تھل کا وارث شاہ سجاد کلیم

یہ ان دنوں کی بات ہے جب تھل دھرتی کی پیاس کے قصے زبانوں پہ چھالے ڈالتے، کانوں میں اترتے تو پیاس و تنہائی کے خوف سے دل اچھل کر حلقوم میں اٹکتے چبھتے دھڑکنوں کی ترتیب بھولنے لگتے۔ ریگستان کے میدانوں کی وسعتیں ہوا کے جھونکوں کو مہمیز کرتیں تو ریت کی ہولی اڑاتے بگولے دھرتی کو اتھل پتھل کرتے دندناتے لگتے۔ تند و تیز ہواؤں کے ان خاکی طوفانوں کے گرداب میں پھنستے کئی خاکی خاک میں خاک

Read more

جو پھول سجانے تھے مجھے تیری جبیں پر

وہ دیکھو اک لاش پڑی ہے وہ دیکھو اک لاش پڑی ہے جنگل کی آگ کی طرح یہ خبر گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لیتی سرد پڑتی سماعتوں میں انگارے کے مانند اترنے لگی۔ اس خبر کو پھیلاتی موبائل فونز کی بجتی گھنٹیاں دلوں سے دھڑکنوں کی ترتیب چھیننے لگیں۔ خوف و ہراس سے آنکھوں کے ڈھیلے پھیلائے لوگ مقتل کی جانب چلنے لگے۔ ہائے ہائے بالکل جوان تھا، ہائے یہ کس کا بیٹا ہے۔ ابھی تو اس کی داڑھی

Read more

ممتا کے دکھ نے ڈاکٹر بنا دیا

مشترکہ خاندانی نظام کی تلخیوں کے پر خار راستوں پر میرے والدین کب سے چل رہے تھے یہ تو نہیں جانتا لیکن ایک یاد ناخن کی طرح آج تک میرے احساس کو کھرچتی ہے. جب میں پانچویں جماعت میں تھا اور بکان کی چھاؤں تلے بیٹھی اماں نے میلے دوپٹے سے اپنے آنسو چھپانے کی اس وقت ناکام کوشش کی جب بڑے بھائی کے بارہویں جماعت کے نتیجے کی خبر آئی۔ سارے بہن بھائی گرد اکٹھے ہو گئے۔ بڑی بہنا

Read more

ویتے نے کہا تھا

اس کا بچپن بھی کیا منہ زور تھا کچھ نیا کر دکھانے کی دھن میں سر دھنتا کبھی نٹ کھٹ شرارتوں میں اپنے خوابوں کی تعبیریں ڈھونڈتا پھرتا تو کبھی ننگے تلووں سے گاؤں کی راہوں پہ بچھے کانٹے چنتا پھرتا، کبھی دریا کی موجزن لہروں سے پنجہ آزمائی کرتا نظر آتا تو کبھی دوڑ کے مقابلوں میں اپنے ہمجولیوں کی ٹولیوں کی ٹولیوں کو پچھاڑتا چلا جاتا، کبھی شجر پیمائیوں کے ذوق میں لنگوروں کی چھلانگ پھلانگ کو آئینے

Read more

میرے محنت کشوں کے سنہرے بدن

گٹھے بدن کے ایک ایک جوڑ سے اٹھتی ٹیسیں سکول کی جانب اٹھتے قدموں کے پاؤں پڑنے لگتیں تو نواز کی آنکھوں کی دعائیہ پلکیں مامتا کا چہرہ تکنے لگتیں۔ لخت جگر کی اس ملتجیانہ ادا پر پگھل پگھل جاتی ماں دل کو بے دلی سے پکا کرتی گھگھیانے لگتی، مرے لعل، ہم غریبوں کی آس اب تو ہی تو ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ تجھے بھی تیرے بابا کی طرح دیس بدیس کی خاک چھان چھان کر روٹی کے نوالے تلاش کرنے پڑیں۔ ماں کے ایک ایک لفظ سے ٹپکتی آرزووں کے احترام میں بیٹے کے پپوٹوں سے رستی بے بسی اس کے گالوں کو چوم لیتی تو سارے خدشے اندیشے جھٹکتا سکول بڑھ جاتا۔

Read more

مرشد! وہ یاروں کا یار تھا

فون کی گھنٹی کے ساتھ ہی شہزاد ہاشمی کا نام اسکرین پہ جگمگانے لگا۔ سلام و تسلیمات کے تکلفات کو بالکل بالائے طاق رکھتا ہوا اپنے مخصوص انداز تخاطب میں مخاطب ہوا۔ مرشد! حمید خان ہمیں چھوڑ گیا۔

سنتے ہی دل اچھل کے حلق میں دھڑکنے لگا۔ بے یقینیوں کے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کو یقین نے ایسے پکڑ لیا جیسے گرتے بچے کو لپک کے ماں تھام لیتی ہے۔ وہ کہہ رہا تھا۔ مرشد! حمید خان کے سارے یار ایک دوسرے کے گلے لگ لگ کے دھاڑیں مار رہے تھے۔ اور جب جنازہ اٹھا تو منہ چھپا چھپا کے روتی کراہتی سسکاریاں بھی چیخ اٹھیں۔ مرشد! کل ہی تو اس سے مل کے آیا تھا۔ اس نے تو کچھ ایسا نہیں کہا تھا کہ لمبی تان کے سونے والا ہے۔

Read more

آزاد زندگی کا چلن مل گیا ہمیں

گردنیں جھکنے کی عادی ہو چکی تھیں۔ ابدان کے ساتھ ساتھ اب اذہان بھی محکوم ہونے لگے تھے۔ مزاجوں میں سرایت کرتی ماتحتی نسلوں کو ورثے میں ملنے لگی تھی۔ سوچوں پر پڑے پہرے کڑے سے کڑے ہو چلے تھے۔ ہر نومولود کے مقدر کی پیشانی پر چاکری  لکھا جانے لگا تھا۔ حکمت و دانش سے محروم ہوتی سماعتیں سرگوشیوں کی عادی ہو چلی تھیں۔ امس زدہ فضاؤں میں احساسات کا دم گھٹنے لگا تھا۔ حمیت و غیرت کے سیخ

Read more

فن خطاطی کی نمائش

تاریخ کے زرد اوراق بتاتے ہیں کہ تجسس کی راہوں پہ رینگتی تہذیب کو پہلی کامیابی تب ملی جب انسانی آنکھوں میں سماتے قدرتی نظارے پتھروں کی سلوں پہ اترنا شروع ہوئے۔ بھونڈی و بے تکی تصویریں ہاتھوں کی مہارتوں سے ٹپکتے رنگوں سے رنگین ہونے لگیں تو ترقی کی راہیں کھوجتی تہذیب خوش نمائی کے مقام ارفع تک پہنچتی تصویری دور کے نام سے موسوم ہونے لگی۔ انسانی سمجھ بوجھ میں رچتی بستی تصویروں نے جب خاکوں کی شکل

Read more

ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے

روایات کے بت کدے میں پوجا پاٹ کرتی سرد مہری کے ماتھے پہ ابھرتی شکنوں کی چبھن اس کے بدن میں اس وقت پیوست ہوتی گئی جب پہلوٹی کی اولاد بیٹی کو جنم دینے پہ پہلا خطاب کرماں جلی اس کے نام کے ساتھ جڑ گیا۔ اس سے ملتے جلتے خطابات کی ناگواریوں کے نہ تھمنے والے سلسلوں کے سامنے بے بسی کے بند باندھتی، درگاہوں اور خانقاہوں کی بالکونیوں میں منتوں کے چراغ جلاتی، درباروں و آستانوں کے بوڑھے

Read more

ثمینہ سید کی تصنیف: ہجر کے بہاؤ میں

چند سال پہلے کی بات ہے محفل مشاعرہ تخلیقی جلوہ کاریوں سے منور تھی۔ شعرائے کرام تذکیر و تانیث کے حسین امتزاج کے ساتھ نوبت بنوبت ڈائس پہ جلوہ گر ہو رہے تھے۔ رنگ محفل روایتی انداز میں حدود اختتام کو چھونے کے لئے کوشاں تھا کہ کھنکتی، جھنکتی، چھنکتی آواز نے سماعتوں کی گہرائیوں کو چونکا دیا۔ چہرے پہ دمک اٹھتا ہے جب رنگ حیا اور ایسے میں مزہ دیتی ہے اپنی ہی ادا اور تبحر عمیق سے پھوٹتے اعتراف

Read more

ثمینہ سید کی تصنیف: ہجر کے بہاؤ میں

چند سال پہلے کی بات ہے محفل مشاعرہ تخلیقی جلوہ کاریوں سے منور تھی۔ شعرائے کرام تذکیر و تانیث کے حسین امتزاج کے ساتھ نوبت بنوبت ڈائس پہ جلوہ گر ہو رہے تھے۔ رنگ محفل روایتی انداز میں حدود اختتام کو چھونے کے لئے کوشاں تھا کہ کھنکتی، جھنکتی، چھنکتی آوازنے سماعتوں کی گہرائیوں کو چونکا دیا۔ چہرے پہ دمک اٹھتا ہے جب رنگ حیا اور ایسے میں مزہ دیتی ہے اپنی ہی ادا اور تبحر عمیق سے پُھوٹتے اعتراف بے

Read more

جنم جنم کا دکھ سہتی مامتا

بابل کے در و دیوار سے جڑے رشتوں کی اپنائیتوں سے لپٹ لپٹ کے روتی کے آنچل کا پلو اجنبی نوشہ کی اچکن سے باندھ دیا گیا تومجازی خدا کے مسکن میں پاؤں دھرتے ہی بیگانگی کے واہموں میں جا پڑی۔ چوکھٹ پکڑوائی کی رسم کی ادائیگی کے دوران ڈری سہمی سماعتوں میں اس کی ہم عمر مامتائی نصیحت گونجنے لگی، بٹیا! شریف زادیوں کی ڈولیاں شوہر کی چوکھٹ میں داخل ہوتی ہیں تو جنازے کی صورت باہر آیا کرتی ہیں۔ سوچوں میں پلتے خوابوں کے شیش محل چھناک کی آواز کے بغیر اُس وقت چکنا چور ہوگئے جب پیا گھر صرف ایک کمرے پہ مشتمل چاردیواری تک سے محروم مقدر ٹھہرا۔

Read more

درویش میں صحرا

یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس رقمطراز ہے کہ شہنشاہ ایران دارا جب سیتھیوں (ایک جنگجو قوم جو بحیرہ اسود کے شمال میں آباد تھی) کی سرزمین پہ حملہ آور ہؤا تو دشمن کی طرف سے اُسے ایک تھیلا موصول ہؤا جو ایک چڑیا، ایک چُوہے، ایک مینڈک، اور چند تیروں پہ مشتمل تھا۔ آنکھیں سُکیڑ سُکیڑ کے پیشانیوں پہ بَل ڈالتے مفکرین وزرا کی جماعت ان اشیا کا مطلب نکالتی اس نتیجے پر پہنچی کہ مد مقابل نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اوّل سے مراد کہ مثل پرند اڑ گئے ہیں، دوّم (چُوہا) خشکی کا مظہر اور سوّم مینڈک پانی کی دلیل۔ مطلب وطن کے خاک و آب پر بادشاہی قبول کر لی گئی ہے۔ اور تیروں سے مراد ہتھیاراُتارنا۔

لیکن یہ تاویل یکسر غلط ثابت ہوئی کیونکہ دن گزرتے ہی حریف نے شب خون مارا۔ بعد میں یہ عقدہ کُھلا کہ جب تک ایرانی پرندوں کی طرح اڑنا، چوہے کی طرح بِل میں گُھسنا اور مینڈک کی طرح پانی میں چُھپنا نہ سیکھ لیں وہ سیتھی تیروں سے بچ نہیں سکتے۔

Read more

حامد میر کے نام: صحرا کی پکار

دسمبر اور جنوری جاڑے کے موسم کی شدت کا خوب پتہ دیتے ہیں۔ یہ بھی جنوری کی ایک ٹھٹھرتی صبح تھی۔ دھرتی کا بدن چوٹ کھائے ہوئے جمے ہوئے خون کی طرح ٹھیکری ہو رہا تھا۔ شہر سے گاؤں تک ڈالی گئی کالی کمند پر جگہ جگہ ریتلے ٹیبوں نے اژدہے کی طرح اپنے پھن پھیلا رکھے تھے۔ یوں پوری سڑک پستیوں میں کالی دھاری اور بلندیوں پہ ریت کے ڈھیر اپنی پشت پہ لادے کسی دھبے دار ناگ کی

Read more

کتنی ماؤں کے لخت جگر کٹ گئے

دسمبر کی یخ بستہ صبح سورج کی کرنیں دھند کے جتھوں سے گتھم گتھا ہوتی زمین کا بوسہ لینے میں کامیاب ہوئی ہی تھیں کہ حذیفہ جلدی کرو حذیفہ جلدی کرو اٹھ جاؤ، یہ گونجتی آواز یک لخت چُپ ہوئی جب گاڑی کی گڑگڑاہٹ سے گھر کا گیراج بول اٹھا۔ تلخی بھرے لہجے میں وہ کہہ رہی تھی ہم سب تمہاری وجہ سے لیٹ ہو جاتے ہیں، ماما آج تو میں جلدی تیار ہؤا ہوں، تو یقینا تم نے ناشتہ نہیں کیا ہو گا۔ اب لہجے میں درشتگی پہلے جیسی تو نہ تھی لیکن تھی سہی۔

Read more

سفاک بادشاہ ضحاک اور زینب کے بابا کی دہائی

اہل فن کے تیشوں سے چٹانوں پہ کندہ تاریخ بتاتی ہے کہ سر زمین فارس موجودہ ایران پہ ایک ضحاک نامی بادشاہ جس نے جبر و استبداد کی تاریخ معصوم جانوں کے خون سے تحریر کی۔ اپنے کندھوں کے ابھار میں پھوڑوں کا شکار ہؤا۔ تاجداری کے قرب کے کسی شائق نے مشورہ دیا کہ ان زخموں پہ انسانی مغز کا مرہم لگایا جائے تو وہ آرام پائے گا۔ جلاد کو حکم ہؤا تو کٹ کٹ کے گرتی ابنائے آدم

Read more

اور دل کہتا ہے ٹھہرو، ابھی ٹھہرو، عینی

  نومبر کی شام رات کے اندھیرے سے گلے مل رہی تھی۔ ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات کی بازگشت اس کے کانوں کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔ اس کے جگر پہ ٹیومر ہے۔ فرار ہوتا وقت سوچوں کی لہروں میں پتھر پھینکے جا رہا تھا۔ مہد سے لحد تک کی مسافتیں اتنی جلدی طے ہو جائیں گی ایسا سوچا نہ تھا۔ اسے اپنے سے زیادہ پسماندگان کی فکر تھی۔ ابوذر اور اسامہ ابھی چھوٹے

Read more

بابا فرید کے دربار سے سند حکومت پانے والے دو حکمران

گنج شکر کے فیوض و برکات کے چشمے پھوٹ رہے تھے جب غلاموں کے جتھے سے نعمان نامی غلام اپنے آقا کی اجازت سے بارگاہ درویشیت میں شرف باریاب ہوا۔ اجازت گویائی ملتے ہی اس کے نتھنے پھڑکنے لگے ہونٹوں کے کنارے تڑپنے لگے اپنی ٹوٹی پھوٹی ذات کو مجتمع کرتا یوں گویا ہوا۔ میرا تعلق ترکوں کی قراختائی نسل کے قبیلے البری سے ہے میرا باپ اپنے وطن میں دس ہزار گھرانوں کا سردار تھا جب منگولوں نے ہماری

Read more

ڈوبتے لاہور نے سر کٹا انسان یاد دلا دیا

عراق کے سرحدی حاشیے سے بارہ کلومیٹر کی مسافت پر حدود شام میں فرانسیسی آفیسر لیفٹینینٹ کیبین کے پاس ایک مقامی بدّو بوکھلایا ہؤا آیا اور سرکٹا انسان سر کٹا انسان کی تکرار کرتا ہؤا چیخنے لگا۔ مذکورہ آفیسر اس کے بتائے ہوئے مقام تک پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ کھنڈرات کے ڈھیر پر ایک بے سر انسانی مجسمہ زمانہ قدیم کی عبرت ناکیوں کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ 1933 میں فرانسیسی ماہر آثار قدیمہ پروفیسر آندرے پیرٹ

Read more