پتلی بائی: غلام عباس

محبت کا جذبہ پہلے پہل انسان کے دل میں کب بیدار ہوتا ہے، اس کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں۔ بعض لوگ لڑکپن ہی سے عاشق مزاج ہوتے ہیں اور بعض بلوغت کو پہنچ کے بھی اس جذبے سے بے بہرہ ہی رہتے ہیں۔

میری عمر کوئی نو دس برس کی ہوگی کہ مجھے عشق ہو گیا۔ عہد طفلی کا وہ معصوم عشق نہیں جو کھلونوں سے بہل جاتا ہے۔ بلکہ سچ مچ کا ہجر و وصال والا عشق جس میں محبوب کی یاد آہیں بھرواتی ہے۔ دل میں ہوک اٹھتی ہے۔ چہرے کا رنگ زرد رہنے لگتا ہے۔ بھوک پیاس کی سدھ نہیں رہتی۔ جس نے مجھے اس مرض میں مبتلا کیا وہ میری کوئی ہم عمر لڑکی نہ تھی۔ بلکہ بیس بائیس برس کی ایک پوری جوان عورت تھی۔ ایک خوبصورت ایکٹرس!

Read more

پچاس برس پہلے ملائیت کا انجام بتانے والا فن پارہ: غلام عباس کا شاہکار افسانہ ”دھنک“

یہ افسانہ میں نے آج سے دو سال قبل لکھا تھا۔ اس وقت میں تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ اجرام فلکی کی تسخیر کے لیے انسانی مہمات اس قدر شدت اختیار کر لیں گی کہ اگلے دو ہی برس میں انسان کا چاند پر پہنچنا ممکن ہو جائے گا اور اس کے ساتھ…

Read more

آنندی – اردو کے شاہکار افسانے

بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خلافِ معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہ تھا۔ بلدیہ کے زیرِ بحث مسئلہ یہ تھا کہ زنان بازاری کو شہر بدر کر دیا جائے کیونکہ ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد نما داغ ہے۔

بلدیہ کے ایک بھاری بھرکم رکن جو ملک و قوم کے سچے خیر خواہ اور دردمند سمجھے جاتے تھے نہایت فصاحت سے تقریر کر رہے تھے۔

”اور پھر حضرات آپ یہ بھی خیال فرمائیے کہ ان کا قیام شہر کے ایک ایسے حصے میں ہے جو نہ صرف شہر کے بیچوں بیچ عام گزر گا ہ ہے بلکہ شہر کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بھی ہے چنانچہ ہر شریف آدمی کو چار و ناچار اس بازار سے گزرنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں شرفاء کی پاک دامن بہو بیٹیاں اس بازار کی تجارتی اہمیت کی وجہ سے یہاں آنے اور خرید و فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ صاحبان! یہ شریف زادیاں ان آبرو باختہ، نیم عریاں بیسواؤں کے بناؤ سنگار کو دیکھتی ہیں تو قدرتی طور پران کے دل میں بھی آرائش و دلربائی کی نئی نئی امنگیں اور ولولے پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنے غریب شوہروں سے طرح طرح کے غازوں، لونڈروں، زرق برق ساریوں اور قیمتی زیوروں کی فرمائشیں کرنے لگتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا پُر مسرت گھر، ان کا راحت کدہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے۔ “

Read more