لاپتہ خوش بخت اور سوشل میڈیا


گاؤں کی زندگی ترک کرکے شہرمیں آباد ہونے والے خاندان کو کچھ ہی روز میں اس وقت دھچکا لگا جب ان کا سب سے چھوٹا بیٹا ’لاپتہ‘ ہوگیا۔ شہر میں جان پہچان کم ہونے کے باعث اہلخانہ کی پریشانی بڑھتی گئی، اپنے طور پر تلاش کرنا شروع کردیا، چند گھنٹوں بعد قریبی مسجد سے اعلان کرادیا اور بچے کے تمام نشانیاں بتادی، جس پر ایک شخص نے ترس کھاکر بچے کی تمام نشانیوں سمیت سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ ڈالی اور اپیل کی کہ اس بچے کی تلاش میں خاندان کے ساتھ تعاون کیا جائے۔ چند گھنٹوں بعد بچہ قریب ہی ایک گھر سے برآمد ہوا لیکن سوشل میڈیا کا اشتہار چلتا رہا، اب وہ بچہ جہاں کہیں بھی نظر آتا ہے تو لوگ اس کو پکڑ کر دوبارہ اس کے گھر چھوڑ کرآتے ہیں۔

چند روز قبل سوشل میڈیا میں خبر چلی کہ گلگت بلتستان کے علاقہ غذریاسین سے تعلق رکھنے والی اورسیفی ہسپتال ناظم آباد کراچی کی نرسنگ اسسٹنٹ 22 سالہ خوش بخت مورخہ 04 جنوری 2019 کو پراسرار طورپر لاپتہ ہوگئی۔ واقعہ کو کئی روز گزرنے کے باوجود تھانہ سچل پولیس نے تاحال مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز نہیں کیا۔ مغویہ کے ورثاءنے ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ (رپورٹر کو) معلوم ہوا ہے کہ غذر کے علاقہ یاسین سے تعلق رکھنے والے زمیندار (والد) کی نوبیٹیوں میں سب سے چھوٹی بیٹی بائیس سالہ خوش بخت تقریباً ڈیڑھ سال قبل اپنی بڑی ہمشیرہ کے ہاں رحیم ویو کالونی ملیر آئی۔

خوش بخت نے سیفی ہسپتال واقع ناظم آباد میں ایک سال تک نرسنگ کی ٹریننگ لی اور وقوعہ سے تین روز قبل اس نے اسی ہسپتال میں اپنا انٹرن شپ شروع کیا۔ چار جنوری بروز جمعہ کو وہ حسب معمول اپنی رہائش گاہ سے دن تقریباً ساڑھے بارہ بجے ہسپتال جانے کے لئے نکلی اور پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اس روز وہ ہسپتال ہی نہیں آئی۔ تاہم ہسپتال انتظامیہ نے اس کی غیرحاضری پراس کے ورثاءکو فون کرکے آگاہ کرنے تک کی بھی زحمت نہیں کی۔

جب رات بارہ بجے تک وہ واپس گھر نہ پہنچی تو اس کے ورثاءکو تشویش لاحق ہوئی اور ہسپتال رابطہ کرنے پر انہیں بتایا گیا کہ خوش بخت تو آج ہسپتال ہی نہیں آئی۔ خوش بخت کے بہنوئی (ج ح) نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ خوش بخت ڈیڑھ سال سے ہماری ساتھ رہ رہی تھی۔ نرسنگ کی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد اس نے انٹرن شپ شروع کی اوروقوعہ کے روزاس کا انٹرن شپ کا چوتھا روز تھا۔ وہ پبلک ٹرانسپورٹ پر گھرسے ہسپتال جایا کرتی تھی اور رات دس بجے تک واپس لوٹ آتی تھی۔

وقوعہ کے روز وہ گھرسے ہسپتال گئی لیکن ہسپتال انتظامیہ کے مطابق وہ ہسپتال ہی نہیں پہنچی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہسپتال انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ خوش بخت اگرہسپتال سے غیرحاضرتھی تووہ ہمیں فون کرکے اطلاع کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ دوسری طرف تھانہ سچل پولیس روایتی سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ہماری طرف سے درخواست دیے جانے کے باوجود تاحال واقعہ کا مقدمہ تک درج نہیں کیا۔ انہوں نے ارباب اختیار سے نوٹس لینے اورمغویہ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ خبر سوشل میڈیا کے جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، سوشل میڈیا کے متحرکین نے اسے علاقے کے ساتھ ظلم قرار دیدیا اور وفاقی حکومت، گلگت بلتستان حکومت اور سندھ حکومت کو بھرپور لتاڑا۔ معاملہ اس حد تک گھمبیر ہوتا گیا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ سے رابطہ کرکے آگاہ کیا اور فی الفور نوٹس لے کر سخت ایکشن لیتے ہوئے مغویہ کو بازیاب کرانے کی استدعا کی۔ کمشنر گلگت ڈویژن عثمان احمد نے انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ کو تحریری خط لکھتے ہوئے معاملے میں ذاتی دلچسپی لینے کی درخواست کی اور یہ بھی کہا کہ پولیس ورثاءکے ساتھ تعاون نہیں کررہی ہے۔

اس معاملے نے دلچسپ رخ اس وقت اختیار کرلیا جب پتہ چلا کہ ’خوش بخت‘ نے بھاگ کر ملتان کے رہائشی ’قربان‘ سے شادی کرلی ہے، اور سوشل میڈیا میں چلنے والے تمام پوسٹس غلط اور بے بنیاد ثابت ہوئے، بعض لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ اس کے خاندان والوں نے خود بتایا کہ اغواءہوگئی ہے جبکہ باقی کچھ دوستوں کو قوم قوم کھیلنے کی پڑی ہوئی تھی۔ خوش بخت نے بعد ازاں ویڈیو پیغام میں اپنی مکمل رضا مندی ظاہر کردی۔ معلوم نہیں وزیراعلیٰ سندھ نے دوبارہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سے رابطہ کرکے کیا کہا ہوگا؟ سوشل میڈیا کے دوستوں نے تو عجیب و غریب القابات سے بھی نوازا۔ اس واقعہ کو یوں پھیلانے سے قبل اہلخانہ کو احتیاط کرنے کی ضرورت تھی جو نہیں کی گئی تاہم بعض خدشات بھی جنم لے رہے تھے شکر ہے کہ وہ درست ثابت نہیں ہوئے۔

یہ معاملہ معمول کا نہیں ہے، ایک نوجوان نرس کے بارے میں کئی روز تک یہ بات گردش کرتی رہے کہ وہ دن دیہاڑے اغواءہوگئی ہے، چند ماہ قبل بھی یوں ایک واقعہ سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا تھا جس کا محور چند خواتین تھیں، پتہ نہیں کیوں ایسا لگتا ہے کہ جیسے خاتون جو کوئی بھی ہو اس کا فیصلہ مردوں نے کرنا ہے۔ خوش بخت نے بھاگ کر شادی کرلی اس کا حق تھا، اس نے اپنے کسی قریبی دوست سہیلی کو بھی اطلاع نہیں دی لیکن دینی چاہیے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پسند کی شادی کرنا اتنا مشکل کیوں ہوگیا ہے؟ سماجی رویے ایسے موضوعات کو مزید بگاڑ رہے ہیں، یہ نہ ہی پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی آخری ہوگا کیونکہ اس کے محرکین سماجی رویے ہیں، جن کی وجہ سے شادی کرنا مشکل اور بھاگ جانا آسان ہوگیا ہے۔ اس بات کی تعلیم کا آغاز مذہبی شخصیات اور منبر و محراب سے شروع ہونی چاہیے جو ہر اس عنصر کو سمجھاسکے جو شادی کو آسان بنانے میں رکاوٹ بناہوا ہے۔ زبانی کلامی دعوؤں میں ہم شادی کو سب سے آسان بھی قرار دیتے ہیں، حضرت علی ؓ کی شادی کے واقعہ کی مثال بھی دیتے ہیں لیکن عملاٍ رویے ایسے نہیں ہیں جو شادی کلچر کو فروغ دے سکیں۔

دوسری اہم پہلواس واقعہ کی وجہ سے اٹھا ہے وہ سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔ چند ماہ قبل سکردو کے ایک نوجوان نے اپنے قیمتی کاغذات سمیت بیگ کے گم جانے پر سوشل میڈیا کے ذریعے بیگ تلاش کرنے میں مدد کی اپیل کی جس پر چند ہی روز میں اس کا بیگ واپس بھی مل گیا اور ڈی جی آئی ایس پی آر سمیت بڑے بڑے سوشل میڈیا پیجز نے ان کے اس پیغام کو آگے کیا جو کہ اس کے بیگ کو تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہوگیا، یہ واقعہ سوشل میڈیا کے درست استعمال کی عکاسی کرتا تھا۔

لیکن اس کے باوجود گلگت بلتستان میں سوشل میڈیا کے درست اور مثبت استعمال کی کمی ہے۔ بعض سوشل میڈیا ایکٹوسٹ دوستوں کے پاس مواد ہی نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے مذہبی سے لے کر فرقہ وارانہ مواد تک کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔ خوش بخت اور گاؤں سے شہر آنے والے بچے کی کہانی میں بڑی مماثلت ہے، اب جو مواد سوشل میڈیا میں پھیلایا گیا ہے وہ ویسے ہی رہے گا بہت کم لوگ ہوں گے جو اسے ڈیلیٹ کریں گے۔

Facebook Comments HS