی شادی پہ ایک ہوک کا سا عالم ہے، ایک غم ہے، سوگ ہے، غصہ ہے۔ سوشل میڈیا پہ، میڈیا پہ اور نجی محفلوں میں سب کو سانپ سونگھ گیا ہو ایسا کیوں ہے؟ یہ ہمارے قومی مزاج کی نشانی ہے کہ ہم کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہوتے بلکہ ہم کسی بھی عورت، چاہے وہ کسی بھی مقام پہ ہو، کسی بھی شعبہ میں ہو۔ خود کو اس کا چا چا، ماما ہی سمجھ رہے ہوتے

Read more

ہوش ربا مہنگائی اور شرم حیا

مہنگائی مہنگائی مہنگائی کا لفظ سننے کو تو ملتا ہے۔ بیٹھتے ہیں تو بات بھی کر لیتے ہیں مگر اس کے اثرات صرف سوشل میڈیا تک کیوں محدود ہیں؟ سوشل میڈیا پہ ہم سب کو بتا سکتے ہیں کہ بھئی بہت مہنگائی ہے، بل بہت آیا ہے، گزر بسر نہیں ہو رہا مگر جونہی ہم زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو پہلی بات ذہین میں یہ ہوتی ہے کہ کسی کو پتا نہ چل جائے کہ ہم کس مشکل سے

Read more

نظریہ ضرورت

”ڈیئر سٹوڈنٹس سقوط ڈھاکہ 1971 ء میں بظاہر ہوا لیکن تاریخ پر طائرانہ نگاہ رکھنے والے اس کی جڑیں اور شاخسانے بہت دور تلاش کرتے ہیں۔ وہاں کہ جہاں بظاہر کوئی گمان بھی نہیں گزرتا۔“ ”سر! یہ طائرانہ نگاہ کیا ہے؟“ ”بیٹا جیسے پرندہ بہت آگے تک دیکھ سکتا ہے چونکہ وہ بلندی پر اڑتا ہے یونہی جو شخص بہت آگے تک دیکھ سکے، سوچ سکے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کی جڑیں بھی بہت گہری ہوں۔

Read more

بہاولپور یونیورسٹی اور بلا وجہ کا شور شرابا

بہاولپور یونیورسٹی سکینڈل اور ایک جج کی بیوی کے ہاتھوں قریب قریب قتل ہو جانے والی بچی۔ سماج کے دو گھناؤنے چہرے، جتنی ویڈیو سامنے آئیں سب دیکھ کر دل بیٹھ جانے والی کیفیت ہے۔ جج کی بیوی تو بچ جائے گی ہم سب کو علم ہے اسے زیادہ انصاف کی تعریف کیا ہو سکتی ہے۔ بہاولپور یونیورسٹی سکینڈل وہاں پہنچ گیا ہے جہاں جتنے منہ اتنی باتیں۔ جو بھی موبائل پکڑا گیا اس کی میموری کتنی اچھی تھی کہ

Read more

ڈراما جھوم ختم نہیں ہوا

ڈراما جھوم ختم نہیں ہوا نئی زندگی شروع ہوئی ہے۔ جھوم نے جہاں ایک ٹیبو کو چیلنج کیا ہے وہاں اسے تمام تر مشکلات کے ساتھ پورے سماجی ڈھانچے میں بہت نفاست کے ساتھ نبھا کر بھی دکھایا ہے۔ ایک پروفیشنل، سمجھ دار لڑکی جب کسی مرد کو مسترد کرتی ہے یا منتخب کرتی ہے تو اس کے پیچھے سماج نہیں سمجھ داری ہوتی ہے جو ہمیشہ باہر والوں کے ساتھ ساتھ گھر والوں کو بھی مشکوک رکھتی ہے کیونکہ عورت

Read more

کراچی کا ایک برہنہ مرد

کراچی میں جس برہنہ مرد کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے وہ مرد نہیں سماج کی ایک بڑی آبادی کی تصویر ہے۔ چند برس پہلے مینار پاکستان لاہور میں ایک ایسا ہی وحشیانہ قسم کا واقعہ پیش آیا تھا۔ سماج میں بزور جبر جتنا اخلاق کو کنٹرول کیا جائے گا یہ واقعات اتنے ہی بڑھتے جائیں گے۔ کیمرے کی ایجاد نے نفس کے اس وحشی پن کو ہم تک پہنچا دیا ورنہ یہ عمومی سی بات تھی کہ مرد کو جہاں

Read more

سانحہ 9 مئی

  سانحہ نو مئی سنتے ہی آپ کے ذہن میں جناح ہاؤس، پشاور ریڈیو سٹیشن، میجر عزیز، مردان، لاہور کینٹ، کراچی کینٹ اور ایسی ہی جلاؤ گھیراؤ کی ایک تصویر ابھرتی ہے۔ ایسا ہی ہے ناں۔ ؟ کتنے لوگوں کو یاد ہو گا کہ اس روز عمران خان گرفتار ہوا تھا؟ اور پارٹی نے خود اپنے منشور اور اپنی پارٹی کی بنیادوں کو آ گی لگائی تھی۔ چند۔ آہستہ آہستہ جن کو یہ سب یاد ہے ان کو بھی چند

Read more

نیلم احمد بشیر بطور مصنفہ

ہ کچھ دن قبل کی بات ہے جب نیلم احمد بشیر صاحبہ سے ان کے درویش کدے پہ ملاقات ہوئی۔ اتنے عشروں کی ملاقاتوں کا حاصل سلمی اعوان کے جملے پہ ہوا کہ ”اس کی ذات کے ساتھ ایک طلسم بندھا ہوا تھا۔ اس نے اسے دو جملوں سے اڑا دیا۔“ حسن اتفاق کہئے کہ ان کے ساتھ سفر کرنے کا بھی موقع بھی مل گیا اور کہاوت کہ انسان کا علم سفر اور کھانے کی میز پہ ہوتا ہے۔

Read more

ہائے۔ جاوید اختر

چند دن پہلے کی ہی بات ہے۔ سردیوں کی حسین راتوں میں ہم بھی ایک خاکوں کی کتاب پڑھنے لیٹ گئے۔ جو سنگ میل سے تحفہ کے طور پہ موصول ہوئی تھی جس کے لئے افضال صاحب کا بے حد شکریہ کتاب کیا تھی سفر نامہ ہند تک پہنچے تو موسم ہی بدل گئے۔ گرمی لگنے لگی۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اس بات کی سمجھ آتی ہی تھی مگر اب دل و جان سے آنے لگی۔ جاوید

Read more

اپنا مقالہ کسی سے لکھوانا قابل دست اندازی جرم ہے

”سرقہ والا معاملہ اب پرانا ہو چکا، اب جامعات میں معاوضہ دے کر تھیسس لکھوانے کا رجحان زور پکڑ چکا ہے۔ یہ اس قدر زیادہ ہو چکا ہے کہ اب اسے جرم ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یہ عمل اب کسی بھی سبجیکٹ سے ماورا نہیں۔ تقریباً ہر شعبہ اس میں ملوث ہے۔ پیشہ ور لکھاری نہایت غیر معیاری تھیسس لکھ کے دے دیتے ہیں اور بھاری رقم وصول کرتے ہیں۔ عموماً کمزور طلبہ و طالبات ان کو ایک معاہدے کے

Read more

کیا ہمارا معاشرہ سیکس کی آگ میں جل رہا ہے؟

ٍگزشتہ دنوں جو واقعات پاکستان میں بچوں اور لڑکیوں کے حوالے سے منظر عام پہ آ رہے ہیں۔ بلکہ اگر اس کو بین الاقوامی رجحان کہا جائے تو بھی بے جا نہ ہو گا کیونکہ ابھی ڈاکٹر لیری اور ویت نام کی کم عمر بچیوں کے اغوا والے واقعات بھی منظر عام پہ آئے ہیں۔  یوں لگتا ہے جیسے ہر طرف ایک ہی آگ لگی ہوئی ہے۔ جسم و جنس کی آگ۔  جس میں ”معاشرتی حیوان” صرف ”حیوان” رہ گیا

Read more

سوشل میڈیا سے ذہنی تباہ کاریاں

سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے فائدے ہیں وہاں یہ بندر کے ہاتھ میں استرا بھی ہے اور بندر نے سوچ لیا ہے یہ جو سب کچھ یہاں ہو رہا ہے۔ کوئی بہت بڑا شعور اور سچ ہے کیونکہ بندر نے کبھی کوئی فلم بنتے نہیں دیکھی ہوئی جس میں سکرین پہ نظر آنے والے ایک سین کو دس بار فلمانے کی کوشش کی جا رہی ہوتی ہے تب کوئی ایک ڈھنگ کا سین پردہ سکرین پر آنے کے قابل

Read more

خان برائے فروخت ہے

یہ وہ اگلا خدشہ ہے جس پہ رب جانے کیوں یقین کر لینے کو دل کرتا ہے۔ میری جان کچی عمر میں محبت نہیں ہوتی، یہ بھی سن رکھا ہے۔ ہمیں تب بھی خدشہ تھا محبت ظالم کا کیا ہے ہر عمر میں بنا رنگ و نسل کی تفریق ہو جاتی ہے، اس کے بعد محبوب ملے نہ ملے، شوہر یا بیوی مل جاتے ہیں۔ محبوب کی تو ویسے ہی مویویوں نے عزت ہی گرا دی ہی، کہاں خسرو و

Read more

عمران خان اور مولا جٹ

یہ دو فلمیں پہلے بھی ایک ساتھ ریلیز ہوئیں تھیں۔ جس کا نتیجہ اس ملک نے بھگتا ہے۔ یہ دونوں فلمیں تیس پینتیس سال بعد پرانی ہی کہانی کی نئی کاسٹ کے ساتھ ریلیز کی دی گئی ہیں۔ ایک فلم کا ہیرو پردہ سکرین پہ بدل چکا ہے۔ دوسری فلم کی ہیروئن بدل چکی ہے۔ ہیرو بزرگی سمیت لڑکھڑا کے چل ہی رہا ہے۔ یہ ایک نسل پہلے کی بات ہے جب مارشل لاء لگا ہوا تھا۔ انسان کے اندر

Read more

Will You Marry Me?

”کیا آپ مجھ سے دوسری شادی کریں گی؟“ ”دوسری؟ آپ کی تو ابھی پہلی نہیں ہوئی؟“ ”پہلی تو ہماری ذات میں خاندان میں ہی ہوتی ہے۔ مگر مجھے آپ جیسی بیوی چاہیے ”۔ ”تم بھی سنگل ہو، میں بھی سنگل ہوں۔ ہمارے آئیڈیاز بھی ملتے ہیں تو ہمیں ایک ہو جانا چاہیے“ ”میرے خیال میں آپ کے قدموں تلے میرے بچوں کی جنت ہے“ ”میں آپ کو اپنی حوروں کی ملکہ بنانا چاہتا ہوں“ ”میں ویسے سوچ رہا تھا کہ

Read more

ایک یوتھن کی سچی کہانی

یکم رمضان سے جس طرح آئین شکنی اور آئین کی پاس داری کے لئے ایک آپریشن کلین اپ شروع ہوا جسے کم از کم ہم تو فطری ابال ہے کہیں گے کیونکہ جب سب کچھ غیر متوقع ہونا شروع ہو جائے تو سمجھ لیں نظام کسی اور کے ہاتھ میں چلا گیا ہے اور اب عمل اور در عمل کا منطق سمجھنا ہی حق و باطل کی جنگ ہے بہت حکومتیں آئیں گئیں مگر اس بار جو حماقتیں اور بونگیاں

Read more

لوڈ شیڈنگ اور روشن روشن جلسے

پروپیگنڈا سیاست عروج پہ ہے۔ ہم جس پارٹی کو پسند کرتے ہیں اس کے بیانیے پہ یقین نہیں کرتے ایمان لے لاتے ہیں کمال کا دماغ ہے اپنا استعمال ہی نہیں کرتے۔ بادام کھا کر بھی اس کو سیوریج کے حوالے کر دیتے ہیں دماغ تک پہنچنے ہی نہیں دیتے ایک پارٹی کہتی ہے یہ نئی حکومت کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ہم مان لیتے ہیں اور تالیاں پیٹنے لگتے ہیں دوسری پارٹی کہتی ہے سابقہ نا

Read more

سیاسی کارکن یا عمران کے ذہنی و جسمانی غلام

جب سے عمران خان کی حکومت گئی ہے تب سے تحریک انصاف کے کارکن جا بجا انسانوں کے ساتھ الجھنے کا بہانہ تلاشتے ہیں۔ ان کو دن رات نیند نہیں آتی چوروں کو حکومت کیسے مل گئی۔ حالانکہ انہوں نے اپنی حماقتوں سے پلیٹ میں رکھ کر شہباز شریف کو حکومت پیش کی ہے۔ ورنہ یہ شخص الیکشن کے بعد بھی اس کرسی پہ نہیں آ سکتا تھا۔ اس ایک ماہ میں نوٹ کیا کہ آخر کون کون سے نسلی

Read more

دعا اور نمرہ۔ ایک برائلر نسل

دعا اور نمرہ سوشل میڈیا پہ یوں چھائی ہوئی ہیں جیسے انہوں نے کچھ نیا کارنامہ انجام دے دیا ہے۔ اور ان سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے یہ وہی والدین کہہ رہے ہیں جو مائی ہیر کے اور مائی لیلی کے مزار پہ جا کر اپنی کبھی نہ ملنے والی محبت پانے کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ دعا اور نمرہ کے والدین کا بیانیہ اور باڈی لینگویج ایک موسم کا پتا نہیں دے رہے تھے اور نہ ہی

Read more

بیرون ملک پاکستانیوں کا عمران خان

آپ کے ہمارے سب کے کچھ رشتے دار بیرون ملک کسی نہ کسی طرح جا کر آباد ہو چکے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو اس طرح گئے ہیں کہ مر کر بھی واپس نہیں آ سکتے۔ باقی جو آتے جاتے ہیں۔ یہاں آتے ہی ان کو یہاں کا دانہ پانی سوٹ نہ کرنے کی بیماری لگ جاتی ہے۔ وہاں وہ دو نمبر شہری ہو نے کے باوجود ایک نمبر کی تمام سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔

Read more

نر گدھا اور جاب کرنے والی خواتین

آج ہم نے ڈی ڈبلیو پہ ایک ویڈیو دیکھی کہ ایک ایسا مزار شریف بھی میرے وطن عزیر میں مو جود ہے جہاں نرینہ اولاد کی منت کچھ یو ں مانگی جاتی ہے کہ جب بیٹا پیدا ہو تو مزار پہ ایک نر گدھا چڑھایا جاتا ہے۔ دل سے کہہ رہی ہوں، بزرگ مذکورہ بہت پہنچے ہو ئے لگے۔ سمجھنے والےکسی اور ڈھب میں سمجھ گئے ہیں۔ ملک میں آج کل گدھوں، ضمیر فروشوں، لوٹوں اور اس قسم کے بھیڑیوں

Read more

ریا ست مدینہ کے ”روحانی باپ“ سڑک پہ بیٹھے ہیں

آج پانچ دن ہو گئے پنجاب بھر سے سینکڑوں کی تعداد میں اکٹھے ہوئے اساتذہ اپنے حال و مستقبل بلکہ اپنے بچوں کی مستقبل کی جنگ سول سیکرٹریٹ کے سامنے بیٹھے لڑ رہے ہیں۔ استاد جس کو روحانی باپ کا درجہ حاصل ہے۔ جو اپنے ہی نہیں ہم سب کے بچوں کا مستقبل بھی ہیں۔ ان کا مطالبہ کوئی سننے کو تیار نہیں ہے۔ حکومتی کی طرف سے اگر ان کی جانب کوئی آیا ہے تو وہ پولیس ہے۔ جن

Read more

قصہ خوانی کے قصہ گو اور وہ قبر جس پہ کتے سوتے تھے

ہ ایک منظر کبھی نہیں بھولا۔ جب پہلی بار قبر پہ کتے سوتے دیکھے تھے۔ ڈر سی گئی تھی۔ لیکن آج سمجھ آتا ہے۔ کتے اپنی ہی جگہ پہ موجود تھے۔ ہم رستہ بھٹک گئے تھے۔ اور اب جب اس بات کو برسوں گزر گئے ہیں تب بھی یہ برسوں پرانی والی گیم ویسے کی ویسے کھیلی جا رہی ہے۔ نئی نسل کو سب کچھ نیا لگ رہا ہو گا۔ پرانی نسل سمجھتی ہے۔ کھیل کب کب کیسے کیسے کھیلا

Read more

آئی ڈی اور ڈی پی والے شوہر

ہ آپ نے شوہروں کی بہت سی اقسام سنی اور دیکھی ہوں گی ۔ لیکن جس قسم کے شوہروں کی آج ہم بات کرنے جا رہے ہیں۔ وہ نئی ٹیکنالوجی اور پرانی سوچ کی پیداوار ہیں۔ ہم شروع سے بچوں کی کہانیوں میں پڑھتے سنتے آئے ہیں کہ ایک شہزادہ آتا ہے اور شہزادی کو آزاد کروا کے لے جاتا۔ کبھی شہزادی کی ماں سوتیلی ہوتی ہے تو کبھی شہزادی کو کوئی جن قید کر دیتا ہے۔ اب یہ منحوس

Read more

پری زاد کا کالا ہیرو

پری زاد کا کالا امیر ہیرو۔ اس ایک لفظ نے ہمیں ڈرامے کی بجائے ناول اور مصنف کی طرف مائل کیا۔ دل کو قرار آ یا کہ ہاشم ندیم خان مصنف ہیں۔ اگر کسی خاتون نے یہ آگ لگائی ہوتی تو لطیفہ بھی الٹا بننا تھا۔ سب سے پہلے تو مصنف اور ان کی پو ری ٹیم کو یہ مبارک کہ کالے ہیرو کو ایک بار پھر زندہ کیا گیا۔ دوم مرد کے مسائل پہ آ واز اٹھی۔ ورنہ عشروں

Read more

ادبی میلوں کا مینا بازار

میلہ لوٹ لو میلہ، لاہور کا میلہ، کراچی کا میلہ، ملتان کا میلہ، فیصل آ باد کا میلہ۔ ( یہاں ہم اسلام آ باد کی بات اس لئے نہیں کر سکتے کہ وہ وفاق ہے۔ ) کتنا کڑوا جملہ ہے ناں مینا بازاز کے معانی کے ساتھ۔ بالکل ایسی ہی کڑواہٹ پھیلتی ہے۔ جب کسی شہر میں ادب کا میلہ ہو اور وہاں کا ادیب اس میلے میں دکھائی نہ دے۔ اگر دکھائی دے تو کسی پیچھے کی کرسی پہ

Read more

شہباز گل، خناس، اور لباس

آپ کی جذباتی تقریر نے مجھے بہت ہی متاثر کیا۔ سوچا جیسے آپ نے گوگل کر کر ہمیں دو چار ولایتی یونیورسٹی کے ڈریس کوڈ کے بارے میں آ گہی دی۔ ہم بھی آپ کی ذات گرامی کے بارے میں کچھ معلومات کا ثواب حاصل کر لیں۔ کہ بھئی ہمیں بھی تو پتا لگے جناب من نے کس گھاٹ کا پانی پی رکھا ہے۔ تو سوائے ایک عدد پی ایچ ڈی، پی ٹی آئی اور فیصل آ باد کے گوگل نے ہمارے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔

Read more

دھرنے سے ریاست مدینہ تک

آج ایک سوال بنتا ہے۔ پچیس تیس سال نون لیگ نے پنجاب میں حکومت کی اور تین حصوں میں تقسیم ہو کر کی اور ہر سال تہواروں پہ آتش بازی کا  مظاہرہ ہوتا تھا۔ فیملیز جاتی تھیں۔ بیرون ملک پاکستانی ان ویڈیوز کو فخر سے شیئر کرتے تھے۔ یہی لاہور یہی مینار پاکستان تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا۔ چھیڑ چھاڑ کے انفرادی واقعات ہر جگہ ہوتے ہیں مگر انفرادیت اور اجتماعیت کی نفسیات الگ ہے۔ انفرادیت میں کسی کو برائی سے

Read more

ملک میں بڑھتے تشدد کی نفسیات: چند وجوہات

کچھ عرصہ سے شدید ترین تشدد کے واقعات نے ملک میں تشدد کی بڑھتی نفسیات کی انتہائی تصویر دکھائی ہے۔ یہ اکثریت وہ متشدد افراد ہیں جو مارشل لاء کے دور میں پروان چڑھے یا پیدا ہوئے۔ مارشل لا کا دور سرعام تشدد کی صحافت بھی تھا اور ثقافت بھی۔ بچہ جو دیکھتا ہے سیکھتا ہے پھر اس پہ کبھی نہ کبھی عمل کرتا ہی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جن کے والدین براہ راست آرٹ کلچر کے دور سے

Read more

قرۃ العین بلوچ کے ”بھائی“ کے نام کھلا خط

ہمیں معاف کیجئے ثنا االلہ بلوچ صاحب کہ نعش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد آپ کا بیان رپورٹ آ نے سے پہلے والی خامشی پہ بہت بھاری ہے۔ اتنا بھاری کہ تشدد کے خلاف بل کی مخالفت کرنے والوں کی پردہ کشائی ہے۔

”بہن کی شدید تشدد کے ساتھ موت دیکھ کر اب سوچتا ہوں کہ اپنی بیٹیوں کی شادی ہی نہ کروں۔ بیٹیاں بوجھ تھوڑی ہوتی ہیں۔ کہ انہیں درندوں کے حوالے کر دوں۔ گزشتہ دس سال کے دوران بہن کو شوہر نے متعدد بار تشدد کا نشانہ بنایا کئی بار بہن کے شوہر کو گھریلو تشدد پہ گرفتار بھی کروایا۔ دنیا داری کا سوچ کر بہن کو طلاق نہیں دلوائی“

Read more

پی ٹی آئی اور احساس کمتری و برتری کی نفسیات

ملالہ کے انٹرویو سے عمران کے انٹرویو تک درمیان میں ملاؤں کے کرتوت تک، روز کی بنیاد پہ منظر نامہ نفسیاتی مرض میں بدل رہا ہے۔ اس میں بھی عورت کا قصور ہو گا۔ اچھا یعنی آپ سب مل کر خواہ ہیں کہ پچاس فی صد آ بادی بے قصور ہو۔ باقی پچاس فی صد کو حق ہے کہ وہ چاہے تو قصور سے آ گے جا کر کسی کے گھر والی بھی اپنے پہ حلال کر سکتا ہے۔

نہیں صاحب ایسا نہیں ہو تا۔ آئیں کرتے ہیں بات، اس لاوے پہ، جو بہہ رہا ہے۔ جس کا پہاڑ نشے کی حالت میں پھٹا ہے۔ اصل میں منہ پرانا ہو کر پھٹ ہی جاتا ہے اور اس میں سے کچھ بھی نکل آ تا ہے۔ دماغ ہے کہ طول عمری اور  چند مرکبات کے باعث کام ہی نہیں کرتا۔

Read more

بالوں والے جن پہ نشے کی حالت میں شیطان کی حاضری

ہائے انکل مفتی، دیکھا آپ کی طاقت کتنی ہے۔ دیکھا بالوں والے جن کا خوف یہاں کتنا ہے کہ کوئی بات کرتے ہوئے بھی ڈر رہا ہے۔ دیکھا آپ جیسوں کا نام لے کر مائیں کیوں بچوں کو ڈراتی ہیں۔ دیکھا آپ کی بات کرنے سے ہمیں کتنی حیا آ رہی ہے کاش یہ حیا آپ کو آ جاتی تو ہمارا سر شرم سے نہ جھکتا۔ ابھی ہمارے ہاتھوں کی انگلیاں آپ کا افسانہ الفت لکھنے کو مچل ہی رہیں تھیں

Read more

کووڈ کی نئی لہر اور ہماری معیشت

ایک بار پھر کالج اسکول بند ہو رہے ہیں، ایک بار پھر یونیورسٹیاں بند رہی ہیں، ایک بار پھر اعلان کر دیا گیا ہے کہ شادی ہال بند ہو جائیں گے، ایک بار پھر اعلان کر دیا گیا ہے کہ تقریبات پر پابندی ہے۔

ایک بار پھر بازاروں اور پارکوں کے وقت محدود کر دیے گئے ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک بار پھر دفاتر میں حاضری 50 فیصد کر دی جائے گی اور پرائیویٹ نوکریاں جو ابھی پھر سے پہلا قدم اٹھانے لگی تھیں، منہ کے بل گر جائیں گی۔

Read more

پیمرا کی آنکھیں اور بے شرمی و بے باکی کی لغت

کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ مگر کہاں ہوتی ہے۔ ؟ جی ہمیں پیمرا نے ایک بار پھر یہ سوچنے پہ مجبور کر دیا ہے۔ دل نا امید، آدھے عنوان کی آدھی کہانی اتنی وزنی ہے کہ جیسے معاشرے کی دم پہ پاؤں آ گیا ہو۔ اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ یہ کہانی ہمارے ملک یا سماج کی نہیں۔ تو دو ٹوک بات یہ ہے کہ یہ کہانی آپ کے سماج ہی کی ہے اور آپ

Read more

جہیز: تصویر کے کئی رخ ہیں

چودہ فروری محبت کی آگ پہ بات کرتے کرتے، بات کو آٹھ مارچ تک اتنی آگ لگا دی جائے گی کہ ڈاکٹرز آپ کو زہر کا ٹیکا لگا کر کورونا کے لفافے میں ڈال دیں گے۔ یہ سب وہ حقائق ہیں جو دور سے دکھائی دیتے ہیں۔ پاس آئیے زندگی کا حصہ بنیے اور تو بات میں دلیل اور نعرے میں روح پھونکی جائے ناں۔

جہیز کے حوالے سے ایک ویڈیو وائرل کر دی گئی ہے۔ بات بڑھ رہی ہے، اس کو روکنا پڑے گا بلکہ یہ فطری طور پہ رک جائے گی۔ سماج وہیں کا وہیں کھڑا رہے گا جہاں آٹھ مارچ سے پہلے تھا۔

Read more

خالی جیب مرد بمقابلہ بدصورت عورت

مردوں میں ایک عجیب و غریب نفسیاتی الجھن ہے کہ عورت کو کبھی خالی جیب کے مرد سے محبت نہیں ہوتی مگر عورت ان کی طرح چیخ چیخ کر یہ نہیں کہتی کہ بھائی صاحب! آپ بھی وہی مخلوق ہیں کہ جو ٹین ایج میں آتے ہی خوابوں میں فلمی ہیروئینز اور ماڈل کو دیکھ کر بستر گندھے کر دیتے ہیں۔

Read more

آو چھپ چھپ کے محبت کرتے ہیں

جو مزا چھپ کر محبت کرنے کا ہے، جو لذت تنہائی و بے وفائی کی ہے، جو کہانی رسوائی کی ہے، جو لطف بنا بتائے کا ہے، جو بے مول دل لگائی ہے، جو چھپن چھپائی کا ہے، جو ہرجائی کا ہے، جو گرمی بنا کسی ذمہ داری کے چڑھتی ہے، جو ابال کسی کے بے چاری ہونے پہ آتا ہے۔ اور جو ایک کے بعد ایک کہ کہانی ہے۔ بہت ہی سہانی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ پچھلے دنوں

Read more

الوداع سر طارق فارانی

نظیر احمد میوزک سوسائٹی کی کرسی پہ دہائیوں بیٹھے اس لیجنڈ انسان و استاد نے سینکڑوں لیجنڈز کی تراش خراش بہت ہنر مندی سے کی۔ وہ اپنا علم اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے،  پوری ایمان داری سے سو فی صد اپنے شاگردوں میں بانٹ کر گئے۔ اور شاید ہی کوئی ایسا شاگرد ہو گا جس کا دل آج اداس نہ ہو یا آنکھ نم نہ ہو۔

آج جی سی یو میں گزرے دو برس کا لمحہ لمحہ کسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے ہے ،  یوں لگتا ہے ابھی کلاسز ختم ہوں گی اور ہم نظیر احمد میوزک سوسائٹی کی سیڑھیاں چڑھتے فارانی صاحب کے سامنے بیٹھے ان سے دنیا بھر کے بہترین ادب اور فلموں پر بات کر رہے ہوں گے ۔

انہوں نے اس دور میں ہمیں دنیا کی بہترین موویز کے حوالے سے بتایا جو ہم تب تو نہیں دیکھ سکے مگر یونیورسٹی کے دور کے بعد بس یہی کام کیا کہ پڑھا اور موویز دیکھیں۔

Read more

لیکوریا کا جن ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے بوتل میں بند کر دیا

ڈاکٹر صاحبہ کے کالم میں موجود بچی کی جسمانی کمزوری جس طرح بیان کی گئی ہے۔ جن بچیوں کو یہ شکایت ہے ، ان سب کی جسمانی حالت اکثر ایسی ہی ہوتی ہے جو خوراک کی کمی یا نامناسب خوراک سے بھی ہو سکتی ہے اور خوف سے بھی۔ وہی خوف جس میں ہمارے معاشرے کی بچی کو پالا جا رہا ہوتا ہے۔ چونکہ وہ بلوغت کی منازل طے کر رہی ہے اور اس کے جسم میں ضروری تبدیلیاں آ رہی ہوتی ہیں جن پر دیوان تو لکھنا پسند کیا جاتا ہے مگر حقیقت کو قبولنا گناہ سمجھا جا رہا ہوتا ہے۔

Read more

کیا لاہور کراچی بننے والا ہے؟

خوف نے مرد و زن کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا کیونکہ یہ کراچی نہیں تھا کہ جہاں کے لوگ بازاروں میں گولی چلنے کے اتنے عادی ہو چکے تھے کہ چند گھنٹے بعد کاروبار زندگی کا آغاز ہو جاتا تھا۔کراچی طارق روڈ پر بھی ہم ایک ایسے واقعہ سے گزر چکے تھے۔ سو دل اب حادثوں کا عادی ہونے لگا تھا کہ جب کوئی حادثہ پیش آئے تو پہلے خود کو کنٹرول کریں تب ہی آپ دوسروں کی مدد کر کے حالات پہ قابو پا سکتے ہیں۔

Read more

گڑیا کی شادی 2020ء

دو ہزار بیس کا آغاز ہوا۔ دھند آلود فضاؤں میں آتش بازی کی آوازیں بتا رہیں تھیں کہ نئے سال کا پرانا آغاز ہو گیا ہے۔ تمام دنیا ”کرونا، نامی وبائی مرض کی لپٹ میں تھی، مگر گڑیا پاکستانی تھی، جاپانی نہیں۔ وہ اپنے واش روم میں دو واشنگ مشین لگائے کپڑے دھو رہی تھی۔ اس کو یقین ہو گیا، لو جی، سال کا آغاز کپڑے دھو نے سے ہو رہا ہے، تو اب سارا سال، وہ کپڑے دھوتی رہے گی۔ وہ مسکرائی۔ ”چلو دیکھتے ہیں“۔

Read more

ویڈیو خریدو۔

ویڈیو خریدو، چاچے کی ویڈیو مامے کی ویڈیو، تائی کی ویڈیو، نانی کی ویڈیو۔ ویڈیو خریدو، ویڈیو۔

دل تھام کے بیٹھو، جگر پہ بھی رکھ لو ہاتھ، ہم آپ کو وہ دکھانے والے ہیں جو آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ مگر یہ ہو گا آپ کی آمد کے ساتھ۔

Read more

لاہور جلسہ: تین، تیرہ، تیس اور دہشت

تین تیرہ تیس کو منحوس عدد مانا جاتا ہے۔ نہیں معلوم کتنی صداقت اور سچائی اور میتھ موجود ہے مگر ہمیں بڑوں کی کہاوتوں اور حکایتوں پہ بہت یقین ہے یہ وہ جادو ہے جو کبھی نہ کبھی جلوہ گر ہو ہی جاتا ہے۔ آج کل لاہور میں ایک طرف گل داؤدی کی نمائش مسکرا رہی ہے۔ دھند نے راتوں میں بسیرا کئیے ہوئے ہے۔ بارش نے رنگ بکھیرے ہوئے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ ایک جلسے کے قصے بھی جا بجا دہشت بنے ہوئے جس آگ کو بجھانے کے لئے پہلے اس تاریخی مقام یا مقام جلسہ گاہ پہ پانی اتنا چھوڑ دیا گیا کہ چاول کی فصل بوِئی جا سکتی تھی۔

Read more

سٹھیاپا۔ ہائے او ربا

لغت کھولیے تو پتا چلتا ہے ”سٹھیاپا، ساٹھ سال کے بعد آ تا ہے۔ مگر ہم کچھ عرصہ سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ لغت میں رد و بدل کی بے حد ضرورت ہے۔ کیو نکہ سٹھیاپے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ اس کا دار و مدار انسان کے حالات و واقعات پہ منحصر ہے۔ کسی عمر میں بھی یہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

Read more

گندی مندی باتیں اور عورت کے حقوق

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی مگر ہم کریں گے۔ سچی مچی کریں گے۔ کیونکہ سنا ہے عورت کی ”نہ“ کا مطلب ”ہاں“ ہو تا ہے۔ مگر یہ سنا ہوا دور جا چکا ہے۔ اب دور ہے ”ہراسمنٹ“ کو سمجھنے کا۔ جس کا مطلب مرد کو ڈگری لینے کے بعد بھی سمجھ اس لئے نہیں آ رہا کہ اس کا سماج ہے۔ اور اس کی سوچ محدود ہے۔ ڈگری اس کی نوکری اور خاندان کا تاج ہے۔

Read more

عظیم مینیجر کے کالے کرتوت

رات ہم سب بہن بھائی بیٹھے خبریں دیکھ و سن رہے تھے۔ الیکشن سے سلیکشن کے بعد تک اور وائٹ ہاؤس سے بلیک ہاؤس تک کے سارے کارنامے بتانے کے بعد جب مقامی کارناموں کا آغاز ہوا تو تین خبریں سر جھکانے کو کافی تھیں

پہلی خبر تھی والدین نے بیٹی کو پسند کی شادی کر نے کی پاداش میں پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔

دوسری خبر میں وڈیرے نے غریب کی بیوی اغوا کی ہوئی تھی اور پیسے لے کر بھی واپس نہیں کی، اور وہ ہاتھ جوڑ کے بے حس سیاست دانوں اور عدالتوں سے انصاف اور مدد کی بھیک مانگ رہا تھا۔

Read more

سیاسی اور سماجی ”بڈھوں“ کے دکھ

آخر کار اپنے بالوں میں بھی چاندی مسکرانے لگی، تو پتا لگا بھئی کہ ہم نے بھی بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔ یہ بات ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں۔ کیوں کہ ہم تو سو کے ہی تب اٹھتے ہیں، جب دھوپ ڈھل جاتی ہے۔ لہذا اب سے ہمارا شمار بھی سماجیات میں سمجھا جائے، تو مناسب ہو گا۔

اجی، آپ سمجھے نہیں؟

تو بات کچھ یوں ہے کہ جب سے ہم نے ان دو بچوں کے بارے میں، ایک بابا جی سے سنا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ کھیل نہیں کھیلتے۔ دونوں ان کے لئے بچے اور شاید بچے کھچے، بھی ہیں۔ اور موصوفہ تو نانی دادی بھی بن چکی ہیں تو احباب من یہ جملہ نہیں، یہ ہمارا فلسفہء حیات اور آئینہء سماج ہے، جو زندگی کی کچھ گرہیں کھولتا ہے، تو کچھ لگا دیتا ہے۔ مثلا: بابا جی کے مطابق آپ کو شادی جلدی کر لینی چاہیے، تا کہ آپ جلد کئی نسلیں دیکھ لیں۔ کیوں کہ بابا جی اپنی تمام تر بزرگی کے با وجود، نا صرف جوان جہان ہیں، بلکہ نہ تو دادا بن سکے، نہ ہی نانا۔

Read more

اور وہ ایک ملک کا بادشاہ بن گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسے کچھ بننے کا شوق تھا۔ مگر اسے نہیں پتا تھا کہ اسے کیا بننے کا شوق تھا۔ منتوں مرادوں والی اکلوتی نرینہ اولاد کچھ نہ بھی بنے تو والدین کو تسلی ہوتی ہے کہ چلو خیر ہے اولاد نرینہ تو ہے۔ جن درباروں مزاروں سے اس کے والدین اسے مانگتے تھے۔ جب وہ بڑا ہوا تو وہ انہیں کو نہیں مانتا تھا۔ خیر اس سے کیا فرق پڑتا ہے اسے تو کچھ بننا تھا۔ کچھ بہت بڑا خواب اس نے اپنی تنہائی میں پال لیا تھا۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ خالی ذہین شیطان کا گھر۔ گویا تنہائی، خالی کے مترادف ہوئی۔ یعنی شیطان انکل کا وائٹ ہاؤس

Read more

پورن سے ریپ تک۔۔۔ سب جائز ہو گیا ہے

سکیس ڈول کلچر کو پروموٹ کیا جائے، جب یہ بات پڑ ہی گئی۔ بہت سوں کے تن بدن میں آگ اس لئے لگی کہ انہیں ڈول نہیں، انہیں عورت اور بچے بھی چاہئیں لیکن اس کے باوجود اکثریت نے شاباش کی تھپکی دی کہ جو کہی گئی نہ ہم سے، وہ کہہ دیا ہے تم نے۔ بہت سے فون بھی آئے اور والدین کا درد دل یہ تھا کہ اب ہمیں بیٹی کے ریپ ہونے سے زیادہ خوف بچوں کے

Read more

سیکس ڈول کی صنعت کو پروموٹ کیا جائے

ہم ایک انقلابی دور حکومت میں زندہ قوم ہیں۔ ملک مسلسل ترقی کی راہوں پہ گامزن ہے۔ اور حکومت کا ہر دوسرا قدم ستاروں سے آگے جہا ں تلا ش کر نے والا ہے۔ اسی دور میں جب ڈیم فنڈ اکٹھا کر نے کے بعد زمینی ڈیم تو کورونا کے باعث نہ بن سکا۔ مگر آسمانی ڈیم نے کراچی میں اس خواب کو تعبیر کیا ہوا ہے۔ کبھی توہین مذہب کیس کی گونج پہ قوانین اور بل پہ نظر ثانی

Read more

عورت جہاد نہیں کرتی

اس کا کمرا چار دیواروں والا تھا۔ گویا چار دیواری تھی مگر ہر دیوار میں دیواری قد و قامت کے ہی روشن دان اور کھڑکیا ں تھیں۔ جہا ں سے روشنی وہوا پھوٹتی تھی۔ ایک دیوار کے درمیان اس کا بیڈ تھا اور اس کے دونوں جانب لکڑی کی نفیس الماریاں چھت تک بنی ہو ئیں تھیں۔ ان میں کتابیں مسکرا اور اترا رہیں تھیں۔ کہ ان کو یہ گلہ نہیں تھا کہ ان کو قاری نہیں ملا۔ پلنگ کے

Read more

ہوٹلز، شادی ہالز اور شادی بیاہ کے کپڑے

اللہ کتنے دن ہو ئے ہو ئے ساڑھی نہیں پہنی، نہ لہنگا، نہ میکسی، نہ کوئی گوٹے کناری کا جوڑا، نہ سلمے ستارے کاسوٹ۔ اب چلا پتا؟ صرف باغوں میں پھول، گلشن میں رنگ ہی نہیں، یہ دولت کی ریل پیل، یہ کارو بار بھی میرے دم سے ہے۔ شادی ہالز کا بند ہو نا، ہو ٹلز کا بند ہو نا اور ان سے منسلک ایک بہت بڑا کاروبار ہے۔ جو بند پڑا ہے۔ جس میں بہت سے افراد تو ایسے

Read more

پینشن ہولڈر بزرگ اور قومی بچت سکیموں کے دفاتر کے باہر کھڑے خزانے

یہ شدید گرمی کی دوپہر تھی۔ فیروز پور روڈ پہ ٹریفک نے اسے اور گرم بنا رکھا تھا۔ ابھی تک ہم سگنل فری ٹریفک کو ’فری، ہی لے رہے ہیں اتنی معصوم قوم ہیں۔ ہم اپنے کسی کام سے جا رہے تھے کہ اچانک بزرگ خواتین و حضرات کا ایک گروہ گرمی اور عمر سے جھگڑتا ہوا دکھائی دیا۔ کوئی حکومت کو گالیاں بک رہا تھا۔ کوئی کرونا کو کوس رہا تھا، کوئی دفتر کے عملے پہ اپنا غصہ نچھاور کر رہا تھا۔ کوئی معمر خاتون ایک گارڈ سے لڑ رہی تھی کہ بھئی میں صبح گیارہ بجے سے آئی ہوئی ہوں ۔ اور میرے بعد آنے والوں کو تم اندر بھیج دیتے ہو۔ کوئی آس پاس کی دکانوں سے کر سیاں مانگ تانگ کر اپنے بزرگوں کو رتی بھر چھاؤں میں بیٹھا رہا تھا اور خود جلتی دھوپ میں کھڑا کسی معجزے کا انتظار کر رہا تھا۔ کوئی اپنی ماں کو سہارے سے لا رہا ہے۔ جو چل بھی نہیں سکتی تو کوئی میم صاب اپنا نام لکھوا کر اپنی گاڑی میں جا بیٹھتی ہے۔ اور اے سی آن کر لیتی ہے۔

Read more

کال ریکارڈ ہو رہی ہے ناں؟

یہ نہ بہار کے دن تھے نہ گرمی کے مگر ٹھنڈی ہوائیں چل رہیں تھیں۔ اس نے پنکھا بند کیا اور کمرے کے کھڑکیاں دروازے کھول دیے۔ آرام کر سی پہ بیٹھی موبائل گود میں رکھے ٹوٹیاں لگائے اپنا پسندیدہ گیت سن رہی تھی تم چلے آؤ پہاڑوں کی قسم۔ ۔ ۔ کہ اچانک ایک نامعلوم نمبر سے فون آتا ہے۔ آواز آدھی مردانہ آدھی زنانہ ہے۔

یہ آپ کا نمبر ہے؟
جی

مبارک ہو آپ کا پانچ لاکھ کا انعام نکلا ہے کال ہم اپنے نمائندے کو ٹرانسفر کر رہے ہیں تاکہ آپ کی ضروری تفصیلات لکھی جا سکیں

Read more

مائنڈ میک اپ، برین واشنگ۔ ۔ ۔ سے کرونا تک

ہم اپنے ملک کی بات کرتے ہیں۔ جہاں ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ اگلے چند دنوں میں صرف لاہور میں ہی کرونا تباہی مچانے والا ہے۔ اور ملک بھر میں جنازوں کی گنتی، اور قبرستانوں کے رقبے میں اضافے کی زیادہ فکر لاحق ہو گئی ہے۔ گویا ہم نے علاج کرنے اور علاج کے لئے اقدامات سے ہار مان لی ہے۔ جنت کے باغوں کے خوابوں کی بجائے، دوزخ کی آگ کا خوف دیا جا رہا ہے۔ خوف بذات خود موت ہے۔ اور ابھی بھی بہت سی اموات صرف خوف کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔

Read more

مولانا طارق جمیل صاحب کے نام ایک بے حیا بیٹی کا گستاخ خط

مولانا طارق جمیل صاحب کے نام ایک بے حیا بیٹی کا گستاخ خط معذرت کے ساتھ۔ سلام محبت مولانا طارق جمیل صاحب، اس محبت کا تعلق شاید پچھلے رمضان تک تھا۔ یا کل کے بیان تک تھا۔ اس کے بعد دل کی تسلی کو دور کے سہانے ڈھول ہی بھلے لگنے لگتے ہیں۔ جب انسان کو پھولوں کے باغوں سے گزرتے کانٹے لہو لہو کر دیتے ہیں۔ دل بہت دکھی اور غم گین تھا۔ انسانیت کی میتوں کا تماشا دیکھ

Read more

نفرت سے محبت کی کہانی

وہ حسن کی دیوی تھی جو اکسیویں صدی والوں نے صرف پڑھی ہوئی تھی۔ وہ اکیسویں صدی جس میں معلومات کی بنیادپہ ڈگریوں کے ڈھیر لگتے چلے جا رہے تھے۔ اور معاشرے تعلیم یافتہ کہلانے لگے تھے۔ علم نے منہ چھپا لیا تھا۔ اور کہیں گوشہ نشینی اختیار کر لی تھی۔ وہ سر بازار آتا بھی کب ہے، وہ تو پنپتا ہی گوشہ نشینی میں ہے۔ خیر وہ حسن کی دیوی تھی اور حسن اس کے در کا غلام تھا۔

Read more

دبئی کرونا۔ لاتو ں کے بھوت

پیوستہ تھے ہم شجر تھے، امید بہار تھی۔ مگر خطبہ سماعت فرمانے کی دیر تھی۔ سبی شہر کی گر می تن بدن میں تلملانے لگی۔ اور ہم سب گھر والوں سے منہ چھپائے پھر رہے تھے۔ کیونکہ آج کل سب کو منہ صرف گھر والوں کو دکھانے کی اجازت ہے۔ باقی پردہ عام و عوام ہے۔ مگر ہم آنکھیں نہیں جھکاتے کہ کہیں ٹکرا ہی نہ جائیں۔ وبا کے دن ہیں۔ محبت پہ پابندی ہے مگر کچھ ظالم مصنفوں کو وبا میں بھی محبت سوجتی ہے تو ناول لکھ مارتے ہیں خیر جی منہ چھپانے کی وجہ یہ کہ ہم جیسے ہی چند جنات اور چڑیلیں ہیں جو اب بھی امید بہار کے گیت گنگنا رہے ہیں۔

Read more

یوم خواتین کی ”سہاگ رات“

آپ سے کہا تھا کہ بلڈ پریشر، ہارٹ اورڈپریشن کی دوائیاں لے کر رکھ لیں۔ آٹھ مارچ آنے والا ہے۔ لیجیے آیا اور گزر گیا۔ اس بار پچھلے سال کی نسبت کافی میچورٹی دکھائی دی۔ پھر بھی پتھر برسائے گئے۔ اور کوئی حکومتی دیوانہ یہ کہتا نظر نہ آیا ”کوئی پتھر سے نہ مارے میرے دیوانے کو“ خیر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔

Read more

آپ کو خود آزاد ہونے کے لئے پہلے عورت کو آزاد کرنا ہو گا

عورت مارچ، عورت کا ایک دن، اس کو منانے سے روکنے والے ظالم یہ تک بھول گئے ہیں کہ عورتوں نے اس خاص دن کے لئے کپڑے بنوا لئے ہو ئے ہیں۔ لہذا اب کو ئی بھی طاقت اس دن کو منانے سے انہیں نہیں روک سکتی۔ اور جو رستے کی دیوا ر بننے کی کوشش کر ے گا۔ اس پہ ہر طرح کا سابقہ غصہ بھی اتارا جائے گا۔ ہر سال عورت مارچ اور عورت آزادی اپنے نئے رنگ

Read more

ایک کتاب میلے کا کانوں سنا حال

لاہو ر بہا ر کی آمد کا اعلان میلو ں کے آغاز سے کر تا ہے اور اتنے میلے لگتے ہیں کہ لاہو ی میلہ لوٹ لوٹ کے نہیں تھکتے۔ بلکہ دوسرے شہرو ں سے مہمانو ں کو بلاتے ہیں اور اپنی سیاحت کا شوق بھی پورا کر تے ہیں۔ یک نہ شد دو شد کے مترادف گٹھلیاں بھی نہیں گنتے اور آم بھی کھاتے ہیں۔ ابھی ”ناجائز محبت“ کے مہینے کا آغاز ہی ہوا تھا کہ جی سی یو

Read more

مرد کبھی بوڑھا نہیں ہو تا

مرد کبھی بوڑھا نہیں ہو تا ”ہائے۔ اچھا سچی مگر کیسے؟ “ تم ڈاکٹر ہو یار میرا مسئلہ حل کرو۔ میرے آس پاس تو سب عورتیں جوان ہیں اور ان کے شیریں لبو ں پہ شوہر کے بڑھاپے کی داستاں لطیفوں میں رنگین تتلیو ں کی طرح اڑتی پھرتی ہے؟ ڈاکٹر لبنی مرزا اور میں ”لڑکیو ں کی باتیں“ کر رہے تھے۔ وہ باتیں جن کو سننے کے لئے ترسے مرد کان لگائے، پتنگو ں کی مانند بھْو بھْو کرتے

Read more

اسسٹنٹ کمشنر اٹک جنت حسین اور ”کل کے لونڈے“

لال لال لہرانے کی ابھی کو ئی امید نہیں جگائی گئی۔ مگر اس لالی نے اپنے رنگ دکھانے شروع کر دیے ہیں۔ طلبہ یو نین بننے سے پہلے طلباء نجانے کیا باور کروانا چاہ رہے ہیں۔ بات اتنی بڑی اور اہم نہیں تھی جتنا اس کو اچھا ل دیا گیا ہے۔ اور افسوس ناک صورت حال تب سامنے آتی ہے۔ جب ”کل کے لو نڈے“ یہ مستقبل کے وکیل، ڈاکٹر، سائندان، اینکر ایک خا تون اسسٹنٹ کمشنر سے معافی طلب

Read more

کالے کوٹ والوں کے لائسنس تاحیات معطل کیے جائیں

لاہو ر باغوں کا شہر جس کو کالے کو ٹ والوں نے آ ج کالا کر دیا۔ جس مذاق کو اتنا سنجیدہ لیا گیا۔ وہ اس قابل نہیں تھا۔ اس سے زیادہ تو ایک گھنٹے کے ٹاک شوز والے حکو مت کی دھجیاں اْڑا دیتے ہیں۔ مگر حکو مت کوئی بھی ہو۔ وہ ان ایک گھنٹے والوں کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرتی۔ کیونکہ ان کو شعور ہے کہ وہ حکومت ہیں۔ طاقت ور ہیں۔ ایسا کون کرتا ہے؟ جو

Read more

الفا، براو، چارلی کی ”شہناز“ اور ہم

الفا، براؤ چارلی صر ف ایک ڈرا مہ نہیں تھا۔ جس نے اس دور کے نو جوانوں کی نیندیں اڑا دیں تھیں۔ یہ ایک ٹرینڈ تھا۔ یہ ایک نفسیات تھی۔ یہ ایک فطرت کی نقش گری تھی۔ یہ آرٹ تھا کہ بات کیسے کی جاتی ہے۔ یہ تہذیب تھی۔ یہ اس نسل کو رنگ دینے والی دھنک تھی۔ یہ کہانی ایک خاص بیک گراؤنڈ کے گرد گھومتی ہے۔ مگر کر دار تو سماج کے، اور وقت کی سوچ کے عکاس

Read more

لڑکیوں کو بھی شرماتے ہوئے مرد اچھے لگتے ہیں

آپ ہرمن ہیسے اور گیبریلا مسترال کی زندگی میں الجھے ہوئے ہوں۔ ان کی زندگی سے ان کے تحریروں کی کھوج لگانے میں مگن ہوں۔ اور آمنہ مفتی، محمد حنیف کا کالم ”َمرد کا پردہ“ بی بی سی اردو سے شئیر کر دے۔ آپ کالم کا لنک اوپن کرنے کی کوشش کریں اور وہ آپ کی زنانہ بے حجابی سے شرما کر کھلے ہی نہیں اور جب کئی گھنٹوں کے بعد کھلے تو آپ اسے پڑھ کے ابھی داد کے الفاظ بھی تلاش نا کر سکیں ہو ں کہ عفت نوید کی تحریر ”دل بے حجاب عورتوں پرہی آتاہے“ آپ کی نگا ہو ں سے ٹکڑاجائے۔ اور آپ کو لگے آپ کا پردہ آپ کو لے ڈوبا۔

Read more

مسز خان کے نام عہد جدید کی ایک بیٹی کا خط

السلام علیکم مسز خان آپ کا چرچا تو پہلے بھی بہت تھا۔ اب بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ آپ کے دہن مبارک سے جھڑنے والے پھول سننے کا مجھ ناچیز کو بھی اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اور اس اعزاز نے کئی سوال ناتجربہ کار ذہن کے دریچوں پہ آبلے جیسے اٹھا دیے ہیں۔ اللہ ہم گلوبل تہذیب کے دور میں تیزی سے داخل ہو گئے ہیں۔ فیمینزم کی اندھی آگ نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہم نے

Read more

انسان شادی کے بعد ”الو“ کیسے بن جاتا ہے؟

انسان شادی کے بعد ”الو“ کیسے بن جاتا ہے؟ یہ سوال جتنا سادہ ہے۔ اتنا ہی گہرا بھی۔ ”درویشوں کا ڈیرا“ کے بعد خواتین کی طرف سے تو بہت اچھے سوالات آئے۔ مگر کسی مرد کی طرف سے اس کا کافی فقدان رہا۔

آج اچانک ایک صاحب کا سوال آیا کہ ”رابعہ جی مرد شادی کے بعد الو کیسے بن جاتا ہے؟ “

Read more

اندھا ٹیکس رقص۔ کسان، صنعت کار، تاجر، اور وردی

ہمارے پاس پورٹ، ہمارے آئین میں لکھا ہے کہ ہم ”اسلامی جمہوریہ پاکستا ن“ ہیں۔ اب ان تین لفظوں پہ غور کیے بنا ہم کسی بھی سیاسی لیڈر کے پڑھے لکھے مشیرو ں کے لفظوں کی غلامی پہ لبیک کہتے ہو ئے ملک میں آگ لگا نے پہ اتر آتے ہیں۔ خدارا یہ ملک ہم سب کا ہے۔

ہم ٹیکس رقص پارٹی کر رہے ہیں۔ ایک خاص دانش مندی ہمیں سکھائی جارہی ہے۔ ہم کو پڑھے لکھے، دانشور، ایک مجبور وقت دانش کے پیچھے کسی اندھے کی طرح رقص کرنے پہ مجبور کر رہیں۔ چلیں آئیں دنیا میں سفر کرتے ہیں۔ مگر دانش وروں کی طرح نہیں عاشقوں کی طرح

Read more

ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے کی جنگ

روایت ہے جب آدم نے شجر ممنوعہ سے دانہ کھا لیا تو اس کا ستر کھل گیا، اسے جنت سے نکال دیا گیا۔ اور پھر جب وہ زمین پہ آیا تو یہا ں مصنوعی جنت بنانے کے خواب تعبیر کر نے کی کوشش میں رہا۔ جنت نظیر محل بھی بنائے۔ باغات کی بھی کوشش کی۔ دوسرے کی عورت کو حور بھی سمجھ لیا۔ بس ایک کمی رہ گئی تھی۔ اب اس کی تکمیل کا وقت آپہنچا۔ آج سر سے پاﺅں

Read more

اصلی فواد چوہدری؟ نقلی فواد چوہدری؟

زمانہ جہالت کی بات ہے اس لئے رابعہ نے اس واقعہ کو لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔ زمانہ جہالت اس لئے کہ صحافت میں خبر کی تازگی اہمیت رکھتی ہے۔ دو ماہ قبل کا واقعہ زمانہ جہالت کی تاریخ میں شامل ہو جاتا ہے۔لیکن زمانہ جہالت سے نکلے تو پتاچلا ابھی مستقبل کا دور دور تک نشان نہیں۔ سو واقعہ کا بیان رمز سے خالی نہیں۔ لہذا رابعہ الرَبّا ء نے فیصلہ کیا کہ اس سے قبل کہ منسٹری پھر سے بدلے، سب کچھ لکھ دیا جائے۔ کیونکہ بزدلی باذات خود گناہ ہے۔یہ بات ہے نواپریل دو ہزار انیس کی۔ رابعہ ابھی والد صاحب کے جانے کے بعد اس حقیقت کے ساتھ جنگ میں تھی لہذا فون کا گلا دبا دیا کرتی تھی۔ کیونکہ خوشی کے سب ساتھی ہو تے ہیں۔ غم میں ساتھ، صرف ساتھی ہو تے ہیں۔

Read more

پیار کاآخری لمحہ۔ اور پھر بس

ان کی آنکھو ں کا رنگ بد ل رہا تھا۔ پہلے گرے، پھر آسمانی اور پھر دھیرے سے فیروزی رنگ چمکنے لگا۔ جسم ساتھ چھوڑ رہا تھا۔ میں نے اس کے کاندھو ں پہ دونوں ہاتھ رکھے اور پو چھا ”آپ کیا محسوس کر رہے ہیں؟ “انہو ں نے گردن اْٹھاکر میری طرف دیکھا اور دھیرے سے کہنے لگے ”آپ نے جو کر نا ہے جلدی کر لیں۔ میری امی انتظار کر رہی ہیں“۔ یہ جملہ توپ کے گولے کی طرح میرے دل پہ جا کر لگا۔

Read more

ہے اپنا دل تو آوارہ۔ نجانے کس پہ آئے گا؟

ہائے سچی بات اتنی سی ہے کہ اس ظالم دل کو کسی پہ نہیں، مجھ پہ صرف مجھ پہ آنا چاہیے۔ ”چور مچائے شور“ یہ سب چور اسی لئے شور مچا رہے ہیں کہ یہ دل کا معاملہ ہے۔ صدیوں محنت کے بعد جس کوغلا م بنا کر، آپس میں لڑا کرکے، ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کر کے، ان عورتوں کو ایک دوسرے سے دورکر دیا۔ جبکہ سب نے بچپن میں پڑھا ہوا ہے ”اتقاق میں برکت ہے“ مگر اب یہ عورتوں کے اتفاق میں اتنی بے برکتی کیو ں دکھائی دے رہی ہے؟کس بات کا خوف ہے؟ جس کھلاڑی کوآج ہم نے وزیر اعظم بنایا ہے۔ یہ الزام تو اس کے سیاسی جلسو ں پہ بھی تھا۔ اب اتنے ماہ کتنے ایسے میلے دیکھ لئے آپ نے؟

Read more

بیٹی کا جہاں اور ہے، بہن کا جہاں اور

آج کے اس مبارک دن پہ پیش کرنے کو میرے پاس پھول نہیں ہیں کیو نکہ کوئی گما ن میرے خوابوں میں نہیں سویا کہ کوئی دن بھی ایک عام عورت کا دن ہے۔ اس لئے آج بھی چند دکھ بھری کہا نیاں ہیں۔ کہ بیٹی کا جہاں اور ہے، بہن کا جہا ں اور۔

”میرے پاس بتیس روپے تھے جب میں گھر سے نکلی۔ میرا میٹرک کا زرلٹ آیا تھا۔ کالج میں داخلہ لینا چاہتی تھی کہ رات کے وقت میرے بھائیوں نے میرے منہ پہ تکیہ رکھ کر مجھے مارنے کی کوشش کی۔ رات بہت تاریک تھی۔ میں کسی طور ان کے چنگل سے نکل کر باہر کی طرف بھاگی، میری بہن نے میری مدد کی اور وہ تلاش کرتے رہ گئے تاریک رات اور کھڑی فصل نے مجھے اپنی غوش میں چھپا لیا۔ اور صبح سے پہلے میں بس اسٹاپ پہ پہنچی اور پھر کبھی اس گھر نہیں گئی۔ آج میں پی ایچ ڈی اسکالر ہو ں۔ میرا گھر ہے۔ شوہر ہے بچے ہیں۔ اچھی جاب ہے“

Read more

جنگیں حکمت ِعملی اور جذبوں سے لڑی جاتی ہیں

جنگیں حکمت عملی اور جذبو ں سے لڑی جاتی ہے ہیں۔ اور حکمت عملی جذبات میں بہہ جانے کا نام نہیں ہے۔ لہذا یہ جو کچھ ہو رہا ہے۔ اس کو حکمت عملی کے باب میں رکھ کر سمجھئے سب سوالو ں کے جواب تاریخ کی کتاب میں خودبخود شامل ہو گئے ہیں۔ اب بات ہے حالات کی، تو جذبہ عوامی سطح پہ جنون بن رہا ہے۔ کیونکہ جوانو ں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اور یہ حسن بکھرنے کا

Read more

درویش نامہ

پاکستان کا مطلب کیا، مک مکا، مک مکا۔ ﷲ یہ میں نہیں کہا۔ یہ تو ایک کتاب کچھ دن قبل موصول ہوئی جس کا نام ہے ”درویش نامہ“ جس میں درویشی کا رنگ شگفتہ شگفتہ ہے۔ اور انتساب ”درویش“ کی مونث ”درویشی“ کے نام ہے۔ آئیے کتاب سے غزل سناتی ہوں۔ ہم کہ ٹھہر ے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد پھر کریں گے ”مک مکا“ کتنی ملاقاتو ں کے بعد مک مکا کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت

Read more

بچوں کی کامیابی کو کیسے یقینی بنائیں؟

ہم جب کسی بڑے سائنس دان، سیاست دان، مفکر، اداکار، ادیب، دانشور کو دیکھتے ہیں تو رشک کرتے ہیں اور خواہش و دعا کرتے ہیں کاش ہماری اولاد اس مقام پہ کھڑی ہو۔ اور ہمارا نا م روشن ہو جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک خوش حال اور خوشگوار زندگی بھی گزارے۔ اس کے ساتھ ساتھ جو ہم نہیں کر سکے وہ، وہ بھی کرے۔ جو ہم نہیں پا سکے اسے وہ سب مل جائے۔ وہ ایک اچھی سماجی

Read more

شادی دو لوگوں کا مسئلہ ہے

”ارے یار تم میرے بھائی کی شادی پہ بلا شبہ کپڑے مت پہننا، مجھے کو ئی اعتراض نہیں ہو گا“ بینا کھلکھلا کے ہنس پڑیں ”او سچی۔ “ ”رابعہ شادی اصل میں دو لو گوں کا مسئلہ ہے جسے ہم نے سوسائٹی کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ تین دن بعد ہاتھ میں طلاق کے پیپرز ہو تے ہیں۔ تو بھی ہم الزام دوسروں کو دیتے ہیں“ ”بینا جی یہی تو میں دیکھتی ہو ں کہ آپ کسی بھی شادی پہ

Read more

عمران بھائی (وزیر اعظم عمران خان) کے نام ایک کھلم کھلا خط

سلام عمران بھائی،

آپ قومی ہیرو تھے، ہیں اور ابھی بھی زیروساتھ لگنے سے قیمت میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے۔ عمران بھائی پہلے تو راز کی بتاؤ ں کہ میں بھی پنکی جی سے بہت متاثر ہو ں اور ان سے استخارہ کرواناچاہتی تھی۔ مگر ان کے سابقہ استخاروں کی تعبیر نے مجھے بے حد خوف زدہ کر دیا ہے۔ لہذامیں نے ذاتی حد تک اس سے توبہ کر لی ہے۔ کیونکہ میں قوم جتنی بہادر و طاقت ور نہیں ہو ں۔

خیر عمران بھائی آپ ہماری نسل کے وہ ہیرو تھے کہ کسی ”لنگور عمران“ سے بھی اس دور میں کسی لڑکی کی شادی ہو جاتی تو وہ نکاح نامے پہ آپ کے تصور سے دستخط کر دیا کرتی تھی۔ اور اپنی سہیلیوں میں شرما کر کہا کرتی تھی کہ تمہارے بھائی جان کا نام ”عمران“ ہے۔ تب سے بہت سے مرد آپ سے حسد کرتے رہے ہیں۔ اب یہ وزیر، مشیر، فقیر آپ سے پرانی حسد کابدلہ لے رہے ہیں۔ مگر یہ بات خواب ختم ہونے کے بعد سمجھ آتی ہے۔ کہ انڈوں کی قیمت کیا ہوتی ہے اور مرغا کتنے انڈے دیتا ہے۔

Read more

نظریہ ضرورت

”ڈیئر سٹوڈنٹس سقوطِ ڈھاکہ 1971 ء میں بظاہر ہوا لیکن تاریخ پر طائرانہ نگاہ رکھنے والے اس کی جڑیں اور شاخسانے بہت دور تلاش کرتے ہیں۔ وہاں کہ جہاں بظاہر کوئی گمان بھی نہیں گزرتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ”سر! یہ طائرانہ نگاہ کیا ہے؟ “ ”بیٹا جیسے پرندہ بہت آگے تک دیکھ سکتا ہے چونکہ وہ بلندی پر اُڑتا ہے یونہی جو شخص بہت آگے تک دیکھ سکے، سوچ سکے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اس

Read more

عقل مند مرد، عقل کے ہاتھوں مارا جاتا ہے

آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ کم عقل مند اور ذرا بے وقوف مردوں کی زندگی مزے میں ہوتی ہے۔ ان کے آس پاس والے اکثر ان سے خوش نظر آتے ہیں۔ یہ اپنے ازدواجی اور محبوبائی معاملات میں بھی خوش نصیب ٹھہرتے ہیں۔ ان کی زوجہ اور محبوبہ ان سے خوش ہوتی ہیں۔ ان مردوں کو عورتوں والے لطائف بھی نہیں آتے کہ وہ گفتگو میں ان کا سہارا لے کر گفتگو کو چسکے دار بنا سکیں۔ زندگی

Read more

شعبہ اردو جی سی یونیورسٹی لاہور اور شعبہ اردو انقرہ یونیورسٹی ترکی

دوروزہ عالمی کانفرنس

Spring of Wisdom and Love

یہ نومبر کی بہار تھی۔ نومبر دسمبر دو ایسے مہینے ہیں جو کسی ایک تاریخ کو تاریخ کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ چودہ، پندر ہ نومبر بھی ایسے ہی دو دن تھے۔ جو تاریخ کو متاثر کرنے جارہے تھے۔ اگر مجھے اس تاریخ کو چند لفظوں میں قید کرنا ہوتا تو میں تب بھی کلاسیک کا سہارا لیتی۔ چارلس ڈکنز کے شہرہ آفاق ناول کے چند جملے اس کانفرنس کی منظر نگاری کے لئے کافی ہیں۔

It was the best of times…, it was the age of wisdom …, it was
the season of light…, it was the spring of hope….
….

Read more

لبرل آنٹی کی ولگر کہانی

بدھسوا تنہا بیٹھی سوچ رہی تھی کہ سدھارت بدھا کیسے بن گیا۔اس کو نروان کیسے مل گیا۔ برہمنیت کا غرور خاک میں ملا نا کو ئی آسان کام نہیں تھا ۔ نا ہی بدھی ریاضت میں کو ئی آسانی تھی ۔ ضبط کے بھی روزے کی انتہا ، تو پھر نروان کیسے اور کیونکر مل سکتا ہے۔ اس کی سوچیں ابھی اپنے ساتھ ہی جنگ میں مبتلا تھیں کہ ایک گردش کرتی تصویر نے اس تن من میں آگ لگا

Read more

کتاب میلہ ۔۔۔ نئے مانجھی اور نئے زمانے کے پتوار

نومبر کا آغاز ہے۔ خنک ہوائیں میدانی علاقوں میں ہوائی آلودگی کے باعث میلی میلی سی ترقی کے نام پہ اتراتی پھر رہی ہیں۔ موسم نے قوم کی دکھتی رگ پہ مسیحائی ہاتھ رکھ دیا ہے۔ مگر ساتھ ہی بجلی اور گیس کے یونٹ کی بڑھتی ہوئی قیمت نے گویا زخم پر نشتر بھی رکھ دیا ہے۔ سجن بن پھول رہی سرسوں۔۔۔ نومبر کا آغاز ہے۔ میلو ں کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔ آج ایک میلے کا بھی آخری

Read more

اپنے بچو ں کی عزت کیجئے

بچے وہ ان دیکھے بیج ہیں جن کا پھل ہم سب بہت عمدہ کھانا چاہتے ہیں۔ نہ صرف توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمارا نام روشن کریں گے، ہماری خدمت کریں گے، ہمارے تابعددار ہوں گے بلکہ ہم یہ دعوی کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم خود کو اپنے والدین سے اچھا والدین سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اکثر ایسا ہو تا نہیں۔ کیو ں نہیں ہوتا ؟ کیو نکہ والدین بنتے ہی ہم میں ایک خاص فرعونیت در آتی ہے۔ جس

Read more

بانیہ

یہ بہت حسین خنک و نم رات تھی۔ ستارے آسمان پر مسکرا رہے تھے۔ چاند آسما ن پر اور زمین پر بہت دن بعد آیا تھا۔ سو مست مسرور سے نیم سفید بادل اس کے گرد مدھر رومانوی رقص میں اِترا رہے تھے۔ وہ چاند تھا اپنی مستی میں مست، نازاں۔ کہ چاہے جانے کا بھی تو اک الگ ہی نشہ ہے جس کا خمار اْترے نہیں اترتا۔ آسما ن پہ اک الگ رومان آج اپنی کا ئنا ت بسائے

Read more

حجلہ عروسی میں لب بستہ دلہن اور محاذ جنگ پر کامرانی کی لب ریز دعا

ہم فوج میں کپتان ہوئے تو گھر والوں نے ہماری شادی کی ٹھان لی، مگر بڑے بھائیوں نے عجب ظلم ڈھائے، کہ ایک نے شادی کا رِسک ہم پہ لینے کے بعد، اپنی شادی کا فیصلہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور دوسرے نے شادی نہ کرنے کا اعلانِ عام سنا دیا۔ ہم چھوٹے تھے کوئی بڑا فیصلہ نہیں کر سکتے تھے، لہٰذا ابا جی نے تیسرا ظلم یہ کیا، کہ سب رشتے داروں کے یہاں سلام کے لیے بھیجا۔

Read more

حور اور لنگور کی تصویر

چھوٹی سی بیٹی کھیل رہی تھی۔ شوہر نے بیوی سے کہا دیکھو ایک دن کو ئی لنگور دولہا بن کے آئے گا اور اسے بیاہ کر لے جائے گا۔ بیوی نے بہت پیار سے کہا ”آپ کو یاد ہے ایک دن آپ بھی یونہی دولہابن کے آئے تھے“ لیکن جب یہ لمحہ آتا ہے۔ رشتے کی بات چلتی ہے تو سماج کے سارے ریت راوج ہی بد ل جاتے ہیں۔ وہی لڑکی جو آپ کو باپردہ اور باحیا چاہیے ہو

Read more

پری پیڈ میٹر۔۔۔۔۔۔نان ڈیجیٹل عوام

’’ ابے یار بس تو دیکھ تیرا جگر تیرے لئے کیا کرتا ہے ۔ایک بار اپنے بھائی کو حکومت میں آلینے دے پھر دیکھنا گنے کے کھیت میں چنے بھی اْگنے لگیں گے،چاولو ں کی فصل بغیر پانی کے لہلہائے گی،، یہ بات اس نے نجانے کس بے اعتمادی سے کہی تھی ۔ مگر کوئی لمحہ قبولیت تھا ۔ دعا سیدھی ساتویں آسمان ہی پہ جا کر لگی ۔ ’’یار تو اپنا وعدہ بھول گیا ناں،، یہ کیسے ہو سکتا

Read more