ثمینہ سید کی تصنیف: ہجر کے بہاؤ میں

چند سال پہلے کی بات ہے محفل مشاعرہ تخلیقی جلوہ کاریوں سے منور تھی۔ شعرائے کرام تذکیر و تانیث کے حسین امتزاج کے ساتھ نوبت بنوبت ڈائس پہ جلوہ گر ہو رہے تھے۔ رنگ محفل روایتی انداز میں حدود اختتام کو چھونے کے لئے کوشاں تھا کہ کھنکتی، جھنکتی، چھنکتی آوازنے سماعتوں کی گہرائیوں کو چونکا…

Read more

جنم جنم کا دکھ سہتی مامتا

بابل کے در و دیوار سے جڑے رشتوں کی اپنائیتوں سے لپٹ لپٹ کے روتی کے آنچل کا پلو اجنبی نوشہ کی اچکن سے باندھ دیا گیا تومجازی خدا کے مسکن میں پاؤں دھرتے ہی بیگانگی کے واہموں میں جا پڑی۔ چوکھٹ پکڑوائی کی رسم کی ادائیگی کے دوران ڈری سہمی سماعتوں میں اس کی ہم عمر مامتائی نصیحت گونجنے لگی، بٹیا! شریف زادیوں کی ڈولیاں شوہر کی چوکھٹ میں داخل ہوتی ہیں تو جنازے کی صورت باہر آیا کرتی ہیں۔ سوچوں میں پلتے خوابوں کے شیش محل چھناک کی آواز کے بغیر اُس وقت چکنا چور ہوگئے جب پیا گھر صرف ایک کمرے پہ مشتمل چاردیواری تک سے محروم مقدر ٹھہرا۔

Read more

درویش میں صحرا

یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس رقمطراز ہے کہ شہنشاہ ایران دارا جب سیتھیوں (ایک جنگجو قوم جو بحیرہ اسود کے شمال میں آباد تھی) کی سرزمین پہ حملہ آور ہؤا تو دشمن کی طرف سے اُسے ایک تھیلا موصول ہؤا جو ایک چڑیا، ایک چُوہے، ایک مینڈک، اور چند تیروں پہ مشتمل تھا۔ آنکھیں سُکیڑ سُکیڑ کے پیشانیوں پہ بَل ڈالتے مفکرین وزرا کی جماعت ان اشیا کا مطلب نکالتی اس نتیجے پر پہنچی کہ مد مقابل نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ اوّل سے مراد کہ مثل پرند اڑ گئے ہیں، دوّم (چُوہا) خشکی کا مظہر اور سوّم مینڈک پانی کی دلیل۔ مطلب وطن کے خاک و آب پر بادشاہی قبول کر لی گئی ہے۔ اور تیروں سے مراد ہتھیاراُتارنا۔

لیکن یہ تاویل یکسر غلط ثابت ہوئی کیونکہ دن گزرتے ہی حریف نے شب خون مارا۔ بعد میں یہ عقدہ کُھلا کہ جب تک ایرانی پرندوں کی طرح اڑنا، چوہے کی طرح بِل میں گُھسنا اور مینڈک کی طرح پانی میں چُھپنا نہ سیکھ لیں وہ سیتھی تیروں سے بچ نہیں سکتے۔

Read more

حامد میر کے نام: صحرا کی پکار

دسمبر اور جنوری جاڑے کے موسم کی شدت کا خوب پتہ دیتے ہیں۔ یہ بھی جنوری کی ایک ٹھٹھرتی صبح تھی۔ دھرتی کا بدن چوٹ کھائے ہوئے جمے ہوئے خون کی طرح ٹھیکری ہو رہا تھا۔ شہر سے گاؤں تک ڈالی گئی کالی کمند پر جگہ جگہ ریتلے ٹیبوں نے اژدہے کی طرح اپنے پھن…

Read more

کتنی ماؤں کے لخت جگر کٹ گئے

دسمبر کی یخ بستہ صبح سورج کی کرنیں دھند کے جتھوں سے گتھم گتھا ہوتی زمین کا بوسہ لینے میں کامیاب ہوئی ہی تھیں کہ حذیفہ جلدی کرو حذیفہ جلدی کرو اٹھ جاؤ، یہ گونجتی آواز یک لخت چُپ ہوئی جب گاڑی کی گڑگڑاہٹ سے گھر کا گیراج بول اٹھا۔ تلخی بھرے لہجے میں وہ کہہ رہی تھی ہم سب تمہاری وجہ سے لیٹ ہو جاتے ہیں، ماما آج تو میں جلدی تیار ہؤا ہوں، تو یقینا تم نے ناشتہ نہیں کیا ہو گا۔ اب لہجے میں درشتگی پہلے جیسی تو نہ تھی لیکن تھی سہی۔

Read more

سفاک بادشاہ ضحاک اور زینب کے بابا کی دہائی

اہل فن کے تیشوں سے چٹانوں پہ کندہ تاریخ بتاتی ہے کہ سر زمین فارس موجودہ ایران پہ ایک ضحاک نامی بادشاہ جس نے جبر و استبداد کی تاریخ معصوم جانوں کے خون سے تحریر کی۔ اپنے کندھوں کے ابھار میں پھوڑوں کا شکار ہؤا۔ تاجداری کے قرب کے کسی شائق نے مشورہ دیا کہ…

Read more

اور دل کہتا ہے ٹھہرو، ابھی ٹھہرو، عینی

  نومبر کی شام رات کے اندھیرے سے گلے مل رہی تھی۔ ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات کی بازگشت اس کے کانوں کی دیواروں سے ٹکرا ٹکرا کر ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔ اس کے جگر پہ ٹیومر ہے۔ فرار ہوتا وقت سوچوں کی لہروں میں پتھر پھینکے جا رہا تھا۔ مہد سے لحد تک…

Read more

بابا فرید کے دربار سے سند حکومت پانے والے دو حکمران

گنج شکر کے فیوض و برکات کے چشمے پھوٹ رہے تھے جب غلاموں کے جتھے سے نعمان نامی غلام اپنے آقا کی اجازت سے بارگاہ درویشیت میں شرف باریاب ہوا۔ اجازت گویائی ملتے ہی اس کے نتھنے پھڑکنے لگے ہونٹوں کے کنارے تڑپنے لگے اپنی ٹوٹی پھوٹی ذات کو مجتمع کرتا یوں گویا ہوا۔ میرا…

Read more

ڈوبتے لاہور نے سر کٹا انسان یاد دلا دیا

عراق کے سرحدی حاشیے سے بارہ کلومیٹر کی مسافت پر حدود شام میں فرانسیسی آفیسر لیفٹینینٹ کیبین کے پاس ایک مقامی بدّو بوکھلایا ہؤا آیا اور سرکٹا انسان سر کٹا انسان کی تکرار کرتا ہؤا چیخنے لگا۔ مذکورہ آفیسر اس کے بتائے ہوئے مقام تک پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ کھنڈرات کے ڈھیر پر…

Read more