خود سے ایک نامہ

دن کی روشنی دفتر کے شیشوں سے چھن کر علی کے چہرے پر پڑ رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں اجالا کہیں کھو چکا تھا۔ چائے کا کپ اس کے ہاتھوں میں تھرتھرا رہا تھا، جیسے کسی طوفانی رات میں درخت آخری بار لرز رہا ہو۔ کلائیوں میں ایک ایسی کسک تھی جو نہ زخم دکھاتی تھی، نہ دوا مانگتی، بس ہر رات خوابوں کی دہلیز پر بیٹھ کر اس کی نیند کو زہر کرتی رہتی۔ دفتر کے خاموش،

Read more

محب اور حسینہ

پریشان چوک کے بنچ پر بیٹھے وہ اپنے خیالات میں گم تھا کہ اچانک اس کی نظر اس لڑکی پر پڑی جو اتنی دیر سے اسے دیکھ رہی تھی۔ دونوں کی آنکھیں چار ہوتے ہی لڑکی شرما گئی اور جلدی جلدی اوپر کی جانب بڑھنے لگی۔ وہ عجیب کشمکش میں مبتلا ہو گیا اس کا دل کہہ رہا تھا کہ لڑکی اسے ہی دیکھ رہی تھی جبکہ دماغ خوش فہمی میں مبتلا ہونے سے گریز کر رہا تھا۔ اسی کشمکش

Read more

فینکس پروٹوکول

کرنل نادیہ حارث کی شخصیت میں گہرا سکوت رچا بسا تھا، جیسے اتھاہ سمندر اپنی تہہ میں آتش فشاں چھپائے بیٹھا ہو۔ اس کے چہرے کی سنگلاخ چٹانوں کے پیچھے آنکھوں کے آئینے میں ماضی کے زخم جھلملا رہے تھے۔ وہ فرمایا کرتی تھیں : ”جنگیں تلواروں سے نہیں، ضمیر کی سرزمین پر لڑی جاتی ہیں۔“ نادیہ کے بچپن پر جنگ نے اپنے سیاہ پر پھیلائے تھے۔ اس کے والد، لیفٹیننٹ ہارون، دشمن کی بارود کا نذرانہ بنے۔ وہ ایک

Read more

آخری کوشش

دیکھو میں مر رہا ہوں۔ ان سب زخموں کی تڑپ سے مجھے نجات ملنے والی ہے۔ مجھے ان زخموں کی کوئی تکلیف نہیں جو مجھے اس حادثہ میں لگے ہیں اور جن کی وجہ سے میں لہو لہان ہوں۔ یہ زخم مجھے ان بڑے زخموں یعنی میری روح پر لگنے والے زخموں کی نہ مٹنے والی تکلیف سے آزاد کرانے جا رہے ہیں۔ میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں ہر نئے موڑ پر پہلے سے زیادہ بھیانک اور دردناک

Read more

پیش بین (اٹلی کی ایک ترجمہ کہانی)

  افسانہ: لوئیجی پراندیلو ترجمہ: جاوید بسام نینو میندولا اپنے فارم  سے واپس آ رہا تھا، جب گاڑی سڑک کے کنارے سان بیاجیو کے چھوٹے گرجے پر پہنچی تو اس نے پہاڑی پر واقع قبرستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ جان سکے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور قبرستان کے نگراں نوچو پمپینا کے بارے میں بلدیہ کو جو شکایات موصول ہوئی ہیں ان میں کتنی سچائی ہے۔ نینو میندولا تقریباً ایک سال سے بلدیہ کا کونسلر

Read more

رف رف رفتن

سچا تخلیق کار وہ ہوتا ہے جو تحسین و تعریف سے مبرا ہوتا ہے، جو اپنی تخلیق سے محبت کرتا ہے، اور فن پارے کی تخلیقی جہتوں و عصری تقاضوں کو مکمل کرتا ہے۔ چاہے وہ فن پارہ کسی بھی صورت میں ہو۔ افسانوی مجموعہ ”رف رف رفتن“ کا مطالعہ مکمل ہوا، جس کے مصنف ” راشد جاوید احمد“ ہیں راشد صاحب سنجیدہ نقاد اور تخلیق کار ہیں۔ ان معدودے چند افراد میں شامل ہیں جو علمی و ادبی سرگرمیوں میں

Read more

لوٹ آنے کے بعد

جاڑے کی شدید دھند میں لپٹی ایک سسکیوں سے لبریز مظلوم آواز ارد گرد کی فضا کو مزید نم ناک کر رہی تھی۔ ”آج تو حد کر دی ہے اس نے۔ میں اب نہیں جاؤں گا گھر، رہے یہ اکیلی“ چاچے شیدے نے دل کو مضبوط کرتے ہوئے آنسوؤں کو حلق سے اتارتے ہوئے ارادہ کیا۔ ”اب تو اولاد بھی جوان ہو گئی ہے، لیکن اس کو شرم نہیں آتی تماشا لگاتے ہوئے، میں نے کیا کہہ دیا تھا اسے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 40 : خدشات

” کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ تو خدا کا وہ اطمینان جو سمجھ سے بالاتر ہے، تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا۔“ فلپیوں 4 : 6۔ 7 اگلے دن یومِ آزادی کی چھٹی تھی۔ پچھلی رات کو پوری فیملی تھکن سے چور تھی۔ عارف بھی اپنے والدین کے گھر رک گیا تھا

Read more

نظریے کی جنگ

دنیا میں کئی قسم کی جنگیں لڑی جاتی ہیں ان میں سے دو سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ یعنی طاقت کی جنگ اور نظریے کی جنگ۔ طاقت کی جنگوں کے اثرات دیر پا نہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس جنگ سے متاثرہ اقوام کا رد عمل بھی قابل توجہ ہوتا ہے۔ یعنی ایک قوم دوسری قوم کو بزور بازو محکوم بناتی ہے تو چند عرصے بعد محکوم قوم اپنی آزادی اور شناخت کے لیے جدوجہد کرتی ہے۔ اس طرح محکوم

Read more

رخصتی

مجھے یہاں دربار کے باہر بیٹھے ہوئے کئی ماہ ہو گئے ہیں۔ اگر کسی کے ہوش و حواس چلے جائیں تو کوئی بات نہیں پر میرے تو ہوش بھی ٹھکانے ہیں۔ میں بس چپ کر کے بیٹھی ہی رہتی ہوں۔ مجھے کسی سے کچھ نہیں مانگنا۔ ہاتھ پھیلاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے۔ ساری زندگی بس یہی کام تو کبھی نہیں کیا۔ روکھی سوکھی، دال روٹی یا سبزی گوشت جو میسر ہوتا تو خوش ہو کر خود بھی کھاتے اور

Read more

مقیّد مسکراہٹ

گرمیوں کے دن اپنے عروج پر تھے۔ صبح کی دھوپ بھی تیز محسوس ہوتی تھی۔ سکول کی چھٹیاں ختم ہونے کو تھیں۔ میٹرک کا امتحان ہو چکا تھا، بستہ ایک طرف رکھ دیا تھا، اور دل میں ایک عجب سکون اتر آیا تھا۔ کہتے ہیں کالج کی زندگی میں آزادی ہوتی ہے، اور یہی سوچ کر میں خود کو آزاد محسوس کر رہا تھا، خوابوں سے بھرپور ایک موسم کی طرح۔ ان ہی دنوں کی ایک سہ پہر میرے بڑے

Read more

لیرو لیر

فاروق کا تعلق گجرات سے تھا۔ قد درمیانہ، رنگ گندمی، عمر چالیس سال کے لگ بھگ اور سر کے بال گرنا شروع تھے۔ گجرات سے غیر قانونی طور پر یورپ آیا تھا اور یہ سفر اُس نے صرف ایک دفعہ نہیں کیا تھا۔ اُسے دو مرتبہ یورپ سے نکالا گیا تھا مگر وہ پھر کسی ایجنٹ کے ذریعے نیا راہ ڈھونڈ کر یورپ پہنچ جاتا تھا۔ نئے نام سے پاسپورٹ بنواتا، نیا راہ ڈھونڈتا۔ پہلے راستہ ایران، ترکی، یونان سے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 39 : رونمائی

” جب وہ اُسے پا لیتا ہے تو خوش ہو کر اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھا لیتا ہے، اور گھر پہنچ کر دوستوں اور پڑوسیوں کو بُلا کر کہتا ہے، میرے ساتھ خوشی مناؤ کیونکہ میری کھوئی ہوئی بھیڑ مل گئی ہے! “ لوقا 15 : 6 مریم کو آئے ہوئے چوتھا دن ہوا تھا اور اگلے روز شام کو اس کی واپسی تھی۔ عارف سے اس کی ملاقات صرف رات کے کھانے کے وقت ہوتی تھی۔ دونوں باپ بیٹے

Read more

افسانہ: زہریلا تریاق

آج کالج کا پہلا دن تھا اور وہ بس اسٹاپ پر ایک لفنگے کو کھری کھری سنا کر خاموش ہوئی تھی۔ پھر بس میں سوار ہوتے ہی کنڈکٹر سے کرایے کے پیسوں پر بحث کر رہی تھی۔ اس کی آواز بس میں گونج رہی تھی، تیز، بے خوف۔ چند لمحوں بعد ، وہ ہنسی، سر جھٹک کر میرے برابر آ کر بیٹھ گئی۔ اس کی خود اعتمادی مرعوب کر دینے والی تھی۔ ”کچھ لوگ قاعدے قانون کو بہت زیادہ سنجیدگی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 38 : محو حیرت

” مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ زندہ رہنے کے دوران خوش رہنا اور نیکی کرنا ہی بہترین ہے، اور ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ کھائے، پیے اور اپنی محنت کا لطف اٹھائے، کیوں کہ یہ سب خدا کی رضا میں شامل ہے۔ “ واعظ 3 : 12۔ 13 عادل کی کوٹھی کے آہنی گیٹ کی دونوں جانب سفید ستونوں پر پتھر سے تراشے ہوئے فطری جسامت کے دو شیر بیٹھے تھے جنہیں دیکھنے والے مجسمہ ساز کی صنّاعی

Read more

افسانہ: قربانی کی عورت (آخری حصہ)

کنزا جب کنیز یوسف کے بتائے ہوئے ہوسٹل میں پہنچی تو وہاں کی مالکہ تمکنت اعجاز بذاتِ خود، اُس کے استقبال کے لئے وہاں موجود تھیں۔ اگلے دو گھنٹوں میں ہی کنزا کو یقین ہو گیا کہ وہاں اُس کی ہر مطلوبہ سہولت موجود ہے۔ مسز تمکنت کے رویّے سے یہ شہادت بھی مل گئی کہ وہ بیگم کنیز یوسف کا بہت احترام کرتی ہیں اور شاید اُن کی احسان مند بھی ہیں۔ اب کنزا کے یہاں آنے سے، انہیں

Read more

خون کا سرطان اور اٹھائیس دن کا چِلّہ

بائیں پاؤں پر ایک چھوٹا سا نشان۔ جو وقت کے ساتھ زخم بنا۔ پھر ناسور۔ اور آخرکار، ایک ایسی جنگ۔ جس میں زندگی اور موت دونوں سامنے کھڑی تھیں۔ وقت گزرنے لگا، زخم بڑھنے لگا، جلد تو جلد ماس کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔ یہاں تک کہ صفائی کرتے وقت ہڈی کی بیرونی سطح نظر آنے لگی۔ ہلکا ہلکا بخار رہتا، جسم تھکاوٹ سے چُور رہتا، وزن مسلسل کم ہونے لگا، جسم کمزور پڑنے لگا۔ ایک تیس سالہ محنت

Read more

قربانی کی عورت – دوسرا حصہ

اپنے کام سے فارغ ہو کر یاسر ایک بار پھر کنزا سے بارعب آواز میں مخاطب ہوا ”کبھی مت بھولنا کہ اب تم میری بیوی ہو۔ میری آنکھوں کے ذرا سے سوال پر بھی تمہارے جسم کی باہیں مجھے ہر وقت کھلی ملنی چاہئیں“ ۔ وہ بستر سے اُتر کر واش روم گیا اور وہاں سے سیدھا باہر چلا گیا۔ کوئی شخص اپنی نوبیاہتا بیوی کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک بھی کر سکتا ہے؟ یہ سوال کنزا کے دماغ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 37 : بردکھاوا

” جو شخص خداوند کی طرف سے دولت، جائیداد اور اختیار کا تحفہ حاصل کرتا ہے اور اپنی محنت میں خوشی مناتا ہے، وہ واقعی خدا کا عطیہ ہے۔“ واعظ 5 : 19 عادل پیٹر کا شمار چٹاگانگ کے سربرآوردہ لوگوں میں ہوتا تھا۔ سرکاری اور تجارتی حلقوں میں شاید ہی کوئی اہم شخص ہو جو انہیں نہ جانتا ہو۔ وہ چٹاگانگ کے چیمبر آف کامرس کے صدر تھے اور لائنز کلب کے فعال ترین ممبر تھے۔ فلاحی کاموں میں

Read more

کہانی میرے گھر کی

ہم پانچ بھائی تھے گھر کا بٹوارہ ہو چکا تھا بڑے بھائی کا کمرہ ہم سے تھوڑا فاصلے پر تھا ہم چاروں کے کمرے ملحقہ تھے بڑے بھائی کا نام کریم الاسلام تھا اس سے چھوٹے کا نام بشیر جس کو سب شیرا پکارتے تھے اس سے چھوٹا عبداللہ جس کو ماچھی کے نام سے بلایا جاتا اس سے چھوٹا بخت نصر جس کو سب ہلاکو خان کہتے اور سب سے چھوٹا میں تھا اصل نام میرا پتہ نہیں کیا

Read more

قربانی کی عورت

چاروں ٹانگیں رسیوں سے بندھی ہونے کے باوجود، زمین پر لٹائے ہوئے بکرے کو تین آدمیوں نے پکڑا ہوا تھا۔ قصائی بھی تیار تھا مگر جواد ہاشمی نے چھُری اپنے بیٹے تقی ہاشمی کو پکڑا کر تکبیر کا حکم صادر کر دیا۔ چھری چلتے ہی بکرے کی گردن سے خون کا ایک فوارا پھوٹا۔ کچھ چھینٹے جواد ہاشمی اور تقی ہاشمی کے چہروں پر بھی پڑے۔ قصائی نے اپنے کندھے پر پڑا صافہ جواد ہاشمی کی طرف بڑھایا کہ وہ

Read more

پہلا قدم

ہسپتال کی راہداری رات کے اس پہر ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ کہیں دور کسی مانیٹر کی مدھم بیں بیں بیں سناٹے کو چیر رہی تھی، جیسے تنہائی میں گھلتی ہوئی کوئی دھیمی سسکی۔ نرس یاسمین تیز قدموں سے چل رہی تھی، مگر اس کے نرم، محتاط قدم بھی فرش پر کوئی آواز پیدا نہ کر رہے تھے۔ وہ برسوں سے اس ہسپتال کا حصہ تھی، بے شمار راتیں جاگ کر گزاری تھیں، لیکن کچھ راتیں ایسی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 36 : بوئنگ707

” لیکن جو خداوند پر امید رکھتے ہیں وہ نئی طاقت پائیں گے ؛ وہ عقاب کی مانند پرواز کریں گے ؛ وہ دوڑیں گے اور تھکیں گے نہیں۔ “ یسعیاہ 40 : 31 اُس زمانے میں کراچی ائرپورٹ کے ڈیپارچر ہال کی چاروں دیواروں کے ساتھ دنیا بھر کی ائر لائنز کے چیک اِن کاؤنٹرز تھے۔ کے ایل ایم، لُفتھانزا، ائر فرانس، بی او اے سی، پین ایم، ایلیٹالیا، کوانٹس، ایم ای اے، غرض دنیا کی کوئی ایسی بڑی

Read more

پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 7 )

    آج کی تیز رفتار زندگی میں دوستی کے آداب اور انداز بدل گئے ہیں۔ اب دوستی فیس بک پر ہو جاتی ہے اور اسنیپ چیٹ پر اسٹریک کا زمانہ ہے۔ دوست کی سالگرہ اس لئے یاد رہتی ہے کہ فیس بک پر اس کا نو ٹیفکیشن آ جاتا ہے۔ میں اس دور میں پیدا ہوئی تھی جب نانا اور چچا نانا کی دوستی ٹرین میں ہوئی تھی ان کے بعد اگلی نسل امی اور عرفان ماموں پھر میں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 35 : فرار

  ” وہ شخص مبارکباد کے قابل ہے جو آزمائش میں ثابت قدم رہتا ہے کیوں کہ جب مقبول ٹھہرا تو زندگی کا وہ تاج حاصل کرے گا جس کا خدا نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں۔ “ یعقوب 1 : 12 میں نے کیفے جارج میں داخل ہوتے ہوئے گھڑی پر نظر ڈالی تو دس بج کر پانچ منٹ ہوچکے تھے۔ دائیں جانب سامنے ہی ہماری مخصوص میز پر دانی ایل بیٹھا

Read more

ٹھنڈی چائے

شکاگو سے کراچی پہنچنے والی فلائٹ لیٹ تھی۔ صبح سات کے بجائے دس بجے بھائی کے گھر پہنچا۔ آج میری بھتیجی مہرین کی شادی تھی۔ ناشتے پر سب بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ ناشتہ ہوتے ہی گھر کے سب لوگ مختلف کاموں میں مصروف ہونے والے تھے، میں نے بیگم صاحبہ کے دیے ہوئے تحائف بھابی کے حوالے کیے ، مہرین کو ڈائمنڈ سیٹ بہت پسند آیا۔ مختصر حال احوال دریافت کرنے کے بعد میں نے اجازت چاہی

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب سالک

تبصرہ نگار: دعا عظیمی بہت عرصے سے سن رہی تھی کہ ڈاکٹر سہیل کی سیکر سالک بن کر روایت کی دھرتی پر اترنے والی ہے۔ تصوف میں استعمال ہونے والی یہ دونوں اصطلاحات میرے لیے ہمیشہ سے پرکشش رہی ہیں۔ بڑا عرصہ مجذوبیت کو سالک سے اوپر کا درجہ دیتی رہی پھر سمجھ میں آیا کہ مجذوب کی نسبت سالک کا درجہ بہت بلند ہے۔ مجذوب اپنی مستی میں مست خدا کی ذات کی جلوہ گری میں خاکستر ہوجاتا ہے

Read more

نانیوں دادیوں کے تیرہ بچے اور بڑے حکیم صاحب

سوشل میڈیا کے ذریعے مشوروں اور ٹوٹکوں کا بھی ایک بیش بہا دریا بہتا رہتا ہے۔ اور ہمارے یہاں چونکہ عوام الناس ڈاکٹرز کے پاس جانے میں کافی مشکل محسوس کرتے ہیں یا شاید ڈرتے ہیں کہ کہ ڈاکٹر سوئی نہ لگا دے۔ اس لیے کوئی بیمار فرد خود سے بھی ڈاکٹر کے پاس جانا چاہے تو اس کو اپنے مشوروں سے ضرور نوازتے ہیں سو فیصد کوشش ہوتی ہے کہ مریض کو ڈاکٹر سے بہت دور رکھا جائے۔ حتیٰ

Read more

آج کے لات و عزّیٰ

سعد خانہ کعبہ کے طواف میں مگن تھا۔ اس کے دل کی دھڑکنوں کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ وہ دنیا کی ہر فکر اور سوچ سے آزاد ہو چکا تھا۔ صرف اللہ کی ذات، اس کا عشق، اور کعبے کی قربت، یہی اس کے دل و دماغ پر طاری تھا۔ وہ روحانیت کے ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں انسان خود کو مٹانے اور اپنی ہستی کو فنا کرنے کی خواہش کرتا ہے۔ کعبہ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 34 : احساسِ محرومی

” کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر بات میں دعا اور منت کے ساتھ شکرگزاری کے ساتھ اپنی درخواستیں خدا کے سامنے پیش کرو، اور خدا کی سلامتی جو سمجھ سے باہر ہے، وہ تمہارے دلوں اور خیالات کی مسیح یسوع میں حفاظت کرے گی۔“ فلپیوں 4 : 6۔ 7 اگلے اتوار کو حسب معمول انکل شاہد، آنٹی اور بچوں کے ساتھ سینٹ فلپس چرچ روانہ ہو گئے۔ ان کے گھر سے چرچ کا آدھا گھنٹہ پیدل کا

Read more

مشاعرے کی واہ واہ، گولیوں کی ٹھاہ ٹھاہ سے افضل ہے

دنیا کے ہر معاشرے میں جذبات کے اظہار کے الگ الگ طریقے رائج ہیں۔ کچھ معاشرے مکالمے اور ادب کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ کچھ نے بندوق اور تصادم کو اظہار کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس طرف جانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان ہاتھوں میں قلم تھامیں یا اسلحہ؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ جذبات کے اظہار کے لیے شاعری، کہانی اور مکالمہ اپنایا جائے یا پھر ہیجان اور تصادم

Read more

ایسا تعلق جو محبت نہیں تھا

دفتر کی سفید ٹیوب لائٹس، کمپیوٹر کی سکرینوں پر چلتے گراف، اور کافی کے ہلکے دھوئیں میں نایاب اور حسن کی دوستی ہر دن تھوڑا سا اور گہرا رنگ اختیار کرتی جا رہی تھی۔ وہ دونوں کولیگ تھے، مگر ان کے درمیان ایک ایسا بہاؤ تھا جو عام دفتری تعلقات سے مختلف تھا۔ جیسے دو ساز مل کر ایک خوبصورت دھن بناتے ہیں، مگر وہ دھن کبھی کسی گیت میں نہیں ڈھلتی۔ نایاب شادی شدہ تھی، دو بچوں کی ماں۔

Read more

سُرخ خندق (افسانہ)

  میں محمد ابتسام حسن! تیرہ سال مسلسل درگاہوں پہ مانگی گئی دعاؤں کا ثمر۔ چاچا جی جو میرے ابو جی کو اپنی اولاد نہ ہونے کی وجہ سے بیٹوں کی طرح عزیز تھے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے میرے سگے والدین سے بڑھ کر مَنتیں مان رکھی تھیں۔ اس کے علاوہ دادی جی، امی جی، ابو جی کو جس کسی نے جو نسخہ، ٹوٹکا، دَم دارو بتایا انھوں نے من و عن وہی کیا۔ اور پھر ایک دن سجدے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 33 : اعتراف

” سو جان لے کہ خداوند تیرا خدا ہی خدا ہے، وہ وفادار خدا ہے جو اپنے محبت کرنے والوں اور اپنے احکام ماننے والوں کے ساتھ ہزار پشت تک اپنا عہد قائم رکھتا اور ان پر رحم کرتا ہے۔“ استثنا 7 : 9 جب مریم نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں، چہرے پر شدید کرب کے آثار تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ اس نے

Read more

سرنگ (افسانہ)

چاروں طرف اونچی دیواریں، ایسی بلند کہ سورج کی کرنیں ان سے ٹکرا کر بکھر جاتیں، روشنی کی ایک ہلکی سی شعاع بھی اندر داخل نہ ہو پاتی۔ دو طرف وہ کھڑکیاں جن کے پٹ شاید صدیوں سے مقفل تھے۔ اگر کبھی وہ ہمت کر کے انہیں کھولنے کی کوشش بھی کرتی، تو لکڑی کے چٹخنے کی ایسی دل خراش آواز گونجتی کہ خوف کے مارے اس کے ہاتھ کانپ جاتے۔ بقیہ دو طرف وہ دیوہیکل دروازے، جن کی ہیبت

Read more

مہک

ندیم تھکے ہوئے قدموں سے ایک نجی کمپنی کی بس میں بیٹھنے کے لیے ٹرمینل کی طرف جا رہا تھا۔ وہ رات اچھی نیند نہیں لے سکا تھا۔ سفر سے پہلے اسے ہمیشہ ایک بے چینی ہوا کرتی ہے۔ اور ایسا بچپن سے ہی ہے اسے سفر کا ہمیشہ خوف ہوتا ہے، مگر سواری میں بیٹھ کر وہ آہستہ آہستہ نارمل ہو جاتا ہے۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اسے اسلام آباد ایک میٹنگ میں جانا تھا۔ ویسے تو

Read more

انصاف، ایک افسانچہ

کمرے میں عارضی طور پر عدالت قائم کی گئی تھی۔ اس میں میزیں اس انداز میں لگی تھیں کہ اگر ایک طرف سے چلیں تو میز بہ میز واپس اپنی جگہ پہنچ جائیں۔ سامنے میز پر جج بیٹھا تھا اور اس کی میز سے نوے ڈگری کے زاویے پر اگلے میز پر وکیل استغاثہ بیٹھا تھا۔ وکیل استغاثہ کی میز سے مزید نوے ڈگری پر ملزم بیٹھا تھا اور اس کے آگے بھی میز دھرا تھا۔ ملزم سے آگے نوے

Read more

تہی دست

جامی بھائی کے کتاب کی رسمِ اِجرا تھی اور میں ٹریفِک جام میں بُری طرح پھنس گیا تھا۔ بڑی مُشکل سے گُلو خلاصی ہوئی۔ نتیجتاً جب میں اُردو ہال پہونچا کافی دیر ہو چُکی تھی۔ جب میں ہال میں داخل ہُوا تو جلسہ شُروع ہو چُکا تھا۔ مجھے بہت پیچھے بیٹھنے کے لئے سِیٹ مِلی۔ ڈائس پر محترمہ زینت ساجدہ صاحبہ اور پروفیسر سراج الدین صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ کوئی نئے صاحب جِنھیں میں جانتا نہ تھا تقریر کر رہے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 32 : پچھتاوا

” خدا جو امید کا سرچشمہ ہے، تمہیں ہر طرح کی خوشی اور سکون سے بھر دے، تاکہ روح القدس کی قدرت کے وسیلے سے تمہاری امید زیادہ ہو جائے۔“ رومی 15 : 13 میں چھوٹکی گِٹّی کی طرف سے شاہی بازار میں داخل ہوا تو سامنے ہی مٹھائی کی دکان کے برابر دین دنیا بک ڈپو سے انکل شاہد نکل رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ میں آگے بڑھوں، مٹھائی والے کی ایک بات بتاتا چلوں۔ حیدرآباد سندھ میں

Read more

گزر بسر کی جنگ

وہ کچن میں کھڑی اپنی ڈھلتی عمر کے حوالے سے سوچ رہی تھی کہ اچانک اس کے پیچھے سے آواز آئی۔ ”امی میں پورے گھر میں آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں اور آپ یہاں کچن میں نجانے کیا کر رہی ہیں۔“ محمودہ کالج سے آنے کے بعد امی سے لپٹ جاتی ہے۔ ”ارے آ گئی میری پیاری بیٹی! میں تمھارے لیے کھانا بنانے کچن میں آئی ہوئی ہوں۔ تم نے آج کالج سے آنے میں دیر کیوں کی؟ میں تمھارے

Read more

افسانہ ”مجسمہ ساز“

وہ شہر کا مشہور مجسمہ ساز تھا۔ اس کے بنائے گئے مجسموں کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ ایک دن اس نے وہ شاہکار مجسمہ بنایا جو آج تک کسی نے نہیں بنایا تھا۔ اس نے یہ مجسمہ شہر کے مرکزی چوک میں ایستادہ کر دیا۔ وہ مجسمہ نہیں کوئی جیتا جاگتا انسان۔ کوئی رحم دل دیوتا معلوم ہوتا تھا۔ دیکھنے والے کو لگتا تھا کہ اس کی آنکھیں حرکت کر رہی ہیں اور وہ اس کی طرف

Read more

ننگا بادشاہ

یہ کہانی ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے ادیب ”اینڈرسن“ کی لکھی ہوئی ہے۔ یہ کہانی شروع ہوتی ہے دو نوسرباز جولاہوں سے۔ دو نوسرباز جولاہے بھائی جن کا کاروبار مندی کا شکار تھا، ایک دن بادشاہ کے دربار میں پہنچے اور عرض کیا ”بادشاہ سلامت! ہمارے پاس ایک انتہائی قیمتی لباس ہے۔ اس لباس کی خبر پڑوسی ملک کے بادشاہ تک پہنچی تو اس نے بہت بڑی رقم کے بدلے لباس خریدنے کی پیشکش کی لیکن ہم نے انکار کر

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (31)

” اپنے دل پر اور اپنے بازو پر مجھے نشان کی طرح رکھ، کیونکہ محبت موت سے بھی زیادہ پائے دار ہے۔ اس کی آگ ایسی شدید ہے کہ قبر بھی اسے نہیں روک سکتی۔ پانی کی بے شمار ندیوں سے بھی محبت بجھ نہیں سکتی، اور نہ ہی دریاؤں کا بہاؤ اسے ڈوبو سکے۔ اگر کوئی آدمی اپنی ساری دولت محبت کے بدلے دے دے تو یہ بے قدری سمجھی جائے گی۔“ سلیمان کا گیت 8 : 6۔ 7

Read more

ظالم اور مظلوم

یونانی سوفسطائی اور سقراط کسی بھی عنوان پر بحث کرنے سے پہلے اس کی تعریف طے کرتے۔ کئی دفعہ تو کسی ایک عنوان کی صرف تعریف طے کرنے میں بحث کرتے ہوئے کئی دن گزر جاتے۔ سقراط نے ان متفقہ تعریفوں کو ”تعقلات“ کا نام دیا تھا۔ ان تعقلات کو انگریزی میں (concept) بھی کہتے ہیں۔ جس طرح افلاطون نے ”عدل“ پر بحث کے کئی ابواب لکھنے سے پہلے عدل کی یہ تعریف کی تھی ”ریاست کے لئے عدل یہ

Read more

روشن اور فتح

روشن اور فتح بھی ہماری زندگیوں میں ایسی شخصیات ہیں جن کہ نہ عروج کی داستانوں پر یقین آتا ہے اور نہ زوال کی کہانیوں پر۔ دونوں میں تھوڑا بہت سچ تو ہوتا ہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم لوگ بھی اوسط کاری کا استعمال کرتے ہوئے سچ کے قریب پہنچ ہی جاتے ہیں۔ یعنی جب وہ تباہی کے گڑھے میں گرے ہوتے ہیں تو ہم لوگوں کے ہاتھ خودکار طریقے سے جیبوں کی طرف چلے جاتے

Read more

ڈاکیے کا تھیلا (کونسٹنٹین اوشینسکی کا افسانہ)

کولیا ایک خوش مزاج، مگر غائب دماغ لڑکا تھا۔ اس نے پیٹرزبرگ میں اپنی دادی کو ایک بہت اچھا خط لکھا۔ جس میں انہیں برائٹ ہالیڈے کی مبارکباد دی، اپنے گاؤں کی زندگی کے بارے میں بتایا، اور یہ کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، وہ اپنا وقت کیسے گزارتا ہے، سب تفصیل سے بیان کیا۔ ایک جملے میں بس یہ کہا جا سکتا تھا کہ خط بہت اچھا لکھا گیا تھا، لیکن کولیا نے خط کے بجائے خالی کاغذ

Read more

اس نے ڈائری کا ورق الٹا اور تاریخ لکھی: 10 دسمبر 1976

”میرا دل اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ وہ کتابوں میں کھویا تھا اور میں اس کے کتابی چہرے میں۔ گھبرو جوان پنجابی مرد، دراز قد، مضبوط ہاتھ پاؤں اور بڑی بڑی خمار آلود آنکھیں۔ ماتھے پر گری گھنگریالی کالی زلفوں کی شمیم مچل رہی تھی۔ اس نے ایک تاریخی ناول اٹھایا اور اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔ ایسے خوبصورت جوان کو جنگ اور مار دھاڑ سے کیا لینا ہے۔ میں اس کے قریب پہنچ گئی۔ ’کیا

Read more

روگ کی دھوپ(افسانہ)

بے درو دیوار کے آنگن میں ایک چھوٹے سے کمرے میں ایک دس، بارہ سال کا لڑکا اپنی ماں کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ ایک برس پیشتر باپ کے سائے نے سرد گرم ہوا سے دونوں ماں بیٹے کو اپنی محبت اور شفقت کی چادر میں چھپا رکھا تھا۔ یہ بے کواڑ کمرے نے بھی انھیں ہر خوشی دے رکھی تھی۔ یہی چھوٹا سا کمرہ ان کے لیے محل تھا۔ اس کی فصیل باپ کی غیرت اور زینت ماں

Read more

ساس بہو کی باہمی نوک جھونک

کلمہ طیبہ سے کشیدہ کالی چادر میں لپٹا ہوا نوجوان، زندگی کی الجھنوں سے آزاد، ابدی نیند سو رہا تھا۔ گھر میں کربلا سا سماں۔ غم ایسا کہ اپنے تو اپنے، بیگانے بھی نڈھال۔ کوئی سر پیٹ رہا تھا، تو کوئی چھاتی۔ کوئی چھپ چھپا کے رویا، تو کوئی بلک بلک کر۔ مسکراتا اور تمتماتا چہرہ جیسے ان سب کو چڑا رہا تھا۔ چہرے پر کوئی شکن تک نہ تھی۔ نہ جانے کتنے دنوں کے بعد وہ سکون کی نیند

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (30)

”میں نے اس شخص کی طرف مُڑ کر دیکھا جس نے میرے ساتھ بات کی تھی۔ میں نے سات سونے کے چراغ دان دیکھے اور ان چراغ دانوں کے درمیان ایک شخص دیکھا جو ایک انسان کی طرح تھا۔ اس نے پاؤں تک کا ایک لمبا چوغہ پہن رکھا تھا اور اس کے سینے پر سونے کی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اس کا سر اور بال اون کی مانند سفید تھے جیسے برف۔ اس کی آنکھیں آگ کے شعلوں کی

Read more

خیر الدین کشتی سے ملاقات ( ایک فرضی قصہ )

کشتی صاحب نے مہربانی کی۔ علیل و زرد کو ہسپتال لے گئے۔ جب بھی ملتے ہیں دقائق معارف پر گفتگو ہوتی ہے۔ بس کوئی سوال پوچھتے ہیں تو ہم رواں ہو جاتے ہیں۔ دقائق معارف کا ہم تو ذکر نہیں کرتے۔ وہ پسندیدہ کتاب کا پوچھنے لگے۔ ہم نے کلام مجید کا بتایا۔ اس کے بعد جو گفتگو ہوئی وہ دقائق معارف کے زمرے میں آتی ہے، اس سے گریز کرتے ہیں۔ اور کتابوں کا پوچھنے لگے تو ہم نے

Read more

"افسانہ ”عید“ : کتاب ”سربریدہ سائے“

شاہد انتہائی محنتی اور پڑھا لکھا نوجوان تھا۔ اس نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ کافی عرصہ نوکری کے لئے دھکے کھاتا رہا لیکن اسے کوئی مناسب نوکری نہ مل سکی۔ اکثر جگہ کام زیادہ لیا جاتا تھا اور تنخواہ کم دی جاتی تھی۔ اسی دوران یکے بعد دیگرے اس کے والد اور والدہ فوت ہو گئے۔ اس پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اس کا ایک ہی بھائی تھا جو اس سے بڑا تھا۔ اس کی شادی

Read more

گدھے اور شاعر کی کہانی

ایک گدھے اور ایک شاعر کی دوستی ہو گئی۔ شاعر کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی، اور گدھے کو جھوٹ ڈھونے کی۔ ایک دن شاعر نے کہا: ”خبیث سفلہ کی قسم، میں منافق ہوں! میں نے ہمیشہ جھوٹ بولا، صرف اپنا مفاد سوچا، اور تعلق داری کو اپنی غرض کے تابع رکھا۔ اب جب کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میرے پھیپھڑے سگریٹ کے دھویں سے سیاہ ہو گئے ہیں، میں پہلا سچ بولنا چاہتا ہوں تاکہ اپنے اندر

Read more

2024 : زمائشوں کا سال، تجربات کا خزانہ

کہنے کو تو 2024 ایک گزر جانے والا سال تھا، مگر حقیقت میں یہ میری زندگی کا ایک ایسا عہد تھا جو تلخ و شیریں تجربات، چیلنجز اور انمول سبقوں سے عبارت تھا۔ یہ سال آزمائشوں کا ایک مسلسل سلسلہ تھا، لیکن انہی آزمائشوں نے میری شخصیت کو نکھارا اور میری زندگی کے کئی پہلوؤں کو ایک نئی سمت دی۔ یہ سال کئی حوالوں سے منفرد رہا۔ کبھی حالات نے امتحان لیا، تو کبھی قسمت نے کامیابی کے دروازے کھولے۔

Read more

انسان کا کاٹنا سانپ کے ڈسنے کے مترادف ہے

ہسپتال کے ہر کونے میں یہ بات سرگوشیوں سے نکل کر شور کی صورت اختیار کر گئی کہ انسان کو انسان نے کاٹا ہے۔ جانور، کتے بلے کے کاٹنے کی خبریں تو معمول کا حصہ ہوتی ہیں، لیکن انسان کا انسان کو کاٹنا ایک انوکھا، غیرمعمولی اور ناقابل یقین واقعہ تھا۔ مریض کو سرجیکل آئی سی یو کے حساس ماحول میں لایا گیا، جہاں اس کی ذمہ داری ہمارے سپرد ہوئی۔ ایک ضعیف العمر درویش صفت شخص، مشینوں کے جال

Read more

دھوپ کا سایہ

ایمان اور ماہین، دو دوست، دو دنیائیں، اور دو نظریات۔ ایک دوسرے کے لیے وہ تھیں جو دھوپ کے تپتے صحرا میں ایک سایہ دار درخت ہوتا ہے۔ دونوں نے ایک ہی گلی میں بچپن گزارا، ایک ہی اسکول میں پڑھیں، لیکن زندگی کے بارے میں دونوں کا نقطۂ نظر ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھا۔ ایمان، حقیقت پسندی کا مجسمہ، زندگی کو اصولوں اور سخت حقیقتوں کے تناظر میں دیکھتی تھی۔ اس کے نزدیک خواب دیکھنا وقت کا زیاں

Read more

جنسی ہراسانی کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ”انٹرویو“ کتاب ”سربریدہ سائے“

نجمہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ اس کا والد فوت ہو چکا تھا جبکہ والدہ اکثر بیمار رہتی تھی۔ بہن بھائی ابھی چھوٹے تھے۔ سکول میں پڑھ رہے تھے۔ اس لئے گھر کی ساری ذمہ داری نجمہ کے کاندھوں پر آ پڑی تھی۔ چونکہ جمع پونجی ختم ہوتی جا رہی تھی، اس لئے وہ چاہتی تھی کہ جلد از جلد کوئی نوکری مل جائے تاکہ اس کے چھوٹے بہن بھائی تعلیم حاصل کرسکیں اور بیمار ماں کی

Read more

دسمبر کی آخری رات

جامعہ کے ہاسٹل کا ماحول سردی کی شدت کے باوجود گرمجوشی سے بھرپور تھا۔ دسمبر کا آخری دن تھا، اور ہاسٹل کے تین قریبی دوست۔ عالمگیر، فیصل، اور امتیاز علی۔ اپنے کمرے میں بیٹھے تھے۔ باہر کہر چھایا ہوا تھا، اور اندر ایک پرانی ہیٹر کے گرد بیٹھ کر چائے کے کپ تھامے، وہ اپنے مخصوص انداز میں محفل سجائے ہوئے تھے۔ عالمگیر کو سب ہاسٹل میں ”سر“ کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ عمر میں ان سب سے بڑا تھا

Read more

سیاہی

شہر کی ایک پرانی گلی میں چند بوسیدہ مکانوں کے آخر میں واقع ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان تھی۔ دکان ظاہری وضع قطع سے عاری مگر باطنی طور پر پختگی کی مظہر تھی۔ کتابیں تہ در تہ خفیف گتے کی بنی الماری نما خانوں میں دھری تھی، رنگ و نوع کے اعتبار سے مختلف قلم موجود تھے۔ اور کچھ کاغذی مواد جو بِکری میں تاخیر کے سبب ہلکے پیلے رنگ میں بدل رہا تھا۔ مگر اس دکان کے بارے

Read more

باورچی خانے میں تلا گیا ناول : نعمت خانہ

اور المیہ یہ تھا کہ وہ دونوں اس بات سے بے خبر اور یکسر انجان تھیں کہ میں نے کبھی اُن دونوں پر اتنے بڑے اور عظیم احسانات کیے تھے۔ اتنے بڑے بڑے احسان! اف! اتنے بڑے بڑے دھبے۔ ” دو دو قتل۔ ایک نہیں دو دو قتل جن میں میرے دونوں ہاتھوں کی مرضی شامل تھی۔ مگر اُن دونوں کو کچھ نہیں معلوم۔ میں اُن دونوں کے لیے خاندان کا ایک معمولی جھینپو سا لڑکا تھا اور بس، اور

Read more

افسانہ جوتے: انتون چیخوف

مرکن نامی ایک پیانو کے سر ملانے والا، تازہ منڈے ہوئے زرد چہرے، ناک پر نسوار کا داغ اور کانوں میں روئی ٹھونسے، ہوٹل کے کمرے سے نکل کر راہداری میں آیا اور کپکپاتی آواز میں چلایا: ”خادم! سیمیون!“ اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ کر شاید آپ سمجھتے کہ اس پر چھت کا پلستر گرا ہے یا اس نے ابھی اپنے کمرے میں کوئی بھوت دیکھا ہے۔ ”سیمیون خدا کو مانو!“ خادم کو اپنی طرف سرعت سے آتا

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 29 : بازگشت

” خوشبو اور بخور دل کو خوش کرتے ہیں، اور دل سے دی گئی نصیحت دوست کی خوشی ہوتی ہے۔ “ امثال 27 : 9 1947 میں پاکستان بننے کے بعد کراچی میں سندھ یونیورسٹی قائم کی گئی، مگر چوں کہ کراچی وفاقی دارالحکومت تھا اور سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد مقرر کیا گیا تھا، لہٰذا سندھ یونیورسٹی بھی حیدرآباد آ گئی۔ ٹھنڈی سڑک پر جس عالی شان عمارت میں یونیورسٹی کو منتقل کیا گیا اس میں پاکستان بننے سے پہلے

Read more

دسمبر اور اُداسی

دل کی اُداسی اور دسمبر کا گہرا تعلق ہے میں چاہے جتنا مسکرانا چاہوں میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ مجھے سال بھر کے تمام دکھ دسمبر کی ہر شام دوہرانے ہوتے ہیں، میری ہر رات میرے گزرے ایام کی تلخیاں بُھلانے کی کوشش میں صَرف ہو جاتی ہے، میرے دل کی دھڑکن بے وجہ تیز ہونے لگتی ہے، آنکھیں مِیچنے پر لگتا کوئی شور برپا ہے مجھے جلدی سے آنکھیں کھول لینی چاہیں، ایسا کیوں ہے میں نہیں جانتی کبھی

Read more

باپ کے گھر کی چابی

کہانی: لیانا ڈسکالووا (بلغاریہ) مترجم: جاوید بسام (کراچی) سات بار ناپیں، ایک بار کاٹیں، ایک مشہور روسی کہاوت ہے۔ کیوں کہ اگر غلطی ہو جائے تو اس کا سدباب ممکن نہیں، دوسرے لفظوں میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ہر طرح سے سوچ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ صحیح عمل کر رہے ہیں۔ مگر لڑکے؟ کیا بے صبرے لڑکے یہ کرتے ہیں؟ ایک دن پیٹرچو نے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ اسے کہاں اور کیسے

Read more

کاہے کو بیاہی بدیس

میں نے اسے پروپوز کیا تو وہ یوں سمٹ گئی جیسے چھوئی موئی کملا گئی ہو۔ تیز طرار زہرہ پہلی بار اپنی چوکڑی بھولی تھی۔ میں نے اسے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔ اندھیری رات کی کالی چادر اوڑھے پیار کا یہ پہلا اظہار تھا۔ وہ الگ ہوئی تو پہلا جملہ تھا، ”مجھے اماوس کا آسمان بہت پسند ہے۔“ ”اماوس ہی کیوں؟“ ”یہ اندھیرا راز محبت کی پردہ داری کرتا ہے، جذبات کے لیے حجاب بن جاتا ہے۔“ ”کالی ٹھنڈی اماہ

Read more

 2024 عمران سیریز۔ ناول

لمبی بیضوی میز کے گرد وہ سب افراد مکمل خاموشی سے بیٹھے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی پہلے بات شروع کرنے کی خواہش نہیں رکھتا تھا۔ ایک مقتدرہ نے انہیں مختلف عوامی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے طور پر بلایا تھا۔ ان میں ٹی وی ہوسٹ اور سوشل میڈیا کے ماہرین بھی شامل تھے۔ رپورٹر اور پروفیسر بھی۔ سائنس اور اقتصادیات سے تعلق رکھنے والے نمایاں نام بھی۔ سیکرٹ سروس کے پرانے ممبر بھی عوامی حیثیت سے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 28 : خاموش سفر

” قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہے گا۔ اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مرے گا۔“ یوحنا 11 : 25۔ 26 جب نیلوفر آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی تو اسے محسوس ہوتا جیسے کسی نے اسے تھپڑ مار دیا ہو۔ اس کی نظر سب سے پہلے اپنے جسم کے اس حصے پر پڑتی جو اس کی

Read more

اتفاق سے اتفاق تک

زندگی کی پگڈنڈیاں اتفاق کے قمقموں سے جگمگاتی ہیں۔ جہاں کچھ اتفاق ہمیں مسکراتی یادوں کا خزانہ دیتے ہیں، وہیں کچھ ہمیں درد کی گہرائیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ یاد ماضی عذاب ہے یارب۔ اس تحریر کی وجہ خاص حضرت انسان اور دنیا کی ایک ایسی روداد ہے جو ایک سلسلہ وار اتفاق سے شروع ہوئی، محبت میں ڈھلی، اور ایک غیر متوقع موڑ پر آ کر ختم ہو گئی۔ ایک حسین اتفاق ہوا۔ لیکچر ہال سے باہر نکلتے ہی

Read more

ایسی تھی بشریٰ

آج ابا جی کے ہاتھ میں دو تھیلے تھے۔ ایک میں تو ضرور کیمرہ ہو گا جس کی وہ کافی دونوں سے ضد کر رہی تھی کیونکہ ابا اُس کی کسی بات کو نہیں ٹالتے تھے۔ لاڈلی بھی تو بہت تھی، مجھے بچوں کی تصویریں اتارنا ہوتی ہیں اور آج نئی ریل مع کیمرا حاضر تھا اور دوسرے تھیلے میں کپڑے تھے۔ شاپنگ ہمیشہ اماں ہی کرتی تھیں۔ خود بازار جاتی اور دو بہنوں اور بھیا کے گرمی سردی کے

Read more

بیدار عورت

(صوفیہ بیدار کی کتاب ’رنگریز‘ کی تقریب رونمائی پر پڑھا گیا۔) بہت خوشی کا عالم ہے کہ آج ہم اپنی دوست منجھی ہوئی ادیبہ صوفیہ بیدار صاحبہ کی اولین کتاب کی تقریب پذیرائی کے بہانے یہاں اکٹھے ہو رہے ہیں۔ کتاب کا نام ہی بہت منفرد ہے۔ رنگریز۔ اور اس میں بیان کردہ کہانیاں دلچسپ۔ پرمغز۔ رنگ رنگ کی۔ ایسی کہ انسان کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور کر دیں۔ طاہرہ اقبال جیسی مہان ادیبہ صاحبہ صدر ہوں۔ دنیائے

Read more

سُود و زیاں

فون کی گھنٹی بے تحاشا بج رہی تھی۔ رات کے دس بج چُکے تھے۔ وہ سونے کے لئے لیٹ چُکا تھا۔ وہ انجان پڑا رہا۔ فون اُٹھانے کی ذمّہ داری اُس نے بیوی پر رکھ چھوڑی تھی۔ اکثر فون بیوی کے لئے ہی آتے تھے۔ کبھی بہن فون کر رہی ہے۔ کبھی کوئی بھائی یا پھر بھانجی۔ بھانجی کے تو دن میں تین چار فون آتے تھے۔ ”ہیلو“ فون بالآخر بیگم نے ہی اُٹھایا۔ ”آفتاب ہے گھر پر“ ”ایک مِنٹ“

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (27)

”لیکن جو خداوند کا انتظار کرتے ہیں وہ نئی قوت پائیں گے ؛ وہ عقابوں کی مانند پرواز کریں گے، وہ دوڑیں گے اور تھکیں گے نہیں، وہ چلیں گے اور کمزور نہیں ہوں گے۔ “ یسعیاہ 40 : 31 سرجری سے ایک ہفتہ پہلے ڈاکٹر نور محمد نے نیلوفر اور کیتھرین سے ملاقات کی تاکہ اگر دونوں کے کچھ سوالات ہوں تو جواب دے سکیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ کینسر زدہ حصے کو

Read more

کنوارے کی فریاد

’ آج سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو‘ اس خدائی حکم کے بعد آدم اور حوا کو جنت سے نکال دیا گیا آسمانی صحائف تو گیہوں پر الزام دھرتے ہیں تاثیر بھی تو گرم ہے اس میوے کی ہمیشہ سے لباس فطرت میں کود پھاند کرتے آدم کو برہنگی کا احساس دلا دیا۔ سائنس کے مطابق ہومو سپیئن سے پہلے ہومونی انڈرتھل زمین پر بستے تھے۔ بھلے ہی اس نے تہذیب ایجاد کر لی لیکن ہر دور کا انسان

Read more

ویل چیئر

  صبح کے دس بج رہے تھے۔ گھر کی فضا بہت بھاری اور بوجھل تھی۔ دانیال اور اس کی بیوی ایک دوسرے کے وجود سے انکار کرتے ہوئے خاموشی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ دانیال نے جیکٹ پہنی، ایک لفافہ پکڑا اور پیدل رفیع کے گھر کی طرف چل پڑا۔ بادل چھائے ہوئے تھے اور ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے اس کے جسم میں سنسناہٹ پیدا کر رہے تھے۔ دس منٹ بعد وہ ایک دروازے کے باہر کھڑا تھا اور گھنٹی دے

Read more

پروفیسر لوگ کا گھر

خواجہ صاحب پروفیسر لوگ ہیں۔ اُوپر تلے دونوں اڑوت، بے کیف اور دانشور۔ چھوٹے خواجہ کیمسٹری پڑھے ہیں لیکن زندگی کی کیمیا میں ان کا ری ایکشن نہیں چلا۔ مزدور صفت، سنجیدہ مزاج جتنے یہ خود ہیں اتنا ہی آنگن ان کا سونا ہے۔ کرسیاں، پیڑ، اور چارپائی سب اپنی جگہ پر رکھے رہتے ہیں۔ اور ہوا پتے بکھیرتی رہتی ہے۔ صاحب اپنے سارے کام خود کرنے کے قائل ہیں۔ اس لیے کسی سے مشورہ مانگنا کسر شان سمجھتے ہیں۔

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 26 : شکستِ آرزو

” ڈرو مت، کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہوں ؛ پریشان نہ ہو، کیونکہ میں تمہارا خدا ہوں۔ میں تمہیں تقویت دوں گا، میں تمہاری مدد کروں گا، اور میں اپنے راست باز دائیں ہاتھ سے تمہیں سنبھالوں گا۔“ اشعیا 41 : 10 نیلوفر لاہور میں مزنگ کے محلّے میں رہتی تھی جو اس زمانے میں ثقافتی لحاظ سے اہم محلہ تھا۔ وہاں کی تنگ گلیاں زندگی سے بھرپور تھیں، اور محلے کے چائے خانے دن رات آباد رہتے تھے۔ جِم

Read more

 آخری خواہش۔ کہانی: اورلن واسیلیف – بلغاریہ

ترجمہ: جاوید بسام۔ (کراچی۔ ) خزاں نے جنگل میں آباد ان خوش و خرم اور بے پروا پرندوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا تھا جو ہر وقت درختوں پر چہچہاتے رہتے تھے۔ پہاڑوں پر سے برفیلی جسم چھیدنے والی ہوا چل رہی تھی۔ رات کو خزاں کی بارش بھی ہوئی تھی، درختوں پر سے رہے سہے پتے بھی جھڑ گئے تھے۔ جنگل میں ہر طرف نمی، کیچڑ اور ٹھنڈک تھی، لیکن بوڑھی چیونٹی کے گھر میں آتش دان گرم

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند: آخری قسط

  ” اوہ۔ میرے خدا، یہ کیا ہو گیا۔ اب شاہ بانو کہاں ہے“ ۔ مہرین نے شرجیل کو بتایا تو وہ بے چین ہو اٹھے ” اللہ ہی بہتر جانتا ہے شاید اپنے بھائی ثمر کے پاس چلی گئی ہو“ ” میں اس خبیث شخص کا خون کر دوں گا“ ” نہیں بھائی جان! آپ اب کچھ نہیں کریں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے ظلم کو روک دیا جائے اور یہ کام میں کروں گی“

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 25 : آرزو

” کیوں کہ گزرے ہوئے وقت میں تم نے قوموں کی مرضی پوری کرنے میں بہت وقت گزارا ہے، جب کہ تم عیش پرستی، شہوت پرستی، شراب نوشی، نشے، عیاشی اور بت پرستی کے کاموں میں شامل رہے۔ “ 1 پطرس 3 : 4 مریم کا رُواں رُواں زندگی سے لبریز تھا۔ وہ زندگی کو چُسکیاں لے کر جُرعہ جُرعہ پیتی تھی اور اکثر کسی دانا کا قول دہراتی تھی کہ ”زندگی ایک پیاز کی طرح ہے۔ بس چھیلتے جاؤ

Read more

آخری نشانی

بس اڈے پر لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری تھا، کوئی گلے مل کر خوش ہو رہا تھا تو کسی کی آنکھیں اپنوں کو الوداع کہہ کر نم ہو رہیں تھیں۔ گاڑیوں کے ہارن کی آوازیں کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھیں عورتوں، بچوں اور جوانوں کی ملی جلی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ”یہ لال بس کا ٹکٹ دے دیں کھڑکی سے جھانکتے ہوئے اسلم نے کہا“ ”سر آپ نے جانا کہاں ہے؟“ ایک نسوانی آواز نے

Read more

اپنے ہمزاد کے نام تین خطوط

” پہلا خط“ ( 16 مئی 2019 ) کبھی کبھی آداب تسلیمات کا تکلف غیر ضروری لگتا ہے اس لیے سیدھا مدعا بیان کرتا ہوں۔ میں آسمان نہیں ہوں اور نہ ہی آسمان کی بلندیوں تک میری رسائی ہے مگر یہ گستاخ اجنبی خواہشات مجھ سے میرا چین چھین لینے کو بے قرار ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ آسمان پر بچھائی گئی دھنک کو قینچی سے کاٹ کر کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دوں، اور یہ ٹکڑے مسلسل سفر

Read more

افسانہ بدبخت: ننگر چنہ

اس کے معصوم چہرے پر مسکراہٹوں کے میلے کا منظر تھا اور وہ خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی ہاتھ پاؤں مہندی میں سرخ دیکھ کر بہت ہی خوش ہو رہی تھی۔ اڑوس پڑوس کی جوان اور بوڑھی عورتیں اس کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ سرخ رنگ کے نئے کپڑے پہن کر اس کے گال بھی خوشی کے مارے لال ہو گئے تھے۔ آج سے قبل سردی ہوتی کہ گرمی، وہ پرانے اور اترن کے کپڑے پہن

Read more

گرجاکھ

وہ بس ایسا ہی ہے۔ قدیم، سنہری اور روہانسو۔ جس کے سینے میں میری ماں دفن ہے۔ جب میں چھوٹا تھا تو اس کی گلیوں میں ننگ دھڑنگ پہیے دوڑاتا پھرتا تھا۔ بوگن ویلیا جسے دیکھتے ہی ابا جی ایک مضبوط ٹہنی توڑ کر میرے ہاتھ میں پکڑا دیتے۔ ہر گھر میں کیکر کے درخت اور بکریاں تھی جو ذرا سا پچکارنے پر کلاچے بھرتی غائب ہو جاتی۔ کہتے ہیں وہاں پہاڑی کے اُوپر میراں شاکر شاہ کے مزار کے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 24 : اعتماد

”وہ اپنی بہتیری لچک دار باتوں سے اُسے بہکا لیتی ہے، اپنے لبوں کی چاپلوسی سے اُسے گمراہ کر دیتی ہے۔ وہ فوراً اُس کے پیچھے ہو لیتا ہے، جیسے کوئی بَیل ذبح ہونے جاتا ہے، اور جیسے کوئی ہرن جال میں پھنسنے کے لئے قدم بڑھاتا ہے۔“ امثال 7 : 21۔ 22 میں مریم کو خدا حافظ کہہ کر باہر نکلا تو انکل شاہد چائے پر میرا انتظار کر رہے تھے۔ آنٹی حسب معمول کوئی سوئٹر بُن رہی تھیں۔

Read more

ایک ننھی سی مسکراہٹ: ہندی کہانی

(تحریر: گیتا انجلی شری، ہندی زبان سے ترجمہ: وقار احمد) اپنے کپڑے بدلتے ہوئے راجن نے ریتا سے کہا، جو کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی لفٹ میں آتے سمے میں نے ڈاکٹر پامانی کو لفٹ سے باہر نکلتے دیکھا ہے۔ بلڈنگ میں شاید کوئی بیمار ہے۔ ریتا نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹیں رومال سے پونچھتے ہوئے کہا، ”رتی بیمار ہے، آج آفس بھی نہیں گئی۔ کھانے کا پہلا لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے راجن نے

Read more

جھونپڑی

فلک پر کالے بادل چھا رہے تھے اور ہوا کی شدت میں بھی تیزی آ رہی تھی۔ اس عالم میں کچھ لوگ اس نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ ” امّاں، تم آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کیا بارش ہونے والی ہے؟“ شمائلہ کی آواز میں معصومیت اور اندیشے نجانے کب سے مدغم ہو چکے تھے۔ پینتیس سالہ ماں جو معاشرے کی مار کی وجہ سے پچاس سال سے بھی زیادہ عمر رسیدہ لگ رہی تھی بہت آہستہ سے

Read more

تین مختصر ہندی کہانیاں

کرایہ (کمال چوپڑا) بیٹھے بیٹھے مستقل آمدنی آنے کی خوشی تو آنند کو ہو رہی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں اسے اپنے باپ کی بہت یاد آنے لگی تھی۔ پتا جی کو گاؤں بھیج کر کیا ہم نے اچھا کیا؟ انھوں نے ہمیں پالا پوسا، کھلایا، بڑا کیا، اچھی طرح رکھا اور ہم نے؟ ”لکشمی، ہمارا اوپر والا کمرہ تین سو میں چڑھ گیا ہے۔ کرایہ ایڈوانس مل گیا ہے۔ رماکانت انکل کے ہی کسی دوست نے لیا ہے۔ ان

Read more

لینن اور چولہا بنانے والا

تحریر: چیبیکن روسٹیسلاؤ۔ ترجمہ: جاوید بسام۔ مجھے یاد ہے کہ ایک چولہا بنانے والے آدمی یاکوف کونڈراٹی پیٹرووچ، سشینسکوئے (سائبریا) گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ اپنی مہارت اور ہنر کے باعث پورے ضلعے میں مشہور تھا۔ اس نے ہمیشہ بہترین چولہے بنائے۔ کیوں کہ اسے اپنا کام پسند تھا۔ وہ اکثر کہتا: ”اگر آپ کا چولہا ٹھیک کام نہیں کر رہا تو مجھ سے رابطہ کریں میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہوں۔“ اس باعث کونڈراٹی کو ہمیشہ بہت پیار

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 23 : خوف

” محبت میں خوف نہیں ہوتا بلکہ کامل محبت خوف کو دور کر دیتی ہے، کیونکہ خوف میں سزا ہے اور جو شخص خوف کرتا ہے اس میں محبت کامل نہیں ہوئی۔“ یوحنا 4 : 18 سینٹ میریز کونوینٹ کی چہار دیواری کی ایک دیوار، گلی میں تھی جس کے نکّڑ پر کوڑے کا ڈھیر تھا، جسے محلے کے آوارہ کُتّے کریدتے رہتے تھے۔ کبھی کبھار دو ایک گدھ بھی وہاں خوراک کی تلاش میں آ جاتے اور جوں ہی

Read more

پھولوں بھری منڈیر

میں شکستہ قدموں کے ساتھ چلتا جا رہا تھا۔ نظریں جھکائے ہوئے جیسا میں ہُوں۔ پھر مجھے وہ گیٹ دکھا پھولوں کی بیلیں اس پر سے جھک رہی تھیں۔ مجھے یاد ہے کیسے میں نے تعلیم کے لیے شہروں کی خاک چھانی اور اب برسوں بعد واپسی پر بھی یہ گیٹ اپنی خوبصورتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ جب پانچویں کلاس میں سکول پارٹی ہوئی تھی اور پھولوں والے گھر کی لڑکی نے ڈانس کیا تھا۔ اپنے سرخ فراک میں مجھے

Read more

ریاست کہانی ( 5 مائکروف)

ریاست اور بم لاش دو سو کلومیٹر دور سڑک کنارے پڑی تھی۔ بوڑھے باپ نے کرائے پر گاڑی لی۔ مقتول کا سات سالہ بیٹا ساتھ بٹھایا اور سفر شروع کر دیا۔ چند ماہ پہلے سفید کپڑوں میں ملبوس ریاستی اہلکار اسے گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے۔ اسی دن سے وہ اس خبر کا منتظر تھا۔ اس کا بیٹا مٹی اور خون میں لتھڑا اوندھے منہ زمین پر پڑا تھا۔ ایک آنسو گرائے بغیر اُس نے لاش کو سیدھا

Read more

دوسری پگڈنڈی

فیض سہ پہر کی نارنجی دھوپ میں اس پگڈنڈی کی خوبصورتی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایک طرف گہرائی میں مچلتی ہوئی ندی اور دوسری طرف سبزے سے نہائی ہوئی کھائیاں، اس کے نشیب و فراز، اور خوبصورت موڑ، وہ اس سارے منظر سے مسحور ہو چکا تھا۔ وہ اس لمبی پگڈنڈی پہ مگن چلا جا رہا تھا۔ دور سے اسے ایک مرد اور عورت مخالف سمت سے آتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ فیض نے ان پر توجہ نہیں دی۔

Read more

خواب کے سائے

ایک سرمئی شام تھی، سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا تھا۔ کمرے میں ہلکی روشنی تھی اور دو ڈاکٹر پروفیسر جیکب پال کے بستر کے قریب کھڑے خاموشی سے اُن کا جائزہ لے رہے تھے۔ ایک ڈاکٹر نے آہستہ سے کہا، ”پروفیسر کے تمام اعضا ناکارہ ہو چکے ہیں۔ پھر بھی پتہ نہیں کیا بات ہے جو یہ ابھی تک زندہ ہیں۔“ دوسرا ڈاکٹر بھی الجھن میں تھا، ”یہ شاید ان کے دماغ کی طاقت ہو یا کوئی اور راز

Read more

بارش میں لکھا خط

حسن کے چچا! آداب! کل دوپہر کی بات ہے، میں اپنے گھر کے چھوٹے آنگن میں مریم کا پرانا سفید جوڑا (ارے وہی شیفون کا جو پچھلے ہی برس آپ نے چھوٹی عید پر دلایا تھا) قرمزی رنگ میں رنگنے کے بعد برسوں پرانی، ٹیڑھی میڑھی، لمبی کالی تاروں پر سوکھنے کے لئے لٹکائے فرصت کے احساس سے کمر سیدھی کرنے کو پر تول ہی رہی تھی کہ جانے کون سے جہان سے چھوٹے چھوٹے ملگجی بادلوں کے ٹکڑے فراٹے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 22 : فیصلہ

”لیکن روح کا پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، وفاداری، حلم، اور پرہیزگاری ہے۔ ان باتوں کے خلاف کوئی قانون نہیں۔“ گلتیوں 5 : 22۔ 23 اُس زمانے میں متوسط طبقے کے لوگوں کے بیشتر گھروں میں ڈرائنگ روم نام کا کوئی کمرہ نہیں ہوتا تھا جہاں مہمانوں کی خاطر و مدارت کی جا سکے۔ بزرگوں کے مہمانوں کے لیے گھر کے دروازے کے باہر ہی کرسیاں بچھا دی جاتیں اور وہیں چائے بسکٹ پہنچا دیے جاتے۔ اسکول جانے

Read more

افسانہ: ”شک“

بہت دنوں سے سوچ رہی ہوں کہانی لکھوں، مگر ادھر اُدھر کی مصروفیت سے رات، دن میں اور دن، رات میں ڈھل جاتے اور کہانی میرے ذہن میں الجھن کی طرح ذہنی سکون خراب کرنے میں تلی ہوئی ہے۔ اب دل چاہ رہا ہے کہ وہ لکھ ہی ڈالوں جو دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔ ویسے بڑا ہی کٹھن ہوتا ہے نہ، ان کہانیوں کو لفظوں کے پیرائے میں صفحات پر اتارنا، جو ہمارے اندر چل رہی ہوتیں

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 21 : انجم بھائی

”مجھے اپنے دل پر مہر کی طرح باندھ لے، اپنے بازو پر مہر کی طرح؛ کیونکہ محبت موت کی طرح طاقتور ہے، حسد قبر کی طرح بے رحم ہے۔ اس کی چمک آگ کی چمک کی مانند ہے، رب کی شعلہ زن آگ۔ بہت سا پانی محبت کو بجھا نہیں سکتا، اور نہ ہی سیلاب اسے بہا سکتا ہے۔“ غزل الغزلات 8 : 6۔ 7 گورا چِٹّا رنگ، بھاری بھرکم بدن، لمبی لمبی مونچھیں، کانوں کے سِروں سے نکلے ہوئے

Read more

تیسری جنس – کہانی

شالو کون آیا ہے باہر؟ باجی وہی خواجہ سرا آیا ہے۔ بناؤں روٹی؟ نہیں تم رہنے دو میں بناتی ہوں فاخرہ نے تردید کی، ”باجی نے سارے کام مجھ سے کروانے ہوتے ہیں اور نیکی خود کماتی ہیں! “ شالو نے دل میں سوچا، اتنے میں فاخرہ دروازے پر جا کر باتیں کرنے لگیں۔ ”نا جانے وہ کیا باتیں تھیں جو وہ ایک تیسری جنس سے کرتی تھیں؟“ شالو اکثر ایسا سوچا کرتی۔ شالو کو یہ بات کافی عرصہ سے

Read more

مہنگائی

گلیاں کیچڑ سے بھری تھیں، نالیاں بند ہو نے کی وجہ سے جگہ جگہ پانی جمع تھا یوں محسوس ہو رہا تھا ایک مدت سے بلدیہ کا اس طرف دھیان نہ گیا ہو۔ غریب ماں باپ کے ننگے بچے مفت کے چھوٹے چھوٹے تالابوں میں کھیل رہے تھے کسی کے منہ پر کیچڑ لگا تھا کوئی روٹی کا ٹکڑا ہاتھ میں لیے پانی میں چھلانگیں لگا رہا تھا۔ زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی جیسے کوئی نئی بات نہ

Read more

جمیلہ آپا

بڑے بزرگ کہا کرتے تھے زندگی کا چکر بڑا ہی عجیب ہوتا ہے انسان کو کہیں سے کہیں لے جاتا ہے۔ کل رات سڑک پر بے یار و مددگار عجیب و غریب حلیے میں جمیلہ آپا کو دیکھا تو اس بات کی سمجھ آئی کہ زندگی کا پہیہ اپنی تند و تیز رفتار میں کسی کو بھی کسی نہ کسی کی مانند بنا دیتا ہے۔ کسی کو ہیرے کی مانند تو کسی کو کوئلے کی راکھ کی مثل، میں بھی

Read more