بچوں کے خلاف جنسی جرائم
وطن عزیز میں گذشتہ کچھ برسوں سے معصوم بچے بچیوں کے خلاف جنسی جرائم میں اضافہ کی جو لہر اٹھی ہے اور جو حقائق سامنے آئیں ہیں بلاشبہ وہ ہماری سماجی تربیت کے منہ پر ایسا طمانچہ ہے جس کی گونج شاید ہم ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے۔ اس لیے ہر گزرتے دن کے ساتھ ان جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جس میں پہلے یہ بچے درندگی کا شکار ہوتے ہیں اور بعد میں شناخت کے خوف سے انہیں قتل کر دیا جاتا ہے۔ کہیں نو عمر بچے بچیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کی وجہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ہم لوگ خود ہی تو نہیں۔ ؟ یہ ایک سوال بھی ہے اورسلگتا ہوا موضوع بھی، جس پر بات کرنی اورمسلسل کرنی بہت ضروری ہو چکی ہے تاکہ اس گھناونے جرم کا سدباب کیا جا سکے۔ آج نہیں تو پھرکبھی نہیں۔
گھر سے باہر اور بعض اوقات گھروں کے اندر آنے والے رشتے دار کیسے ہیں، ہم نہیں جانتے۔ کس کے اندر طلب کا شیطان کتنا فعال ہے، ہم بے خبر ہیں۔ کیونکہ بچہ آسان شکار ہے اس لیے اس بے شعور پرندے کو جھپٹنے کے لیے کون کہاں سے نکل آئے، ہم نہیں جانتے اس لیے اپنے بچوں کو سادہ اور محفوظ رکھنے کے لیے ہمیں ہر حال اور ہر صورت میں کچھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ کچھ باتوں کی سختی سے پابندی کرنا ہو گی۔ یہاں اپنے مشاہدے اورمطالعہ کی بنیاد پر کچھ نکات سامنے لا رہی ہوں جن کوسمجھ کرہم مکمل طور پر نہ سہی، کسی حد تک اپنے بچوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ ایک بات جو میں نے نوٹ کی ہے کہ زیادہ تر متوسط طبقے کے بچوں کے واقعات سامنے آئے ہیں جنہیں تنہا پا کر اچک لیا گیا۔ جس کو ہم والدین کی بے احتیاطی قرار دے سکتے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ امیروں کے بچے محفوظ ہیں، عام مطالعہ ہے کہ وہاں ایسے واقعات کی تعداد مڈل کلاس کے مقابلے میں زیادہ ہے مگر وہاں بات چھپانے کارواج اتنا توانا ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے، مجرم کو وہ خود ہی سزا دے دیتے ہیں اور بچے بیرون ملک بھیجوا دیتے ہیں۔ اس لیے اس کلاس سے واقعات رپورٹ ہونے کی اطلاعات بہت کم ہیں۔ جس کی وجہ پیسہ اور سوچ کا مختلف ہونا ہے، اگروہی کلاس ان واقعات پر اسٹینڈ لے تو یقین کریں، حکومت زیادہ بہتر انداز میں اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔ ناصرف قانون سازی ہو بلکہ قانونی سقم بھی دور ہوں اور غریب کا بچہ بھی محفوظ ہو جائے۔
یہ ایک عام سا مشاہدہ ہے کہ آج کل کی مائیں بہت زیادہ غیر محتاط ہو گئیں ہیں۔ میں نے خود بھی دیکھا ہے کیا ہے کہ شام 5 بجے کے بعد حتی کہ رات آٹھ بجے وہ اپنی بچیوں کو تھوڑا سا سودا لینے باہر بھیج دیتی ہیں۔ کچھ دروازے میں کھڑی ہو جاتی ہیں مگر ذرا سا فون سننے اندر گئیں تو بچی غائب۔ اور کچھ اندر بیٹھی ڈرامہ دیکھنے میں مصروف ہیں۔ اس لیے اپنے بچوں کو کسی بھی صورت میں دن کے کسی بھی حصے میں اکیلے باہر مت بھیجیں۔ ڈرامہ تو بعد میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ بارے بتائیں، اس کے علاوہ انہیں سارا دن کی سرگرمیاں اپنے ساتھ شئیر کرنے کی عادت ڈالیں۔ اس کے ساتھ لینچ کرتے ہوئے، ناشتہ دیتے ہوئے سکول کے بارے میں ارد گرد کے بارے میں پوچھیں، باتیں کریں۔ ان سے پوچھیں کہ کوئی انہیں ٹچ تو نہیں کرتا یا وہ کسی رشتہ دار کے بلاوجہ ٹچ کرنے سے برا تو نہیں محسوس کرتے۔ (میں ریگولر اپنے بھتیجوں اور بھتیجی سے اس حوالے سے پوچھتی ہوں ) ۔
ہر ماں باپ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ پیارا لگے، تاہم اسے پیارا بنانے کے چکر میں مصنوعی رنگوں اور چھوٹے چھوٹے لباس کا سہارا نہ لیں۔ بچوں سے ان کی معصومیت نہ چھینیں۔ وہ سادگی میں بھی خوبصورت لگتے ہیں۔ تقریبات میں انہیں میک اپ کر کے نہ لے کر جائیں۔ دیکھیں ریپسٹ کی کوئی شناخت نہیں ہوتی اور یہ بات یاد رکھیں کہ وہ بچوں کو دیکھ کر وحشت کا شکار نہیں ہوتا۔
یہ ایک سوال ہے جس کے کئی جواب ہو سکتے ہیں مگر سب سے واضح جواب کہ وہ کمزور حریف ہوتے ہیں اور وہ بے غیرت جو یہ جرم کرتا ہے۔ اس نے کوئی گندہ سٹف سیکس ویڈیو دیکھا ہوتا ہے۔ ہوس اور خواہش اس کے سر پر سوار ہوتی ہے اور اپنا گند نکالنے کے لیے اسے صرف ایک سوراخ چاہے جو احتجاج نہ کر سکے اور شکار کے لیے نکلے اس حیوان کو بچہ مل جاتا ہے یا وہ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ ہم نے تو سندھ کی اندھی ویل مچھلی اور مرغی بکری کے ساتھ زیادتی کے واقعات بھی سنے ہیں۔ اس لیے جس کے سر پر جنون سوارہے وہ کیا کر سکتاہے اس کا اندازہ انسان کو ہونا چاہیے۔
دیکھیں بچوں کو اپنا عادی بنائیں۔ بار بار کہوں گی کہ والدین سے بہتر دوست اور نگہبان کوئی نہیں۔ اپنی ذمہ داری خود اٹھائیں۔ مگر عظیم ہیں وہ بے لوث رشتہ دارچچا، پھپھو، خالہ، ماموں جو اپنے بچوں کی حفاظت میں متحرک ہوتے ہیں۔ اگر آپ مشترکہ خاندانی نظام کا حصہ ہیں اور خوش قسمتی سے آپ کو اچھا سسرال مل گیا ہے تو بچوں کو تابعداری سکھائیں۔ بڑے بلاوجہ نہیں ڈانٹتے۔ گھر بیٹھی ماں اور ورکنگ پھپھو میں فرق ہے کہ وہ جانتی ہے باہر کیا ہو رہا ہے۔
اہم ترین بچوں کو سیل فون دیں مگر صرف بنیادی سروسز کے ساتھ یعنی کال اور میسج، انٹرنیٹ کی سہولت ان کی ہی قاتل ہے۔ (جیسے میرے بھتیجوں موحد اور منیب کے پاس ہے، صرف کال اور میسج کی سہولت ہے، نو انٹرنیٹ، جو کام کرنا ہے، ہمارے سامنے بیٹھ کر کرو) ۔ یاد رکھیں اپنے بچوں کو محفوظ اور مضبوط بنانے کے لیے کوشش کریں، کامیاب تو وہ ہو ہی جائیں گے۔
ہم نہیں جانتے کہ جب ہم اور ہمارے بچے گھر سے نکل آئے تو باہر والوں کے نگاہ میں ستائش ہے احترام ہے یا ہوس۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم خود ہی احتیاط کریں۔ ہم موقع نہ دیں۔ جب پتہ ہے کہ گھر سے باہر کی دنیا اور ہے۔ جنسی بے راہ روی عام ہے اور شیطان کہاں کہاں گھات لگائے بیٹھا ہے ہمیں کیا معلوم۔ اس لیے یہ کہنا بہت آسان ہے ہماری بچیاں جو مرضی لباس پہنیں۔ جو مرضی اور جتنا مرضی میک اپ کریں۔ دوسرا اپنی نگاہ نیچی رکھے تو یہ غلط ہے ایسا فلسفہ، جس کی نفی سب سے پہلے مذہب کرتا ہے۔
تاہم سب باتوں کی ایک بات سچ یہی ہے کہ دین سے دوری ہی تمام سماجی مسائل کی جڑ ہے۔ دوسرے ہمیں کوئی بندہ تھوڑا سا مذہبی نظر آئے ہم یہ گمان کر لیتے ہیں کہ وہ فرشتہ ہو گا اور اپنے گھروں میں اس نامحرم کو جگہ دے دیتے ہیں پھر وہ جو گل کھلاتا ہے وہ انتہائی شرم ناک ہے۔ اس لیے پرہیز کر لیں یہ ہر علاج سے بہتر ہے۔


