حامد میر کے نام: صحرا کی پکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دسمبر اور جنوری جاڑے کے موسم کی شدت کا خوب پتہ دیتے ہیں۔ یہ بھی جنوری کی ایک ٹھٹھرتی صبح تھی۔ دھرتی کا بدن چوٹ کھائے ہوئے جمے ہوئے خون کی طرح ٹھیکری ہو رہا تھا۔ شہر سے گاؤں تک ڈالی گئی کالی کمند پر جگہ جگہ ریتلے ٹیبوں نے اژدہے کی طرح اپنے پھن پھیلا رکھے تھے۔ یوں پوری سڑک پستیوں میں کالی دھاری اور بلندیوں پہ ریت کے ڈھیر اپنی پشت پہ لادے کسی دھبے دار ناگ کی طرح لیٹی تھی۔ سورج کی آنکھ میں سرد مہری پتھرائی تھی۔

ہر تین سو میٹر پہ ریت کے انبار میں دھنس دھنس کر سر پٹختی گاڑی گرد و میل سے اٹی آستین سے جھانکتے ہاتھ کے اشارے پہ رک گئی۔ شیشہ ہلکا سا نیچے سِرکا۔ جی بیٹا، جواب میں الفاظ کی بجائے مُرجھائی ہوئی شاخ جیسے بازو کا ہاتھ کُھل کر سیدھا ہؤا۔ ہاتھ کے کاسے میں کُچھ ڈالنے کی بجائے کار کے ہیٹر کی حرارتوں سے نکلتے گرما گرم سوال نے لپک کر حجمِ غربت کو ناپ لیا۔ کتنے پیسے بن جاتے ہیں، ٹوٹے ہوئے بٹنوں والے لباس میں ملبوس لڑکے کے سُکڑے ہونٹوں نے بمشکل کہا، سو سے دو سوروپے۔

ڈرائیونگ نشست پہ براجمان آدمی کا دل پسیج گیا۔ بیٹا، آپ کے ابو نے آپ کو اس کام پہ لگایا ہے؟ اپنی کسّی پہ جھکتے ہوئے جس سے وہ سڑک سے مٹی ہٹا رہا تھا، لڑکے نے جیسے ہی ہاں میں سر ہلایا، سوال کرنے والا بڑبڑایا، تیرا باپ اتنا ظالم ہے؟ پپڑیاں جمے ہونٹوں سے نکلتے دھوئیں میں دھوئیں دھوئیں ہوتے چہرے پہ ضبط کے بندھن بے بسی کی تصویر نظر آئے، چار ہونے کی سکت جیسے نظروں سے چھن گئی۔ رُندھی ہوئی آواز بڑی دقت سے کہہ پائی، میرے ابو فوت ہو گئے۔

یہ تو میرے سوتیلے ابو نے کہا ہے۔ یہ کہتے ہوئے وفور غم سے آواز بھرّا گئی۔ ایسا لگا دنیا جہان کی تمام افسردگیاں، پژمردگیاں اس کے ملول چہرے پہ مجتمع ہو گئی ہوں۔ موسم کی یخ بستگیوں کو یکسر خاطر میں نہ لاتی گرم پانی کی بوند اس کے ان دُھلے رخسار پہ ایک لکیر بناتی انگلی کی نوک پہ اتر گئی۔ سوالات کا تانتا تھم گیا، گاڑی اپنی منزل کی طرف بڑھ گئی۔ شفاف پانیوں سے جھانکتی دھندلائی ہوئی آنکھوں نے برف ہوتی ہتھیلی پہ دس روپے کے نوٹ کوتو پہچان ہی لیا لیکن شاید حیرت و غیرت کے آثار اس کے چہرے پہ آنکھ مچولی کھیلنے لگے۔

کار سوار وہاں سے جا کے بھی شاید جا نہ پایا کہ وہ منظر اس کے دھیان وگیان میں اس قدر کُھب گیا کہ ظاہرا تو وہ چپ چاپ چلا جا رہا تھا لیکن اپنے دل کی چیخوں کا گلا گھونٹنے سے قاصر تھا۔ احساس کے برزخ میں جلتے کو نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا تو کیا دیکھا کہ یہی دکھ بھری ارداس اقلیم صحافت کے تاجدار جناب حامد میر کی بارگاہ میں رکھ دی ہے۔ اور پوری تفصیل سنانے کے بعد ان سے یہ آواز ایوانوں تک پہنچانے کا وعدہ بھی لے لیا

یہ کوئی قصہ کوئی داستاں نہیں بلکہ ایک سچا واقعہ ہے اسی سال نو کا۔ پنجاب کے ضلع بھکر کی ایک تحصیل منکیرہ جو ہزارسالہ تاریخ کی حامل ہے، اس کی حدود میں واقع ایک گاؤں جنجو شریف کو تحصیل ہیڈ کوارٹر سے مربوط کرتی یہ سڑک جو تقریبا ساٹھ کلومیٹر طویل جا بجا ریت کے ٹیلوں میں دھنسی ہوئی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ نقشے کے مطابق اس کا شمار ضلعی رابطہ سڑکوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد یہ علاقہ ضلع میانوالی ہیڈ کوارٹر سے دور دراز ہونے کی وجہ سے پسماندگی کا شکار ہی رہا۔

میانوالی ضلع کی تقسیم سے قبل آخری ضلعی فرمان روا امان اللہ چھینہ مرحوم نے یہ سڑک بنوائی۔ جب بھکر کو ضلع اور منکیرہ کو تحصیل کا درجہ ملا تو اس علاقے کے مکینوں کو امید کی کرن نظر آئی۔ یہاں سے منتخب ہونے والے نمائیندگان ایوانوں سے وزارت کے قلم دانوں تک پہنچے لیکن یہاں کی محرومیوں نے انگڑائی تک نہ لی۔ نو منتخب حکومت کے دور میں مذکورہ تحصیل کا اقتدار میں حصہ قابل رشک ہے نئی حلقہ بندیوں کے مطابق دو صوبائی اور دو قومی حلقہ جات اسی تحصیل کا مقدر ہوئے ہیں اور ان چاروں منتخب نمائیندگان کا تعلق مقتدر جماعت سے ہے۔ پسماندہ علاقے کی تشنگی کا یہ عالم ہے کہ جل تھل بارش بھی ہو تو لمحوں میں پانی غائب ہوتا ہے، تھل کینال کی تعمیر نے بارانی رقبہ جات کے زمینداروں کو محض سبز باغ ہی دکھائے۔

جناب حامد میر صاحب

آپ کے پاس اقتدار نہیں تو اقتدار والوں کو بیدار کرنے کا اختیار تو ہے، اب آپ کا سوچنا یہ تو بنتا ہے کہ آپ تک یہ عرضی زبردستی کیوں پہنچائی جا رہی ہے اس کی وجوہات پیش ہیں

اوّل تو یہ کہ خواب پہ اختیار نہیں ہوتا۔ تو یہ اتفاق ہے یا

دوّم ارباب اختیار ابھی نئے نئے ہیں تو نئی نویلی حکومت کو تو ابھی پریشاں نہیں کر سکتے نا

سوّم براہ راست ان سے بات کرنے سے بھی خوف ہے کہ ان کا انداز حکومت بڑا جارحانہ ہے

چہارم آپ کا یہ وصف ہے کہ اپنی بات کہہ ہی جاتے ہیں

جناب والا۔ جن کے سر سے شفقت پدری کی چھایا چھن جاتی ہے ان کا نصیب دھوپ ہؤا کرتی ہے اور ان کے آنسو بھی ان کی پلکوں پہ رکے رہتے ہیں اور پتہ ہے یہ پلکوں پہ اٹکے آنسو کب ڈھلکتے ہیں جب ان سے کوئی پوچھے آپ کے بابا آپ کو سکول نہیں بھیجتے

میں قطعاً مقتدر جماعت کو ان کا آؤٹ آف سکولز چلڈرن کا وعدہ نہیں یاد دلا رہا۔ اور نہ ہی تعلیمی نظام کی یکسانیت کے رائج کرنے کے قول قرار کی بات کر رہا۔ میں تو صرف یہ درخواست کر رہا کہ

سوتیلے باپ کے کچوکوں اور جھڑکیوں سے دل میں کروٹیں لینے والی نفرت اور چہرے سے ظاہر ہونے والی اذیت کو تھپکیاں دے دے کے سُلاتے تیرہ سالہ ندیم قصاب کی آنکھوں کی التجا پڑھ لیجیے۔ جو اپنے ماتھے پہ یتیمی کی لکیر سجائے سراپا سوال ہے کہ اے میری قوم کیا واقعی میں ہوں آپ کا مستقبل۔ یہ عمر تو شوخیاں و شگفتگیاں کرتے ہمجولیوں کے ساتھ سکول جا کر قلم پکڑنے کی تھی لیکن یہاں تو میرے ہاتھوں میں کُدال تھما کر ضلعی و صوبائی حکومتوں کی نا اہلی کے نتیجے میں مسدود ہوتی سڑکوں کی صفائی کا بوجھ میرے ننھے بازؤوں پہ ڈال دیا گیا ہے، کیا یہ ہے نیا پاکستان؟

ٹی وی ٹاک شوز میں آستینیں چڑھا چڑھا کے بھبھکیاں دینے سے فرصت ملے تو توجہ فرمائیے کہ صحرا کی ریت کی چادر پہ دم توڑتی حسرتوں نے بھی تبدیلی کے لگائے گئے نعرے کے جواب میں لبیک کہا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •