حامد میر کے نام: صحرا کی پکار

دسمبر اور جنوری جاڑے کے موسم کی شدت کا خوب پتہ دیتے ہیں۔ یہ بھی جنوری کی ایک ٹھٹھرتی صبح تھی۔ دھرتی کا بدن چوٹ کھائے ہوئے جمے ہوئے خون کی طرح ٹھیکری ہو رہا تھا۔ شہر سے گاؤں تک ڈالی گئی کالی کمند پر جگہ جگہ ریتلے ٹیبوں نے اژدہے کی طرح اپنے پھن…

Read more

کتنی ماؤں کے لخت جگر کٹ گئے

دسمبر کی یخ بستہ صبح سورج کی کرنیں دھند کے جتھوں سے گتھم گتھا ہوتی زمین کا بوسہ لینے میں کامیاب ہوئی ہی تھیں کہ حذیفہ جلدی کرو حذیفہ جلدی کرو اٹھ جاؤ، یہ گونجتی آواز یک لخت چُپ ہوئی جب گاڑی کی گڑگڑاہٹ سے گھر کا گیراج بول اٹھا۔ تلخی بھرے لہجے میں وہ کہہ رہی تھی ہم سب تمہاری وجہ سے لیٹ ہو جاتے ہیں، ماما آج تو میں جلدی تیار ہؤا ہوں، تو یقینا تم نے ناشتہ نہیں کیا ہو گا۔ اب لہجے میں درشتگی پہلے جیسی تو نہ تھی لیکن تھی سہی۔

Read more

سفاک بادشاہ ضحاک اور زینب کے بابا کی دہائی

اہل فن کے تیشوں سے چٹانوں پہ کندہ تاریخ بتاتی ہے کہ سر زمین فارس موجودہ ایران پہ ایک ضحاک نامی بادشاہ جس نے جبر و استبداد کی تاریخ معصوم جانوں کے خون سے تحریر کی۔ اپنے کندھوں کے ابھار میں پھوڑوں کا شکار ہؤا۔ تاجداری کے قرب کے کسی شائق نے مشورہ دیا کہ…

Read more

اور دل کہتا ہے ٹھہرو، ابھی ٹھہرو، عینی

  نومبر کی شام رات کے اندھیرے سے گلے مل رہی تھی۔ ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات کی بازگشت اس کے کانوں کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔ اس کے جگر پہ ٹیومر ہے۔ فرار ہوتا وقت سوچوں کی لہروں میں پتھر پھینکے جا رہا تھا۔ مہد سے لحد تک…

Read more

بابا فرید کے دربار سے سند حکومت پانے والے دو حکمران

گنج شکر کے فیوض و برکات کے چشمے پھوٹ رہے تھے جب غلاموں کے جتھے سے نعمان نامی غلام اپنے آقا کی اجازت سے بارگاہ درویشیت میں شرف باریاب ہوا۔ اجازت گویائی ملتے ہی اس کے نتھنے پھڑکنے لگے ہونٹوں کے کنارے تڑپنے لگے اپنی ٹوٹی پھوٹی ذات کو مجتمع کرتا یوں گویا ہوا۔ میرا…

Read more

ڈوبتے لاہور نے سر کٹا انسان یاد دلا دیا

عراق کے سرحدی حاشیے سے بارہ کلومیٹر کی مسافت پر حدود شام میں فرانسیسی آفیسر لیفٹینینٹ کیبین کے پاس ایک مقامی بدّو بوکھلایا ہؤا آیا اور سرکٹا انسان سر کٹا انسان کی تکرار کرتا ہؤا چیخنے لگا۔ مذکورہ آفیسر اس کے بتائے ہوئے مقام تک پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ کھنڈرات کے ڈھیر پر…

Read more