آنندی – اردو کے شاہکار افسانے
یہ چودہ بیسوائیں اچھی خاصی مالدار تھیں۔ اس پر شہر میں ان کے جو مملوکہ مکان تھے“ ان کے دام انہیں اچھے وصول ہو گئے تھے اور اس علاقہ میں زمین کی قیمت برائے نام تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے ملنے والے دل و جان سے اس کی مالی امداد کرنے کی لئے تیا ر تھے۔ چنا نچہ انہوں نے اس علاقے میں جی کھول کر بڑے بڑے عالیشان مکان بنوانے کی ٹھانی۔ ایک اونچی اور ہموار جگہ جو ٹوٹی پھوٹی قبروں سے ہٹ کر تھی ”منتخب کی گئی۔ زمین کے قطعے صاف کرائے اور چابک دست نقشہ نویسوں سے مکان کے نقشے بنوائے گئے اور چند ہی روز میں تعمیر کا کام شروع ہو گیا۔ دن بھر اینٹ، مٹی، چونا، شہتیر، گارڈر اور دوسرا عمارتی سامان گاڑیوں، چھکڑوں، خچروں، گدھوں اور انسانوں پر لد کر اس بستی میں آ تا اور منشی صاحب حساب کتاب کی کاپیا ں بغلوں میں دبائے انہیں گنواتے اور کاپیوں میں درج کرتے۔ میر صاحب معماروں کو کام کے متعلق ہدایات دیتے۔ معمار مزدوروں کو ڈانٹتے ڈپٹتے مزدور ادھر ادھر دوڑتے پھرتے۔ مزدور نیوں کو چلا چلا کر پکارتے اور اپنے ساتھ کام کرنے کے لئے بلاتے۔ غرض سارا دن ایک شور ایک ہنگامہ رہتا۔ اور سارا دن آ س پاس کے گاؤں کے دیہاتی اپنے کھیتوں میں اور دیہاتنیں اپنے گھروں میں ہوا کے جھو نکوں کے ساتھ دور سے آ تی ہوئی کھٹ کھٹ کی دھیمی آوازیں سنتی رہتیں۔
اس بستی کے کھنڈروں میں ایک جگہ مسجد کے آ ثار تھے اور اس کے پاس ہی ایک کنواں تھا جو بند پڑا تھا۔ راج مزدوروں نے کچھ تو پانی حاصل کرنے اور بیٹھ کر سستانے کی غرض سے اور کچھ ثواب کمانے اور اپنے نمازی بھائیوں کی عبادت گزاری کے خیال سے سب سے پہلے اس کی مرمت کی چونکہ یہ فائدہ بخش اور ثواب کا کام تھا، اس لئے کسی نے کچھ اعتراض نہ کیا چنانچہ دو تین روز میں مسجد تیار ہو گئی۔
دن کو بارہ بجے جیسے ہی کھانا کھانے کی چھٹی ہوئی دو ڈھائی سو راج، مزدور، میرِ عمارت، منشی اور ان بیسواؤں کے رشتے دار یا کارندے جو تعمیر کی نگرانی پر مامور تھے، اس مسجد کے آ س پاس جمع ہو جاتے اور اچھا خاصا میلہ سا لگ جاتا۔
ایک دن ایک دیہاتی بڑھیا جو پاس کے کسی گاؤں میں رہتی تھی، اس بستی کی خبر سن کر آ گئی۔ اس کے ساتھ ایک خورد سال لڑکا تھا۔ دونوں نے مسجد کے قریب ایک درخت کے نیچے گھٹیا سیگرٹ، بیڑی، چنے اور گڑ کی بنی ہوئی مٹھائیوں کا خوانچہ لگا دیا۔ بڑھیا کو آئے ابھی دو دن بھی نہ گزرے تھے کہ ایک بوڑھا کسان کہیں سے ایک مٹکا اٹھا لایا اور کنویں کے پاس اینٹوں کا ایک چھو ٹا سا چبوترا بنا پیسے کے دو دو شکر کے شربت کے گلاس بیچنے لگا۔ ایک کنجڑے کو جو خبر ہوئی وہ ایک ٹوکرے میں خربوزے بھر کر لے آ یا اور خوانچہ والی بڑھیا کے پاس بیٹھ کر ”لے لو خربوزے، شہد سے میٹھے خربوزے! “ کی صدا لگانے لگا۔ ایک شخص نے کیا کیا، گھر سے سری پائے پکا، دیگچی میں رکھ، خوانچہ میں لگا، تھوڑی سی روٹیاں، مٹی کے دو تین پیالے اور ٹین کا ایک گلاس لے آ موجود ہو ا اور اسی بستی کے کارکنوں کو جنگل میں گھر کی ہنڈیا کا مزا چکھانے لگا۔
ظہر اور عصر کے وقت، میر عمارت، منشی، معمار اور دوسرے لوگ مزدوروں سے کنویں سے پانی نکلوا نکلوا کر وضو کرتے نظر آ تے۔ ایک شخص مسجد میں جا کر اذان دیتا، پھر ایک کو امام بنا دیا جاتا اور دوسرے لوگ اس کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے۔ کسی گاؤں میں ایک ملا کے کان میں جو یہ بھنک پڑی کہ فلاں مسجد میں امام کی ضرورت ہے وہ دوسرے ہی دن علی الصبح ایک سبز جزدان میں قرآن شریف، پنجسورہ، رحل اور مسئلے مسائل کے چند چھوٹے چھوٹے رسالے رکھ آ موجود ہوا اور اس مسجد کی امامت باقاعدہ طور پر اسے سونپ دی گئی۔
ہر روز تیسرے پہر گاؤں کا ایک کبابی سر پر اپنے سامان کا ٹوکرا اٹھائے آ جاتا اور خوانچہ والی بڑھیا کے پاس زمین پر چولہا بنا، کباب، کلیجی، دل اور گردے سیخوں پر چڑھا، بستی والوں کے ہاتھ بیچتا۔ ایک بھٹیاری نے جو یہ حال دیکھا تو اپنے میاں کو ساتھ لے کر مسجد کے سامنے میدان میں دھوپ سے بچنے کے لئے پھونس کا ایک چھپر ڈال کر تنور گرم کرنے لگی۔ کبھی کبھی ایک نوجوان دیہاتی نائی، پھٹی پرانی کسبت گلے میں ڈالے جوتوں کی ٹھوکروں سے راستہ روڑوں کو لڑھکاتا ادھر ادھر گشت کرتا دیکھنے میں آ جاتا۔
ان بیسواؤں کے مکانوں کی تعمیر کی نگرانی ان کے رشتہ دار یا کارندے تو کرتے ہی تھے، کسی کسی دن وہ دُپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر اپنے عشاق کے ہمراہ خود بھی اپنے اپنے مکانوں کو بنتا دیکھنے آ جاتیں اور غروب آفتاب سے پہلے یہاں سے نہ جاتیں۔ اس موقع پر فقیروں اور فقیرنیوں کی ٹولیوں کی ٹولیاں نہ جانے کہاں سے آ جاتیں اور جب تک خیرات نہ لے لیتیں اپنی صداؤں سے برابر شور مچاتی رہتیں اور انہیں بات نہ کرنے دیتیں۔ کبھی کبھی شہر کے لفنگے، اوباش و بیکار مباش کچھ کیا کرو، کے مصداق شہر سے پیدل چل کر بیسواؤں کی اس نئی بستی کی سن گن لینے آ جاتے اور اگر اس دن بیسوائیں بھی آئی ہوتیں تو ان کی عید ہو جاتی۔ وہ ان سے دور ہٹ کر ان کے گردا گرد چکر لگاتے رہتے۔ فقرے کستے، بے تکے قہقہے لگاتے۔ عجیب عجیب شکلیں بناتے اور مجنونانہ حرکتیں کرتے۔ اس روز کبابی کی خوب بکری ہوتی۔
اس علاقے میں جہاں تھوڑے ہی دن پہلے ہو کا عالم تھا اب ہر طرف گہما گہمی اور چہل پہل نظر آنے لگی۔ شروع شروع میں اس علاقہ کی ویرانی میں ان بیسواؤں کو یہاں آ کر رہنے کے خیال سے جو وحشت ہوتی تھی، وہ بڑی حد تک جاتی رہی تھی اور اب وہ ہر مرتبہ خوش خوش اپنے مکانوں کی آرائش اور اپنے مرغوب رنگوں کے متعلق معماروں کو تاکیدیں کر جاتی تھیں۔
بستی میں ایک جگہ ایک ٹوٹا پھوٹا مزار تھا جو قرائن سے کسی بزرگ کا معلوم ہوتا تھا۔ جب یہ مکان نصف سے زیادہ تعمیر ہو چکے تو ایک دن بستی کے راج مزدوروں نے کیا دیکھا کہ مزار کے پاس دھواں اٹھ رہا ہے اور ایک سرخ سرخ آنکھوں والا لمبا تڑنگا مست فقیر، لنگوٹ باندھے چار ابرو کا صفایا کرائے اس مزار کے ارد گرد پھر رہا ہے اور کنکر پتھر اٹھا اٹھا کر پرے پھینک رہا ہے۔ دوپہر کو وہ فقیر ایک گھڑا لے کر کنویں پر آیا اور پانی بھر بھر کر مزار پر لے جانے اور اسے دھونے لگا۔ ایک دفعہ جو آیا تو کنویں پر دو تین راج مزدور کھڑے تھے۔ وہ نیم دیوانگی اور نیم فرزانگی کے عالم میں ان سے کہنے لگا۔ ”جانتے ہو وہ کس کا مزار ہے؟ کڑک شاہ پیر بادشاہ کا! میرے باپ دادا، ان کے مجاور تھے۔ “ اس کے بعد اس نے ہنس ہنس کر اور آنکھوں میں آنسو بھر بھر کر پیر کڑک شاہ کی کچھ جلالی کراماتیں بھی ان راج مزدوروں سے بیان کیں۔
شام کو یہ فقیر کہیں سے مانگ تانگ کر مٹی کے دو دیے اور سرسوں کا تیل لے آیا اور پیر کڑک شاہ کی قبر کے سرہانے اور پائنتی چراغ روشن کر دیے۔ رات کو پچھلے پہر کبھی کبھی اس مزار سے اللہ ہو کا مست نعرہ سنائی دے جاتا۔
۔ ۔
چھ مہینے گزرنے نہ پائے تھے کہ یہ چودہ مکان بن کر تیار ہو گئے۔ یہ سب کے سب دو منزلہ اور قریب قریب ایک ہی وضع کے تھے۔ سات ایک طرف اور سات دوسری طرف۔ بیچ میں چوڑی چکلی سڑک تھی۔ ہر ایک مکان کے نیچے چار چار دکانیں تھیں۔ مکان کی بالائی منزل میں سڑک کے رخ وسیع برآمدہ تھا۔ اس کے آگے بیٹھنے کے لئے کشتی نما شہ نشین بنائی گئی تھی۔ جس کے دونوں سروں پر یا تو سنگ مرمر کے مور رقص کر تے ہوئے بنائے گئے تھے اور یا جل پریوں کے مجسمے تراشے گئے تھے، جن کا آ دھا دھڑ مچھلی کا اور آدھا انسان کا تھا۔ برآ مدہ کے پیچھے جو بڑا کمرہ بیٹھنے کے لئے تھا۔ اس میں سنگ مر مر کے نازک نازک ستون بنائے گئے تھے۔ دیواروں پر خوش نما پچی کاری کی گئی تھی۔ فرش چمکدار پتھر کا بنایا گیا تھا۔ جب سنگ مر مر کے ستونو ں کے عکس اس فرش زمردیں پر پڑتے تو ایسا معلوم ہوتا گویا سفید براق پروں والے راج ہنسوں نے اپنی لمبی لمبی گردنیں جھیل میں ڈبو دی ہیں۔
بدھ کا شبھ دن، اسی بستی میں آنے کے لئے مقرر کیا گیا۔ اس روز اس بستی کی سب بیسواؤں نے مل کر بہت بھاری نیاز دلوائی۔ بستی کے کھلے میدان میں زمین کو صاف کرا کر شامیانے نصب کر دیے گئے۔ دیگیں کھڑکنے کی آواز اور گوشت اور گھی کی خوشبو، بیس بیس کوس سے فقیروں اور کتوں کو کھینچ لائی۔ دوپہر ہوتے ہوتے پیر کڑک شاہ کے مزار کے پاس جہاں لنگر تقسیم کیا جاتا تھا اس قدر فقیر جمع ہو گئے کہ عید کے روز کسی بڑے شہر کی جامع مسجد کے پاس بھی نہ ہوئے ہوں گے۔ پیر کڑک شاہ کے مزار کو خوب صاف کروایا اور دھلوایا گیا اور اس پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی اور اس مست فقیر کو نیا جوڑا سلوا کر پہنایا گیا، جسے اس نے پہنتے ہی پھاڑ ڈالا۔
شام کو شامیانے کے نیچے دودھ سی اجلی چاندنی کا فرش کر دیا گیا۔ گاؤ تکئے، پان دان، پیک دان، پیچواں دانی اور گلاب پاس رکھ لئے گئے اور راگ رنگ کی محفل سجائی گئی۔ دور دور سے بہت سی بیسواؤں کو بلوایا گیا جو ان کی سہیلیاں یا برادری کی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے بہت سے ملنے والے بھی آئے جن کے لئے ایک الگ شامیانے میں کرسیوں کا انتظام کیا گیا اور ان کے سامنے کے رخ چقیں ڈال دی گئیں۔ بے شمار گیسوں کی روشنی سے یہ جگہ بقعۂ نور بنی ہوئی تھی۔ ان بیسواؤں کے توندل سیاہ فام سازندے زربفت اور کمخواب کی شیروانیاں پہنے، عطر میں بسے ہوئے پھوئے کانوں میں رکھے، ادھر ادھر مونچھوں کو تاؤ دیتے پھرتے اور زرق برق لباسوں اور تتلی کے پر سے باریک ساریوں میں ملبوس، غازوں اور خوشبوؤں میں بسی ہوئی نازنین اٹھکیلیوں سے چلتیں۔ رات بھر رقص اور سرور کا ہنگامہ برپا رہا اور جنگل میں منگل ہو گیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

